Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht E Dil) Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht E Dil) Episode 18
ذامل اسی طرح بیٹھا تھا حور کمرے سے باہر نکلی نظر اس پر گئی نظر اس پر جاتے ہی اسے اپنے دادا کی باتیں اور ان آنکھوں میں موجود خود کیلیے نفرت یاد آئی وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتی کرسی پر بیٹھ گئی
“بھوک نہیں لگی”
ذامل ابھی اپنی بات کررہا تھا حور نے فوراً اسے ٹوکا
“مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
حور اسے انگلی دیکھا کر غصے سے کہنے لگی ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“بری بات شوہر سے ایسے بات نہیں کرتے”
وہ اسے مسکراتے جان کر تنگ کرنے کیلیے کہنے لگا حور نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا۔
“میں تمہیں شوہر نہیں مانتی شوہر تو کیا مجھ سے پوچھو میں تمہارا وجود بھی کیسے برداشت کرتی ہو میرے بس میں ہوتا تو تمہاری شکل ساری زندگی نہ دیکھتی میں “
حور سرد لہجے میں آنکھیں چھوٹی کیے اسے بتانے لگی ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“ایسی بات ہے”
ذامل سخت لہجے میں پھولی ہوئی رگوں اسے دیکھ کر آئبرو اچکائے پوچھنے لگا
“بالکل ایسی ہی بات ہے”
وہ اسے فوراً سے جواب دینے لگی ذامل کھڑا ہوا
“تو میں چلا جاتا ہوں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے گردن ہلاتے ہوئے بولا حور اسے دیکھنے لگی
“تھینک یو وری مچ”
حور اسے جاتا منہ بنائے کہنے لگی ذامل نے مڑ کر ایک نظر اس پر ڈالی اور خاموشی سے بھاری قدم بھاری قدم لیے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
حور اسی طرح بیٹھی رہی دادا کے متعلق سوچتے ہی آنکھیں بھیگنے لگی اس کی زندگی کیا سے کیا ہوگی حورِ جان جو کسی کی پرواہ نہیں کرتی تھی آج زندگی اس کے ساتھ ایسے کھیل کھیل رہی تھی کہ وہ مضبوط لڑکی رونے پر مجبور ہو گئی تھی۔۔۔۔
“پتہ لگا کچھ ؟”
ملک شہراز اپنے ملازم سے روعبدار آواز میں سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔
“نہیں صاحب لیکن میں کوشش کررہا ہوں جلد پتہ لگوا لوں گا”
ملازم فوراً سے ملک شہراز کو بتانے لگا ملک شہراز سر کو خم دے گئے اور فون اٹھا کر ذامل کا نمبر ملایا مگر فون نہیں اٹھایا
ملک شہراز نے حاکم چوہدری کے نمبر پر فون ملایا جو تیسری چھوتی بیل پر اٹھا لیا گیا
“حاکم چوہدری اپنی پوتی کو میرے پوتے سے دور رکھو”
ملک شہراز سرد لہجے میں حاکم چوہدری کو تنبیہہ کرتے ہوئے بولے
“ملک شہراز تم تو بہت بے خبر ہو اپنے پوتے کی حرکتوں سے نکاح کر چکا ہے وہ ہماری پوری سے زبردستی”
حاکم چوہدری بھی غصے سے انہیں بتانا ضروری سمجھنے لگے ملک شہراز اپنی جگہ ساکت ہوگئے.
“نکاح نہیں یہ ناممکن ہے”
ملک شہراز بےیقینی سی کیفیت میں کہنے لگے حاکم چوہدری ہلکا سا مسکرا دیے
“یہ حقیقت ہے”
کہتے ساتھ حاکم چوہدری نے فون رکھ دیا اور ملک شہراز ویسے ہی کھڑے حاکم چوہدری کی باتیں سوچنے لگے۔
حور کپڑے چینج کرنے کیلیے اٹھی وارڈروب کھولنے لگی تو اچانک ذامل والی سائیڈ کھل گئی حور کی نظر ایک گڈا اور ایک گڑیا پر گئی وہ دیکھتے ہی حور تیرا سال پیچھے چلی گئی
“یہ کیا ہے جان؟”
گیارہ سالہ ذامل آٹھ سالہ حور کے پاس آتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگا
“یہ گڈا گڑیا ہے یعنی گڈا تم اور گڑیا میں”
حور مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی جس پر ذامل مسکرایا
“اور ذامل اور جان ہمیشہ ساتھ رہے گے”
وہ اس کے ہاتھ سے دونوں گڈا گڑیا لیتے ہوئے کہنے لگا حور اثبات میں سر ہلا گئی
ماضی کا خوبصورت لمحہ یاد کرتے ہی حور کے لب مسکرا دیے
“تم نے آج تک سنبھال کر رکھی ہوئی ہے کاش ہمارے خاندانوں کے بیچ کبھی دشمنی نہ ہوتی ذامل کاش تم اپنے دادا کے کہنے پر مجھے دھوکہ نہ دیتے یقین جانو میں سب سے لڑ لیتی تمہارے لیے لیکن تم نے حور کا مان توڑ دیا “
وہ گڈا گڑیا پر نظریں بھیگی ہوئی آنکھوں سے خود سے بولی
“میں جانتی ہوں میں تمہاری بچپن کی محبت میں نے بھی بچپن سے ایک ہی لڑکے سے دوستی رکھی اور اسی کو دل دیا”
وہ ان گڈا گڑیا کو دیکھتے ہوئے ذامل کو بتانے کی کوشش کررہی تھی جو اس کے پیچھے کھڑا سن کر مسکرا دیا
“ملک ذامل تم پر بچپن سے فدا ہے”
ذامل کی آواز پر حور فوراً ہوش میں آئی اور گڈا گڑیا رکھتی وارڈروب بند کرگئی
“اسی لیے دھوکہ دیا تھا مجھے”
حور مڑ کر نارمل ہوتی اپنی پہلی والی ٹون میں آتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی
“ہوگئی غلطی معاف کردو “
ذامل بےبسی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور اسے دیکھ رہی تھی
“میں نے تم سے سچا پیار کیا تھا لیکن تم نے حورِ جان کا مان توڑا ہے اور جو میرا مان توڑ دے میں پلٹ کر بھی نہیں دیکھتی اسے”
حور اسے دیکھتے ہوئے ہر لفظ پر زور ڈال کر کہتے ساتھ وارڈروب سے ڈریس نکال کر سائیڈ سے گزرنے لگی جب ذامل نے کلائی پکڑ کر اپنی جانب کھینچا
“جس دن تمہیں دیکھو گا نہیں نا تمہاری سانس رک جائے گی یاد رکھنا”
ذامل اس کے چہرے پر نظریں جمائے اسے گھمبیر لہجے میں کہنے لگا حور اسے دیکھنے لگی
“ایسا نہیں ہوگا”
حور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اسے غصے سے جواب دیتی بازو جھٹک کر چلی گئی ذامل اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔
“ابا مجھے حور جان چاہیے کسی بھی حال میں”
آدم غصے سے دراب چوہدری کو چیخ کر کہنے لگا دراب چوہدری اسے دیکھنے لگ گئے
“چپ کرو خود پریشان ہوں سب کیا حاکم چوہدری اور ملک شہراز دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف کردیا کہ ذامل کے ساتھ رشتہ نہ ہو حور کا دیکھو اس کا نکاح پھر بھی اس سے ہوگیا کروڑوں اربوں جائیداد کا مالک بن گیا وہ”
دراب چوہدری غصے سے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگے آدم دراب چوہدری کو دیکھنے لگا
“نہیں وہ ذامل کی نہیں ہوسکتی آپ نے کہا تھا میرا نکاح ہوگا اس سے”
آدم چلا کر غصے سے کہنے لگا جس پر دراب چوہدری نے اسے دیکھا
“کچھ سوچتا ہوں اتنی آسانی سے تو اس سونے کی چڑیا کو ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا “
دراب چوہدری آدم کو تسلی دیتے ہوئے کہتے ساتھ کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔
ہاجرہ بیگم جو وہاں سے گزر کر کمرے کی طرف جارہی تھی یہ ساری باتیں سن پیروں تلے زمین نکل سی گئی تھی لیکن خدا نے ان کی بیٹی کی حفاظت کی تھی وہ خاموشی سے بغیر آواز کیے کمرے کی طرف بڑھ گئی
“شکر اللہ تیرا”
ہاجرہ بیگم خدا کو شکر کرتی دراب چوہدری کی اصلیت حاکم چوہدری کو صبح بتانے کا فیصلہ کرتی سونے کیلیے بیڈ کی طرف بڑھ گئی
ازقہ نم آنکھیں لیے مان میں بیٹھی تھی تبھی زاہد وہاں آیا آج وہ اسے پورے چار دن بعد دیکھ رہا تھا اس کے ساتھ جاکر بیٹھ کر نظریں اس پر مرکوز کر گیا
“ازقہ”
زاہد اسے نرمی سے مخاطب کرنے لگا اس کی آواز سے ازقہ نے فوراً اس طرف دیکھا
“تمہیں لگتا ہے حور نے اپنی مرضی سے نکاح کیا ہے”
زاہد اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ازقہ نفی میں سر ہلا گئی
“ذامل نے زبردستی کی ہے اس کے ساتھ”
ازقہ فوراً سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر زاہد سامنے دیکھنے لگا
“مجھے بھی یہی لگتا ہے تم اتنے یقین سے کیسے کہ سکتی ہو”
زاہد سنجیدگی سے اس سے ایک اور سوال کرنے لگا
“کیونکہ حور اس انسان سے کبھی نکاح نہیں کرتی جو اسے ہرٹ کر چکا ہو”
ازقہ بھی سامنے دیکھتے ہوئے اسے وجہ بتانے لگی زاہد نے اسے دیکھا ازقہ نے اسے سب بتادیا ۔
“تم نے مجھے پہلی کیوں نہیں بتایا”
زاہد نے اسے دیکھتے ہوئے تھوڑے سرد لہجے میں پوچھا
“آپ غصہ نہ ہوں اس لیے”
وہ معصومیت سے اسے جواب دینے لگی زاہد اسے دیکھنے لگ گیا
“تم پریشان مت ہو رخصتی تمہاری میرے ساتھ ہی ہوگی”
زاہد اس کے آنسو پونچھتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر بولا ازقہ بھی مسکرائی زاہد نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے ازقہ کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی اور وہ دونوں کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہے دونوں کیلیے ہی یہ وقت بہت خوبصورت تھا
حور اور ذامل کے نکاح کو ہفتہ گزر چکا تھا اور اب تک ملک شہراز کے آدمی ملک شہراز تک نہیں پہنچ سکے تھے ملک شہراز شدید غصے میں تھے بس وہ ذامل کے ملنے کا انتظار کررہے تھے ۔۔
“آجاؤ”
نوال شہریار کے ساتھ ذامل کے گھر آئی وہ اسے باہر کھڑا دیکھ کر اندر آنے کا بولنگ لگا نوال اندر کی طرف بڑھ گئی
وہ دونوں اندر آئے نظر ذامل پر گئی ذامل نے بھی باری باری نظر ان دونوں پر ڈالی
“اوپر ہے وہ”
وال کو دیکھتے ہوئے بتانے لگا جس کی آنکھیں حور کو تلاش رہی تھی وہ خاموشی سے زینوں کی جانب بڑھ گئی
“چائے پیے گا”
ذامل نے شہریار کو۔ دیکھتے ہوئے پوچھا شہریار نے اسے دیکھا
“اللہ خیر کرے تو ٹھیک ہے”
شہریار بات کو ہضم نہ کرتے ہوئے تھوڑا پریشانی سے پوچھنے لگا
“عزت۔ کبھی راس۔ نہیں آ سکتی”
ذامل کہتے ساتھ چائے بنانے لگا شہریار اسے دیکھنے لگا
“حور”
نوال کی آواز پر حور جو نظریں کھڑکی سے نیچے کی طرف کیے ہوئے تھی پلٹ کر فوراً دیکھا
“نوال”
نوال کو اپنے سامنے پاکر خوشی سے اس کا نام لیتی فوراً گلے لگی نوال مسکرادی
“کیسی ہو؟”
نوال فوراً سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی حور کے چہرے کیی مسکراہٹ غائب ہوئی
“ٹھیک تم یہاں کیسے آئی”
حور نے فوراً اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا اور دونوں بیڈ پر بیٹھے
“شہریار لایا ہے”
نوال اسے بتاتے ساتھ کمرے پر نظر دوہرانی لگی حور اسے دیکھ رہی تھی
“ذامل کیسا رہتا ہے تمہارے ساتھ ؟”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی حور نے اسے دیکھا
“ذامل بھائی بولو اسے “
حور منہ بنائے نوال سے کہنے لگی جس پر نوال کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی
“اچھا ذامل بھائی اب خوش”
نوال فوراً سے کہنے لگی حور مسکرا دی اور اثبات میں سر ہلا گئی
“صحیح رہتا ہے”
حور اسے جواب دینے لگی تبھی ذامل چائے لیے کمرے میں آیا حور نے اسے دیکھا نوال نے چائے لی حور نے بھی خاموشی سے کپ لے لیا۔۔
اس شہریار کے پاس بیٹھا چائے اور سگریٹ دونوں پی رہا تھا
“سب چیخنا کم ہوا بھابی کا”
شہریار مسکراتے ہوئے ذامل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ذامل نے اسے دیکھا
“نہیں”
وہ لفظی جواب دیتے ساتھ چائے پینے لگ گیا شہریار بھی چائے پینے لگ گیا
“تو پہلے اتنا سڑیل نہیں تھا اب ہوا ہے”
شہریار منہ بسور کر شکوہ کرتے ہوئے کہنے لگا جس پر ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“جس دن حور نکاح کو قبول کرلے گی میرا سڑیل پن کم ہو جائے گا”
ذامل اسے صاف جواب دیتا اپنی پریشانی اسے بتا گیا شہریار خاموش ہوگیا۔
کچھ دیر نوال اور شہریار بیٹھے اور پھر دونوں چلے گئے نوال سے مل کر حور تھوڑی بہتر تھی
دن بہت تیزی سے گزرا تھا آج کا حور چینج کرکے کمرے میں آئی تو نظر ذامل پر گئی جو چیز پر آنکھیں بند کیے لیٹا تھا وہ کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوئی اور آسمان پر نظر ڈالی موسم بہت خراب ہوا ہوا تھا اچانک بجلی کڑکنے کی آواز پر حور ڈر کر وہاں سے ہٹتی کرسی پر بیٹھ گئی مسلسل گرجتی آواز حور کو خوفزدہ کررہی تھی اچانک لائٹ چلی گئی کمرا تاریکی میں ڈوب گیا حور مزید خوفزدہ ہو گئی
ذامل گہری نیند سورہا تے حور فون کی ٹارچ ان کرکے ذامل کے پاس گئی
“ذامل”
حور نے اسے پکارا مگر دوسری طرف سے کوئی ردعمل نہیں ہوا حور نے ہاتھ آگے بڑھ کر اسے ہلایا
“ذامل”
اس کے کندھے کو ہلا کر اٹھاتے ہوئے بولی ذامل نے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا
“تم کیوں سورہے ہو جاگ کر بیٹھو”
حور گھبرائے ہوئے لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ذامل پریشانی سے اسے دیکھنے لگ گیا
“کیا بچوں والی باتیں کررہی ہو حور نیند آئے گی تو سو گا نا”
ذامل نیند میں اسے جواب دیتا دوبارہ سونے کیلیے آنکھیں بند کرنے لگا
“ذامل لائٹ بھی نہیں ہے اور اوپر سے یہ خوفزدہ آوازیں مجھے ڈرا رہی ہے”
حور اسے اونچی آواز میں بتانے لگی ذامل اسے دیکھنے لگا
“سوجاؤ تم بھی”
ذامل اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے مشورہ دینے لگا حور اسے دیکھنے لگی
“کدھر “
حور آئبرو اچکائے فوراً سے پوچھنے لگی ذامل نے اچانک اسے اپنی طرف کھینچا حور ذامل پر آ گری حور کی پارٹ بیٹ مس ہوئی دونوں کی نظریں آپس میں ٹکرائیں ذامل کی نظریں اس کے حسین چہرے پر تھیں۔۔
“یہاں”
ذامل اپنے سینے پر اشارہ کرتے ہوئے بولا حور اسے دیکھنے لگی اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگی
“چھوڑو”
حور اسے بولتے ہوئے اچانک اس کے قریب ہوئی وہ دونوں بہت نزدیک تھے
“اتنا قریب مت آؤ میرا دل گستاخی کرنے پر اتر آئے گا”
ذامل اس کے چہرے پر گہری نظریں جمائے کھوئے ہوئے انداز میں بولتا حور کو خاموش کروا گیا حور اس کی قید سے نکلنے کی سعی کرنے لگی مگر ناکام رہی تھی
ذامل نے آگے بڑھ کر اس کے بالوں کو پیچھے کیا اور اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا پیار کی پہلی مہر لگا گیا حور آنکھیں میچ گئی دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا
“یہاں سوجاؤ”
ذامل اسے اپنے ساتھ لٹاتے ہوئے کہتے ساتھ اپنے حصار میں لے گیا
“دور”
حور ابھی بول رہی تھی جب ذامل نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی حور بس اسے دیکھتی رہ گئی ذامل آنکھیں بند کرگیا ذامل اسے اپنے قریب پا کر سکون محسوس کررہا تھا
جاری ہے
