Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht E Dil) Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht E Dil) Episode 19
سورج کی روشنی وال کلاک سے ٹکراتی کمرے میں داخل ہوئی ذا کے چہرے پر پڑی نظر وہ آنکھوں پر جبنش دے کر اٹھتا حور کو دیکھنے لگا جو اس کے ساتھ گہری نیند سو رہی تھی ذامل کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا حور ہلکا سا کسمسائی ذامل اپنے ہونٹ اس کے کام کے قریب کے قریب لایا
“مارننگ جان”
وہ گھمبیر لہجے میں اسے مسکرا کر کہنے لگا جس پر حور نے فوراً آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھا
“تت۔۔تم یہاں کیا کررہے ہو”
حور اسے دیکھ گھبراتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر ذامل کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ آئی
“خود تو آئی تھی میرے پاس ڈر سے یاد آیا”
ذامل اس کے چہرے پر گہری نظریں جمائے شرارت سے کہنے لگا جس پر حور اسے غصے سے دیکھنے لگی
“زبردستی کھینچ کر اپنے پاس سلایا تھا تم مجھے ہونہہ”
وہ منہ بنا کر اسے کہتے ساتھ بیڈ سے اٹھ کر جانے لگی جب ذامل نے کلائی پکڑ کر اپنے قریب کھینچا حور اسے دیکھنے لگ گئی
“جو بھی ہو میرا فائدہ ہوگیا میں بہت سکون سے سویا ہوں مسز”
وہ اسے مسکراتے ہوئے جان کر بولتا غصہ دلانے لگا حور اس سے ہاتھ چھڑوا تا منہ بگاڑ کر چلی گئی ذامل اس کے چہرے کے اظہارات پر مسکرادیا۔۔
“خیریت ہے ہاجرہ بیگم آج کل بہت گھبرائی ہوئی رہتی ہو”
حاکم چوہدری اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگے جس پر ہاجرہ بیگم سمیت دراب چوہدری نے انہیں دیکھا
“نن۔۔نہیں تو ابا جان بس حور نے جو کیا اس کے بعد مجھے شرمندگی سی ہوتی ہے”
ہاجرہ بیگم گھبراتے ہوئے حاکم چوہدری کو جواب دینے لگی جس پر حاکم چوہدری خاموش ہوگئے ازقہ نے ہاجرہ بیگم کو دیکھا
سب لوگ خاموشی سے ناشتہ کررہے تھے ہاجرہ بیگم کچن کی طرف بڑھ گئی ازقہ بھی ان کے پیچھے آئی۔۔
“آپ ٹھیک ہے نا تائی”
ازقہ ہاجرہ بیگم کو دیکھتے ہوئے فکرمند سی پوچھنے لگی ہاجرہ بیگم نے اسے دیکھا
“ہاں میری بچی تم فکر نہ کرو”
وہ اسے مسکراتے ہوئے پیار سے کہنے لگی ازقہ اثبات میں سر ہلا کر باہر کی طرف چل دی
“دراب چوہدری تمہاری اصلیت کیسے سب کے سامنے لاؤ”
ہاجرہ بیگم اداسی سے خود سے ہمکلام ہوکر چیزیں سمیٹ کر بولی۔۔
“حور میرا ایک دوست آرہا ہے تم نیچے نہیں آؤ گی”
ذامل بالوں کو ٹھیک کرتے ہوئے لفظوں پر زور دیتا اسے بولا حور اسے دیکھنے لگی
“کیوں تمہارا ایسا کون سا دوست ہے؟”
حور فوراً سے اس سے سوال کرنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“آج ہلکی دفعہ مجھے بیوی لگی ہو”
ذامل لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے کہنے لگا حور نے گھور کر اسے دیکھا
“ہے میرا ایک دوست بس تم نے نیچے نہیں آنا اوکے”
ذامل اسے کہتے ساتھ نیچے کی طرف بڑھ گیا حور اسے جاتا دیکھنے لگ گئی
“ایسا بھی کون ہے”
حور خود سے پریشانی سے سوال کرتے ہوئے واپس بیڈ پر بیٹھ گئی۔
وہ کچھ دیر فون استعمال کرتی رہی جب فون استعمال کرکے وہ تھک گئی تو ٹہلنے لگی وہ کمرے میں ایک گھنٹے سے مسلسل اکیلی تھی اسے بھی کوفت سی محسوس ہورہی تھی مگر وہ نیچے نہیں جا سکتی تھی اچانک اسے پیاس لگی نظر جگ پر گئی مگر وہ خالی تھا
“افف اب مجھ سے پیاس برداشت نہیں ہوتی جو ہوگا دیکھا جائے گا”
حور خود سے بولتی جگ کہتی نیچے کی طرف قدم بڑھا گئی
ذامل اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا باتیں کررہا تھا تبھی اس کے دوست کی نظر حور پر گئی حور خاموشی سے کچن کی طرف بڑھ رہی تھی
“ارے یہ کون ہے ؟”
ذامل کے دوست نے فوراً سے پوچھا حور کے بڑھتے قدم رکے ذامل نے گردن موڑ کر دیکھا تو حور تھی ذامل کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے
“میری وائف”
ذامل حور پر سرد نگاہیں گاڑھے اسے سخت لہجے میں جواب دینے لگا حور ذامل کو دیکھنے لگی
“اوہو اتنی حسین بھابی اسلام و “
ذامل کا دوست معاذ کھڑا ہوتا حور کو غلیظ نظروں سے دیکھتے ہوئے ابھی بول رہا تھا جب ذامل نے فوراََ کو مخاطب کیا
“اوپر جاؤ”
ذامل سرد لہجے میں آواز دھیمی رکھے اسے بولا حور خاموشی سے اوپر چلی گئی ذامل کی سرد نگاہیں اسے ڈرا گئی
“زبان سنبھال کر بات سمجھا بیوی ہے میری “
ذامل حور کے جاتے ہی اٹھتا اس کا گریبان پکڑے سخت لہجے میں کہنے لگا
“یار اتنا غصہ کیوں ہورہا ہے شئیر کر”
اس کا دوست کمینگی سے بولنے لگا ذامل نے ایک زوردار مکہ اس کے منہ پر مارا
“حور صرف ذامل کی ہے سمجھا عزت ہے میری تیری جان لے لو نکل جا”
معاذ کی بات سے ذامل کا دماغ آؤٹ ہوا وہ خود پر قابو نہ پاتا چیخ کر بولا حور اس کے چیخنے کی آواز سن کر گھبرائی اور ذامل کا دوست غصے سے چلا گیا
ذامل اوپر کی جانب بھاری بھاری قدم اٹھائے بڑھ گیا
“تم یہاں کیا کررہے ہو”
نوال شہریار کو یونیورسٹی کے باہر موجود دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگی
“میں نے سوچا تم نے اپنی دوست سے ملنا ہوگا “
شہریار مسکراتے ہوئے کہنے لگا نوال گھور کر اسے دیکھنے لگی
“جی نہیں مجھے جب ملنا ہوگا میں بتادوں گی “
نوال اسے جواب دے کر کہتے ساتھ خاموشی سے آگے کی طرف بڑھ گئی شہریار اس کے پیچھے آیا نوال اسے دیکھنے لگی
“پیچھا کیوں کررہے ہو میرا؟”
نوال فوراً سے غصے سے کہنے لگی شہریار اس کے ہمراہ چلنے لگا
“لو اب ٹھیک ہے”
شہریار فوراً سے اسے بولا نوال اسے دیکھنے لگی
“اب ساتھ کیوں چل رہے ہو”
وہ فوراً اس سے پوچھنے لگا جس پر شہریار نے سے اسے دیکھا
“عجیب لڑکی ہو پیچھے چلو تو مسئلہ ساتھ چلو تو مسئلہ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا نوال کے بڑھتے قدم رکے اسے دیکھا
“تم جو کرنا چاہ رہے اور جو سوچ رہے ہو وہ نا سوچو کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے میرا رشتہ بچپن سے ہی طہ ہے”
نوال اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہتے ساتھ آگے کی طرف بڑھ گئی شہریار اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔۔۔
حور کمرے میں پریشانی سے ٹہل رہی تھی جب ذامل بھاری بھاری قدم لیے کمرے میں آیا حور کی نظر اس پر گئی اس کے بازو پر سخت گرفت حائل کیے اپنی طرف کھینچا اچانک اتفاد پر حور بھوکلائی تھی ۔
“منع کیا تھا میں نے تمہیں”
ذامل بازو پر گرفت مضبوط کرتا لہجے میں سرد پن لیے اسے کہنے لگا
“درد ہو رہا ہے مجھے”
حور چہرے پر تکلیف دہ تاثرات سجائے اسے خفگی سے کہنے لگی
“اور جو تکلیف مجھے ہوئی ہے اس کا کیا ہاں تم صرف میری ہو کسی نامحرم کی بری نظر بھی تم پر برداشت نہیں ہے مجھے میرا خون کھولنے لگتا ہے جب کوئی تمہیں نظر اٹھا کر دیکھے”
ذامل سرد آنکھیں لیے غصے سے اس کے چہرے کے قریب چہرہ لیے غرایا حور کو ایک پل کیلیے خوف محسوس ہوا۔۔
ذامل ںےرحمی سے اس کی گردن پر جھکتا اپنے ہونٹوں کا لمس محسوس کروا گیا اور حور اپنی جگہ ساکت ہو گئی۔
“یہ سزا ہے تمہاری آج کے بعد میری بات کو نظر انداز کرنے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا”
ذامل اس کے چہرے پر نظریں ہر لفظ ہر زور دیتے اسے وارن کیے خود سے الگ کرتا چلا گیا حور غصے سے اسے جاتا دیکھنے لگ گئی ۔
“بہت برے ہو تم بہت زیادہ میں کبھی بھی بات نہیں کروں گی تم سے”
حور روتے ہوئے اسے جاتا دیکھ اداسی سے کر کہنے لگی۔۔۔۔
“ایسا کہاں چھا ہے وہ کہ تمہیں مل نہیں رہا”
ملک شہراز سرد لہجے میں ملازم سے پوچھنے لگے وہ گھبرا گیا
“صاحب پوری کوشش کرتے ہیں ہم لیکن ہمیں نہیں مل رہے “
وہ فوراً سے گھبراتے ہوئے اسے بتانے لگا جس پر ملک شہراز سرد نگاہوں سے اسے دیکھنے لگ گیا
“مجھے کل تک وہ میرے سامنے چاہیے اپنے دادا سے اس سے دھوکہ کیا نہیں چھوڑیں گے اسے میرے لیے میرے اصول میرے پوتے کیلیے بھی وہی ہیں”
ملک شہراز غصے سے ملازم سے بولتے ہوئے کہنے لگے
“جی صاحب میں پوری کوشش کروں گا”
ملازم فوراً سے ملک شہراز سے کہنے لگا ملک شہراز اس کے مقابل میں آئے
“کوشش نہیں مجھے ہر حال میں ملک ذامل کل اپنی آنکھوں کے سامنے چاہیے تو چاہیے”
ملک شہراز لفظوں پر زور دیتے اسے حکم دینے والے انداز میں کہنے لگے ملازم بس سر ہلا سکا اور چلا گیا۔
رات کے وقت ذامل کمرے میں آیا نظر حور پر گئی جو فون استعمال کررہی تھی حور کو اس کی موجودگی کا احساس ہوگیا تھا پھر بھی انجان رہی تھی ذامل اسے کچھ کہے بغیر خاموشی سے وارڈروب سے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر لیتا باتھروم کی طرف بڑھ گیا حور اسے دیکھنے لگی
“اتنا بھی کیا غصہ کھانے تک کا نہیں پوچھا”
حور اسے دیکھتے ہوئے منہ بنا کر کہنے لگی اور نظریں دروازے پر تھی
کچھ دیر میں دروازہ کھلا حور دوبارہ فون میں لگ گئی ذامل کمرے سے باہر چلا گیا حور اسے بس دیکھتی رہ گئی
“نہ کرے بات مجھے کیا ہاں آیا بڑا”
حور تپ کر کہتے ساتھ فون سائیڈ پر رکھ کر بیٹھ گئی تبھی ذامل ہاتھ میں ٹرے لیے کمرے میں آیا حور نے اسے دیکھا
ذامل کوئی بات کیے بغیر ٹرے سامنے رکھتا دوسری طرف جاکر بیٹھ گیا
“مجھے نہیں کھانا”
حور ٹرے کو خود سے دور کرتے ہوئے فوراً سے کہنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“کھاؤ”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے فوراً بولا حور نے اسے دیکھا
“نہیں کھاؤں گی میں “
حور غصے سے اسے بولی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا اور اٹھ کر اس کے سامنے آیا نوالہ بنا کر اس کے منہ ہے قریب کیا حور منہ پھیر گئی
“نہیں کھاؤں گی چلاؤں نہ مجھ پر سزا دو مجھے جہسے دے کر گئے تھے کیوں کھلا رہے ہو “
حور اسے دیکھے بغیر اپنے غصہ نکالتے ہوئے اسے کہنے لگی ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“مجھے غصہ آ گیا تھا”
اس نارمل لہجے میں کہنے لگا حور نے اسے دیکھا
“کل کو اگر غصہ زیادہ آئے گا تو مارو گے بھی ہے نا”
حور اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“کھانا کھاؤ “
ذامل اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرمی سے کہنے لگا
“مجھے تم سے بات نہیں کرنی اور نہ ہی کھانا کھانا ہے”
وہ اسے غصے سے کہتے ساتھ لیٹنے لگی ذامل نے فوراً اسے اپنے قریب کیا
“کیوں سمجھ نہیں آتا تمہیں مجھے ہر اس انسان سے نفرت ہے جو تمہیں دیکھے تمہیں دیکھنے کا سننے کا تمہارے ساتھ رہنے کا تمہارے قریب رہنے کا حق صرف مجھے ہے اور میں کسی اور کو اجازت نہیں دوں گا ذامل ہر چیز برداشت کرسکتا ہے لیکن جان تم کسی وجود کے ساتھ کھڑی بھی ہوگی نا تو میں اس کی جان لے لوں گا میں تمہارے معاملے میں بہت خود غرض بن گیا ہوں تمہیں صرف میرے پاس رہنا ہے اتنا خود غرض بن گیا ہوں کہ اپنے دادا کو بھی دھوکہ دے دیا صرف تمہارے لیے مجھے اپنی زندگی میں صرف تمہارا ساتھ چاہیے “
ذامل اسے اپنے قریب کیے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے شدت سے بتانے لگا حور بس اسے دیکھتی رہ گئی اس کی آنکھیں اس کے لفظوں کا ساتھ دے رہی تھی۔
“تمہیں یہ سب دیکھاوا اور جھوٹ لگتا ہے لیکن میں تمہارے لیے جان دے بھی سکتا ہوں اور لے بھی سکتا ہوں”
ذامل اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا حور اسے دیکھتی رہ گئی۔۔
“میری غلطی نہیں تھی پیاس لگی تھی مجھے”
حور دھیمی آواز میں اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی
“میں مر گیا تھا ہاں مجھے آواز نہیں دے سکتی تھی”
ذامل فوراً سے اسے بولا حور خاموشی سے نظریں جھکا گئی
“اگلی دفعہ ایسا نہیں ہوگا”
حور اسے نظریں جھکائے کہنے لگی ذامل خاموشی سے اس کے منہ کی طرف نوالہ کر گیا
“بولا نا نہیں ہوگا اب ختم کرو ناراضگی”
حور اسے دیکھتے ہوئے معصومیت سے کہنے لگی ذامل ہلکا سا مسکرا دیا
“میرے ناراض ہونے سے تمہیں کون سا فرق پڑتا ہے”
ذامل اسے کہتے ساتھ اسے کھانا کھلانے لگا حور اسے دیکھنے لگی اس کی آنکھوں میں صرف درد تھا
“پڑتا ہے”
حور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے کہنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“آئی ایم سوری”
حور کانوں کی طرف ہاتھ کے جاتے ہوئے بولنی لگی ذامل نے اس کے ہاتھ پکڑ کر نفی میں سر ہلا دیا حور ہلکا سا مسکرا دی
حور نے نوالہ بنایا اور اسے کھلایا ذامل حیرانگی سے اسے دیکھنے لگ گیا
“خیریت ہے”
ذامل نوالہ کھا کر پوچھنے لگا حور اسے دیکھنے لگی اچانک اسے سب یاد آیا چہرے کی مسکراہٹ سمٹ سی گئی
“میری بھوک ختم ہوگئی ہے “
حور اسے بولتے ہوئے بیڈ سے کھڑی ہوگئی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“کیا ہوا جان”
ذامل اسے اچانک اٹھتا دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگا حور خاموش اسے دیکھنے لگ گئی
“میں سب بھول سکتی ہو ذامل لیکن تم نے مجھے تکلیف دی ہے وہ لڑکی جو آج تک روئی نہیں تھی تم نے بہت رلایا ہے میں اتنی آسانی سے سب نہیں بھول سکتی”
حور نم آنکھیں لیے بولتے ساتھ کمرے سے باہر چلی گئی ذامل جاتا دیکھنے لگا
ازقہ ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھی زاہد کا انتظار کررہی تھی آج صبح سے ہی اسے نہیں دیکھا تھا تبھی وہ ازقہ کو آتا نظر آیا
“کہاں رہ گئے تھے آپ “
ازقہ فوراً سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر زاہد نے اسے دیکھا
“کام میں مصروف تھا “
زاہد اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر جواب دینے لگ گی
“میں کھانا لگادوں “
ازقہ فکرمند سی اس سے پوچھنے لگی زاہد نفی میں سر ہلا گیا
“نہیں ازقہ میں تھکا ہوا ہوں سونا چاہتا ہوں تم بھی سوجاؤ رات کافی ہوگئی ہے”
زاہد اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے اسے پیار سے کہتے ساتھ اوپر کی طرف بڑھ گیا ازقہ بھی خاموشی سے کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔
حور کچھ دیر لان میں ٹہلنے کے بعد بہتر محسوس کرتی کمرے میں آئی نظر ذامل پر گئی جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا حور خاموشی سے دوسری طرف آکر بیٹھ گئی دونوں کے بیچ خاموشی تھی۔۔
“بہت چاہتے ہو نا مجھے”
حور نظریں سامنے مرکوز کیے اس سے بولی ذامل نے اسے دیکھا
“تم جانتی ہو”
ذامل اسے فوراً جواب دینے لگا حور نے اسے دیکھا
“مجھے اس رشتے سے آزاد کردو “
حور اسے دیکھتے ہوئے جس طرح یہ بولی تھی یہ وہی جانتی تھی ذامل اسے دیکھتا رہ گیا۔
ذامل کچھ کہے بغیر خاموشی سے اپنا سر اس کی گود میں رکھ گیا حور اسے دیکھنے لگ گئی
“میں اپنے ماما پاپا سے بہت پیار کرتا تھا بارہ سال کا تھا جب وہ آکسیڈنٹ میں مجھے چھوڑ کر چلے گئے دادا نے تب سے ایک ہی بات ذہن میں بٹھا دی کہ میرے ماں باپ کو مارنے والے تمہارے بابا ہیں اور میرے اندر چوہدری حویلی کی محبت کو نفرت میں تبدیل کردیا میں یہ بھی بھول گیا میں تمہیں کتنا چاہتا ہوں یہ بھی بھول گیا کہ اس میں تمہارا تو کوئی قصور نہیں ایک ہی بات ماما پاپا کے جانے کے بعد انہوں نے ہی مجھے پالا کھلایا پڑھایا ہاں غلط سیکھایا لیکن پیار بہت دیا مجھے کبھی ماما پاپا کی کمی محسوس نہیں ہونے دی میں اپنے دادا سے بہت پیار کرتا ہوں ہوگئی غلطی دی تکلیف بہت دی جو سزا دینی ہے دو منظور ہوگی لیکن میری غلطی کی اتنی بڑی سزا مت دو میں ختم ہوجاؤ گا میں نے تمہیں بنایا ہے بہت مشکل سے ایسا نہ کرو میری سانسیں تمہیں اپنے قریب محسوس کرکے چل رہی ہیں جان “
ذامل اس کے ہاتھ تھامے منت بھرے لہجے میں کہتے ساتھ اس کے ہاتھ پر لب رکھ گیا حور آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھنے لگ گئی
“میں جانتا ہوں تم بھی مجھ سے بہت پیار کرتی ہو ہم دونوں ایک اپنی الگ دنیا بنائیں گے میں خوش رکھوں گا تمہیں بہت ایک دفعہ ساتھ دے کر تو دیکھو “
ذامل حور کو دیکھتے ہوئے بولا حور خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی
“تم نے اپنی باتوں میں کوئی جادو کیا ہوا ہے بولو؟”
حور اسے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے اس سے پوچھنے لگی ذامل نفی میں سر ہلا گیا
“ہمیشہ مجھے تمہاری طرف کھینچ لیتی ہیں لیکن اس دفعہ نہیں ذامل”
حور اسے کہتے ساتھ خاموشی سے نظریں دوسری طرف کر گئی ذامل اسے دیکھتا رہ گیا
جاری ہے
