Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht e Dil) Episode 16

“مجھے تمہاری ان گھٹیا باتیں کو سننے میں ذرا دلچسپی نہیں ہے ہٹو مجھے چینج کرنا ہے”
حور اسے غصے سے اسے پیچھے کرتے ہوئے سائیڈ سے گزرنے لگی
“مگر میں پہنو گی کیا”
حور جاتے جاتے رک کر ایکدم خود سے پوچھنے لگی اور ذامل کی جانب دیکھا
“وہاں”
ذامل حور کو وارڈروب کی طرف اشارہ کرنے لگا حور غصے سے اسے دیکھتے ہوئے وارڈروب کی طرف بڑھی اور ایک ڈریس لیتی باتھروم کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر میں حور سادہ سے لان کے سوٹ میں ملبوس باہر آئی ذامل نے اسے دیکھا حور اسے نظر انداز کرتی کمرے میں نظر دوہرانی لگی۔
“اس کے علاوہ اور کوئی روم نہیں اس گھر میں”
حور فوراً سے ذامل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ذامل نفی میں سر ہلا گیا
حور منہ بسور کر وہی بیٹھ گئی اور حویلی میں کیا ہورہا ہوگا سوچنے لگی
“کیا سوچ رہی “
وہ اسے مایوس دیکھتے ہوئے فوراً سے پوچھنے لگا حور نے اسے دیکھا
“تم نے جو کیا ہے اس کے بعد نہ جانے حویلی میں ہو کیا رہا ہوگا”
حور بیٹھے ہوئے پریشان سی ذامل کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“جو بھی ہورہا ہوگا مگر تمہیں کوئی کچھ نہیں بولے گا”
ذامل پر اعتماد لہجے میں حور کو دیکھتے ہوئے بولا حور کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
“مجھے تم پر بلکل یقین نہیں ہے”
وہ اسے صاف لفظوں میں کہتے ساتھ دوسری سمت دیکھنے لگ گئی ذامل خاموش رہا۔۔


صارم حور کو ہر جگہ ڈھونڈ آیا تھا مگر اسے حور کا کچھ معلوم نہیں ہوا تھا اور وہ ویسے ہی مایوسی سے واپس گھر آ گیا تھا ۔
“اگر حور اور آدم کا نکاح نہیں ہوگا تو میں اپنی بیٹی کی رخصتی بھی زاہد سے نہیں کرواؤں گا”
دراب چوہدری سرد لہجے میں کہنے لگی زاہد اور ازقہ وہاں موجود دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئے۔۔
“اگر شادی ہی نہیں کرنی تھی تو کیوں ہامی بڑھی”
دراب چوہدری غصے سے ان سب کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر سب لوگ اسے دیکھنے لگ گئے۔۔
“ایسا نہیں ہے سمجھے ہماری حورِ جان سب کرسکتی ہے مگر اپنے دادا کی عزت کو خراب نہیں کرسکتی”
اعظم چوہدری غصے سے اسے دیکھتے ہوئے اعتماد بھرے لہجے میں کہنے لگے جس پر سب لوگ خاموش ہوگئے۔
“اگر آدم کی شادی نہیں ہوگی تو یہ رخصتی بھی نہیں ہوگی بات ختم رات کے بارہ بج چکے ہیں اور اس لڑکی کا کچھ آتا پتہ نہیں ہے”
دراب چوہدری ازقہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر اپنے ساتھ لیے ان سب کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے
“ہمیں تم سے اس بیوقوفی کی امید نہیں تھی”
وہ غصے سے دراب چوہدری ہو گھور کر کہنے لگے ازقہ پریشان سی کھڑی تھی آدم کو اپنی جگہ غصہ آرہا تھا
“چاچا آپ ایسا نہیں کرسکتے نکاح میں ہے وہ میرے سمجھے “
زاہد سخت لہجے میں غصے سے اسے کہنے لگا جس پر دراب چوہدری ازقہ کو زبردستی لیے کمرے کی طرف بڑھنے لگا
“میری بیٹی ہے وہ میں نہیں کروں گا رخصتی”
وہ اسے ساتھ گھسیٹ کر کہتے ساتھ اوپر کی طرف بڑھ گئے ازقہ ان سے اپنا آپ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی رہی وہ اسے کمرے میں کیے دروازہ بند کر گئے ۔


حور اسی طرح بیٹھے روتے روتے اور حویلی میں سب کا سوچتے ہی سو گئی تھی تین راتوں سے وہ نہیں سوئی تھی اور اچانک اس کی آنکھ لگ گئی ذامل جو خاموشی سے بیڈ پر لیٹا تھا نظر اس پر گئی جس کی سسکنے کی آوازیں اب نہیں آرہی تھی اٹھ کر اس کی جانب بڑھا اور اسے دیکھا جو بیڈکراؤن سے سر ٹکائے سورہی تھی اس کے چہرے پر گہری نظریں جمائے بالوں کو شہادت والی انگلی سے کانوں کے پیچھا کرتا وہ اسے آرام سے بیڈ پر لٹانے لگا اپنے جسم پر کسی چیز کو محسوس کرکے حور کی فوراً آنکھ کھلی اور ذامل کو اپنے قریب دیکھ اس کی سانس رک گئی اور فوراً اسے دور کیا
“کیا کررہے تھے تم ہاں”
حور غصے سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ذامل کی نظریں اسی پر تھیں
“تم بیٹھے بیٹھے سو گئی گردن پر درد نہ ہو اس لیے سیدھا لٹا رہا تھا”
ذامل اسی نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہنے لگا حور نے آنکھیں چھوٹی کیے گھورا اور بیڈ سے کھڑی ہوئی
“سنو میری فکر مت کرو سمجھے تم کیونکہ اب میں تمہاری باتوں میں نہیں آنے والی سمجھے تو یہ فضول کوششیں اور دیکھاوا کرنا چھوڑ ملک ذامل”
حور اسے سرد نگاہوں سے گھورتی سخت لہجے میں ہر لفظ پر زور دیتی بولتے ساتھ سائیڈ سے گزر کر روم میں موجود چئیر پر بیٹھ گئی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“دیکھاوا کرنے کا شوق نہیں ہے مجھے”
ذامل بیڈ پر بیٹھتا اسے سنجیدگی سے جواب دینے لگ گیا اس کی بات پر حور کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ نمودار ہوئی
“اچھا مذاق تھا “
حور اسے طنزیہ بولتے ساتھ نظریں دوسری سمت کر گئی تھی
“میں نے تم سے محبت سچی کی ہے دادا اہم ہے میرے لیے بہت اسی لیے”
وہ اسی ایک بار پھر سنجیدگی سے اپنی صفائی دینے لگا
“تو اب کیوں کیا نکاح مجھ سے دادا کو اہم رکھنا تھا اوہ کوئی مقصد ہوگا تمہارا”
حور بولتے بولتے ہنس کر آخری الفاظ کہتی سامنے موجود شخص کو شرمندہ کرنے میں کامیاب ہوگی
“میں نے تم سے نکاح تمہیں برباد ہونے سے بچانے کیلیے کیا ہے”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے فوراً سے بتانے لگا حور ایکدم کھڑی ہوگئی
“برباد تو کر ہی چکے ہو مجھے تم تم نے صرف میری زندگی برباد ہی کی ہے جب سے میری زندگی میں آئے ہو ناجانے مجھے اور کس کس چیز کا سامنا کرنا ہے”
حور ایکدم غصے میں آتی سرخ آنکھیں لیے چلا کر بولی ذامل بھی کھڑا ہوتا اس کے مقابل میں آیا
“حور آہستہ آواز”
ذامل اسے نرم لہجے میں نظریں چہرے پر جمائے کہنے لگا
“نہیں کروں گی جو مرضی کرلو مسٹر”
وہ اس سے بھی اونچی آواز اختیار کرتی اسے ڈھٹائی سے بولی ناچاہتے ہوئے بھی وہ ہلکا سا مسکرا دیا
وہ واحد تھی جس کا غصہ اور اونچی آواز ملک ذامل برداشت کرلیتا تھا
“مجھے نیند آرہی ہے تو بہتر ہے اپنا یہ فضول سا ٹاپک اور ڈرامہ بند کرو اور مجھے پریشان مت کرو”
حور اسے کہتے ساتھ کرسی پر جا کر بیٹھ گئی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“تم وہاں سو جاؤ گی”
ذامل اسے اشارہ کرتے ہوئے چہرے پر ہاتھ رکھے پوچھنے لگا حور بغیر کوئی جواب دیے خاموشی سے آنکھیں موند گئی ذامل خاموشی سے واپس بیڈ پر بیٹھ گیا


ذامل پوری رات اسی پر نظریں مرکوز کیے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا آنکھوں میں اسوقت الگ قسم کی چمک تھی حور کی گردن بلکل جھکی ہوئی تھی ذامل آرام سے اٹھتا اس کے پاس آیا اسے گود میں بھرتا بیڈ پر لٹا گیا وہ حور کی نیند سے بخوبی واقف تھا جو بہت گہری تھی اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر کمفرٹر ڈال کر بال ٹھیک کرتا کمرے سے باہر کی طرف چلا گیا
“ذامل حور غائب ہے”
شہریار اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی فوراً اسے یہ خبر دینے لگا
“بھابی بول”
ذامل سرد لہجے میں کہتے ساتھ صوفے پر بیٹھا شہریار اسے دیکھنے لگ گیا
“تو نے اسے کیڈنیپ کیا ہے؟”
شہریار اندازہ لگاتا اسے جانچتی نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“بلکل”
وہ اسے لفظی جواب دیتا واقع حیران کر گیا اور شہریار اسے دیکھتا رہ گیا۔
“تو نے نکاح بھی کرلیا”
شہریار حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے ایک اور سوال کرنے لگا جس پر ذامل نے اسے دیکھا
“الحمدللہ”
ذامل پرسکون میں جواب دیتا سگریٹ لبوں سے لگا گیا شہریار خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
“دادا؟”
شہریار پریشان سی کیفیت میں بس اتنا ہی پوچھ سکا
“دیکھی جائے گی”
وہ جواب دیتا سگریٹ کا دھواں ہوا میں اڑانے لگ گیا جس پر شہریار خاموش ہو گیا۔


“پتہ نہیں وہ بچی کہاں گئی ہوگی”
نوال کی والدہ میمونہ بیگم پریشانی سے کہنے لگی
“پتہ نہیں امی “
نوال خود بھی پریشانی سے کہنے لگی جس پر میمونہ بیگم اسے دیکھنے لگ گئی
“وہ خوش تھی نکاح سے ؟”
میمونہ بیگم نے فوراً اس سے سوال کیا نوال نے انہیں دیکھا
“جی اس کی مرضی شامل تھی”
نوال جواب دیتے ساتھ حور کے متعلق سوچنے لگ گئی میمونہ بیگم خاموش رہی
“ایک انسان کو پتہ ہوگا”
نوال شہریار کا سوچتے ہی فوراً سے کہتی کل پوچھنے کا ارادہ کرکے سکھ کا سانس لینے لگی گئی ۔


“ذامل”
حور کی چیخنے کی آواز پر ذامل اور شہریار دونوں نے اوپر کی جانب دیکھا
“تم جاؤ بعد میں بات ہوتی ہے”
ذامل شہریار سے کہتے ساتھ اوپر کی طرف بڑھ گیا اور شہریار خاموشی سے چلا گیا
“کیا ہوا”
وہ کمرے میں آتے ہوئے اسے غصے میں کھڑا دیکھ پوچھنے لگا
“مجھے چئیر سے بیڈ پر کون لایا”
حور اس کی جانب قدم بڑھاتی غصے سے پوچھنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“میرے علاوہ کون ہوسکتا ہے”
ذامل اسے اسی کے انداز میں مسکراتے ہوئے جواب دینے لگا
“میرے بس میں ہوتا نا تو میں تمہاری جان لے لیتی چیپسٹر کہیں کے”
وہ تپ کر اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ دے کر تکیہ مارنے لگی۔
“نہیں ہے نا بس میں”
وہ اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتا کھینچ کر قریب کیے گھمبیر لہجے میں بولا حور کی بیٹ مس ہوئی تھی۔۔
“چھوڑو مجھے”
حور خود کو نارمل کرتے ہوئے سختی سے اس سے ہاتھ نکالتی بولنے لگ گئی۔
“اب نہیں چھوڑوں گا”
اس کے کان کے قریب لب لائے اسے بولا حور منہ دوسری سمت کر گئی جس پر ذامل اسے دیکھنے لگ گیا۔۔


“کہاں ہے ملک ذامل”
ملک شہراز غصے سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر سب ملازم نے انہیں دیکھا
“صاحب مجھے نہیں پتہ وہ کل سے نہیں آئے”
ملازم فوراً سے گھبراتے ہوئے اسے بتانے لگ گیا جس پر ملک شہراز اسے دیکھنے لگ گئی ۔
“پتہ کرو فون ملاؤ اس کا “
وہ غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے جس پر ملازم اثبات میں سر ہلا کر نمبر ملانے لگ گیا
“صاحب نمبر بند ہے”
وہ فون ملانے کے بعد افسردگی سجائے بولا ملک شہراز کرسی پر بیٹھ گئے
“یہ لڑکا”
وہ پریشان سی غصے سے کہتے ساتھ سر کرسی سے ٹکا گئے