Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 21

وہ لوگ ہسپتال پہنچے تو فوراً ہی ذامل کو سٹریچر پر لٹا کر آپریشن تھریٹر کی طرف بڑھ گئی حور وہی کھڑی آنسو بہا رہی تھی ملک شہراز بھی خاموشی سے کھڑے تھے۔۔
حور کی نظریں بار بار آپریشن تھریٹر پر جارہی تھی اپنے سے دور ذامل کو محسوس کرکے جیسے مانو اس کے وجود سے جان نکل رہی تھی ۔۔
(“تمہیں دیکھنے کے لیے جان”۔۔
“بس اتنا معلوم ہے حورِ جان ملک ذامل کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے حورِ جان کو دیکھے بغیر میرا دن نہیں گزرتا تمہارا غصہ مجھے بےحد پسند ہے تم بچپن سے لے کر اب تک اس دل میں رہتی ہو۔”
“تم ذامل کیلیے سکون کا احساس ہو جان”
“تم دلہن کے روپ میں اس قدر حسین لگ رہی ہو کہ تم سے نظریں نہیں ہٹائی جارہی اس قدر حسین کے ملک ذامل تمہیں پوری رات پلک چھپکائے دیکھ سکتا ہے”
“تمہیں دیکھنے کا تمہیں سننے کا تمہارے قریب رہنے کا اختیار صرف مجھے ہے”)
وہ آپریشن تھریٹر پر نظریں جمائے ذامل کے کہی ایک ایک بات یاد کرتی آنسو بہانے لگ گئی۔۔۔
ملک شہراز خاموشی سے کھڑے نظریں آپریشن تھریٹر پر جمائے ہوئے تھے۔
“حور”
زاہد کی نظر حور پر گئی وہ فوراً اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے کہنے لگا۔۔
“بھائی”
حور نے سر اٹھا کر زاہد کو نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے پکارا۔
“کیا ہوا ہے؟”
زاہد اسے روتا دیکھ پریشان سا پوچھنے لگا حور زاہد کے گلے لگ گئی
“ذامل کو گولی لگ گئی ہے بھائی”
وہ روتے ہوئے سسکیاں لیتے ہوئے کہنے لگی زاہد کی نظر آپریشن تھریٹر پر گئی جس پر زاہد نے حور کو گلے سے لگایا
“سب بہتر ہوگا تم ٹینشن نہ لو”
وہ اسے امید دیتے ہوئے پیار سے کہنے لگا حور اس کے سینے سے الگ ہوئی
“آپ یہاں خیریت”
حور زاہد کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی زاہد نے اسے دیکھا اور ساری بات بتائی۔۔
“کیا مطلب ذامل ازقہ بجو کا بھائی ہے؟”
حور سب جاننے کے بعد حیرت زدہ سی پوچھنے لگی زاہد نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اس سے پہلے حور کوئی اور سوال کرتی ڈاکٹر اس طرف آئے ۔۔
“آئی ایم ریلی سوری بہت کوششوں کے بعد بھی ہم آپ کے پیشنٹ کو نہیں بچا سکے”
ڈاکٹر زاہد کے پاس آتے ہوئے اسے افسردگی سے بتانے لگا زاہد خاموشی سے ڈاکٹر کو دیکھنے لگا۔
“ایسا نہیں ہو سکتا میرے ابا مجھے ایسے نہیں چھوڑ کر جا سکتے سب تمہاری وجہ سے سب”
آدم ایک دم چیخ کر کہنے لگا جس پر حور اور زاہد نے اسے دیکھا
“آدم ہوش میں رہو”
زاہد اسے نارمل کرتے ہوئے کہنے لگا جس پر حور گھبرا کر دور ہوئی اور آدم زاہد کو نفرت سے دیکھتا دھکا دے کر چلا گیا۔۔۔


ذامل کو بہت دیر ہو چکی تھی آپریشن تھریٹر پر مگر آپریشن ابھی تک چل رہا تھا حور کا دل بیٹھا جارہا تھا وہ اسوقت جائے نماز میں بیٹھی خدا سے ذامل کی زندگی کی دعائیں کررہی تھی
“ڈاکٹر میرا پوتا”
ملک شہراز ڈاکٹر کو باہر آتا دیکھ فوراً سے ان کی طرف بڑھ کر کہنے لگے
“وہ خطرے سے باہر ہیں لیکن ابھی انہیں ہوش نہیں آیا روم میں شفٹ کردیا گیا ہے آپ مل سکتے ہیں “
ڈاکٹر ملک شہراز کو بتاتے ساتھ آگے کی طرف بڑھ گئے ڈاکٹر کی بات سن کر حور فوراً شکر ادا کرکے اٹھی اور روم کی طرف بڑھی
زاہد ملک شہراز ویسے ہی خاموش کھڑے تھے۔
حور کمرے میں آئی نظر اس پر گئی جو کہیں مشینوں میں جکڑا ہوا تھا ہاتھوں میں ڈرپ لگی ہوئی تھی اسے اس حالت میں دیکھ آنکھوں سے آنسو کسی پانی کی طرح بہنے لگے حور کے سامنے ذامل کا مسکراتا ہوا چہرہ آیا وہ اس کے پاس آئی اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا۔
“ملک ذامل پہلے جیسے ہوجاؤ تمہیں ایسی حالت میں نہیں دیکھا جارہا ہے”
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے اداسی سے کہتے ساتھ اس کے سینے پر سر رکھ گئی۔۔۔
تبھی ڈاکٹر کمرے میں آیا حور فوراً سیدھی ہوئی اور آنسو صاف کرنے لگی۔۔
وہ کچھ سمان رکھتا چلا گیا حور اسے ویسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔


حاکم چوہدری بھی حور کی خاطر ہسپتال پہنچ گئے اور ملک شہراز وہی موجود تھے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا بغیر کوئی بات کیے حاکم چوہدری حور کی طرف بڑھے حور انہیں دیکھ ان کے گلے سے آ لگی۔
” دادا”
وہ ان کے گلے سے لگی خوشی سے کہنے لگی جس پر حاکم چوہدری کو ایک الگ ہی خوشی ملی
“دادا مجھے معاف کردیں میں نے کچھ غلط نہ”
حور سر اٹھا کر پھر سے وضاحت دینے لگی جب حاکم چوہدری نفی میں سر ہلا گئے اور گلے سے لگا لیا۔۔
“مجھے معاف کردو حاکم”
ملک شہراز اس کی طرف بڑھ کر شرمندہ سے کہنے لگے حاکم چوہدری نے ملک شہراز کی جانب دیکھا اور پھر زاہد اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
“آج پوتے کو خود سے دور جاتا دیکھ مجھے صحیح معنوں میں تکلیف سی ہوئی ہے جتنا غلط کیا ان سب کی معافی چاہتا ہوں”
ملک شہراز ہاتھ جوڑ کر شرمندہ سے حاکم چوہدری سے کہنے لگے حاکم چوہدری نے ان کے دونوں ہاتھ تھام لیے
“شرمندہ تم کررہے ہو اب مجھے”
انہوں نے کہتے ساتھ ملک شہراز کو گلے سے لگایا اور سب لوگ مسکرا دیے آج سترہ سال بعد سب پہلے جیسا لگ رہا تھا سب لوگ خوش تھے انتظار تھا تو بس ذامل کے ہوش میں آنے کا۔


پوری رات گزر چکی تھی اور سب لوگ گھر چلے گئے ملک شہراز کو حاکم چوہدری زبردستی اپنے ساتھ حویلی لے گئے تھے حور ذامل کے پاس ہی سوئی تھی صبح ہونے کو تھی ذامل کو ہوش نہیں آیا تھا حور فجر ادا کرکے اس پر پھوکا مارتی جائے نماز جگہ پر رکھنے لگی۔
تبھی ذامل نے پلکوں پر ہلکی ہلکی جبنش کی اور کھانسنے لگا حور نے فوراً اسے دیکھا
“ذامل”
حور فوراً اس کی طرف بڑھ کر پکارنے لگی بامشکل ذامل کی نظر اس پر گئی جو سفید رنگ کے حجاب میں سر ڈھکے ہوئے تھے حورِ جان کو دیکھتے ہی ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور خود میں جیسے سکون سا اترتا محسوس ہوا۔
“کچھ چاہیے کیا”
حور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نرمی سے پوچھنے لگی۔
“پپ۔۔پانی”
ذامل بامشکل اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا حور نے فوراً جگ سے گلاس میں پانی ڈالا اور اسے پلایا ذامل کی نظریں حور پر ہی مرکوز تھیں
“ش۔۔شکریہ”
ذامل پانی پینے کے بعد حور کو نظروں کے حصار میں بولا حور خاموش رہی
ذامل کے اس کے چہرے کو بغور دیکھا جس کی آنکھیں کافی سوجھی ہوئی تھی
“ت۔۔۔تم۔۔رو۔۔روئی۔۔ہو”
ذامل کو بولتے ہوئے شدید تکلیف ہورہی تھی مگر حور کی سوجھی آنکھیں دیکھ وہ پوچھے بغیر رہ نہ سکا
“تم زیادہ مت بولو “
حور اسے دیکھتے ہوئے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بولی
“بتاؤ م”
ذامل ابھی منہ سے الفاظ نکال ہی رہا تھا جب حور نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔
“میں نے منع کیا ہے نا”
حور آنکھیں دیکھاتے ہوئے اسے کہنے لگی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“سوجاؤ”
حور اسے دیکھتے ہوئے بولتے ساتھ اس کی میڈیسنز دیکھنے لگی
“تم تو چاہتی ہو میں ہمیشہ کیلیے سوجاؤ ہے نا”
ذامل اسے جان کر تنگ کرنے کیلئے بولا حور نے فوراً نظروں کا تعاقب اس کی طرف کیا
“فضول بولنے کی تمہیں شروع سے عادت ہے مجھے لگتا ہے”
حور اسے گھور کر خفگی سے منہ بنائے جواب دینے لگی جس پر ذامل کے لب مسکرا دیے
“تو کہو ایسا نہیں ہے”
ذامل فوراً سے اسے کہنے لگا حور نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھا
“ماننا پڑے گا ملک ذامل تم بہت ضدی ہو تم جو کہتے ہو وہ کر دیکھاتے ہو “
حور اس کے سامنے آکر سینے پر بازو باندھے اسے بولی ذامل اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگ گئی ۔۔
“میں نے جو بولا ہے وہ بولو”
امام اسے بات کو گھماتا دیکھ فوراً سے بولا حور اسے دیکھنے لگی۔
“ایسا نہیں ہے ذامل جب تمہاری آنکھیں بند ہوئی تھی حور کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی تھی”
حور اسے بولتے آخری بات دل میں کہنے لگی ذامل اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔۔
“سانس رک گئی تھی نا”
ذامل اس کے چہرے کو پڑھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولا حور بس اسے دیکھ رہی تھی دونوں طرف بیٹ مس ہوئی تھی ذامل کی آنکھوں میں خوشی کی الگ ہی چمک تھی۔۔۔


“میم بینڈچ کا وقت ہوگیا ہے”
نرس آتے ہوئے حور سے کہنے لگی حور اور ذامل نے اس کی طرف دیکھا
“آپ مجھے دے دیں میں کردوں گی”
حور اس سے بینڈچ کا سمان لیتی کہنے لگی نرس خاموشی سے چکی گئی ۔
حور نے آرام سے ذامل کا اٹھایا اور اس کی پشت کو بیڈ سے ٹکایا وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا حور نے اسے دیکھا اور آرام آرام سے اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے لگی اور اس کی شرٹ اتاری حور کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور ذامل اس کی حالت سے محفوظ ہورہا تھا
نرمی سے اس کی پینڈچ کھولنے لگی جیسے ہی ساری بینڈچ جھلی نظر زخم پر گئی آنکھیں خود ہی بھیگ گئی وہ ذامل کو دیکھنے لگی ذامل نے اس کے آنسو اپنے دوسے ہاتھ سے صاف کیے حور بینڈچ آرام آرام سے کرنے لگی ذامل کی نظریں اس ی پر تلی تھی بینڈچ کرنے کے بعد حور نے اسے پھر شرٹ پہنائی ذامل نے حور کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھا کر اس کی پیشانی پر اپنے پیار کی مہر لگا دی حور آنکھیں بند کر گئی۔
“یہ عشق ہے جناب جس سے ہوتا ہے
وہی شخص جان سے پیار ہوتا ہے”
تبھی دروازے پر دستک ہوئی ذامل اور حور دور ہوئے ملک شہراز اور حاکم چوہدری کو ایک ساتھ دیکھ ذامل حیران تھا جس پر سب لوگ اس کے ری ایکشن پر مسکرادیے
“ایسے کیا ہاں تمہارے دادا اتنے بھی برے نہیں ہے”
ملک شہراز مسکراتے ہوئے کہنے لگے جس پر سب لوگ ہنس دیا ذامل کے لب ہلکے سے مسکرا دیے زاہد ازقہ کو ساتھ لایا تھا
“اپنی بہن سے نہیں ملو گے ذامل”
حاکم چوہدری ذامل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے جس پر ذامل ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگ گیا۔۔
“میری تو کوئی بہن نہیں ہے”
ذامل فوراً سے انہیں بتانے لگا ملک شہراز ایک بار پھر شرمندگی سے سر جھٹک گئے۔
“میں نے تم سے یہ بات بھی چھپائی تھی ازقہ تمہاری بہن ہے ذامل”
ملک شہراز شرمندگی سے نظریں نہ ملاتے ہوئے بولے ذامل کو پھر حیرت کا جھٹکا لگا اور اس نے نظریں ازقہ کی جانب کی جو خاموش سی کھڑی ذامل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
“دادا آپ نے یہ کیوں کیا”
ذامل ازقہ ہر نظر ڈال ملک شہراز پر خفگی بھری نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“پرانی باتیں کو بھول جانا بہتر ہے ذامل اپنی بہن سے ملو”
حاکم چوہدری بات کو ختم کرتے ہوئے ذامل سے کہتے ساتھ ازقہ کو اشارہ کرنے لگی۔۔
ازقہ حاکم چوہدری کی طرف بڑھی حاکم چوہدری نے اسے ذامل کے پاس کیا ذامل اسے دیکھنے لگ گیا دونوں ایک دوسرے کو نم آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔۔
“میں نے تمہیں ہمیشہ بہن ہی سمجھا ہے”
ذامل ازقہ کا ہاتھ تھام کر اسے مسکرا کر کہنے لگا جس پر ازقہ مسکراتی اور سب لوگ بھی مسکرادیے۔۔


ذامل کو ہسپتال میں دوسرا دن تھا اس کے پاس حور ہی موجود تھی حور بیٹھی ہوئی تھی
“جان”
ذامل نے مسکراتے ہوئے اسے پکارا حور نے اسے دیکھا
“بال”
ذامل حور کو ہئیر برش ہلاتے ہوئے اشارہ سمجھانے لگا حور اٹھ کر اس کے پاس آئی
“سیدھا ہاتھ بلکل ٹھیک ہے لیکن جان کر مجھے تنگ کرنا تمہاری عادت ہے”
حور اسے گھور کر جواب دیتے ساتھ بال بنانے لگی اس کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار تھی۔۔
“بےوجہ ہنستے رہتے ہو پاگل ہو”
حور اس کی مسکراہٹ سے تپ کر بولی ذامل کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“میں نہیں کررہی ہوں خود کرلو “
حور منہ بنا کر کہتے ساتھ برش چھوڑ کر جانے لگی ذامل نے اس کی کلائی تھام کر کھینچ کر قریب کیا اور قہقہ لگا کر ہنسے
“اتنی کیوٹ شروع سے ہو یا اب ہوئی ہے”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے پیار سے کہنے لگا جس پر حور نے اسے آنکھیں چھوٹی کیے دیکھا
“یہ مجھے نہیں پتہ ٹھیک ہے”
حور ذامل کو مسکراتے ہوئے جواب دینے لگی جس پر ذامل کے لب مسکرا دیے اور دونوں نے ایک دوسرے کے ماتھے سے ماتھا ٹکا لیا۔۔۔
جاری ہے ۔۔