Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht E Dil) Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht E Dil) Episode 14
“آخر میں اپنی منزل تک پہنچنے ہی والا ہوں”
دراب چوہدری اپنے کمرے میں موجود مسکراتے ہوئے خود سے کہنے لگے۔
“اب آئے گا مزا ابا جان”
وہ حاکم چوہدری کی تصویر پر نظریں جمائے آنکھوں میں نفرت لیے کہنے لگے
“آپ سے اپنے سارے بدلے لوں گا آج تک جو آپ میرے ساتھ کرتے آئے ہیں”
وہ حاکم چوہدری کی تصویر پر نظریں جمائے سرخ آنکھیں لیے کہنے لگے
تبھی آدم کمرے میں داخل ہوا اور دراب چوہدری کو دیکھا ۔
“میں بھی آپ کے ساتھ بدلہ لوں گی ان کی لاڈلی پوتی کی زندگی عذاب کرکے”
آدم ان کے ساتھ آکر کھڑا ہوتا ہوئے کہنے لگا دراب چوہدری اسے دیکھنے لگے۔
“مجھے تم پر فخر ہے آدم جیت ہماری ہی ہوگی”
دراب چوہدری اسے مسکرا کر کہتے ساتھ اپنے لگائے بولے۔
“جی ابا جیت ہماری ہی ہوگی”
وہ بھی مسکرا کر کہنے لگا اور کمرے سے چلا گیا
حور پانی پینے کیلئے کچن کی طرف بڑھ رہی تھی جب سامنے سے آتا آدم دیکھائی دیا آدم نے اس کا راستہ روکا حور اسے دیکھنے لگی
“مجھے پانی پینا ہے آگے سے ہٹو”
حور سپاٹ لہجے میں اسے دیکھے بغیر کہنے لگی آدم مسکرا کر کہنے لگا
“یہ سارے نکھرے ساری اکڑ ختم کردوں گا ایک دفعہ میرے نکاح میں آجاؤ”
وہ اس کے قریب آتے ہوئے اسے کہنے لگا حور پیچھے کی جانب قدم بڑھانے لگی
“مجھ سے دور رہو سمجھے”
حور غصے سے کہتے ساتھ سائیڈ سے گزرنے لگی جب آدم نے اس کی کلائی پکڑی حور نے آنکھیں بند کی وہ اپنے غصے کو ضبط کررہی تھی مگر آدم کی حرکتیں اس کے غصے کو ہوا دے رہی تھی۔
“اب تو ہامی بڑھ دی ہے اب تو یوں نظر انداز مت کرو”
وہ اس کے قریب آتے ہوئے اسے کہنے لگا حور مری اور زوردار تھپڑ اس کی گال پر دے مارا۔
“اپنی حد میں رہو نکاح میں نہیں ہوں میں ابھی تمہارے”
وہ اسے سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ کچن کی طرف بڑھ گئی اور آدم غصے سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔
ذامل اس وقت اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا لائٹ بند کیے ہاتھ میں سگریٹ لیے وہ حور کے متعلق سوچنے میں مصروف تھا
“سوچو جان اگر میں تمہیں دھوکہ دے دوں تو؟”
ذامل حور کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا حور نے فوراً اسے دیکھا
“تم مجھے دھوکہ نہیں دے سکتے اتنے وقت میں اتنا جان گئی ہوں ملک ذامل تمہیں”
حور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پر اعتماد لہجے میں بولتی ذامل کی مسکراہٹ غائب کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی
“میں نے تمہارا اعتبار توڑا ہے میں جانتا ہوں جان لیکن میں مجبور ہوں”
وہ اس کی تصویر کو دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے خود سے کہنے لگا۔
“مگر جو تم خود کیساتھ کرنے جارہی ہو وہ بہت غلط ہے اور میں تمہیں خود کے ساتھ ایسا کرنے نہیں دوں گا”
وہ خود سے کہتے ساتھ سگریٹ کا گہری کش لگاتا دھواں ہوا میں اڑا کر اس تصویر پر نظریں جما گیا۔
حور اپنے کمرے میں موجود ذامل کے ساتھ گزرا ہوا ہر ایک وقت یاد کررہی تھی آنکھوں میں آنسو تھے
تبھی ہاجرہ بیگم کمرے میں آئی اور نظر اس پر گئی ہاجرہ بیگم کو کمرے میں آتا دیکھ حور فوراً آنسو صاف کر گئی ۔
“یہ نکاح میں پہنو گی تم”
وہ اس کے سامنے جوڑا رکھتی اسے کہنے لگی حور اٹھ کر فوراً ہاجرہ بیگم کے پاس آئی۔
“ماں مجھے معاف کردیں نا میں نے جان کر نہیں کیا کچھ بھی سچ میں اس شخص نے مجبور کردیا تھا مجھے”
حور ہاجرہ بیگم کے ہاتھ تھام کر آنکھوں میں آنسو لیے کہنے لگی ہاجرہ بیگم اسے دیکھنے لگی
“تمہیں اس سے محبت کرتے ہوئے ایک دفعہ اپنے دادا کا خیال نہیں آیا؟”
ہاجرہ بیگم اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کرنے لگی حور نے انہیں دیکھا
“آیا لیکن اس شخص نے اپنی باتوں میں اتنے پاگل کردیا کہ میں سب بھول گئی”
حور آنکھوں میں آنسو لیے انہیں اداسی سے بتانے لگی ہاجرہ بیگم نے اسے گلے لگایا
“اب اسے بھلا دو اور اپنی نئی زندگی میں صرف آدم کا ہی سوچو”
ہاجرہ بیگم اسے گلے سے لگائے کہتے ساتھ وہاں سے چلی گئی حور انہیں جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“کیا کردیا ہے تم نے ذامل تمہاری وجہ سے میں نے اس شخص کیلیے ہاں کی جسے میں دیکھنا تک نہیں چاہتی تھی”
حور خود سے کہتے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی اور نم آنکھوں سے اس سفید رنگ کے جوڑے کو دیکھنے لگ گئی ۔
آج نکاح کا دن تھا اور چوہدری حویلی میں چہل پہل سی مچی ہوئی تھی ہر کوئی کاموں میں مصروف تھا
“ازقہ اور حور آجاؤ مہندی والی آ گئی ہے”
ہاجرہ بیگم ان دونوں کی آواز لگاتے ہوئے بلانے لگی ازقہ آواز سن کر حور کے کمرے کی طرف بڑھی
“حور”
ازقہ نے اسے دیکھا جو نہا کر باہر آئی تھی اس کی آنکھیں ابھی بھی سوجی تھی
“جی”
حور فوراً سے پوچھنے لگی ازقہ اس کے پاس آئی
“آجاؤ مہندی والی آ گئی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی حور نے ازقہ کو دیکھا
“آئی ایم سوری بجو”
حور ازقہ کے دونوں ہاتھ تھام کر شرمندہ سی بولی ازقہ اسے دیکھنے لگی
“کوئی بات نہیں حور مجھے تو کچھ یاد ہی نہیں”
وہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے پیار سے کہنے لگی حور بھی ہلکا سا مسکرا دی اور گلے سے لگ گئی۔
“چلیں باہر”
ازقہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر حور اثبات میں سر ہلا گئی اور دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔۔
حور اور ازقہ بیٹھی مہندی لگوا رہی تھی ازقہ کے چہرے پر مسکراہٹ جبکہ حور کس چہرہ مرجھایا ہوا تھا ۔
“لڑکے کا نام لکھنا ہے؟”
مہندی والی نے ازقہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا ازقہ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا
“زاہد لکھ دیں”
ازقہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگی جس پر مہندی والی زاہد کا نام لکھنے لگ گئی۔
“آپ کے بھی دولہے کا نام لکھنا ہے”
مہندی والی حور سے پوچھنے لگی حور نے اسے دیکھا
“نہیں”
حور اسے فوراً سے جواب دینے لگی جس پر مہندی والی بغیر کچھ کہے مہندی لگانے لگ گئی ۔
ان دونوں کی مہندی مکمل ہو گئی تھی اور بہت ہی خوبصورت لگی تھی۔۔
ہاجرہ بیگم دونوں کی نظر اتار کر ان دونوں کو تیار ہونے کو کہنے لگی وہ دونوں خاموشی سے اپنے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
سارا انتظام ہو چکا تھا لان کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ازقہ سرخ رنگ کے جوڑے میں ملبوس لائٹ سے میک اپ میں ہونٹوں پر ریڈ لپسٹک لگائے ہیوی جیولری پہنے پیاری لگ رہی تھی اپنا عکس شیشے میں دیکھ وہ مسکرا دی۔۔
حور سفید رنگ کے نفیس سے کام۔ والے جوڑے میں ملبوس سر پر ہم رنگ کام دار دوپٹہ سیٹ کیے لائٹ سا میک ایپ کیے ہونٹوں پر پنک کلر کی لپسٹک لگائے لائٹ سے میک ایپ میں ماتھا پٹی جھمکے اور نتھ پہنے وہ اسوقت کوئی آسمان سے اتری حسین پری لگ رہی تھی مگر چہرے پر مایوسی کی وجہ سے اس خوبصورت میں نکھار نہیں آرہا تھا۔
“حور کا نکاح ہے آج”
شہریار ذامل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا ذامل اپنی جگہ سے کھڑا ہوا
“نہیں ہوگا”
وہ اسے یہ کہتے ساتھ اس کے گھر سے نکل گیا شہریار اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔
“یہ لڑکا یار”
شہریار سر پیٹ کر کہتے ساتھ پانی پینے لگا
“اللہ تعالیٰ اسے وہ دے دو ورنہ اس نے آپ کے پاس پہنچ جانا ہے”
شہریار چھت کی طرف دیکھ کر کہتے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
حور شیشے کے سامنے ساکت سی کھڑی تھی تبھی وہ کھڑکی پھلانگ کر بیلکونی سے گزرتا کمرے میں داخل ہوا۔
“تم میری سوچ سے بھی زیادہ دلہن کے روپ میں حسین لگ رہی ہو جان”
ذامل حور کے عقب میں آکر کھڑا ہوتا اس کے حسین سراہے پر گہری نظریں جمائے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا حور فوراً سے پلٹی وہ سچ میں تھا ۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی”
حور سرد لہجے میں اسے دیکھ کر نظریں دوسری سمت کیے پوچھنے لگی۔
“تمہیں دلہن بنا دیکھنے آیا تھا “
وہ اسی پر نظریں مرکوز کیے کہنے لگا حور نے اسے دیکھا
“کیوں آئے ہو ہاں دیکھ لیا نا چلے جاؤ یہاں سے کیونکہ میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی ہے اب”
حور غصے سے کہتے ساتھ مڑنے لگی جب ذامل نے اس کی کلائی پکڑی کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
“تم دلہن کے روپ میں اس قدر حسین لگ رہی ہو کہ تم سے نظریں نہیں ہٹائی جارہی ہیں اتنی حسین کہ ملک ذامل تمہیں پوری رات پلک چھپکائے دیکھ سکتا ہے حورِ جان”
ذامل اس کے چہرے پر نظریں جمائے گھمبیر لہجے میں اسے بولا حور اسے سن رہی تھی اس کی بات ختم ہوتے ہی حور نے بولنا چاہا مگر ذامل اس کے منہ پر رومال رکھ گیا حور اسے دیکھنے لگ گئی ۔
“سوری لیکن یہ کرنا ضروری ہے”
ذامل حور کو مزاحمت کرتا دیکھ کہنے لگا کچھ منٹ بعد حور ذامل کی باہوں میں تھی۔
“حور حور”
تبھی دروازے پر ہاجرہ بیگم اسے دستک دیتی پکارنے لگی ذامل دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔۔
جاری ہے ۔
