Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 10

زاہد اور ازقہ نکاح کو دو ہفتے گزر چکے تھے اور ان سب کے دوران حور کو ذامل سے باتیں کرنا اسے دیکھنا ایک بری عادت بن گئی تھی۔
حور نوال کیساتھ کالج کی چھٹی کے وقت نیچے آئی نظر گیٹ کی جانب کی ذامل کو کو نہ دیکھ چہرے مرجھا سا گیا تھا۔
“نوال وہ نہیں آیا”
حور نوال کی جانب دیکھتے افسردگی سجائے کہنے لگی نوال اسے دیکھنے لگی۔
“حور”
نوال حیرانگی سے اس کا نام پکارنے لگی حور اسے دیکھ رہی تھی ۔
“یار سمجھ سے باہر ہے بری عادت بن گیا ہے وہ میری مجھے ہر وقت وہ اپنے قریب چاہیے ہے اب”
حور گراؤنڈ میں بیٹھتے ہوئے لہجے میں اداسی سجائے اسے بتانے لگی نوال اسے دیکھ رہی تھی ۔
“اب معلوم ہوگیا ہے عشق جب ہونا تو انسان اپنے ہوش کومھو بیٹھتا ہے”
وہ اسے آئبرو اچکائے مسکراتے ہوئے کہنے لگی حور اثبات میں سر ہلا گئی ۔
“یار مجھے پتہ ہے وہ اسوقت کہاں ہوگا میرے ساتھ چلے گی پتہ نہیں کیوں نہیں آیا وہ”
حور نوال کو امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی نوال اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
“حور تو پاگل ہے کیا”
نوال اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگی۔
“مجھے نہیں پتہ مجھے اسوقت اس کے پاس جانا ہے دوست ہے نا چل لے میں گھر فون کردیتی ہوں مجھے آدھا گھنٹہ لیٹ لینے آئے کلاس ہے ایکسٹرا”
حور اسے ضدی انداز میں اسرار کرتے ہوئے کہنے لگی نوال اسے دیکھ کر خاموش ہو گئی حور مسکرا کر فون ملانے لگی۔


“حور کو دیر نہیں ہوگئی ہے”
ہاجرہ بیگم گھڑی پر نظر ڈالتی زاہد کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“جی اس کی ایکسٹرا کلاس ہے اس وجہ سے “
زاہد کھانا کھاتے ہوئے ہاجرہ بیگم کو بتانے لگا ہاجرہ بیگم اسے دیکھنے لگی۔
“آج سے پہلے تو نہیں ہوئی کوئی ایکسٹرا کلاس آج کیسے”
ہاجرہ بیگم فورا سے پریشانی سے کہنے لگی ازقہ نے انہیں دیکھا ۔
“ہاں پہلی دفعہ ہی سنا ہے”
حاکم چوہدری بھی پریشانی سے بولے ازقہ نے سن دونوں کی جانب دیکھا۔
“ایک دو دفعہ ہوئی ہے تائی”
ازقہ فوراً سے مسکراتے ہوئے معاملہ سنبھالتی کہنے لگی ہاجرہ بیگم اثبات میں سر ہلا گئی
“ہوئی ہوگی پھر “
کہتے ساتھ وہ کچن کی طرف بڑھ گئی اور ازقہ نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
ازقہ ڈش ڈائننگ ٹیبل پر رکھ رہی تھی زاہد کی نظر اس کے ہاتھ پر گئی تو زاہد نے الٹا ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ازقہ ایک دم ساکت ہوگئی اس نے نظر اٹھا کر ڈائننگ ٹیبل پر موجود لوگوں پر ڈالی جو کھانے میں مصروف تھے اور پھر زاہد کو دیکھا
“کیا کررہے ہیں کوئی دیکھ لے گا”
ازقہ دھیمی آواز میں زاہد کو بولی زاہد کے لبوں پر مسکراہٹ آئی وہ ہاتھ ہاتھ اپنے ہونٹوں کے قریب لے جانے لگا ازقہ آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھتی ہاتھ تیزی سے چھڑوا کر اندر کی جانب بھاگی اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگا۔۔


حور نوال کو لیے ڈیڑے پر آئی جہاں ذامل اور شہریار دونوں موجود تھے ذامل سگریٹ پی رہا تھا جبکہ شہریار اس کے ساتھ بیٹھا فون استعمال کررہا تھا۔
حور اس کی جانب بڑھتی سینے پر بازو باندھے گھور کر اسے دیکھنے لگی ذامل نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“تم”
ذامل حور کو دیکھ حیرانگی سے ایکدم کھڑا ہوتا پوچھنے لگا
“جی میں”
حور لہجے میں خفگی لیے اسے کہنے لگی شہریار بھی فون سے دھیان ہٹاتا نظریں اوپر کی جانب کر گیا حور کیساتھ نوال کو دیکھ لب مسکرائے نوال اسے دیکھ منہ بنا گئی۔
ذامل نے فوراً سگریٹ پھینکی اور اپنے بال درست کرنے لگا
“اب کیوں پھینکی ہے ہاں بتاؤ”
حور غصے سے آنکھیں دیکھائے اس سے کہنے لگی ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا جان “
ذامل اس کی بات نظر انداز کرتا بھاری آواز میں اسے کہنے لگا
“پہلی میری بات کا جواب دو سگریٹ کیوں پھینکی بہت شوق ہے خود کو بیمار کرنے کا صحیح ضروری تھوڑی تمہارے لیے ہے نا”
حور غصے سے آنکھیں دیکھاتے ہوئے اسے دیکھ سرد لہجے میں کہنے لگی
“سوری آج کے بعد نہیں پیوں گا”
ذامل اسے نرمی سے کہتے ساتھ نظریں ارد گرد گھمانے لگا۔
“نہیں پیوں دن میں پچاس میری بلا سے ہونہہ کیوں فکر ہی نہیں ہے اپنی”
حور ابھی بھی غصے میں اسے بولی ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“تم ہو نا فکر کرنے کیلیے”
وہ حور کے تھوڑا قریب آتا پیار سے کہنے لگا شہریار اور نوال نے فورا ایک دوسرے کو دیکھا
“مجھے لگتا ہے دور چلے جانا چاہیے”
شہریار فوراً سے چہرہ موڑ کر بولا نوال بھی چہرہ موڑ گئی اور وہ دونوں ان دونوں سے تھوڑا فاصلے پر جا کھڑے ہوئے۔
“حور تمہیں جانا ہوگا ابھی ہم کال پر بات کریں گے”
ذامل حور کو دیکھتے ہوئے فکرمند سا بولا حور کے لب مسکرا دیے۔
“تم کیوں ڈر رہے ہو کالج کیوں نہیں آئے ہاں”
حور اسے مسکرا کر کہتی منہ بنائے پوچھنے لگی ذامل اسے دیکھنے لگا۔
“خود ہی تو منع کیا تھا مجھے”
ذامل اسے یاد دلانے لگا حور اسے دیکھنے لگی۔
“مگر تم پھر بھی آتے تھے نا آج کیوں نہیں آئے”
حور چہرے پر معصومیت سجائے اداسی سے پوچھنے لگی۔
“تمہارے لیے مجھے لگتا ہے راشد کو شک ہوگیا تھا مجھ پر میں رات میں آؤں گا”
ذامل اسے سمجھانے والے انداز میں کہنے لگا حور نے نظر نوال ہی جانب کی
“پکا”
حور نے اسے دیکھے بغیر پوچھا ذامل کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“پکا”
ذامل اسی کے انداز میں اسے جواب دینے لگا حور نے نظریں اس کے چہرے پر جمائی۔
“سگریٹ مت پینا تمہارے ہونے والی مسز کو پسند “
حور اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی ذامل اثبات میں سر ہلا گیا۔
“جو حکم”
وہ مانتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا حور ہنس دی اور ذامل اسے دیکھ رہا تھا ۔
“اگر آپ بور ہورہی ہیں تو میں کمپنی دے سکتا ہوں”
شہریار نوال کو ادھر ادھر بیزاریت سے نظریں گھماتا دیکھ مسکرا کر کہنے لگا نوال نے آنکھیں اس کی جانب کی
“اتنے برے دن نہیں ہے ابھی میرے سمجھے”
نوال اسے دیکھ منہ بنا کر بولتی اس سے دور کھڑی ہوگئی شہریار اس کیبات پر برا سا منہ بنا گیا ۔
“نوال”
حور کی آواز سے نوال نے مڑ کر اسے دیکھا جو اسے آنے کا اشارہ کررہی تھی ۔
“ٹھیک ہے میں چلتی ہوں انتظار کروں گی”
حورذامل کو دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ نوال کا انتظار کرنے لگی۔
“سنو آئی لو یو”
ذامل اس کے کان کے قریب لب لائے گھمبیر لہجے میں بولتا حور کی ہارٹ بیٹ مس کروا گیا
“آئی ہیٹ یو”
حور مسکراتے ہوئے نظریں جھکائے اسے جواب دینے لگی ذامل ہنس دیا اور حور اس کی ہنسی دیکھنے لگی
تبھی نوال آگئی اور وہ دونوں چل دیے جاتے جاتے حور نے مڑ کر اسے دیکھا جس کے چہرے پر اب مسکراہٹ غائب تھی اسے مسکرانے کا اشارہ کرکے حور وہاں سے چلی گئی ۔


“اتنی دیر کیوں لگ گئی حور”
حور ابھی حویلی میں داخل ہوئی تھی حاکم چوہدری اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگے حور نے ان کی جانب دیکھا۔
“وہ دادا ایکسٹرا کلاس تھی بس”
حور ان کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے نقاب نیچے کرتی بتانے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئے۔
“ہاجرہ بیگم میری گڑیا کا کھانا لگا دیں “
وہ اسے تھکا ہوا دیکھ فوراً سے ہاجرہ بیگم کو آواز دیتے ہوئے بولے حور کے لب مسکرا دیے۔۔
“جی ابا جان”
ہاجرہ بیگم ہی کچن سے فوراً آواز آئی اور حور چینج کرنے کیلیے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
چینج وغیرہ کرکے ڈائننگ ٹیبل پر آکر بیٹھی تو ازقہ اس کیلیے کھانا لگا رہی تھی حور نے اسے دیکھا جو چہرے پر سنجیدگی سجائے ہوئے تھی۔
“کہاں سے آرہی ہو”
ازقہ اسے دیکھے بغیر لہجے میں سنجیدگی لیے پوچھنے لگی حور نے اسے دیکھا ۔
“بتایا تو ہے”
حور گھبرائے ہوئے لہجے میں جواب دینے لگی ازقہ کے لب مسکرا دیے ۔
“ذامل کے پاس گئی تھی نا”
وہ دھیمے لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی حور نے نظریں اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا۔
“نن۔۔نہیں”
حور ناچاہتے ہوئے کانپتے ہوئے جواب دینے لگی ازقہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
“اب اپنی بجو سے بھی جھوٹ بولو گی تم ہے نا حور تمہیں معلوم ہے اگر حویلی میں سے کسی کو بھی پتہ چل جاتا تمہارے ساتھ کیا ہوتا ہے تم تو بلکل بیوقوف ہوگئی ہو”
ازقہ اس کے پاس کرسی کھسکا کر بیٹھتی اسے دیکھ تھوڑا خوفزدہ کرتی کہنے لگی۔
“میں لڑ لوں گی”
حور ازقہ کو صاف جواب دیتی کھانا کھانے لگ گئی ازقہ دو منٹ اسے دیکھتی رہ گئی ۔
“صرف ایک مہینہ ہوا ہے اسے تمہاری زندگی میں آئے اور تم بلکل بدل گئی ہو”
ازقہ اسے دیکھتے ہوئے اداسی سے کہنے لگی حور اسے دیکھنے لگی۔
“میں بدلی نہیں ہوں پیار ہی تو کیا ہے گناہ تو نہیں آپ میرا ساتھ نہیں دے رہی جبکہ آپ نے کہا تھا آپ ہمیشہ میرے ساتھ ہوں گی”
حور ازقہ کو دیکھتے ہوئے ہر لفظ پر زور دیتی جواب دینے لگی ازقہ حور کا لہجہ دیکھ رہی تھی
“یہ تمہارے لیے ٹھیک نہیں لگ رہا ہے”
ازقہ لہجے میں نرمی لیے اسے سمجھاتے ہوئے بولی حور کے لب مسکرا دیے ۔
“چھوٹی بچی نہیں ہوں میں اپنے کیے اچھا برا جانتی ہوں”
حور غصے سے جواب دیتی ہامی کا گلاس لبوں سے لگا کر پانی پیتی اٹھ گئی ازقہ اسے خالی نظروں سے جاتا دیکھنے لگی۔


ذامل حور سے ملنے کیلیے پچھلے طرف سے حور کے کمرے کی طرف آرہا تھا جب کسی وجود سے ٹکرایا ۔
“کون ہے”
آدم فورا سیدھا ہوتا غصے سے پوچھنے لگا ذامل اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
“ملک ذامل تم”
آدم حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ذامل اثبات میں سر ہلا گیا۔
“تم ہماری حویلی کے باہر کیا کررہے ہو”
آدم تفتیشی انداز میں اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ذامل نے گردن گھما کر حویلی کو دیکھا ۔
“کیوں کہاں لکھا ہے تمہاری حویلی کے باہر کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا “
ذامل اسے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں پوچھنے لگا آدم اسے دیکھ رہا تھا ۔
“نہیں کوئی وجہ بھی تو ہو”
آدم اسے گھور کر دیکھتے ہوئے جاننا لازمی سمجھنے لگا۔
“میں تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا”
ذامل اسے کہتے ساتھ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے آگے کی جانب بڑھ گیا آدم ایک نظر اسے جاتا دیکھ کندھے اچکا کر حویلی کے اندر بڑھ گیا
آدم کے جاتے ہی وہ فوراً مڑا اور حویلی کے اندر داخل ہوا اور حور کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔


“جان”
وہ کھڑکی پر دستک دیتا ہلکی آواز میں اسے پکارنے لگا حور فوراً سے کھڑکی کی طرف بڑھی اور اور کھولی اسے دیکھتے ہی لب مسکرائے تھے دونوں کی نظریں آپس میں ٹکرائیں تھی اور دونوں کے لب مسکرا رہے تھے۔
“یہی تو کمالِ عشق ہے جانب
محبوب کو دیکھتے ہی لب مسکرادے”(از “ماہ نور شہزاد”)
“انتظار کررہی تھی میرا”
ذامل اس کے چہرے پر نظریں مرکوز کیے مسکرا کر پوچھنے لگا
“بلکل نہیں ہونہہ”
حور ایک ادا سے اسے بولی ذامل اس کے قریب تھوڑا لایا
“اچھا مگر آنکھیں تو کچھ اور بول رہی ہیں”
حور کی آنکھوں کو غور سے دیکھتا وہ اسے بتانے لگا حور نظریں جھکا کر مسکرا دی
“ہنسی تو پھنسی”
ذامل اسے فوراً سے بولا حور قہقہ لگا کر ہنسی اور اثبات میں سر ہلا گئی۔
“ذامل تم سچ میں مجھ سے محبت کرتے ہو نا باقیوں کی طرح صرف ٹائم پاس تو نہیں کررہے”
حور اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے یہ سوال پوچھنے لگی کچھ پل ذامل اسے دیکھتا رہا
“ایک بات یاد رکھنا جان ملک ذامل کی دھڑکن ایک لڑکی کے سامنے آنے پر ہی دھڑکتی ہے اسے دیکھ کر ہی لبوں پر مسکراہٹ آتی ہے ملک ذامل اپنی حورِ جان کو سچے دل سے چاہتا ہے”
ذامل حور کے چہرے پر نظریں مرکوز کیے اسے دیکھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں بتانے لگا اس کی آنکھیں اس کے الفاظوں کی سچائی کا ثبوت دے رہی تھی حور بھی اسی کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھی دونوں کی ہارٹ بیٹ بہت تیز چل رہی تھی اور دنیا سے بیگانے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔
“ہم دونوں ایک ہو جائیں گے”
حور کی طرف سے ایک اور سوال آیا ذامل اسی پر نظریں جمائے تھا
“نصیب میں ہوئے تو ضرور”
ذامل نے اس کے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے فوراً جواب دیا تھا حور اثبات میں سر ہلا گئی۔
“آج جانے کا نہیں بولو گی”
ذامل آئبرو اچکائے پوچھنے لگا حور اس کے ہاتھوں میں موجود بینڈ سے کھیل رہی تھی
“نہیں”
حور نے نظریں اٹھا کر فوراً اسے جواب دیا ذامل بھی اسے دیکھنے پگا۔
“کیوں؟”
ذامل نے فورا سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“کیونکہ میں تمہارے ساتھ صبح دیکھنا چاہتی ہوں میں اس اندھیرے کو روشنی میں تبدیل ہوتا تمہارے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں اگر تم جانا چاہتے ہو تو زبردستی نہیں ہے”
حور اسے وجہ بتانے کے بعد اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ذامل کے لب مسکرا دیے۔
“میری جان نے پہلی دفعہ اپنی خواہش بتائی ہے اسے ضرور پوری کروں گا”
وہ اسے مسکرا کر کہتے ساتھ وہی ساتھ پڑی ایک پلاسٹک کی کرسی اٹھا کر حور کی کھڑکی کے پاس رکھ دی اور پھر دونوں باتیں کرنے لگے۔
گھڑی اسوقت چار بجا رہی تھی اور اندھیرا آہستہ آہستہ روشنی میں تبدیل ہورہا تھا حور کھڑکی سے سر ٹکائے نیند کی وادیوں میں جس چکی تھی اور ذامل ہلک چھپکائے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تمہیں دیکھنا ملک ذامل کیلیے دنیا کا سب سے خوبصورت لمحہ ہے”
چہرے پر ہاتھ رکھے اسے دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگا اور نظر اٹھا کر آسمان کو دیکھا۔
“جان”
ذامل اسے آہستہ سے آواز دیتا اٹھانے کی کوشش کرنے لگا حور نے پلکوں پر جبنش دی اور آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
“رات کا اندھیرا صبح کی روشنی میں تبدیل ہوگیا ہے”
وہ اسے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتانے لگا حور کے لب مسکرا دیے حور نے ایک نظر آسمان پر اور ایک نظر ذامل پر ڈالی۔
“اللہ تعالیٰ اس شخص کو میرے نصیب میں لکھ دیں آمین”
وہ آسمان کی طرف نظریں اٹھائے دل سے دعا کرنے لگی ذامل نے حور کو دیکھا۔
“تم سوجاؤ میں چلتا ہوں”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے بولا حور اثبات میں سر ہلا گئی اور ذامل اٹھ کھڑا ہوا کرسی اس جگہ پر رکھتا ذامل کھڑا ہوا حور اسے جاتا دیکھنے لگی وہ مسکرا کر اسے دیکھتا چلا گیا اس کے جانے کے بعد حور نے کھڑکی بند کی اور بیلکونی سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔


“ابا مجھے آپ سے بات کرنی ہے”
دراب چوہدری کمرے میں آتے ہوئے حاکم چوہدری سے کہنے لگے حاکم چوہدری اثبات میں سر ہلا گئے
“بولو”
وہ سیدھے ہوکر بیٹھ کر پوچھنے لگے دراب چوہدری بیٹھ گئے۔
“بات ضروری ہے یہ میری بچپن سے خواہش ہے”
دراب چوہدری حاکم چوہدری کو دیکھتے ہوئے بتانے لگے۔
“پہیلیاں کیوں بنا رہے ہو صاف صاف بتاؤ”
حاکم چوہدری انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگے جس پر دراب چوہدری سر کو خم دے گئے
“دادا میں حور کو اپنے آدم کی دلہن بنانا چاہتا ہوں”
دراب چوہدری مدعے کی بات پر آئے حاکم چوہدری نے فورا ان کی طرف دیکھا۔
“کیا”
حاکم چوہدری پریشان سے دراب چوہدری کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔
“جی دادا سب تو آدم بھی کام وغیرثمیں دلچسپی رکھتا ہے حور کر پڑھائی بھی مکمل ہونے والی ہے کیوں نا زاہد اور ازقہ کی رخصتی کے وقت ان دونوں کا نکاح کردیا جائے گھر کی بیٹی گھر میں ہی رہ جائے گی”
دراب چوہدری حاکم چوہدری کو سمجھاتے ہوئے مشورہ دینے لگے حاکم چوہدری اثبات میں سر ہلا گئے۔
“ہم پہلے حورِ جان سے پوچھیں گے”
حاکم چوہدری فورا سے بتانے لگے جس پر دراب چوہدری اثبات میں سر ہلا گئے۔
“جی جی ضرور”
وہ مسکراتے ہوئے بول کر اٹھ کھڑے ہوئے جس پر حاکم۔ چوہدری سر کو خم دے گئے
“بہت شکریہ ابا”
وہ مسکراتے ہوئے خوشی سے کہتے ساتھ کمرے سے چلے گئے حاکم چوہدری اسے جاتا دیکھنے لگے


“کل پوری رات کہاں تھے تم”
ذامل کو ناشتے پر ڈائننگ پر موجود دیکھ ملک شہراز فوراً سے پوچھنے لگے
“ڈیڑے پر”
ذامل مختصر سا جواب دیتے ساتھ ناشتہ کرنے لگ گیا۔
“کیوں؟”
ملک شہراز فوراً سے پوچھنے لگے ذامل نے انہیں دیکھا۔
“بس وہی بیٹھا ہوا تھا تو آنکھ لگ گئی پتہ نہیں چلا”
ذامل صفائی سے جھوٹ بولتے ہوئے پانی پینے لگا ملک شہراز خاموش ہو گئے
“آج آپ ہمارے ساتھ ایک دوست کے گھر چل رہے ہو”
ملک شہراز اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگے ذامل سر کو خم دے گیا۔
“اور ہم نے جو کام دیا تھا آپ کو اب وہ جلد از جلد ہو جانا چاہیے”
ملک شہراز اسے حکم دینے والے انداز میں کہتے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور ذامل کے چلتے ہاتھ رکے اس نے سر اٹھا کر جاتے ہوئے ملک شہراز کو دیکھا۔
جاری ہے ۔۔