Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 5

حور کالج سے واپس گھر کی طرف جارہی تھی نظریں باہر کی جانب کیے ہوئے تھی ذامل آج بھی کالج نہیں آیا تھا حور اسی متعلق سوچ رہی تھی جب نظر بک سٹور پر گئی

“راشد بابا”

حور نے فورا سے ڈرائیور کو مخاطب کیا انہوں نے شیشے سے حور کی جانب دیکھا

“یہ کتاب لادیں بک سٹور سے”

حور بیگ سے چٹ نکال کر راشد بابا کے سامنے کرتی کہنے لگی

“جی چھوٹی بی بی ابھی لایا”

راشد بابا کہتے ساتھ فورا سے گاڑی سے اتر کر سٹور کی جانب بڑھ گئے

بند گاڑی میں اوپر سے عبایا میں موجود حور کو گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ تھوڑا بہتر محسوس کرنے لگی تھی وہ اسی طرح گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھی راشد بابا کا انتظار کررہی تھی جب اچانک کوئی لڑکا بائیک پر آیا حور کے پاس بائیک روکی اور اس کا بازو پکڑ کر گاڑی سے باہر نکالا یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ حور کو سمجھ ہی نہیں آیا تھا وہ گھبرا گئی۔

“کککون ہو تم”

وہ گھبرا کرکانپتے ہوئے لہجے میں اس شخص سے پوچھنے لگی جو نقاب میں موجود تھا

“ابھی بتاتا ہوں”

کہتے ساتھ وہ حور کے چہرے کی جانب ہاتھ بڑھا کر حور کا نقاب اتارنے لگا حور کی آنکھوں میں خوف ظاہر ہوا اس سے پہلے حور غصے سے اس کا ہاتھ روکتی اچانک حور کے چہرے کی جانب بڑھتا ہاتھ کسی نے تھاما اور کوئی حور کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہوا حور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور مکمل اس کے پیچھے چھپ گئی

ملک ذامل اسوقت آنکھوں میں سرد پن لیے سامنے موجود شخص کو دیکھ رہا تھا جو اسے دیکھتے ہی گھبرا سا گیا تھا ذامل نے زوردار مکہ اس کے منہ پر مار کر اس کا جبڑا ہلا دیا اور وہ لڑکھڑاتا زمین پر جا گرا

“گاڑی میں بیٹھو”

ذامل سرد لہجے میں حور سے کہنے لگا ایک نظر حور نے اسے دیکھا اور خاموشی سے گاڑی کی طرف بڑھ گئی

ذامل نے آگے بڑھ کر اس شخص کے چہرے سے نقاب ہٹایا ارسلان کو دیکھ اسے شدید غصہ آیا تھا

“ارسلان تم ہمت کیسے ہوئی جان کو چھونے کی ہاں”

وہ اسے دیکھ گرم دماغ سے سرد لہجے میں کہتے ساتھ چھ سات مکے ایک ساتھ اس کے منہ پر جھڑ دیے ارسلان کا منہ خون و خون ہو گیا گاڑی میں بیٹھی حور یہ سب دیکھ ایک پل کیلیے گھبرا سی گئی

“بول کس نے بھیجا تھا تجھے”

ذامل ارسلان کا گربیان پکڑے سرخ نگاہوں سے اسے دیکھتا غصے سے غرایا ارسلان کانپ رہا تھا وہ ذامل کے غصے سے بخوبی واقف تھا

“م۔۔۔ملک صص۔۔۔صاحب نے”

ارسلان گھبراتے اور خوفزدہ تاثرات سجائے کانپتے ہوئے بامشکل بول سکا

ذامل نے جیب سے گن نکال کر اسے لوڈ کی حور گن دیکھ اچھل کر رہ گئی

“ذامل اسٹوپ اٹ جاؤں تم”

حور فورا سے گاڑی سے نکل کر ذامل کے سامنے آکر بولتی ارسلان کو اشارہ کر گئی ذامل نے حور کی جانب دیکھا اور ارسلان خوف سے لڑکھڑاتے وجود کیساتھ وہاں سے جانے میں ہی بہتری سمجھنے لگا۔

“کیا کرنے جارہے تھے”

حور گن کی جانب نظریں کیے سرد لہجے میں سینے پر بازو باندھے پوچھنے لگی۔

“جان سے مارنے تمہیں کوئی چھوئے میری برداشت سے باہر ہے”

ذامل سرد لہجے میں اس کی سیاہ آنکھوں میں نظریں جمائے بولتا حور کی ہارٹ بیٹ مس کروا گیا۔

تبھی راشد بابا کتاب ہاتھ میں تھامے بک سٹور سے باہر نکلتے نظر آئے ذامل کو دیکھ پریشان ہوئے تھے

“حاکم چوہدری نے کس کام کیلیے رکھا ہے آپ کو”

ذامل غصے سے راشد بابا کی طرف دیکھ لفظ چبا کر بولا راشد بابا ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگ گئے

“راشد بابا کا کوئی قصور نہیں ہے آپ بیٹھیں گاڑی میں بابا “

حور راشد بابا کے بولنے سے پہلے ذامل کو بتاتی کتاب ہاتھ سے لے کر راشد بابا سے بولی جس پر وہ خاموشی سے بیٹھ گئے

“تمہیں کوئی الہام ہوتا ہے کہ حور اب مصیبت میں ہے”

حور کتاب گاڑی میں رکھ سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی وہ ذامل کے کندھے سے بھی تھوڑا نیچے آتی تھی ذامل کو وہ اسوقت بےحد پیاری لگی تھی

“زندگی میں تم جب بھی مصیبت میں ہوگی تمہیں تمہاری حفاظت کیلیے ملک ذامل نظر آئے گا”

ذامل سینے پر بازو باندھے اس کے چہرے کے قریب جھک کر گھمبیر لہجے میں اسے بولا حور تھوڑا کنفیوز ہوتی پیچھے کی جانب کھسکتی گاڑی سے جا لگی

“حفاظت شوہر کرتے ہیں”

حور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے جواب دینے لگی ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ آئی

“تو میں ہی تمہارا شوہر بنوں گا”

وہ اسے جواب دیتے ساتھ گن والا ہاتھ اس کی طرف کیے حور کو ڈرا گیا اس کی آنکھوں میں خوف دیکھ ذامل نے گن جیب میں رکھی حور نے اپنے تاثرات نارمل کیے

“شوہر بن کر کیا کرو گے”؟

حور نے آئبرو اچکائے اس سے سوال کیا تھا ذامل اپنے لب اس کے کان کے قریب لایا

“رومینس”

ذامل شوخیہ لہجے میں اسے جواب دینے لگا جواب سنتے ہی حور کی ہارٹ بیٹ ایکدم تیز ہو گئی

“میں نے تمہارا نام بلکل ٹھیک رکھا ایک نمبر ایک نمبر کیوں دو نمبر ٹھرکی آنسان ہو تم “

حور اسے زور سے پیچھے کی جانب دھکیلتے ہوئے آنکھیں چھوٹی کیے جواب دیتی گاڑی میں بیٹھ گئی ذامل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی گاڑی میں بیٹھتے ہی حور نے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنی بےترتیب دھڑکنیں ترتیب میں کی تھی

“ہائے”

ذامل باہر کھڑا مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے مسکرا کر اس پر نظریں جمائے کہنے لگا

“چلیں”

وہ ذامل کی طرف نہ دیکھتی راشد بابا سے کہنے لگی وہ اثبات میں سر ہلا کر گاڑی سڑک پر دوہرا گئے تھے ذامل اسے جاتا دیکھ خود بھی چلا گیا

“حویلی میں ذامل کا ذکر مت کیجیے گا”

حور راشد بابا کی جانب دیکھ انہیں حکم دینے والے انداز میں بولی جس پر وہ خاموشی سے بس اثبات میں سر ہلا گئے۔

***********

“دادا”

ذامل حویلی میں قدم رکھتے ہی ملک شہراز کو غصے سے آواز دینے لگا وہ لان سے اندر کی جانب آئے اور ذامل کو دیکھ مسکرائے

“کیا کیا ہے یہ آپ نے”

ملک شہراز کو دیکھتے ہی وہ فورا تیزی سے اس طرف بڑھ کر پوچھنے لگا ملک شہراز کی مسکراہٹ سمٹی

“کیا”؟؟

وہ پریشانی سے ذامل کو دیکھ پوچھنے لگے جو اسوقت بےحد غصے میں تھا

“آپ نے حاکم چوہدری کی پوتی کے ساتھ غلط کروانے کی کوشش کی ہے”

ذامل انہیں دیکھتے ہوئے سرد لہجے مونچھوں پر تاؤ دیتا پوچھنے لگا

“ہاں کیا تمہیں کیوں اتنا غصہ آرہا ہے”

ملک شہراز بھی لہجے میں سختی لیے اسے دیکھ پوچھنے لگے

“دادا ہماری دشمنی حاکم چوہدری سے ہے اس کے خاندان کی عورتوں سے نہیں آپ اس کے ساتھ غلط کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں”

ذامل اپنے لہجے میں موجود سرد پن کم کیے ملک شہراز کو بتانے لگا

“دشمنی حاکم چوہدری سے ہے تو سمجھو پورے خاندان سے ہے”

وہ فورا سے غصے سے چلا کر کہنے لگا ذامل نے انہیں دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا

“آپ کا ہر ایک اصول فیصلہ حکم سر آنکھوں پر لیکن اگر کسی لڑکی کی عزت کیساتھ آپ یہ کریں گے تو میں اس میں آپ کا ساتھ نہیں دوں گا یاد رکھیے گا”

ذامل سر نگاہوں سے مہک شہراز کو دیکھ سر ہلاتا ہر لفظ چبا کر کہتے ساتھ اوپر کی جانب بڑھ گیا اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گئے آج پہلی بار ذامل نے ملک شہراز سے اس قدر بدتمیزی سے بات کی تھی ذامل کا لہجہ انہیں شدید تکلیف پہنچا گیا تھا

*************

حور حویلی میں داخل ہوئی تو حاکم چوہدری دراب چوہدری اور جبران چوہدری کو ٹی وی لاؤنچ میں موجود پایا

“گڑیا آنے میں دیر کیسے ہو گئے؟”

حاکم چوہدری حور کو آتا دیکھ فورا سے پوچھنے لگے حور نے ان کی جانب دیکھا

“دادا وہ کتاب لینی تھی مجھے بس اسی وجہ سے”

حور فورا سے کتاب دیکھاتے ہوئے تھوڑا گھبرا کر جواب دینے لگی حاکم چوہدری اثبات میں سر ہلا گئے

“آپ کی طبیعت کیسی ہے”؟

حور ہمیشہ کی طرح ان کے پاس آکر ان کیساتھ بیٹھتے فکرمندی سے پوچھنے لگی

“ایکدم فٹ”

وہ مسکراتے ہوئے اسے جواب دیتے ہوئے بتانے لگے جس پر وہ بھی مسکرا دی اور اٹھ کر وہاں سے جانے لگی

“فریش ہوکر آجاؤ کھانا لگ رہا ہے”

ہاجرہ بیگم اسے جاتا دیکھ فورا سے کہنے لگے جس پر حور نے اثبات میں سر ہلا دیا اور کمرے کی طرف بڑھ گئی

فریش وغیرہ ہوکر چینج کرتی نیچے کی جانب بڑھی تھی چینج وغیرہ کرکے کھانے کیلیے ڈائننگ ایریا کی طرف چل دی

حور ڈائننگ ایریا پر آئی تو ہاجرہ بیگم اور ازقہ دونوں کھانا لگا رہی تھی حور نے کرسی سنبھال لی آہستہ آہستہ گھر کے سبھی لوگ آ گئے اور سب خاموشی سے کھانا کھانے لگ گئے

“زاہد جو سکول کے ساتھ خالی پلاٹ پڑا ہے وہ بھی میری حور کے نام کردو “

حاکم چوہدری کھانا کھاتے ہوئے زاہد کی جانب دیکھتے ہوئے بتانے لگے سب نے حاکم چوہدری کو دیکھا

“دادا میرے نام پہلے ہی پانچ زمینیں اور دو پلاٹ ہے اب یہ کیوں”

حور فورا سے حاکم چوہدری سے شکوہ کرتی منہ بنائے بولی

“میں خوشی سے آپ کے نام کررہا ہوں “

حاکم چوہدری فورا سے حور کو بتانے لگے جس پر وہ خاموش ہو گئی

“ٹھیک ہے دادا”

زاہد حاکم چوہدری کو جواب دیتا کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا اچانک نظر ازقہ پر گئی جو اسوقت صرف کھانے کیساتھ بھرپور انصاف کررہی تھی اسے دیکھ زاہد کے لب مسکرا دیے تھے

“دادا “

آدم نے کھانے کی ٹیبل پر حاکم چوہدری کو پکارا حاکم چوہدری نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

“دادا میں آپ کا یتیم بچوں والا ادارہ سنبھالنا چاہتا ہوں اگر آپ اجازت دیں”

آدم نے حاکم چوہدری سے اجازت لینے چاہی حاکم چوہدری سمیت سب نے اس کی طرف دیکھا

“طبیعت ٹھیک ہے اس کی”

حور ازقہ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے پوچھنے لگی ازقہ نے حور کو دیکھا

“لگ نہیں رہی”

ازقہ فورا سے کہنے لگی حور بھی مسکرا دی اور ازقہ بھی مسکرا دی

“یہ تو بہت اچھی بات ہے تو پھر یہ ذمہداری نبھانا بھی آدم”

حاکم چوہدری مسکرا کر آدم کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہنے لگے دراب چوہدری کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی

“جی بلکل دادا شکریہ”

وہ مسکراتے ہوئے فورا سے کہنے لگا اور دراب چوہدری کو دیکھا جو دل ہی دل میں. اپنے بیٹے کو شاباش دے رہے تھے

***********

حور کمرے میں بیٹھی آج کا واقع سوچ رہی تھی چہرے پر مسکراہٹ تھی جس سے وہ خود ہی انجان تھی

(“ارسلان تم ہمت کیسے ہوئی جان کو چھونے کی ہاں”

“تمہیں کوئی چھوئے میری برداشت سے باہر ہے”

“زندگی میں جب بھی مصیبت میں ہوگی تم تمہاری حفاظت کیلیے ملک ذامل تمہیں نظر آئے گا”)

حور اس کے کہے گئے الفاظ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی

“اہم اہم اکیلے میں کیوں مسکرایا جارہا ہے”

ازقہ کمرے میں آتے ہوئے اسے سوچوں میں گم دیکھ اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگی حور فورا ہوش میں آئی

“نن۔۔نہیں ایسا کچھ نہیں ہے”

حور اسے دیکھ فورا سے سٹپٹاتی کانپتی ہوئی آواز میں جواب دینے لگی

“سم تھنگ سم تھنگ”

ازقہ اسے چھیڑتے ہوئے مزے سے کہنے لگی حور بیڈ سے اٹھ کر دیکھنے لگی

“نتھنگ نتھنگ”

حور فورا سے ہاتھ ہلاتے ہوئے منہ بنائے بولی ازقہ مسکرا دی

“میں خود ابھی کنفیوز ہوں بجو جیسی ہی سمجھ آئے گی بتاؤں گی آپ کو”

حور اسے دیکھ سنجیدگی سے اسے کہنے لگی جس پر ازقہ ہلکا سا مسکرا دی

“سب بہتر ہوگا میں تمہارے ساتھ ہوں”

ازقہ اس کا ہاتھ تھامے مسکرا کر بولی حور اس کے گلے سے لگ گئی

***********

ازقہ اوپر کمرے کی جانب جارہی تھی زاہد سیڑھیاں اترتا نیچے آرہا تھا ازقہ قدم روک گئی تاکہ وہ گزر جائے زاہد نے اسے دیکھا

“کہاں سے آرہی ہوں”

زاہد ہاتھ میں موجود کاغذ جیب میں ڈالتا اس پر نظریں جمائے پوچھنے لگا

“حور کے روم سے”

ازقہ اسے فورا سے جواب دینے لگی زاہد سر کو خم دے گیا

“ویسے میں نے پہلی نند بھابی دیکھی ہے جن کی اس قدر بنتی ہے”

وہ سینے پر بازو باندھے شوخیہ لہجے میں کہتے ساتھ ازقہ کو مسکرانے پر مجبور کر دیا

“بس آپ نظر نہ لگا دیجیے گا”

ازقہ بھی سینے پر بازو باندھے مسکرا کر اسی کے انداز میں کہنے لگی

“نظر تو ہماری آپ کی خوبصورتی پر لگ سکتی ہے “

زاہد گھمبیر لہجے میں کہتے ساتھ اس کے چہرے کے قریب چہرہ لائے کہنے لگا

“اہم اہم ابھی شادی نہیں ہوئی”

جبران وہاں سے گزر رہا تھا نظر دونوں پر گئی کھانستے ہوئے وہ بولا ازقہ گھبرا کر فورا دور ہوتی اوپر کی جانب بھاگ گئی تھی

زاہد نے اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا زاہد نے آئبرو اچکائے جبران نے بھی آئبرو اچکائی تھی

“کام وام نہیں ہے تمہارے پاس”

زاہد اسے خود کو دیکھتا پاکر فورا سے کہنے لگا جس پر جبران ہنستے ہوئے اوپر کی جانب بڑھ گیا

***************

“اوہو یعنی فل ہیرو والے میرے بھائی نے اینٹری دی تھوڑا تو پگھلی ہوگی”

شہریار اور ذامل ڈیرے پر موجود تھے ذامل نے اسے سارا واقع سنایا

“پگھلی مکمل پگھل گئی”

ذامل مسکرا کر شہریار کی جانب دیکھ کر بتانے لگا شہریار بھی مسکرا دیا

“مطلب ہیرو بننا کام آ گیا”

شہریار اس کے کندھے پر سر رکھے کہنے لگا ذامل نے اسے دیکھا اور جھٹکے سے الگ کیا

“مجھے تمہارے لیے لڑکی کا انتظام کرنا ہوگا”

ذامل اسے دیکھ فورا سے کہنے لگا شہریار نے فورا دانتوں کی نمائش کی

“سچیی کب”

شہریار فورا سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر ذامل اٹھا

“ابھی مجھے جانا ہے کام سے”

وہ اسے ہاتھ ہلاتے کر کہتا چلا گیا اور شہریار منہ بنا کر رہ گیا

*********

حور کچن سے باہر نکلتی اپنے ہاتھ میں کافی کا مگ تھامے اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی تبھی آدم اس کے سامنے آیا حور نے اپنے بڑھتے قدم روکے

“یہ کیا بدتمیزی ہے”

حور سرد لہجے میں غصے سے اس سے پوچھنے لگی جس پر آدم کے لب مسکرائے تھے

“دل کر رہا تھا”

وہ اسے حوس بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور کی چہرے پر مزید سختی در آئی

“اپنے دل کو قابو میں رکھو آدم چوہدری ورنہ بھول جاؤں گی کون ہو تم یاد رکھنا حورِ جان جو کہتی وہ کرکے دیکھاتی ہے”

حور غصے سے سرد نگاہوں سے لفظوں پر زور دیتے اسے بولتے ساتھ سائیڈ سے گزر گئی

“ساری آکڑ ختم کردوں گا ایک دفعہ میری ہو جاؤ بس تم”

آدم اسے جاتا دیکھ چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ سجائے دل میں کہنے لگا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا

*********

حور کافی کا مگ لیے بیلکونی کی جانب بڑھی اور کھڑکی کھولی تو نظر سامنے کھڑے شخص پر گئی اسے دیکھتے ہی حور کے لبوں پر مسکراہٹ آئی مگر وہ اگلے ہی پل مسکراہٹ سمٹ گئی

“بس اتنا ہی غصہ تھا”

حور کافی کا مگ ہاتھ میں گھمائے اس سے مخاطب ہوئی جس پر ذامل کے لب مسکرائے تھے

“ہاں تمہیں دیکھے بغیر گزارا نہیں ہے”

ذامل سینے پر بازو باندھے اس کے تھوڑا پاس آتے ہوئے کہنے لگا حور نے اسے دیکھا

“وہی سستے عاشقوں والی باتیں کرنا”

حور منہ بنا کر اسے بولتی اپنی مسکراہٹ ضبط کیے کافی کب مگ لبوں سے لگا گئی

“کتنا آزمانا ہے مجھے جان کہ دو تم بھی پیار کرتی ہو”

وہ کھڑکی پر دونوں ہاتھ رکھے حور کی سیاہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اعتماد بھرے لہجے میں بولا

“یہ کس نے کہا تمہیں”

حور اپنے تاثرات نارمل رکھتی آئبرو اچکائے اس سے بدلے میں پوچھنے لگی

“تمہاری ان سیاہ آنکھوں نے”

ذامل گھمبیر لہجے میں اس کے چہرے پر نظریں جمائے مسکرا کر جواب دے گیا حور اس کے جواب سے کنفیوز ہوئی تھی

“تمہاری سیاہ آنکھیں صاف بتارہی ہیں کہ تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے”

وہ اس کی آنکھوں پر اپنی براؤن نظریں جمائے بتانے لگا حور کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی

“تم واقع مجھ سے محبت کرتے ہو”؟؟

حور ذامل کی آنکھوں میں دیکھتے خودبخود ہی یہ سوال نکال گئی

“میری بات پر یقین نہیں ہوتا تو آنکھیں پڑھ لو”

ذامل نے فورا سے سادہ سا اسے جواب دیا حور ہمیشہ کی طرح اس کے جواب سے متاثر ہوئی مگر ظاہر نہیں کیا

“مجھے آنکھیں نہیں پڑھنی آتی “

حور فورا سے نظریں چراتی معصومیت سے جواب دے گئی اور اس کی معصومیت پر وہ ملک ذامل کو سیدھا دل میں اترتی محسوس ہوئی

“تو پھر میں جو کہ رہا ہوں اسے سچ مان لو جان”

ذامل حور کے ہاتھوں ہر ہاتھ رکھتا اسے پیار سے کہنے لگا حور کے جسم میں کرنٹ سا لگا جھٹکے سے اپنے ہاتھ نکالتی وہ پیچھے ہوئی

“مجھے نیند آرہی ہے”

حور کہتے ساتھ کھڑکی بند کرتی اندر آگئی اور اپنی غیر ہوتی حالت کو ٹھیک کرنے لگی

“مان گئی ہے”

ذامل خود سے کہتے ساتھ مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا یہ مسکراہٹ صرف حور کو دیکھ کر ہی چہرے پر نمودار ہوتی تھی ملک ذامل کے دل میں حور کی ایک ہی الگ ہی جگہ تھی جس کا اندازہ اسے خود بھی نہیں تھا۔۔

جاری ہے.

______