Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 Last updated: 16 October 2025
No Download Link
Rate this Novel
Dasht E Dil
By Mahnoor Sheherzaad
اندھیرا روشنی میں تبدیل ہوگیا تھا یہ صبح حور کیلیے ایک سرد صبح تھی وہ اپنے کمرے میں ہی بیڈ پر لیٹی تھی تبھی حاکم چوہدری کمرے میں آئے اور اسے دیکھا حاکم چوہدری کو دیکھتے ہی حور سیدھی ہوکر بیٹھی۔ "کیسی ہے میری گڑیا " وہ پیار سے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگے۔ "بہتر ہوں دادا " حور لبوں پر زبردستی مسکراہٹ سجائے انہیں جواب دینے لگی۔ "لگ تو نہیں رہا ہے آپ کی آنکھیں اتنی سوجھی کیوں ہوئی ہیں؟" حاکم چوہدری فکرمند سے اسے غور سے دیکھتے کہنے لگا "شاید زیادہ سونے کی وجہ سے میں بہتر ہوں فریش ہوکر نیچے آتی ہوں میں" حور نظریں چرا کر کہتے ساتھ اٹھ کر جانے لگی "حورِ جان" حاکم چوہدری نے اسے پکارا حور کے بڑھتے قدم رکے اور اس نے مڑ کر انہیں دیکھا۔ "جی دادا " حور فوراً سے ان سے پوچھنے لگی حاکم چوہدری اپنی جگہ سے اٹھے "آپ نے جواب نہیں دیا ہمیں؟" وہ اس کے سامنے آکر کھڑے ہوتے ہوئے کہنے لگے حور انہیں ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔ "کس بات کا دادا؟" حور ناسمجھی سے ان سے پوچھنا ضروری سمجھنے لگی "آدم کیلیے ہاں ہے یا نہ" حاکم چوہدری نے اسے دیکھتے ہوئے اس کی الجھن ختم کی حور نے فوراً انہیں دیکھا "دادا مجھے یہ رشتہ منظور ہے" حور نے جیسے یہ الفاظ بولے تھے وہ یہی جانتی تھی مگر اسے یہی اپنے لیے ٹھیک لگا۔ "مجھے پتہ تھا میری گڑیا میں آپ کی ماں سے بات کرتا ہوں اور آج ہی سب کو یہ خبر سناؤ گا" حاکم چوہدری خوشی سے کہتے ساتھ کمرے سے چلے گئے اور حور نم آنکھوں سے انہیں جاتا دیکھنے لگی۔۔۔ ********** ذامل ویسے ہی بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا اسے خود بھی معلوم نہ ہوا کب اس کی آنکھ لگی ہے جب دروازے پر دستک ہونے سے اس کی نیند ٹوٹی "کون" وہ نیند سے بیدار ہوتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا "صاحب ملک صاحب ناشتے پر بلارہے ہیں" ملازم اسے بتانے لگا ذامل نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ "آرہا ہوں" وہ کہتے ساتھ باتھروم کی طرف بڑھ گیا اور ملازم نیچے کی طرف بڑھ گیا کچھ دیر میں فریش وغیرہ ہوکر وہ نیچے آیا ملک شہراز نے اسے دیکھا "رات کو کیا ہوا تھا" ملک شہراز اس کے بیٹھتے ہی فوراً سوال پوچھنے لگے "بس اکیلا رہنا چاہتا تھا" ذامل جواب دیتے ساتھ چائے کا کپ لبوں سے لگا گیا ۔ "آج زمینوں کو دیکھ آؤ اپنے اس دوست کو ساتھ لے جا کر" ملک شہراز ناشتہ کرتے ہوئے کہنے لگے ذامل سر کو خم دے گیا۔ "تم مرد ہو ذامل ہم مانتے ہیں ہم نے آپ سے غلط کروایا مگر وہ سب آپ کیلیے کیا تھا آپ کی ماں باپ کی موت کی خاطر مجھے نہیں معلوم تھا آپ سیریس ہو جائیں گے یہ جو پیار کا بھوت سر پر سوار ہوا ہے اسے ختم کریں" ملک شہراز اسے دیکھتے سنجیدگی سے سمجھانے لگے ذامل نے انہیں دیکھا ۔ "یہ پیار کا بھوت دو مہینے پہلے نو سال کی عمر سے چڑھا ہوا ہے ملک ذامل نے اپنے پیار کو قربان کیا ہے آپ کی خاطر" وہ انہیں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہتے ساتھ اٹھ کر بھاری قدم اٹھائے باہر کی جانب بڑھ گیا۔ *********** "ناشتے کے بعد آپ سب لوگ ٹی وی لاؤنچ میں ملے مجھے ضروری بات کرنی ہے" حاکم چوہدری سب کو دیکھتے ہوئے اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہنے لگے سر اثبات میں سر ہلا گئے اور ناشتہ کرنے لگ گئے۔ ناشتہ کرنے کے بعد حاکم چوہدری کے حکم کے مطابق سب لوگ ٹی وی لاؤنچ میں موجود تھے "مجھے آپ سب سے ضروری بات کرنی ہے ایک ہفتے بعد زاہد اور ازقہ کی رخصتی ہے اسی کے ساتھ حورِ جان اور آدم کی شادی بھی ہوگی حورِ جان سے میں نے پوچھ لیا اسے کوئی اعتراض نہیں ہے ہے نا حور" حاکم چوہدری سب کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگے دراب چوہدری کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی اور آدم کے لب بھی مسکرائے تھے ازقہ زاہد جبران صارم حور کو دیکھنے لگے۔ "جی" حور جواب دیتے ساتھ اٹھ کر وہاں سے چلی گئی زاہد اسے جاتا دیکھنے لگ گیا ازقہ اس کے پیچھے گئی "حور یہ کیا تھا" ازقہ کمرے میں آتی اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی حور نے اسے دیکھا "مجھے یہی ٹھیک لگا ہے میں کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتی ہوں اب ادھر اپنوں کے سامنے تو رہوں گی" حور ازقہ کو دیکھتے ہوئے اسے جواب دینے لگی ازقہ اسے دیکھنے لگی "تمہیں پتہ ہے تم نے کیا کیا ہے تم نے آدم کیلیے ہاں کی ہے" ازقہ اسے حیرت سے دیکھتے بتانا ضروری سمجھنے لگی حور نے ازقہ کو دیکھا "تو آپ بتائیں اور کیا کروں میں ہاں بولیں اور بدل گیا ہے وہ" حور ازقہ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگی ازقہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی "جیسی تمہاری مرضی" ازقہ یہ کہتے ساتھ وہاں سے چلی گئی اور اس کے جاتے ہی حور بیڈ پر بیٹھ گئی آنکھوں میں نمی فوراً آ گئی تھی۔۔ ***********
