Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 8

حور گہری نیند سورہی تھی آج چھٹی کا دن تھا جب اس کا فون بجا جس سے اس کی نیند میں خلل پیدا ہوا ایک آنکھ کھول کر حور نے سائیڈ ٹیبل کی جانب ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور بغیر دیکھے فون کان سے لگا لیا ۔
“گڈ مارننگ جان”
مردانہ آواز کانوں سے جیسے ہی ٹکرائی حور کے چہرے پر پریشانی ظاہر ہوئی اور اس نے پوری آنکھیں کھول کر وال کلاک پر نظر ڈالی جہاں سات بج رہے تھے ۔
“کون ہو تم؟”
حور لہجے میں سرد پن لیے سیدھی ہوتی پوچھنے لگی
“تم نے میری آواز نہیں پہچانی؟”
ذامل خفگی سے فون پر ایک نظر ڈال کر پوچھنے لگا حور کو آواز جانی پہچانی لگی۔
“شرافت سے بتارہے ہو یا فون سے نکل کر منہ توڑو”
حور اب کی بار تپ کر اسے کہنے لگی اس کی بات پر ذامل کے لب مسکرا دیے تھے ۔
“جان میں ذامل”
ذامل نے اسے مسکراتے ہوئے بتایا حور نے فون پر نظر ڈالی۔
“تمہیں میرا نمبر کہاں سے ملا؟”
حور لہجے میں پریشانی لیے بال ٹھیک کرتی پوچھنے لگی
“مشکل نہیں تھا “
وہ اسے اپنے انداز میں جواب دینے لگا۔
“خیر کال کرنے کی وجہ؟”
حور اٹھ کر بیٹھتی بیڈکراؤن سے ٹیک لگائے مسکراہٹ ضبط کیے پوچھنے لگی۔
“اب سے روز تمہیں مارننگ کال آئے گی”
ذامل بھی بیڈکراؤن سے پشت ٹکائے گھمبیر لہجے میں اسے کہنے لگا۔
“اچھا جی”
حور ہلکا سا مسکرا کر کہنے لگی ذامل کے لب مسکرا دیے۔
“چھوٹی بی بی بڑی بیگم صاحبہ کہ رہی ہیں اٹھ جائیں ناشتے کا وقت ہوگیا ہے”
ملازمہ دروازے پر آتی دستک دے کر حور سے بولی حور نے دروازے کی جانب دیکھا۔
“اٹھ گئی ہوں”
حور اسے جواب دی ے لگی ملازمہ خاموشی سے چلی گئی ۔
“فون رکھو مجھے فریش ہونا ہے”
حور نے کہتے ساتھ فون کان سے ہٹایا اور کال کٹ کر گئی چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
یہ سب حور کیلیے بلکل نیا تھا اور اسے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا یہ جانے بغیر کے اس کا انجام کیا ہونا تھا۔۔۔


وہ سب لوگ ناشتہ کرکے فارغ ہوئے تھے حاکم چوہدری زاہد چوہدری اور آدم چوہدری نہیں تھے۔
“دادا کہاں تھے امی”
حور اسوقت ہاجرہ بیگم کے پاس موجود بالوں میں تیل لگواتے ہوئے پوچھنے لگی
“پتہ نہیں مجھے”
وہ حور کے بالوں میں تیل لگاتے ہوئے بتانے لگی جس پر حور خاموش ہوگئی ۔
“بال دیکھیں ہیں کتنے کم رہ گئے ہیں”
ہاجرہ بیگم اسے بال دیکھاتے ہوئے سرد لہجے میں کہنے لگی حور نے ایک نظر بالوں پر ڈالی
“کوئی بات نہیں میری پیاری امی بالوں میں تیل لگوا کر گھنے کرلیں گی”
حور مسکرا کر لاڈ سے بولی اور ہاجرہ بیگم نفی میں سر ہلا گئی۔
“امی مجھے بھائی کے نکاح کے ڈریس لینے جانا ہے مگر وہ ہے ہی نہیں”
حور ہاجرہ بیگم کو منہ پھلائے بولی ہاجرہ بیگم اس کے بالوں کی چٹیاں بنانے لگ گئی
“آجائے گا”
ہاجرہ بیگم اس کے بالوں چٹیاں کی بناتے ہوئے بولی حور اثبات میں سر ہلا گئی۔
“یہ کام ملک شہراز کا ہے میں یقین سے کہ سکتا ہوں”
حاکم چوہدری غصے سے حویلی میں داخل ہوتے ہوئے آدم اور زاہد سے کہنے لگے حور اور ہاجرہ بیگم نے بھی انہیں دیکھا۔
“کیا ہوا ہے ابا جان”
دراب چوہدری جو ابھی نیچے آئے تھے انہیں غصے میں دیکھ پوچھنے لگے۔
“جی ابا جان سب خیریت ہے؟”
ہاجرہ بیگم بھی پریشانی سے پوچھنے لگی ازقہ بھی کمرے سے باہر آ گئی۔۔
“فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے اور پوری جل گئی ہے”
وہ ان سب کو دیکھتے ہوئے غصے سے بتانے لگے سب پریشان ہوئے۔
“فیکٹری میں آگ کیسے”
دراب چوہدری پریشانی سے انہیں دیکھ پوچھنے لگے
“کیسے کیا مطلب ملک شہراز کا کام ہے یہ”
وہ دراب کو دیکھ سرد لہجے میں بولے جس پر وہ خاموش ہو گئے حور بھی پریشانی سے یہ سب دیکھ رہی تھی
“دادا آپ حکم دیں کیا کرنا ہے”
زاہد فورا سے حاکم چوہدری کے پاس آتے ہوئے کہنے لگا حاکم چوہدری نے اسے دیکھا۔
“جاکر اسے ڈراؤ اور یہ بتاؤ کہ ہم بزدل یا کمزور نہیں ہیں”
حاکم چوہدری زاہد کو حکم دینے والے انداز میں کہتے ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گئے اور زاہد اثبات میں سر ہلا گیا۔


“ملک صاحب ہوگیا کام”
ملک شہراز کا ملازم آتا اسے بتانے لگا یہ بات سنتے ہی ملک شہراز کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“اب آئے گا نا مزا”
وہ کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے مسکراہٹ سجا کر کہنے لگے ملازم بھی مسکرا دیا
“شاباش”
وہ ملازم کے کندھے پر ہاتھ رکھے مسکرا کر کہنے لگے ملازم بھی مسکرا رہا تھا
تبھی ذامل نیچے آتا دیکھائی دیا اسے آتا دیکھ ملک شہراز نے ناشتہ لگوانے کا حکم دیا۔
“خیریت خوش لگ رہے ہیں”
ذامل ملک شہراز کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر ملک شہراز اثبات میں سر ہلا گئے
“بس سمجھو دشمنوں کا چین برباد کیا ہے”
ملک شہراز اور ذامل ڈائننگ کی جانب جانے لگے ملک شہراز نے بتایا ذامل کے بڑھتے قدم رکے۔
“کیا کیا ہے اب”
وہ ملک شہراز کو دیکھتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“بےفکر رہو عورتوں کیساتھ کچھ نہیں کیا میں نے”
ملک شہراز ذامل کو تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے جس پر ذامل کو تسلی ہوئی اور وہ دونوں ڈائننگ کی طرف بڑھ گئے۔


زاہد اور آدم دونوں ہی اسوقت ملک حویلی کے باہر موجود تھے زاہد نے گن لوڈ کرکے گولی چلائی تھی ایک پھر تین چار فائر ساتھ کی تھی
“یہ کون ہے باہر”
ملک شہراز کرسی سے اٹھتے ملازم کو دیکھ غصے سے کہنے لگے ملازم فورا باہر کی طرف بڑھا۔
ملک شہراز اور ذامل بھی باہر کی جانب بڑھ گئے تھے۔
“یہ کیا تماشا ہے؟”
۔ملازم زاہد اور آدم کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگا تبھی زاہد کی نظر پیچھے سے آتے ذامل اور ملک شہراز پر گئی۔
“تماشا وہی تماشا جو صبح تم لوگوں نے لگایا تھا”
زاد سرد لہجے میں ملک شہراز پر نظریں گاڑھے کہنے لگا
“کون سا تماشا ہاں”
ملک شہراز اطمینان سے کھڑے اس سے انجان بنتے پوچھنے لگے زاہد نے ان کی طرف پستول کی
“ملک شہراز اپنی حرکتوں سے بعاز آجاؤ ورنہ جان لینے میں سکینڈ نہیں لگاؤں گا”
زاہد سرد آنکھیں لیے گن اس کی طرف کیے ہر لفظ پر زور دیتا کہنے لگا
“زاہد گولی نیچے کرو”
ذامل بھی غصے سے اسے چیخ کر بولا زاہد نے اسے دیکھا۔
“اپنے دادا کو سمجھا دو خود بھی سمجھ جاؤ ورنہ انجام کے ذمہدار تم ہوگے”
زاہد سرد تاثرات سجائے سختی سے ذامل سے کہتے ساتھ اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا آدم بھی پیچھے گیا
“لڑکے کی عمر دیکھو ہم سے مقابلہ کرے گا”
ملک شہراز طنزیہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے ذامل نے مڑ کر انہیں دیکھا مگر خاموش رہا۔


“دیکھا تم نے”
ازقہ اور حور کچن میں کھڑے تھے ازقہ اسے کہنے لگی حور پریشانی سے اثبات میں سر ہلا گئی۔
“یہ دشمنی واپس کبھی دوستی میں تبدیل نہیں ہوسکتی ہے”
ازقہ اسے سنجیدگی سے سمجھانے لگی حور شیلف سے پشت ٹکا گئی۔
“ذامل سے کہوں گی اپنے دادا کو منع کریں”
حور ازقہ جو دیکھ کہنے لگی ازقہ اسے دیکھنے لگی۔
“حور تم کیسے اس پر اعتبار کرسکتی ہو وہ دشمن ہے یہ سوچو”
ازقہ لہجے میں پریشانی لیے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی حور نے اسے دیکھا۔
“بجو یقین نہیں کیا میں نے ابھی لیکن آپ تو جانتے ہیں پیار کب ہوتا۔ ہے معلوم نہیں ہوتا آپ تو سمجھیں مجھے”
حور ازقہ کو افسردگی سے دیکھتے امید سے کہنے لگی جس پر ازقہ نے اسے دیکھا اور بس سر کو خم دے گئی حور ہلکا سا مسکرا دی۔
“خیر ابھی تو میں آپ کے نکاح کا ڈریس لینے جارہی ہوں نوال کے ساتھ “
حور مسکرا کر اس کا اور خود کا موڈ ٹھیک کرتے ہوئے بولتی کچن سے چلی گئی ازقہ اسے جاتا دیکھنے لگ گئی ۔
“پتہ نہیں کیوں پر میرا دل کہ رہا ملک ذامل ٹھیک نہیں ہے”
ازقہ حور کو جاتا دیکھ خود سے دل میں بولتی کچن کے کام دیکھنے لگ گئی ۔


زاہد کے مصروف ہونے کی وجہ سے حور ڈرائیور کیساتھ سوٹ لینے کیلیے چل دی تھی اور راستے سے نوال کو اپنے ساتھ لے لیا تھا راشد بابا نے حور کو بازار میں اتارا۔
“جب میں ڈریس لے لوں گی آپ کو کال کردوں گی”
حور راشد بابا سے کہتے ساتھ نوال کے ساتھ بازار کے اندر بڑھ گئی تھی ۔
“حور ملک ذامل کا کیا چکر ہے”
وہ دونوں چیزوں پر نظریں جمائے ساتھ چل رہے تھے نوال نے پوچھا
“مجھے پیار ہوگیا ہے اس سے”
حور اس کے ساتھ چلتی جیولری کی چیزوں پر نظر ڈالتی جواب دینے لگی نوال اسے دیکھنے لگی۔
“پیار سچ میں “
نوال بےیقینی سے اسے دیکھ کر کہنے لگی حور نے بھی اسے دیکھا ۔
“تو مذاق میں “
حور اسی کے انداز میں اسے جواب دینے لگی نوال اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
“حورِ جان کو کب سے پیار ویار میں یقین ہونے لگا”
نوال اسی پر نظریں ٹکائے سنجیدگی سے پوچھنے لگی
“ملک ذامل نے کروایا ہے”
حور اطمینان سے اسے بغیر دیکھے جواب دینے لگی نوال کے لب مسکرا دیا
“تم جانتی ہو اس کا انجام کیا ہوگا”
نوال مسکراتے ہوئے اس سے پوچھنا لازم سمجھنے لگی
“انشاء اللہ اچھا ہوگا اچھے کی امید رکھنی چاہیے “
حور اسے ہمیشہ کی طرح پرسکون انداز میں جواب دینے لگی نوال نفی میں سر ہلا گئی اور وہ دونوں کپڑوں والی جگہ کی طرف بڑھ گئی ایک لڑکا سائیڈ سے گزر رہا تھا جان کر حور کو ٹکر مارے آگے بڑھ گیا حور نے مڑ کر چہرے پر سرد تاثرات سجائے اس شخص کی پشت کو گھورا
“اوہ”
حور اونچی آواز میں اس کی جانب بڑھتی اسے پکارنے لگی نوال نے سر پر ہاتھ رکھا
“اندھے ہو کیا اللہ نے یہ دو آنکھیں نام کی دی ہیں “
حور اس کے سامنے آکر کھڑی ہوتی سینے پر بازو باندھے اسے سرد لہجے میں پوچھنے لگی ۔
“جی”
وہ شخص پریشانی سے حور کو دیکھتا انجان بنا حور کے لب مسکرا دیے
“اداکاری اچھی کرلیتے ہو “
حور اسے بولتے ساتھ ایک زوردار تھپڑ اس کی گال پر رسید کر گئی وہ شخص گھبرا سا گیا وہاں موجود لوگ اکٹھے ہو گئے۔
“جو بھی ہو تم اللہ نے یہ دو آنکھیں دیکھنے کیلیے دی ہیں تو ان آنکھوں سے دیکھ کر تمیز سے بازاروں وغیرہ میں چلا کرو اور آئندہ ایسی حرکت کرنے سے پہلے اس تھپڑ کو یاد رکھنا”
حور غصے سے ہر لفظ چبا چبا کر اسے دیکھ بولنے لگی وہ شخص حور کو غصے سے دیکھنے لگا۔
“تیر”
ابھی وہ اس کی طرف مکہ بنائے بڑھا ہی تھا کہ ذامل اس کے سامنے آتا اس کا مکہ پکڑ گیا حور اسے دیکھنے لگی ہمیشہ کی طرح وہ یہاں بھی پہنچ گیا
“نکل”
ذامل سرخ آنکھیں لیے سخت لہجے میں اسے کہنے لگا وہ شخص باری باری دونوں پر نظر ڈالتا خاموشی سے نکل گیا ذامل نے مڑ کر حور کی جانب دیکھا
“چلو نوال”
حور نوال کا ہاتھ تھامتی ذامل کو نظر انداز کرتے ہوئے دکان کے اندر بڑھ گئی ذامل اس کے پیچھے آیا۔
“کیا ہوا ہے؟”
حور جو اپنے لیے ڈریس پسند کررہی تھی ذامل کی آواز سے اس طرف دیکھا
“کچھ نہیں”
حور اسے مختصر سا جواب دیتے ساتھ ڈریس دیکھنے لگ گئی۔
“اچھا نہیں ہے یہ”
وہ حور کی آنکھوں کا تعاقب کرتا نظریں ڈریس کی جانب کرتے ہوئے کہنے لگا
“اچھا مشورہ نہیں مانگا”
حور سنجیدگی سے اسے جواب دیتی دوسرا ڈریس دیکھنے لگی ذامل اسے دیکھنے لگا
“کیوں ناراض ہو”
ذامل اسے سنجیدہ دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگا نوال دوسری طرف ڈریسز دیکھ رہی تھی ۔
“تمہیں تو کچھ معلوم ہی نہ ہو”
حور اب کی بار پوری طرح اس کی جانب مڑتے ہوئے خفگی سے کہنے لگی
“میرا تو قصور نہیں”
ذامل معصوم شکل بنائے اسے کہنے لگا حور اسے بس دیکھتی رہ گئی
“زیادہ معصوم مت بنو ٹھیک ہے اپنے دادا کو منع بھی تو کرسکتے تھے تم”
حور اسے گھورتے ہوئے نقاب ٹھیک کرتی کہنے لگی
“حور انہوں نے مجھے نہیں بتایا وہ ایسا کچھ کررہے ہیں”
ذامل بھی اب کی بار سنجیدگی سے اسے وضاحت دینے لگا حور نے اسے دیکھا
“بہرحال اگر ایسا رہا تو یہ دشمنی ہمیشہ قائم رہے گی بہتر ہے اپنے دادا کو ایسے کاموں سے روکو”
حور اسے دیکھ جواب دیتے ساتھ آگے کی جانب بڑھ گئی ذامل بھی اس کے پیچھے آیا۔


“افف اللہ یہ لڑکا مجھے گرمی میں فضول کا باہر کھڑا کیا ہوا ہے”
شہریار جو ذامل کیساتھ آیا تھا ذامل اسے باہر کھڑا کرتا اندر چلا گیا تھا اور اب شہریار کی بس ہو گئی تھی وہ دکان کے اندر داخل ہوا تو سامنے ہی نظر نوال پر گئی نوال جو ڈریسز دیکھ رہی تھی نظر دروازے کی طرف کی سامنے موجود شخص کو دیکھ اسے حیرت ہوئی
“تم یہاں کیا کررہے ہو”
نوال اسے دیکھ غصے سے پوچھنے لگی شہریار اسی۔ کو دیکھ رہا تھا
“یہ سوال میں آپ سے بھی کرسکتا ہوں”
شہریار اسے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہنے لگا نوال نے دکان میں نظر دوہرائی
“میرے خیال سے اس دکان میں صرف لڑکیوں کے کپڑے موجود ہیں”
نوال اسے دیکھ مسکرا کر سرد لہجے میں بتانے لگی شہریار نے بھی دکان پر نظر گھمائی
“اوہ آئی سی “
شہریار مسکراتے ہوئے اسے جواب دینے لگا نوال اثبات میں سر ہلا گئی ۔
“میرا دوست یہی ہے”
شہریار اسے بتاتے ساتھ ذامل کو ڈھونڈنے لگا نوال اسے نظر انداز کرتی کپڑے دیکھنے لگی


“یہ اچھا ہے”
حور جو۔ کب سے ڈریسز دیکھ رہی تھی مگر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا ذامل نے ایک ڈریس نکال کر اسے دیا حور نے وہ دیکھا بےبی پنک کلر کا ڈریس حور کو اچھا لگا
“واقع اچھاہے”
حور کہتے ساتھ اس کے ہاتھ سے لیتی کاوئنر کی طرف بڑھ گئی
تبھی شہریار کی نظر ذامل پر گئی اور وہ۔ اس طرف بڑھا
“ذامل”
شہریار اسے پکارنے لگا ذامل نے گردن موڑ کر اسے دیکھا
“دو منٹ”
وہ کہتے ساتھ جیب سے والٹ نکالنے لگا حور نے اسے دیکھا
“میرے پاس ہیں”
حور نے فورا جواب دیتے ساتھ پرس سے پیسے نکالے دکان والا بھی ان دونوں کو ساتھ حیران تھا پورا گاؤں ان ملک اور چوہدری خاندانوں کی دشمنی سے بخوبی واقف تھا
“واپس دو”
اس دکان والے کو حکم والے انداز میں کہنے لگا اس نے حور کو واپس کردیے ذامل نے اسے پیسے تھمائے حور اسے دیکھنے لگی
“ہو گئی شاپنگ”
نوال حور کے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگی شہریار نے اسے دیکھا حور نے اثبات میں سر ہلا دیا اور پھر چاروں دوکان سے باہر آ گئے۔
جاری ہے۔