Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht E Dil) Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht E Dil) Episode 3
حور رات کے پہر ساتھ والے روم میں موجود ازقہ کے پاس آئی تھی اسے روم میں آتا دیکھ ازقہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا
“تم اسوقت یہاں”
ازقہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی حور بیڈ پر آکر لیٹ گئی
“ہاں میں کیونکہ میری پیاری سی بجو کیساتھ سونے کا دل کر رہا تھا”
وہ مسکراتے ہوئے لاڈ سے کہتے ساتھ اس کے گلے لگ گئی جس پر ازقہ ہلکا سا مسکرا دی حور آنکھیں بند کر گئی
“تمہارے پیپرز کب ختم ہوں گے”
ازقہ اس کی جانب دیکھ کر پوچھنے لگی حور نے اسے دیکھا
“ہفتے تک کیوں؟”
حور آئبرو اچکائے اٹھ کر بیٹھ کر پوچھنے لگی ازقہ نفی میں سر ہلا گئی
“ویسے ہی سوجاؤ مجھے بھی نیند آرہی ہے”
ازقہ کہتے ساتھ لیٹ گئی اور حور بھی اثبات میں سر ہلا کر لیٹ گئی تھی
حور آنکھیں بند کیے سوئی ہوئی تھی اچانک ذامل کا چہرہ آنکھوں کے سامنے لہرایا وہ ایکدم آنکھیں کھول گئی
“اللہ اللہ”
وہ پریشانی سے اٹھ کر بیٹھتی بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود سے بولی
“یہ کیا تھا”
حور کی سمجھ سے واقع یہ سب باہر تھا حور نے بالوں کو جوڑے کی شکل میں دیا اور واپس لیٹ گئی
“حور ایک ڈراؤنا خواب سمجھو اسے صبح پیپر ہے”
وہ سر پر ہاتھ رکھے خود سے کہتے ساتھ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی
حور کے پیپرز ختم ہو چکے تھے اور ایک ہفتے سے ذامل مسلسل اس کے کالج کے باہر اور اس کی کھڑکی کے باہر پایا جاتا تھا حور اسے مسلسل دونوں جگہ دیکھ کر واقع اکتا گئی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا ایسا کیوں ہے
حور کالج سے گھر جارہی تھی جب ذامل پر نظر گئی جو گلاسز لگا کر گاڑی میں بیٹھ کر اس کے سامنے سے گاڑی گزارتا مسکرا دیا حور بس اسے گھور سکی اور اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اور ڈرائیور گاڑی سڑک پر دوہرا گیا حور نے راشد کو سختی سے گھر میں ذامل کا بتانے سے منع کیا تھا ایسا کیوں تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی
گاڑی جیسے ہی حویلی کے باہر رکی وہ گاڑی سے اتر کر حویلی کے اندر داخل ہوئی اور حاکم چوہدری سے ملتی وہ کمرے میں جاکر آج اپنی دو ہفتوں کی نیند پوری کرنے کا ارادہ کرتی تھی
“کبھی کچن کو بھی دیکھ لیا کرو میری بچی”
ہاجرہ بیگم حور کو کمرے میں جاتا دیکھتے ہوئے اسے بولی حور نے ان کی جانب دیکھا
“امی میں ابھی تھکی ہوئی ہو نا”
وہ منہ بنائے انہیں دیکھ کر کہنے لگی حاکم چوہدری نے حور کو دیکھا
“ہاجرہ بیگم میری گڑیا ابھی تھکی ہوئی ہے اور گھر کے کام کرنے کیلیے نوکر موجود ہیں حور آپ سوئیں”
وہ ہاجرہ بیگم سے بولتے حور کو مسکرا کر کہنے لگے وہ انہیں شکریہ کرتی روم کی طرف بڑھ گئی
“لیکن ابا جان حور بڑی ہو گئی ہے اسے کام وغیرہ آنے چاہیے”
ہاجرہ بیگم نے حاکم چوہدری کو بتانا ضروری سمجھا
“تب کی تب دیکھ لی جائے گی”
حاکم چوہدری کہتے ساتھ اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ گئے اور ہاجرہ بیگم خاموش ہو گئی
آدم چوہدری تین بجے کے قریب اٹھ رہا تھا وہ فریش ہوکر کمرے میں آیا تو دراب چوہدری کو موجود پایا
“ابا آپ”
وہ انہیں دیکھ حیران سا پوچھنے لگا دراب چوہدری نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا
“وقت دیکھا ہے اپنے اٹھنے کا اس وقت حویلی میں سب لوگ دوپہر کا کھانا کھا کر فارغ ہو چکے ہیں”
دراب چوہدری انتہائی غصے سے کہتے ساتھ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے آدم ایک پل کیلیے گھبرا دیا
“آدم اپنی حرکتیں بدلو بےوقوف لڑکے مجھے تمہاری شادی کسی بھی حال میں حور جان سے کروانی ہے اس کے نام بہت سی زمینیں ہے سمجھ رہے ہو جو مجھے چاہیے خود کو بدلو”
وہ اسے دیکھ سرد لہجے میں سمجھاتے ہوئے کہنے لگے آدم نے دراب چوہدری کی جانب دیکھا
“شادی تک خود کو بدل لو اپنے دادا جان کا دل جیتو اس کے بعد جو دل چاہے کرنا”
دراب چوہدری اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے کہنے لگے وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔
“جی ابا ایسا ہی کروں گا”
آدم اثبات میں سر ہلا کر انہیں تسلی دے گیا وہ مسکرا کر اسے شاباش دیتے چلے گئے
حور اپنے کمرے میں پرسکون سی گہری نیند سورہی تھی گھڑی اسوقت بارہ بجا رہی تھی تبھی کوئی کھڑکی پھلانگ کر اس کے کمرے میں آیا حور دنیا سے بیگانہ سونے میں مصروف تھی ذامل دںے دبے پاؤں سے چلتا اس کے قریب آیا اس کی سائیڈ ٹیبل پر ٹیڈی اور چاکلیٹس اور بکے رکھتا اس کے پاس بیٹھا
“ہیپی برتھڈے جان”
وہ اس کے کان کے قریب لب لائے گھمبیر لہجے میں بولا حور آواز سن کر خوف سے فورا آنکھیں کھول کر دیکھنے لگ گئی اور اس سے پہلے حور چیخ مارتی ذامل نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا حور پھٹی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
حور غصے سے اس کے ہاتھ پر ناخن چبا گئی ذامل کا ہاتھ فورا اس کے منہ سے ہٹا
“بےشرم لچے ٹھرکی شخص “
وہ غصے سے اسے گھور کر کہنے لگی اور غصے سے کشن دے کر اسے مارا ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“ماننا پڑے گا سب نے تمہارا صحیح نام رکھا جنگلی شیرنی”
وہ ڈھٹائی سے مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا
“نکلو یہاں سے ورنہ میں دادا اور لالا کو بلا لوں گی”
غصے سے اسے کھڑکی سے باہر جانے کا اشارہ کرتی وہ دھمکی دینے لگی
“نہ جاؤں تو”
وہ آئبرو اچکائے اسے دیکھ کر کہنے لگا حور نے گھور کر اسے دیکھا
“میں تمہارا منہ توڑ دوں گی اگر نہیں نکلے تو مجھے معلوم تھا تم لچے ہو آوارہ بےشرم ہو مگر اتنے ٹھرکی ہو گے یہ نہیں معلوم تھا”
حور. سرخ چہرہ لیے اسے دیکھ سرد لہجے میں بولی ذامل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“تمہاری سوچ سے بھی زیادہ ہوں جان”
ذامل آنکھ مار کر اسے کہتے ساتھ مسکرا دیا اور حور نے ایک اور کشن اٹھا کر اسے مارا جس ذامل نے کیچ کرلیا
“مجھے جان مت کہو اور جاؤ یہاں سے کیوں خود کو مروانے پر تلے ہو”
حور کے لہجے میں پریشانی صاف ظاہر تھی وہ دروازے کی جانب دیکھ اسے بولی
“تمہیں میری جان کی اتنی پرواہ کیوں ہے جان کہیں میری باتیں سچ تو نہیں لگنے لگی”
وہ اسے مزید تنگ کرتے ہوئے قریب ہوکر شوخیہ لہجے میں کہنے لگا
“بہت ضدی ہو خوش فہمیاں نہ پالو مجھے اپنی عزت کی پرواہ ہے اور تمہاری باتیں مائی فٹ”
غصے سے وہ اسے بدتمیزی سے اسے جواب دیتی ذامل کے غصے کو ہوا دے گئی وہ اثبات میں سر ہلا کر غصے سے بھاری بھاری قدم لیے چلا گیا اور حور نے اٹھ کر فورا کھڑکی بند کی وہ مڑی تو سائیڈ ٹیبل پر چاکلیٹس اور بکے اور ٹیڈی بئیر موجود تھا
“سائیکو”
وہ ان تینوں چیزوں کو گھورتی خود سے کہتے ساتھ لیٹ گئی
“کیا واقع وہ مجھ سے کرتا ہے پیار”
حور بیڈ پر لیٹ کر خود سے سوچنے لگی اور چھت کی جانب نظریں جما گئی
“کرتا ہے تو کرتا رہے مجھے تو نہیں ہے نا اور میں ویسے بھی پیار ویار پر یقین نہیں رکھتی”
وہ چھت کو تکتی خود سے کہتے ایک جھڑجھڑی لے کر بولتی کروٹ بدلتی آنکھیں موند گئی
حاکم چوہدری جبران چوہدری زاہد چوہدری صارم چوہدری ٹی وی لاؤنچ کو ڈیکوریٹ کررہے تھے حور کا کالج سے آنے کا وقت ہو گیا تھا وہ اسے سرپرائز دینا چاہتے تھے ازقہ بھی ان کی مدد کروا رہی تھی تبھی دراب چوہدری اور آدم چوہدری بھی آ گئے تھے
ڈیکوریشن کرتے ہی وہ لوگ حور کا انتظار کرنے لگے تھے سب کی نظریں مین گیٹ کی جانب تھی
تبھی حور آتی نظر آئی تھی وہ نظریں جھکا کر اندر داخل ہورہی تھی
“ہیپی برتھڈے”
ان سب کے ایک ساتھ بولنے پر حور نے فورا اوپر کی جانب دیکھا اور سب دیکھ حور کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی تھی
“ارے تھینکیو سو مچ”
وہ ٹی وی لاؤنچ کو اشتیاق سے دیکھ لہجے میں خوشی لیے ان سب کو کہتی حاکم چوہدری کے گلے لگی تھی
“ہیپی برتھڈے میری گڑیا”
حاکم چوہدری اسے پیار سے کہنے لگے حور نے نقاب چہرے سے ہٹایا اور مسکرا کر شکریہ ادا کیا
“ہیپی برتھڈے حور”
حور کے تینوں بھائیوں نے ایک ساتھ کہا وہ باری باری ان کے گلے لگی
“ہیپی برتھڈے”
ازقہ اسے گلے لگ کر گفٹ دیتی مسکرا کر معصومیت سے بولی حور نے اس کی گال پر لب رکھے
“تھینکیو بجو”
وہ مسکراتے ہوئے بولی ازقہ بھی مسکرا دی اور پھر ہاجرہ بیگم کی جانب بڑھ گئی انہوں نے بھی اسے پیار کیا دراب چوہدری نے بھی اسے برتھڈے وش کیا
حور کو سب کیک کی طرف لائے اور کیک کٹ کروایا خوشی اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھی باری باری سب کو کھلانے لگ گئی
“ہیپی برتھڈے حور “
آدم اس کے پاس آتا اس کی جانب ایک گفٹ بڑھاتا بولا حور نے اسے دیکھا
“شکریہ”
وہ کہتے ساتھ خاموشی سے گفٹ لیتی وہی سب کے ساتھ بیٹھ گئی۔
ذامل کے آج کالج کے باہر نہ موجود ہونے پر حور تھوڑی اداس ہو اور پریشان ہوئی تھی مگر گھر آکر سرپرائز ملتے ہی وہ ذامل کو بھلائے گفٹس وغیرہ دیکھنے میں مصروف ہو گئی
ازقہ اور زاہد ایک ساتھ بیٹھے تھے ازقہ نے زاہد سے تھوڑا فاصلہ اختیار کیا زاہد تھوڑا مزید اس کی جانب کھسکا ازقہ کی ہارٹ بیٹ تیز ہو گئی وہ نظریں جھکا کر گھبرائی ہوئی بیٹھی تھی زاہد سب کا دھیان اور حور پر اور باتوں وغیرہ میں دیکھ ازقہ کو کہنی مار گیا اور ازقہ کی آنکھیں ایکدم بڑی ہو گئی وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی جس کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ نمودار تھی اور ازقہ سرخ چہرہ لیے فورا اٹھ کر حور کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی زاہد کی نظریں اسی پر تھی۔
“آج تم اپنی ڈیوٹی پر نہیں گئے کیا”
شہریار اسے اپنے گھر دیکھ پریشانی سے پوچھنے لگا ذامل نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“کہاں؟؟”
وہ ناسمجھی سے آئبرو اچکائے پوچھنے لگا شہریار اس کے ساتھ بیٹھا
“حور کا دیدار کرنے”
شہریار کہتے ساتھ مسکرا دیا اور ذامل نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا
“تم منہ بند نہیں رکھ سکتے ہو”
وہ سرد لہجے میں کہتے ساتھ چائے کا کپ لبوں سے لگا گیا
“کیوں نہیں گیا بھائی پریشانی ہورہی ہے”
شہریار اسے دیکھ واقع پریشانی سے پوچھنے لگا ذامل نے چائے کا کپ واپس ٹیبل پر رکھا
“انسلٹ کی ہے اس نے”
وہ اسے بتاتے ساتھ اپنی پسندیدہ چیز جیب سے نکال کر اسے جلانے لگا
“میں نے کہا تھا وہ نہیں ہاں کرے گی”
شہریار اسے دیکھ اپنی بات یاد دلانے لگا ذامل نے سر کو خم دے دیا
“ماننا تو اسے پڑے گا”
سگریٹ کا گہرہ کش لگاتا دھواں اڑا کر کہتا مسکرا دیا شہریار نفی میں سر ہلا گیا
حور ہمیشہ کی طرح بیلکونی میں کھڑی کافی پی رہی تھی مگر ذامل آج یہاں بھی موجود نہیں تھی حور کی نظریں اسی جگہ پر جمی ہوئی تھی جہاں وہ مہینے سے مسلسل پایا جاتا تھا
“کیا ناراض ہو کر گیا ہے مجھ سے”
حور خود سے اندازہ لگاتے سوال کرنے لگی نظریں وہی مرکوز تھی
“اگر وہ گیا مجھے کیا میرے لیے تو اچھا ہے کہ وہ اب میرے سامنے نہیں آ رہا ہے”
وہ اپنی سوچ کو بدلتی کہتے ساتھ بیڈ پر آ گئی تھی وہ اپنی دلی کیفیت خود بھی سمجھ نہیں سک رہی تھی کہ آخر کیوں وہ اس شخص کے متعلق دن بدن زیادہ زیادہ سے سوچنے لگی تھی
“حور تم بھول رہی ہو وہ میرا دشمن ہے اس کے خاندان کی وجہ سے میں باپ کے پیار سے محروم رہی ہوں ہرگز نہیں”
وہ نم آنکھوں سے کہتی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے دل میں آئے جذباتوں کو روک گئی۔
آدم حاکم چوہدری کے کمرے کی جانب بڑھا اسے آتا دیکھ حاکم چوہدری حیران ہوئے
“خیریت کچھ چاہیے؟”
حاکم چوہدری تھوڑے خفا سے لہجے میں بغیر اسے دیکھے پوچھنے لگے
“نہیں دادا میں معافی مانگنے آیا ہوں”
آدم کہتے ساتھ ان کے ساتھ آکر بیٹھا حاکم چوہدری نے اس کی جانب دیکھا
“میں نے آج تک آپ کی کوئی بات نہیں مانی میں جانتا ہوں اور شرمندہ بھی ہوں لیکن آپ خود. بتائیں اگر میں آج ایسا ہو تو قصور میرا نہیں ہے میری ماں مجھے اتنی چھوٹی عمر میں چھوڑ گئی اور پھر آپ نے بھی تو ہمیشہ زاہد لالا اور جبران لالا اور صارم کو اہمیت دی ہے مجھ پر صرف غصہ کیا تو کیا میرے دل میں باتیں نہ آتی دادا لیکن میں جانتا ہوں آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں اور اسی لیے میں نے آج تک جو کیا اس پر شرمندہ ہوں اور معافی مانگنا چاہتا ہوں آج کے بعد میں ایسا کچھ نہیں کروں گا”
آدم سر جھکا کر حاکم چوہدری کو دیکھتے بغیر معافی مانگنے لگا حاکم چوہدری ہلکا سا مسکرا دیے
“میں نے تمہیں معاف کیا آدم”
وہ محبت سے کہتے ساتھ اسے اپنے ساتھ لگا گئے آدم مسکرا دیا
“صبح ناشتے پر ملاقات ہوتی ہے ابھی میرے آرام کا وقت ہوگیا ہے”
حاکم چوہدری اسے دیکھ کر بتانے لگے جس پر وہ اثبات میں سر ہلا کر شب بخیر کہتا چلا گیا اور ملازموں نے حاکم چوہدری کے کمرے کا دروازہ بند کر دیا
“واہ آدم چوہدری تمہیں تو اداکار ہونا چاہیے تھا”
مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
حور اور نوال بریک میں ہمیشہ کی طرح کھڑکی کے پاس کھڑے تھے نوال کی نظریں نیچے کی جانب جمی ہوئی تھی
“یار دو دن سے ملک ذامل نہیں آرہا ہے”
نوال نظریں ادھر ادھر دہراتی حور کو بتانے لگی حور کی نظر بھی نیچے گئی
“تو نہ آئے تم کیوں اسے دیکھنے کیلیے بےتاب ہو”
حور نوال کو گھور کر دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے پوچھنے لگی نوال نے اسے دیکھا
“نہیں ویسے ہی بس دو ہفتوں سے مسلسل آتا تھا تو اس لیے”
وہ فورا سے اسے جواب دیتی اپنی پشت کھڑکی سے ٹکا گئی
حور اور نوال دونوں باتیں کرنے لگ گئی حور نے نظریں نیچے کی جانب کی مگر وہ وہاں نہیں تھا
“پتہ نہیں کیوں نہیں آیا”
حور دل میں خود سے سوچتے ہوئے پریشانی سے بولنے لگی
“حور آجاؤ بریک اوف ہو گئی”
نوال اسے کہتے ساتھ کلاس کی جانب بڑھ گئی وہ ایک بار پھر نیچے کی جانب دیکھنے لگی اور خاموشی سے کلاس میں چلی گئی۔
جاری ہے۔
