Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 9

آج چوہدری حویلی میں زاہد اور ازقہ کا نکاح تھا اور افراتفری سی پوری حویلی میں پھیلی ہوئی تھی ہر کوئی کاموں میں مصروف تھا
ازقہ کے ہاتھوں میں زاہد کے نام کی مہندی لگ رہی تھی جبکہ اس کے پاس کھڑی حور اس کا نکاح کا ڈریس دیکھ رہی تھی ۔
“افف بجو آج تو اپنے بہت ہی کمال لگنا ہے”
وہ مسکراتے ہوئے ازقہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر ازقہ مسکرا دی تھی ۔
“جاؤں تم تیار ہو پھر ہمیشہ کی طرح دیر کردو گی”
ازقہ اسے فورا سے کہنے لگی جس پر حور منہ بنا گئی اور ٹھیک ہے کہتی کمرے کا رخ کر گئی تھی
گھڑی اسوقت شام کے چار بجا رہی تھی وہ نہا کر کمرے میں آئی اور بال سکھانے لگی کچھ دیر میں بال سکھا کر ڈریسنگ کے سامنے آکر کھڑی ہوتی وہ اپنے گھنگڑالے بالوں کو سلجھانے لگی اور مرر میں اپنا عکس دیکھنے لگی۔
“کھلے بالوں میں تو اور بھی حسین زیادہ لگتی ہو”
ذامل اس کے پیچھے کھڑا اپنا عکس شیشے سے دیکھتا نظریں اس کے چہرے پر جمائے اسے کہنے لگا حور کی سانس رک سی گئی اور مڑ کر اسے دیکھا
“تم پاگل ہو”
حور اسے حیرت سے دیکھ ہلکی آواز میں پریشانی سے کہنے لگی ذامل سینے پر بازو باندھے اسے دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا”
وہ آئبرو اچکائے اسے دیکھ پوچھنے لگا حور نے فورا دروازے کو لاک کیا۔
“دماغ ٹھیک ہے ہلکا سا بھی شک ہوگیا نا دادا یا لالا کو تمہاری لاش جائے گی اس حویلی سے”
حور اس کے پاس آکر اسے دیکھ گھورتے ہوئے کہنے لگی ذامل بیڈ پر پرسکون سا بیٹھ گیا۔
“ذامل تمہیں میری بات سمجھ نہیں آرہی ہے کیا ہاں اور تم اندر کیسے آئے “
وہ اس کے سامنے آکر پریشانی سے اسے دیکھ پوچھنے لگی ذامل نے نظریں جھکا کر پیروں کی طرف اشارہ کیا حور نے خفگی سے اسے دیکھا۔
“یار ٹاپ کر ہی آ سکتا ہوں”
ذامل اسے بتانے لگا حور اسے دیکھ رہی تھی
“نہیں جانا تم نے”
حور اسے آنکھیں دیکھائے پوچھنے لگی ذامل نفی میں سر ہلا گیا۔
“ذامل”
حور نے غصے سے اسے پکارا کیونکہ اسے اسوقت شدید خوف محسوس ہورہا تھا۔
“اتنا کیوں ڈر رہی ہو جان؟”
ذامل اسے اس قدر پریشان دیکھ نرمی سے پوچھنے لگا
“کیونکہ ڈرنے والی بات ہے دیکھو ذامل نکاح ہے لالا کا بہت سے ملازم گھوم رہے ہیں جاؤ یہی بہتر ہے”
حور اب دھیمے لہجے میں اسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگی۔
“لیکن میرا تمہیں دیکھنے تم سے باتیں کرنے کا دل ہے”
ذامل بیڈ سے اٹھ کر اسے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور جو بار بار گردن گھما کر دروازہ دیکھ رہی تھی اسے مڑ کر دیکھا ۔
“میں تم سے ملنے آؤں گی پرامس”
حور مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے بولی ذامل کے بھی لب مسکرائے اور وہ اس کی جانب قدم بڑھا گیا۔
“پرامس؟”
ذامل اس کے چہرے پر گہری نظریں جمائے پوچھنے لگا اس کے قریب آنے اور اس کی خوشبو سے حور کنفیوز ہوتی سر جھکائے اثبات میں سر ہلا گئی ۔
“میں انتظار کروں گا”
ذامل اس کے کان کے قریب لب لاتا گھمبیر لہجے میں اسے کہنے لگا حور کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی وہ آنکھیں بند کر گئی ذامل ایک نظر اس پر ڈالتا خاموشی سے چلا گیا۔
“پاگل”
وہ اس کے جانے کے بعد مسکرا کر کہنے لگی اور اپنا ڈریس وارڈروب سے نکالنے کیلیے بڑھ گئی۔


نکاح کا سارا انتظام میں لان کیا گیا تھا جسے بہت خوبصورتی اور نفاست سے سجایا گیا تھا۔
زاہد اس وقت اپنے کمرے میں کھڑا سفید رنگ کی شلوار قمیض میں ملبوس بالوں کو نفاست سے سجائے وہ چہرے پر چمک لیے بہت اچھا اور وجیح لگ رہا تھا۔
“آج تو پھر بلآخر زاہد چوہدری کی محبت اس کے نکاح میں ہوگی”
جبران کمرے میں آتا اسے دیکھ کر بولا جس پر وہ سر کو خم دے گیا
“الحمدللہ”
وہ مسکراتے ہوئے خوشی سے کہنے لگا تبھی صارم بھی آیا۔
“بھائی لوگوں کے چہرے سے آج مسکراہٹ ہی نہیں جارہی ہے “
صارم بھی اسے دیکھ کر کہتا تنگ کرنے لگا زاہد نے اسے گھورا تھا جس پر وہ سیدھا ہوا۔
حور پنک کلر کے خوبصورت سے ڈریس لائٹ سے میک میں بالوں کو کھولے سائیڈ پر کام دار دوپٹہ لیے وہ بےحد حسین لگ رہی تھی وہ ایک تنقیدی نگاہ شیشے پر چلی گئی
حور ازقہ کے کمرے میں آئی جو سفید رنگ کے نفیس سے جوڑے میں کام دار دوپٹہ سر پر کیے لائٹ سے میک ایپ میں ہونٹوں پر پنک لپسٹک لگائے ہیوی جیولری میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی
“ماشاءاللہ”
حور اسے شوق نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی ازقہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکرا دی۔
“حور ازقہ کو لے آؤ “
ہاجرہ بیگم دروازے پر دستک دے کر کہتے ساتھ اوپر کا رخ کر گئی
“چلیں آپ کے دلہے صاحب آپ کا انتظار کررہے ہیں”
وہ مسکرا اسے چھیڑتے ہوئے کہنے لگی جس پر ازقہ نظریں جھکائے کھڑی ہوئی تھی ۔


زاہد پہلے سے ہی سٹیج پر بیٹھا تھا ازقہ حور اور دراب چوہدری کیساتھ چلتی ہوئی آرہی تھی آدم کی نظر حور پر گئی جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے آرہی تھی وہ اسے سر تا پیر دیکھنے لگا حور کی نظر بھی اس پر گئی اور اس کی غلیظ نظریں خود پر محسوس کرکے وہ گھور کر بس رہ گئی
ازقہ کو اسٹین پر لائٹ اور زاہد کے سامنے بٹھایا بیچ میں نیٹ کا پردہ تھا زاہد کی نظر اس پر جمائی ہوئی تھی وہ اسوقت اسے دنیا کی سب سے حسین لڑکی لگ رہی تھی زاہد کے لبوں پر خودبخود مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔
“نکاح شروع کروائیں مولوی صاحب”
حاکم چوہدری نے مسکراتے ہوئے کہنے لگا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئے
نکاح شروع ہو گیا حور مسکراتے ہوئے انہیں دیکھ رہی تھی ناچاہتے ہوئے بھی اسے اپنے اور ذامل کا خیال آ گیا۔۔
تبھی حور کا فون بجا نکاح ہو چکا تھا حور نے نظریں سکرین کی جانب کی ذامل کا فون آرہا تھا حور نے کال کٹ کردی ہاجرہ بیگم اپنے بیٹے کے چہرے پر خوشی صاف دیکھ سکتی تھی وہ بھی مسکرا دی انہیں ابرار چوہدری کی اسوقت شدید کمی محسوس ہوئی تھی۔۔
“پیارے لگ رہے ہیں”
نوال مسکراتے ہوئے بولی حور اثبات میں سر ہلا گئی
حور کا فون پھر بجا حور نے پھر کال کٹ کردی فوراً ہی دوبارہ فون بجا حور ارد گرد نظر ڈالتی سائیڈ پر آئی۔
“کیا ہے مصروف ہوں میں”
حور غصے سے فون اٹھاتی اسے ہلکی آواز میں بولتی نظریں ارد گرد گھمانے لگی۔
“کمرے میں آؤ”
ذامل نے اسے فورا بولا حور نے ایک نظر فون پر ڈالی اور کال بند کرکے وہ آس پاس دیکھتی کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
حور کمرے میں آکر دروازہ بند کرتے بیلکونی کی جانب بڑھی اور کھڑکی کھولی ذامل وہاں موجود تھا حور اسے دیکھ پریشان ہوئی
پنک کلر میں ذامل کو حور اسوقت بےحد حسین لگ رہی تھی چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی اس کے اندر بہت سے جذبات پیدا ہوئے مگر خود پر قابو پا گیا۔
“حسین”
وہ مڑ کر اس کے پاس آتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا حور اسے گھور رہی تھی ۔
“تم جان کر ہم دونوں کو پکڑوانا چاہتے ہو ہے نا ؟”
وہ اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہنے لگی ذامل کے لب مسکرا دیے ۔
“آج نہیں تو کل پکڑے جانا ہے ڈر کس بات کا ہے”
وہ اسے دیکھ اطمینان سے ہمیشہ کی طرح جواب دینے لگا۔
“میں نہیں چاہتی مجھے تمہارے ساتھ کوئی ایسے دیکھے میں خود بتانا چاہتی ہوں”
حور منہ بنا کر اسے کہنے لگی ذامل اسے دیکھنے لگا۔
“اچھا یعنی تم خود مقابلہ کرو گی؟”
ذامل آئبرو آچکائے اس سے مسکرا کر بولا حور نے اسے دیکھا
“ظاہری بات ہے محبت کی تو اسے پھر نبھانا تو ہے کیوں تم نہیں کرو گے”
حور اسے دیکھ کر جواب دیتی اس سے پوچھنے لگی
“میری بات کرنے کی نوبت نہیں آئے گی”
ذامل اسے دیکھ جواب دینے لگا حور نے فورا اس کی جانب دیکھا
“کیا مطلب ؟”
حور ناسمجھی سے اس سے پوچھنے لگی
“میرے دادا مان جائیں گے”
ذامل نے اسے اپنا جواب دے کر تسلی بخشی حور اثبات میں سر ہلا گئی ۔
“جاؤ اب “
حور اسے باہر کی طرف جانے کا اشارہ کرنے لگی جب ذامل نے اسے دیکھا ۔
“خود کو دل بھر کر دیکھنے تو دو”
وہ تھوڑا قریب آکر اس کے چہرے پر گہری نظریں جمائے کہنے لگا حور پیچھے ہوئی
“دیکھنے کیلیے ساری عمر پڑی ہے بائے”
حور اسے مسکرا کر کہتے ساتھ کھڑکی بند کر گئی جس پر ذامل نفی میں سر ہلا گیا۔


سارے مہمان آہستہ آہستہ جارہے تھے ازقہ زاہد کیساتھ گھبرائی ہوئی بیٹھی تھی
“آج تو کچھ لوگ مارنے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں”
زاہد نظریں سامنے مرکوز کیے اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا ازقہ کے لبوں پر شرمیلی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور وہ اپنا سر مزید جھکا گئی اس کا شرماتا روپ دیکھ کر زاہد کے لبوں پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔
“کہاں تھی تم”
حور جو باہر لان کی طرف بڑھ رہی تھی آدم اس کے سامنے آکر راستہ روکتا پوچھنے لگا حور نے اسے دیکھا
“میں جہاں مرضی تم سے مطلب”
حور اپنے بسل ٹھیک کرتی ایک ادا سے کہتے ساتھ سائیڈ سے گزر گئی اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔
حاکم چوہدری کے بعد سب نے دونوں کو مبارکباد باد دی تھی جس پر وہ دونوں جواباً شکریہ بولے تھے۔۔


ذامل گھر آیا تو ملک شہراز کو ٹی وی لاؤنچ میں موجود پایا
“کہاں سے آرہے ہو ذامل”
ملک شہراز کی نظر جیسے ہی اس پر گئی تو وہ اس سے پوچھنے لگے
“شہروز کے پاس تھا”
وہ انہیں جواب دیتے ساتھ ان کیساتھ ہی خاموشی سے بیٹھ گیا جس پر ملک شہراز نے اسے دیکھا
“میرا کام کب ہوگا ذامل”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگے ذامل نے سن کی طرف دیکھا۔
“بہت جلد”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ انہیں جواب دینے لگا ملک شہراز کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“انتظار ہے”
وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے بولے ذامل سنجیدگی سے بس انہیں دیکھ رہا تھا اور خاموشی سے اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔


حور کمرے میں آکر چینج وغیرہ کرکے بیڈ پر بیٹھی اسے یقین تھا ذامل اسے کال کرے گا فون ہاتھ میں لیے وہ اس کی کال کا انتظار کرنے لگی۔
ذامل کی باتیں سوچتے ہوئے وہ مسکرا دی تھی۔
دوسری طرف ذامل اپنے روم میں بیٹھا سگریٹ کے گہرے گہرے کش لگانے میں مصروف تھے چہرے سے صاف ظاہر تھا وہ اسوقت بےحد پریشان ہے بیڈکراؤن سے سر ٹکائے وہ سکون کی تلاش میں تھا جو شاید اس وقت ایک ہی سے ملنا تھا۔
“سو گئے کیا؟”
حور کچھ دیر اس کا انتظار کرتے ہوئے خود ہی اس کے نمبر پر ٹیکسٹ کر گئی۔
ذامل جو بید کراؤن سے سر ٹکائے ہوئے تھا فون پر میسیج ٹون بجی تو نظریں فون سکرین پر کر گیا اور اوپر جان کا میسیج پڑھ کر اس کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی
“تم ذامل کیلیے سکون کا احساس ہو جان”
وہ فون اٹھا کر اس کے نمبر پر کال کرتے ہوئے خود سے کہنے لگا جب تیسری بیل پر فون اٹھایا گیا
“انتظار کررہی تھی میرا”
ذامل فون کان سے لگائے گھمبیر لہجے میں پوچھنے لگا حور کی بیٹ مس ہوئی
“نہیں نیند نہیں آرہی تو ایسے ہی میسیج کردیا”
حور اترا کر اسے منہ بنائے جواب دینے لگی ذامل کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی
حور کی آواز سنتے ہی ملک ذامل کے لبوں پر ایک خوبصورت سج جایا کرتی تھی۔
“ایسا ہے کیا”
وہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا۔
“جی بلکل”
وہ بھی اسی کے انداز میں جواب دیتی مسکرا دی اور کچھ دیر دونوں یوں ہی کال کرتے رہے تھے۔
حور کی کوئی نہ کوئی بات ذامل کو مسکرانے پر مجبور کررہی تھی
جاری ہے