Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 1

وہ اپنے کمرے میں گہری نیند سورہا تھا چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار تھی آنکھوں کے سامنے ایک حسین خوبصورت چہرہ لہرایا مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی

“جان”

وہ نیند میں اسے تصور کرتا محبت سے کہنے لگا اچانک وہ اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوئی اور اس شخص نے فورا آنکھیں کھولی

نظریں کمرے میں دوہرائی وہ کہیں بھی موجود نہیں تھا وہ نفی میں سر ہلاتا بالوں میں ہاتھ پھیر کر اٹھ کھڑا ہوا

************

وال کلاک اسوقت سات بجا رہی تھی اور اسوقت چوہدری حویلی میں ناشتہ کی تیاریاں ہو رہی تھی اس حویلی میں موجود لوگ وقت کے بہت پابند تھے

ہاجرہ بیگم ناشتے کا سارا انتظام دیکھ کر ملازموں کو ڈائننگ پر لگانے کا حکم دیتی وہ اپنی اکلوتی بیٹی حور جان کو اٹھانے کیلیے اس کے روم کی جانب بڑھ گئی جسے اٹھانا مشکل سے بھی مشکل کام تھا

ہاجرہ بیگم نے دروازہ پر دستک دی جب اندر سے کوئی جواب نہ ملا تو دروازہ کھولتی وہ اندر داخل ہوئی جہاں کالج کیلیے تیار چہرے پر ہاتھ رکھے نظریں کتاب پر جمائے ہوئی تھی اسے اٹھا دیکھ ہاجرہ بیگم کو حیرت سی ہوئی مگر بولی کچھ نہیں تھی

“حور”

ہاجرہ بیگم کی آواز سے وہ نظریں اوپر کی جانب اٹھا گئی گھنگڑالے بالوں کو جوڑے میں قید کیے دو لٹھے چہرے پر ڈالے سفید رنگت کی سیاہ چمک دار آنکھیں پتلی سی ناک گلابی لب اور گال کے اوپر موجود تل اس کے چہرے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کررہا تھا وہ بلکل اپنے نام کی طرح بہت ہی پیاری اور معصوم تھی اور کسی کو بھی اپنی متوجہ کرنے کا ہنر رکھتی تھی

“آٹھ بجنے میں دس منٹ ہے تم شاید بھول رہی ہو کہ ابا جان تمہارے بغیر ناشتہ نہیں کرتے جلدی نیچے آجاؤ”

وہ اسے کہتے ساتھ ایک نظر اس کے روم میں ڈالتی جہاں ہر چیز بکھری ہوئی تھی اور نفی میں سر ہلا کر سمیٹنی لگی اسے کچھ کہ بھی نہیں سکتی تھی اگر کہتی تو جانتی تھی سیدھا شکایت لگ جانی ہے اس لیے خاموشی سے خود ہی کرنے لگ گئی وہ اپنا عبایا اٹھا کر پہنتی اور سر پر اسٹالر حجاب کی صورت کرکے ایک نظر شیشے سے خود پر ڈالی وہ سادگی میں بھی بہت دلکش لگتی تھی کندھے پر بیگ لٹکانے لگی

“اٹھارہ سال کی ہو چکی ہو مگر مجال ہے کوئی عقل آجائے”

ہاجرہ بیگم اس کی کمرے کی چیزیں درست کرتی مڑ کر خفگی سے بولی وہ آگے بڑھی اور ہاجرہ بیگم کی گال پر رکھ دیا

“ہائے میری پیاری امی”

پیار سے کہتے وہ مسکراتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی اور وہ بھی ہلکا سا مسکرا کر باہر کی جانب بڑھ گئی

ڈائننگ ٹیبل پر حور کے تین بھائی جبران چوہدری صارم چوہدری زاہد چوہدری اور سب سے اہم اس کے دادا حاکم چوہدری اس کے چچا دراب چوہدری پہلے سے موجود تھے

“گڈ مارننگ”

مسکرا کر کہتے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دادا کے گلے میں ڈالتی لاڈ سے بولی

“میری گڑیا”

حاکم صاحب اس کے دونوں ہاتھوں کو چوم کر پیار سے بولے وہ مسکرا کر کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی گھر کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی تھی اس کے منہ سے ابھی بات نکلتی نہیں تھی کہ اس کے دادا اور اس کے بھائی وہ بات پوری کردیتے تھے.

حور جوس کا گلاس لبوں سے لگائے ایک ہی سانس میں پی گئی

“اللہ حافظ دادا جان میرا ایگزیم ہے مجھے دیر ہورہی ہے اللہ حافظ لالا اللہ حافظ امی اللہ حافظ چچا”

وہ کرسی سے اٹھ کر حاکم صاحب کے گلے لگے مسکراتے ہوئے بولتی اپنے تینوں بھائیوں کو ہاتھ ہلا کر اور ہاجرہ بیگم کے گلے لگتی وہ باہر کی طرف تیزی سے بڑھ گئی

“ہر وقت جلدی ہوتی ہے اسے”

ہاجرہ بیگم اسے جاتا دیکھ خود سے بولی اور باقی سب ناشتہ کرنے لگ گئے

ازقہ دراب کی چھوٹی بیٹی ہاجرہ بیگم کے ساتھ بیٹھی ناشتہ کررہی تھی زاہد کی نظریں اسی پر تھی جس سے وہ کنفیوز ہو رہی تھی

“کہاں ہے آدم چوہدری”

حاکم چوہدری سرد لہجے میں دراب چوہدری سے مخاطب ہوئے انہوں نے حاکم چوہدری کی جانب دیکھا

“سورہا ہے”

وہ شرمندگی سے انہیں جواب دیتے ساتھ سر جھکا گئے جبکہ حاکم چوہدری غصے سے نفی میں سر ہلاتے ناشتہ کرنے لگ گئے

حور باہر آئی تو ڈرائیور پہلے سے ہی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے ہوئے تھے اس کے آتے ہی ملازمہ نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور وہ مغرور سی بیٹھ گئی اس قدر پیار لاڈ کی وجہ سے حور سرپھری اور تھوڑی بدتمیز تھی ڈرائیور نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی

************

“کیسا ہوا ایگزیم؟؟”

حور جیسے ہی کلاس سے باہر نکلی اس کی دوست نوال اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی

“ہمیشہ کی طرح بہترین”

پراعتماد لہجے میں وہ مسکراتے ہوئے بولی اور گراونڈ پر بیٹھ گئی تھی تبھی اس کے گروپ کی مزید لڑکیاں آ گئی

“تم کیوں رونے پر ہو”

وہ اپنے گروپ کی لڑکی کو ہلاتا دیکھ پریشان سی پوچھنے لگی

“یار اس نے میرے ساتھ چیٹ کیا ہے وہ اور لڑکیوں سے بھی باتیں کرتا ہے”

وہ روتے ہوئے اسے بتانے لگی حور اسے دیکھنے لگی

“مجھے سمجھ نہیں آتا تم کیسے کسی انجان پر یقین کرلیتی ہو اور اس گٹھیا انسان کیلیے خود کو تکلیف دیتی ہو حد ہے”

حور انتہائی غصے سے اپنی فرینڈ جو بولی نوال نے اسے دیکھا

“تمہاری نظر میں پیار ناولز اور ڈراموں میں ہوتا ہے حقیقی زندگی میں وقت کا ضائع ہے اس لیے”

نوال فورا سے حور کو مسکرا کر بتانے لگی حور اثبات میں سر ہلا گئی

“بلکل کچھ بھی نہیں رکھا اس پیار ویار میں”

وہ لاپرواہی سے کندھے اچکائے کہنے لگی اس کی فرینڈز اسے سن رہی تھی

“اگر تمہیں سچ میں پیار ہوگیا تو کیا کرو گی”

نوال اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے پوچھنے لگی حور مسکرا کر کھڑی ہوئی

“ناممکن ہے یہ اللہ حافظ”

کندھے پر بیگ لٹکائے پراعتماد لہجے میں جواب دیتی ڈرائیور کو دیکھ وہ چلی گئی اور اس کی دوستوں اسے جاتا دیکھ رہی تھی حور باہر نکلنے سے پہلے نقاب کرتی گاڑی میں بیٹھی تھی

***********

“گاڑی کیوں روکی؟؟”

ڈرائیور جو گاڑی سڑک پر چلا رہا تھا اچانک روکنے پر حور نے فورا پوچھا

“چھوٹی بی بی وہ سامنے”

ڈرائیور کو بولتے ہی حور جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی سامنے دیکھا بلیک کلر کی گاڑی کے ساتھ ایک لمبے قد کا شخص پشت ٹکائے ہاتھ میں سگریٹ لیے آنکھوں پر گاگلز لگائے بےفکر سا کھڑا تھا

“اندھا ہے کیا یہ”

حور تپ کر اسے دیکھ کر کہتے ساتھ گاڑی سے باہر نکلی تھی

“مسٹر ملک ذامل”

گاڑی سے اترتے اونچی آواز میں اس کا نام پکارتی اسے اپنی جانب متوجہ کرتی اس کی جانب قدم بڑھانے لگی حور کو دیکھ اس مغرور شخص کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی

حور کے مقابل آتے ہی ذامل آنکھوں سے گلاسز اتارتا مسکرا کر مونچھوں کو تاؤ دے گیا لمبے قد کا چوڑی جسامت سیاہ بال نفاست سے سجائے تیکھے نقوش بڑھی ہوئی بئیرڈ کترواں مونچھیں وہ بہت ہی خوبصورت شخصیت کا مالک تھا گاؤں کی بہت سی لڑکیاں ملک ذامل علی پر فدا تھی

“بیچ راستے میں گاڑی کھڑی کر رکھی دماغ ٹھیک ہے”

وہ کمر پر ہاتھ رکھے غصے سے اسے دیکھتے ہوئے بولی وہ مسکراتے ہوئے بس اس کی آنکھیں دیکھ رہا تھا

“میں کچھ بول رہی ہو دو منٹ سے پہلے گاڑی ہٹاؤ مسٹر ملک ذامل”

حور اونچی آواز میں اسے سرد نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہنے لگی

“مسٹر ملک ذامل واللہ”

وہ حور پر گہری نظریں جمائے اس کا دیا ہوا نام دہراتا مسکرا کر سگریٹ کا ایک گہرا کش لگاتا سگریٹ کا دھواں ہوا میں اڑا گیا اور حور نے ناگواریت سے اسے دیکھا

“مسئلہ کیا ہے تمہارا ہاں کیوں ہر روز میرے راستے کی رکاوٹ بنتے ہو”

حور بےزاریت سے پوچھنے لگی ذامل نے ایک قدم اس کی جانب بڑھایا

“تمہیں دیکھنے کے لیے جان”

مونچھوں کو تاؤ دیتا وہ بھاری لہجے میں اسے جواب دیتا گاڑی میں بیٹھ کر مسکرا کر ایک نظر حور پر ڈالتا جانے لگا

“جان نہیں حور جان”

وہ انگلی دیکھاتی اسے سرد لہجے میں وارن کرنے لگی جب وہ اس کے چہرے کے قریب آیا

“میں جان کہوں گا”

گھمبیر لہجے میں اسے کہتے ساتھ وہ وہاں سے بھاری قدم لیے گاڑی میں بیٹھنے لگا اور حور گھور کر اسے دیکھنے لگ گئی

“آوارہ بدمعاش لچہ”

غصے سے اسے کچھ الفاظ سے نوازتی وہ واپس گاڑی میں آکر بیٹھی تھی ڈرائیور نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی۔

************

وہ حویلی میں داخل ہوا تو نظر ملک شہراز صاحب پر گئی جو شاید اسی کے انتظار میں تھے تین چار ملازم ان کے اردگرد موجود تھے

“کہاں تھے تم”

شہراز صاحب کی روعبدار آواز سے ذامل ان کی جانب بڑھا اور انہیں دیکھا

“کام سے گیا تھا”

سنجیدگی سے مختصر سا جواب دے کر وہ انہیں کے ساتھ بیٹھ گیا

“میں نے بھی تمہیں ایک کام دیا ہوا تھا”

وہ اس کے پاس بیٹھ کر اسے دیکھتے ہوئے بولے ذامل جو اپنا ہاتھ ہلا رہا تھا اس کا ہلتا ہاتھ ایکدم رکا اور اس نے ان کی جانب دیکھا

“ہوجائے گا”

ذامل انپیں جواب دے کر اس پر کی جانب بڑھ گیا اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گئے

اس حویلی میں صرف ملک شہراز اور ذامل ہی موجود تھے باقی ملازم تھے ذامل کے والدین جب وہ نو سال کا تھا تب ہی ایک حادثے میں اپنی جان گوا بیٹھے تھے اس لیے وہ اتنا کم گو اور سنجیدہ رہتا تھا اس کی زندگی میں اس کے دادا ملک شہراز بہت اہم تھے

************

حور اپنی کافی ہاتھ میں تھامے بیلکونی میں آئی وہ رات کی کافی بیلکونی میں ہی پیتی تھی حجاب سے سر کو ڈھکے وہ مسکراتے ہوئے نظریں باہر کی جانب کیے کافی پی رہی تھی اچانک نظر سائیڈ پر گئی جہاں وہ سینے بازو باندھے اسی کی جانب نظریں کیے اسے دیکھنے میں مصروف تھا حور کو اسے دیکھ اس کے چہرے ہی مسکراہٹ غائب ہو گئی وہ ایک ہفتے سے مسلسل اس وقت اسے یہاں ضرور پاتی تھی بغیر کچھ بولے منہ بناتی کھڑکی بند کر گئی تھی

“سچ میں لچہ ہے پورا”

غصے سے خود سے منہ بنائے کہتے ساتھ بیڈ پر آکر کافی پینے لگ گئی اور ذامل خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔

حور کافی پیتے ہوئے یہی سوچ رہی تھی کیوں صبح وہ اس ہے راستے کی رکاوٹ بنتا ہے کیوں وہ اس طرح آکر یوں کھڑا ہوکر اسے دیکھتا ہے

“عجیب سے بھی عجیب ہے یہ شخص لیکن کل اگر یہ میرے راستے کی رکاوٹ بنا تو بات تو ضرور کروں گی آخر وجہ معلوم ہو “

وہ خود سے فیصلہ کرتے ساتھ کافی مکمل کرتی مگ سائیڈ پر رکھتی حجاب کھول کر لیٹ گئی کچھ ہی دیر میں اسے نیند آ گئی تھی

*************

حاکم چوہدری آج اپنے بڑے بیٹے ابرار چوہدری کی قبر پر آئے ہوئے تھے دراب چوہدری بھی ساتھ تھے ان کی برسی تھی وہ ان کی قبر سے باہر نکلے تھے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ چہرے پر شدید غصہ آیا تھا

“کیسے ہو حاکم”

وہ سگریٹ کا گہرہ کش لگا کر چہرے پر جلا دینے والی مسکراہٹ سجائے بولے

“چلو جبران”

حاکم اسے نظرانداز کرتے اپنے پوتے کو مخاطب کرتے جانے لگے جب ملک شہراز راستے کی رکاوٹ بنا

“مجھے تم سے کوئی بحث نہیں ہے کرنی ہے ملک شہراز”

وظ سرد لہجے میں سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ کر بولے

“تکلیف تو ہوتی ہوگی مجھے بھی ہوئی تھی جب میرے بیٹے اور بہو کو تم نے مارا تھا”

وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے تکلیف دہ لہجے میں بولے جس پر وہ اسے دیکھنے لگ گئے

“تم نے میرے بےقصور بیٹے کو مجھ سے دور کیا ہے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا”

حاکم چوہدری تیش میں کہتے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھ گئے اور مہک شہراز جاتا دیکھنے لگ گئے

“اور میں بھی”

نفرت بھری نگاہوں سے گھورتے وہ بولے اور اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چل دہے

************

رات کے پہر حور کو پیاس لگی تو جگ خالی تھا وہ باہر آئی تو نشے میں دھت اندر آتے آدم چوہدری کو دیکھا

“آج تو گھر آتے ساتھ دیدار ہوگیا ہے تمہارا”

چہرے پر گٹھیا مسکراہٹ سجائے وہ اسے دیکھ کر بولا حور نے ناگواریت سے اسے دیکھا

“شرافت سے کمرے میں جاؤ آدم چوہدری منہ لگنے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے”

غصے سے اسے کہتی وہ کچن کی جانب بڑھ گئی اور آدم غصے سے اسے جاتا دیکھنے لگ گیا.

“بےحیا”

کچن میں آتی پانی پیتی وہ غصے سے بولی اور کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔

جاری ہے.۔

__________