Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht e Dil) Episode 4

حور گم سم سی حویلی میں داخل ہوئی تھی حاکم چوہدری اور نہ ہی کوئی اور گھر کا فرد ٹی وی لاؤنچ میں موجود تھا حور بھی فریش ہونے کے غرض سے اپنے روم کی جانب بڑھنے لگی
“حور بی بی دادا کی طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے”
ملازمہ اسے آتا دیکھ فورا سے اس کی طرف بھاگ کر پریشانی سے بتانے لگی حور جو کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی حاکم چوہدری کی طبیعت کا سنتے ہی وہ فورا سے ان کے کمرے کی جانب بڑھی تھی
کمرے میں آتے ہی نظر حاکم چوہدری پر گئی اور باقی گھر کے سب افراد پر جو ان کے سر پر موجود تھے
“دادا کیا ہوا ہے آپ کو “
حور پریشانی سے نقاب نیچے کرتی ان کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی حاکم چوہدری اسے دیکھ مسکرا دیے
“کچھ نہیں گڑیا بس بخار ہوگیا ہے ہلکا سا “
حاکم چوہدری مسکرا کر حور کو بتانے لگے حور نے ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھا
“دادا یہ تھوڑا سا بخار ہے آپ کو اتنا تیز ہے کوئی فکر نہیں ہے اپنی”
حور غصے سے حاکم چوہدری سے بولی جس پر انہوں نے اس کے ہاتھ چومے
“اس عمر میں بیمار ہو جاتا ہے انسان”
وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگے حور انہیں بغیر کوئی جواب دیے باہر کی جانب بڑھ کر کچن کی طرف بڑھی
“ڈھنڈا پانی اور پٹیاں دو مجھے”
وہ کچن میں موجود ملازمہ کو حکم دینے والے انداز میں بولی ملازمہ فورا اثبات میں سر ہلا گئی اور حور کو ٹھنڈا پانی کا ایک باؤل اور ساتھ پٹیاں دی تھی
“دیکھیے گا ابھی آپ کی گڑیا آپ کا بخار جھٹ سے ٹھیک کردے گی”
حور ہلکا سا مسکرا کر بولتی ان کے ماتھے پر پٹی رکھنے لگ گئی
“آپ سب جائیں میں ہوں دادا کے پاس”
حور ان سب کو کھڑا دیکھ فورا سے کہنے لگی تبھی زاہد جبران اور صارم اس کے پاس آئے
“وہ ہمارے بھی دادا ہیں”
وہ تینوں ایک ساتھ بولے حاکم چوہدری مسکرا دیے
“جی حور وہ میرے بھی دادا ہیں”
ازقہ کہتے ساتھ حاکم چوہدری کے پاس آکر بیٹھتی حور کو بولے تو حور مسکرا دی
“بےشک آپ سب کے دادا ہیں مگر سب سے زیادہ تو میں ان کے قریب ہوں ہے نا دادا”
وہ پراعتماد لہجے میں بولتی حاکم چوہدری کو کہنے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئے
آدم ایک سائیڈ پر خاموشی سے کھڑا تھا حاکم چوہدری نے اسے بھی اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا وہ سب کو برابر رکھتے تھے مگر حور کی جگہ سب سے بڑھ کر تھی
حور حاکم چوہدری کو اس طرح بیمار دیکھ آنکھوں میں آئی نمی کو چھپا گئی ابرار چوہدری کے جانے کے بعد اس کے دادا نے کبھی بھی اسے باپ کی کمی محسوس نہیں کروائی تھی
حاکم چوہدری کا بخار اب کم ہو گیا تھا اور وہ سو گئے تھے سب لوگ کمرے میں چلے گئے تھے حور ان کے پاس موجود تھی حور باری باری حاکم چوہدری کے دونوں ہاتھ چوم کر مسکرا دی
“جیسے ہی دادا کی آنکھ کھلے مجھے بلانے آنا میں چینج کرلوں”
حور وہاں کھڑی ملازمہ کو کہتے ساتھ ایک نظر حاکم چوہدری پر ڈالتی کمرے سے باہر کی جانب بڑھ گئی


فریش وغیرہ ہوکر وہ گھنگڑالے بالوں کو چٹیاں میں قید کرتی سر پر حجاب کر کے ظہر کی نماز ادا کرنے لگ گئی وہ باقاعدگی سے نماز ادا نہیں کرتی تھی خود کو اسوقت فارغ پاکر اور نماز کا وقت دیکھ وہ نماز ادا کرنے لگ گئی
ظہر ادا کرکے سلام پھیرتی دعا کیلیے ہاتھ اٹھا گئی اور کچھ دیر خدا سے گفتگو کرتی رہی حاکم چوہدری کی طبیعت کی دعا اور اس گھر کے ہر ایک فرد کیلیے وہ دعا کرتی جائے نماز لپیٹ کر جگہ پر رکھ گئی تھی۔
“حور”
ازقہ کمرے میں آتی اسے دیکھ پکارنے لگی اس کی آواز پر حور نے مڑ کر اسے دیکھا
“جی بجو”
وہ اسے دیکھ بیڈ پر بیٹھ کر فورا سے پوچھنے لگی ازقہ بھی اس کے پاس آکر بیٹھی
“کوئی بات ہے کیا”
وہ حور کے چہرے پر غور کرتی اسے دیکھ آئبرو اچکائے سوال کرنے لگی حور نے ازقہ کو دیکھا وہ بچپن سے ہی اس کے چہرے سے اس کے اندر کا حال جان جاتی تھی
“نہیں بجو کوئی بات نہیں ہے”
حور نارمل لہجے میں اس سے نظریں چراتی بولی ازقہ اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی
“سچ میں کوئی بات نہیں ہے دادا کی وجہ سے پریشان ہوں”
حور نے اسے خاموش پاکر فورا سے وضاحت دی جس پر ازقہ ہلکا سا مسکرا دی
“تم مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی ہو میں دو تین سے نوٹ کررہی ہوں تم چپ چپ ہو تم کھانے پر نہیں بولتی زیادہ باہر بھی نہیں ہوتی کیا وجہ ہے”
ازقہ فورا سے اس سے سنجیدگی سے پوچھنے لگی حور نے اسے دیکھا اور مسکرا دی
“سچی کوئی بات ہوئی تو میں سب سے پہلے آپ کو بتاؤ گی بس پیپرز کی وجہ سے تھوڑی تھک گئی”
حور ازقہ کے ہاتھ تھامے اسے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگی جس پر ازقہ سر کو خم دے گئی مگر اسے تسلی پھر بھی نہیں ہوئی تھی اس نے حور کو ہمیشہ چھوٹی بہنوں کی طرح پیار کیا تھا۔


“ذامل کچھ وقت اپنے دادا کو بھی دے دو”
ذامل رات کا نکلا اب حویلی واپس لوٹا تھا اسے دیکھ ملک شہراز فورا سے کہنے لگے
“سارا وقت آپ کا ہے “
ذامل ان کی جانب قدم بڑھا کر انہیں ہلکا سا مسکرا مونچھیں کو تاؤ دے کر بولا ملک شہراز مسکرا دیے تھے
“صاحب یہ ذامل صاحب کے کمرے سے چوری کررہی تھی”
ارسلان ان کی ایک ملازمہ کو پکڑ کر لاتے ہوئے ملک شہراز کے پیروں کی طرف پھینک کر بولا ذامل اور ملک شہراز دونوں نے اسے دیکھا
“ارسلان”
ذامل سرد نگاہوں سے دیکھ اسے پکارنے لگا جس پر ملک شہراز نے ذامل کو دیکھا
“تم اس پر کیوں غصہ ہورہے ہو صحیح سلوک کیا ہے اس نے اس کیساتھ”
ملک شہراز ذامل کو تھوڑی سختی سے کہتے ملازمہ کی طرف بندوق کر گئے
“دادا وہ عورت ہے”
ذامل ملک شہراز کو فورا سے کہنے لگا ملک شہراز نے اس کی جانب دیکھا
“پلیززززز معاف کردیں ملک صاحب”
ملازمہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑے گزارش کرنے لگی ذامل نے اس کی جانب دیکھا
“میرے لیے سب کے اصول برابر جو ہمارے ساتھ غلط کرے گا اپنی جان گوائے گا “
وہ روعب سے کہتے ساتھ اس عورت کے پاؤں کا نشانہ بنا کر اس کے پاوں پر دے ماری اور وہ عورت کراہ کر رہ گئی اس بار بھی ملک ذامل اپنا دادا کی وجہ سے خاموش ہو گیا اور اوپر کی جانب بڑھ گیا
“دور کردو اس عورت کو میری نظروں سے”
ملک شہراز غصے سے کہتے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور ارسلان اسے گھسیٹ کر لے گیا۔


آج وہ بیلکونی میں آکر کھڑی ہوئی تو وہ آج بھی وہاں نہیں تھا وہ اداسی سے کھڑکی بند کرکے واپس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی
“اس کے نہ ہونے کی وجہ سے میں کیوں وہاں کھڑے ہوکر کافی نہ پیو میں تو وہی پیو گی ہونہہ”
وہ فورا سے خود سے کہتے ساتھ کافی کا مگ اٹھائے واپس بیلکونی کی جانب بڑھ گئی
“مجھے اپنی حرکتوں سے عجیب سی الجھن ہونے لگی ہے اور میں کس قدر بےوقوف ہوں خود سے باتیں کررہی ہوں افف حور”
وہ خود سے بولتے غصے سے کافی کا مگ لبوں سے لگا گئی تھی
“میں ایسی تو نہیں تھی پچھلے کچھ دنوں میں عجیب حرکتیں کررہی ہوں وہ حرکتیں جو مجھے کبھی زندگی میں بلکل پسند نہیں آئی “
حور خود سے سوچتے ہوئے نظریں باہر کی جانب کیے دل میں بولی لیکن حور کو جواب پھر بھی نہیں مل سکا تھا۔


شہریار جو ڈیڑے پر ذامل سے ملنے جارہا تھا وہ بائیک چلاتا اپنی ہی دھن میں آرہا تھا سامنے سے آتی لڑکی پر نظر جیسے گئی جو اپنا چہرہ دوپٹہ سے ڈھکے ہوئی تھی اور نظریں جھکا کر شاید کالج سے گھر جارہی تھی
“مارنے کا ارادہ ہے کیا”
نوال چہرے سے دوپٹہ ہٹاتی شہریار کو دیکھ غصے سے پوچھنے لگی اور شہریار کی نظریں تو اس کی براؤن آنکھوں میں جم سی گئی تھی دل نے بیٹ مس کی
“اندھے ہونے کے ساتھ ساتھ بہرے بھی ہو”
نوال اسے خود کو یوں دیکھتا پاکر غصے سے بولی جس پر شہریار ہوش میں آیا اور مسکرا دیا
“پاگل”
منہ بنا کر بولتی وہ سائیڈ سے گزر گئی اور شہریار اسے جاتا دیکھنے لگ گیا


“تم زندہ ہو نا”
شہریار ذامل کے پاس بیٹھا اسے سگریٹ پیتا دیکھ پوچھنے لگا
“مردہ لگ رہا ہوں”
ذامل نے بھی سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھا
“اتنے دنوں سے بھابی کو نہیں دیکھا مجھے یقین. نہیں ہورہا ہے”
شہریار معصومیت سے اسے بتانے لگی اور ذامل نفی میں سر ہلا کر سامنے دیکھنے لگا
“تمہیں لگتا ہے میں نے اسے نہیں دیکھا”
ذامل چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہتا سگریٹ لبوں سے لگا گیا شہریار نے اسے دیکھا
“پھر”
شہریار ناسمجھی سے پوچھنے لگا ذامل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“میں اسے دیکھ لیتا ہوں بس اسے تڑپا رہا ہوں”
ذامل نظریھ سامنے مرکوز کیے مسکرا کر بتانے لگا شہریار ہنس دیا
“تڑپ ہی نہ جائے وہ تڑپانے والوں میں سے ہے بڑا آیا تڑپا رہا ہوں”
شہریار اسے دیکھ فورا سے بتانے لگا ذامل نے اسے گھور کر دیکھا
“میرے پیار میں اتنی شدت ہے “
وہ پراعتماد لہجے میں شہریار ہو بولتا واقع متاثر کر گیا
“تیری یہی باتیں تو مجھے امپریس کرتی ہے دو تین لائنز مجھے بھی سیکھا دے کیا پتہ کبھی کام آجائیں میں بھی کب تک سنگل رہوں گا”
شہریار مسکرا کر کہتے ساتھ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اسے کہنے لگا اور ذامل نفی میں سر ہلا گیا آج واقع یقین ہوگیا تھا یہ انسان زندگی میں کبھی سیریس نہیں ہوسکتا۔


حور رات کے وقت حاکم چوہدری کے کمرے میں آئی تھی وہ ابھی ہی دوا لے کر سوئے تھے انہیں سکون سے سوتا دیکھ حور کو تسلی سی ہوئی تھی اور ان کا کمفرٹر ٹھیک کرتی کمرے سے چلی گئی جب آدم کو کمرے کی جانب آتا دیکھا حور اسے نظرانداز کرتی گزرنے لگی
“دادا کی طبیعت کیسی ہے؟”
آدم اسے مخاطب کرتا پوچھنے لگا حور نے اسے دیکھا
“بہتر ہے سورہے ہیں”
حور اسے جواب دیتے ساتھ وہاں سے آگے کی جانب بڑھ گئی اور وہ اس مغرور نواب زادی کو جاتا دیکھ رہا تھا جو اس سے بات کیا اسے دیکھنا بھی گوارہ نہ کرتی تھی۔
دراب چوہدری اوپر سے یہ کھڑے دیکھ رہے تھے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سج گئی
“شاباش آدم”
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی آدم بھی اوپر کی طرف چلا گیا


ازقہ تہجد کی نماز ادا کرکے پانی پینے کیلیے کمرے سے باہر آکر کچن کی جانب بڑھی وہ پانی پی کر مڑی اور نظر سامنے کھڑے شخص پر گئی
“آپ اس وقت یہاں”
ازقہ ڈرتے ہوئے دھیمے لہجے میں بولی اس کے ڈرنے زاہد ہلکا سا مسکرا دیا
“میں ہوں ری ایکٹ ایسے کررہی ہو جن دیکھ لیا ہو”
وہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر نظریں جمائے بولا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی
“جب یوں اچانک آکر کھڑے ہوں گے تو میں تو ڈرو گی نا”
ازقپ فورا سے اسے جواب دینے لگی جس پر زاہد مسکرا دیا
“اتنی پیاری کیوں ہو؟”
وہ مسکراتے ہوئے گھمبیر لہجے میں پوچھنے لگا ازقہ کنفیوز سی دو قدم پیچھے ہوئی
“مجھے نہیں معلوم نیند آرہی ہے”
زاہد کو اپنی جانب بڑھتا فورا سے جواب دیتی سائیڈ سے گزرتی چلی گئی اور وہ مسکرا کر فرج سے پانی کی بوتل نکال کر پانی پینے لگا


حور بازو ماتھے پر رکھے سونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی مگر نیند تھی کے آنا کا نام نہیں لے رہی تھی حور نے کروٹ بدلی اور سونے کی کوشش کی مگر ناکام رہی تھی حور نے دوسری جانب کروٹ لی
“حور سوجاؤ حور سوجاؤ”
وہ خود سے کہتے ساتھ آنکھیں بند کیے ایک بار پھر کوشش کرنے لگ گئی
“تم مجھے اچھی لگتی
بیکوز آئی لو یو”
ایک بار پھر ذامل کے کہے گئے الفاظ کانوں میں گونجے وہ غصے سے اٹھ گئی
“توبہ ہے بھائی کیوں میں بار بار اس کے متعلق سوچ رہی ہوں”
خود سے کہتے وہ اپنی حرکتوں سے خود چڑ رہی تھی حور کو فورا ہی نیند آجاتی تھی اور آج نیند اس کی آنکھوں میں دور دور تک نہیں تھی
ذامل اپنے کمرے کی بیلکونی میں کھڑا نظریں باہر کی جانب مرکوز کیے ہوئے تھا نیند تو اسے آتی ہی نہیں تھی
“تم گلی کے وہ آوارہ غنڈے ہو جسے ہر ہفتے پیار ہوتا ہے اور مہینے بعد وہ پیار کسی اور سے ہورہا تھا”
ذامل حور کے کہے گئے الفاظ یاد کرتا آنکھیں بند کر گیا
“جان تمہیں خود سے اگر میں نے پیار کرنے پر مجبور نہ کردیا میرا نام ملک ذامل نہیں”
وہ نظریں باہر کی جانب کیے خود سے کہنے لگا اور لبوں پر دلفریب مسکراہٹ سجا گیا۔
جاری ہے