Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 6

حور بیڈ پر آکر بیٹھی اور ذامل کے متعلق سوچنے لگی مگر اچانک ذہن میں خاندانی دشمنی وغیرہ یاد آئی۔
“نہیں حور تمہیں کیا ہورہا ہے کیوں بول رہی ہو دادا کے دشمن ہیں نہیں مت سوچیں ایسا”
حور اچانک اپنی سوچ جھٹک کر فورا سے خود سے کہنے لگی۔
“بس سٹڈیز پر دھیان دو پیار ویار وہ کچھ نہیں ہوتا یہ خود کہتی ہو تم اور اب وہی کرنے جارہی تھی”
حور خود سے باتیں کرتی خود کو سمجھانے کی ناکام کوشش کررہی تھی۔
اچانک ذامل کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کرنے لگی
“کیا ہورہا ہے یہ سب مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے”
وہ پریشانی سے بیڈکراؤن سے سر ٹکائے الجھے ہوئے لہجے میں بولی۔
“حور جو تم سوچ رہی ہو وہ ناممکن ہے اس لیے بہتر ہے ایسا کچھ مت سوچو اور سوجاؤ”
حور خود کی سوچ اور خود سمجھاتے ہوئے گہرا سانس لیتی لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر کے سونے لگی۔


کالج کی چھٹی ہو گئی تھی وہ نوال کے ساتھ نیچے کی جانب بڑھی جب نظر ذامل پر گئی جو ہمیشہ کی طرح پرسکون سا گاڑی سے پشت ٹکائے ہوئے تھے نظر جیسے ہی اس پر گئی لب مسکرا دیے اسے دیکھتے ہی حور کی ہارٹ بیٹ مس ہوئی
“تم یہی رکو میں آئی”
حور کہتے ساتھ کتابیں اور بیگ رکھ کر ذامل کی جانب بڑھنے لگی گارڈ نے اسے روکنا چاہا جس پر وہ خاموشی سے بس ہاتھ کے اشارے اسے روک گئی گارڈ خاموش ہو گیا تھا۔۔
“تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو ذامل میری بات”
حور اس کے مقابل میں کھڑے ہوتے ہوئے سینے پر بازو باندھے سنجیدہ سی بولی ذامل سیدھا ہوکر آئبرو اچکائے اسے دیکھنے لگ گیا ۔
“اگر دادا یا لالا کو معلوم ہوگیا نا تمہارا تمہیں پتہ نہیں ہے وہ کیا کریں گے”
حور اسے خود کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بتانے لگی۔۔
“مجھے پرواہ نہیں تم بتاؤ تمییں محبت ہے مجھ سے”
ہمیشہ کی طرح ذامل نے صاف لفظوں میں اس سے پوچھنا چاہا حور نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جواباً خاموش رہی
“نہیں”
حور نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اسے جواب دیا ذامل کے لب مسکرا دیے
“جھوٹ نہیں بولا جاتا تم سے”
وہ مسکراتے ہوئے اپنی ڈارک براؤن گہری آنکھیں اس کے چہرے پر مرکوز کیے کہنے لگا۔
“جو تم سوچ رہے ہو وہ ناممکن ہے سمجھے ہمارے خاندانوں کے بیچ جس قدر دشمنی ہے نا ایسا نہیں ہوسکتا ہے بہتر یہی ہے تم میرا خیال ذہن سے نکال دو”
حور اسے سمجھاتے ہوئے کہنے لگی ذامل نے ایک قدم اس کی طرف بڑھایا۔
“دونوں خاندانوں کے بیچ دشمنی ہے اس کی سزا ہم دونوں ایک دوسرے کو کیوں دیں ایک دفعہ بولو مجھے یقین جانو سب کا مقابلہ کرلوں گا”
ذامل اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولا حور نفی میں سر ہلا گئی
“نہیں میں دادا کو بلکل بھی دھوکہ نہیں دے سکتی ہوں اور ایسا کچھ نہیں ہے میں پیار ویار میں یقین نہیں رکھتی تم بس جاؤ راشد بابا آتے ہی ہوں گے”
حور اپنے جذبات کو قابو میں رکھتی لہجے میں مشکل سے سرد پن لیے اس سے کہنے لگی
“ایک بات یاد رکھنا جان تمہیں بننا صرف اور صرف ذامل کا ہے اور میں تمہیں ہر حال میں اپنا بنا کر رہوں گا”
ذامل اس کے چہرے کے قریب چہرہ لائے اسے دیکھ اطمینان بھرے لہجے میں بولا حور اسے دیکھ رہی تھی۔
“زبردستی کرو گے میرے ساتھ؟”
حور سینے پر بازو باندھے آئبرو اچکائے اس سے کہنے لگی ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“زبردستی کرنے کی نوبت نہیں آئے گی”
وہ مسکراتے ہوئے اسی کے انداز میں اسے جواب دینے لگا۔
“کیا کرو گے پھر؟”
حور سنجیدگی سے اسے دیکھ پوچھنا لازمی سمجھنے لگی
“اگر آج میں چلا گیا یقین جانو شکل کیا تم میری آواز کو بھی تڑسو گی بہتر ہے سوچ لو”
ذامل اسے سرد لہجے میں کہتے ساتھ آنکھوں میں گلاسز لگائے مڑ گیا حور اسے دیکھنے لگی۔
“جان سوچ لو”
وہ مڑ کر ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس کی آنکھوں میں پریشانی صاف عیاں تھی اور قدم گاڑی کی طرف بڑھانے لگا۔
گراؤنڈ میں کھڑی نوال خاموشی سے یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
“ذامل”
حور اسے گاڑی میں بیٹھتا دیکھ فورا سے پکارنے لگی ناجانے کیوں اس کی کہی باتیں حور کو پریشان کر گئی ذامل کے لب مسکرا دیے اور اس نے مونچھوں پر تاؤ دیا اور مڑ کر دیکھا۔
“تم کیوں نہیں سمجھ رہے ہو یہ ناممکن ہے”
حور اس کے پاس آکر اسے دیکھ ناامید سی کہنے لگی ذامل نے اسے دیکھا۔
“تم مجھے یہ بتاؤ پیار کرتی ہو یا نہیں”
ذامل اس کی طرف رخ کرتا اپنے مطلب کی بات پوچھنے لگا حور نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر نظر جھکا گئی۔
“مجھے جواب دینے کیلیے وقت چاہیے”
وہ نظریں جھکائے اسے بولی ذامل کے چہرے پر سرد تاثرات سج گئے
“کتنا؟”
ذامل نے فورا سے سرد لہجے میں پوچھا حور نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
“دو دن”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی ذامل اثبات میں سر ہلا گیا۔
“دو دن ہیں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرلو ورنہ میری آواز کو بھی تڑسو گی”
ذامل اسے دیکھ کہتے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا یہ جانے بغیر کہ وہ اسے کتنے مشکل مرحلے پر کھڑا کر گیا ایک طرف دادا تو دوسری طرف اس کا پیار تھا
تبھی راشد بابا بھی آ گئے حور جو سوچوں میں گم کھڑی تھی گاڑی دیکھ اندر کی طرف بڑھی جب نظر نوال پر گئی جو اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“میں بتاؤں گی”
حور اسے بس یہی بولتی اپنی چیزیں لیتی چلی گئی کالج سے لے کر حویلی تک کا سفر اس نے ذامل کی باتیں جو سوچ سوچ کر ہی گزار دیا تھا وہ اسوقت خود کو سب سے زیادہ بےبس سمجھ رہی تھی۔۔


وہ حویلی آتے ہی خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھنے لگی ہاجرہ بیگم کی نظر اس پر گئی
“حور طبیعت ٹھیک ہے؟”
ہاجرہ بیگم اس کے پاس آتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی حور نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔
“جی اماں”
حور مختصر سا جواب دے گئی جس پر وہ اسے دیکھنے لگی
“آج اتنی خاموشی سے داخل ہوئی ہو کھانے کا بھی نہیں بولا”
وہ لہجے میں پریشانی سجائے اسے کہنے لگی حور کے لب مسکرا دیے
“بس نیند آرہی ہے اس وجہ سے آپ پریشان نہ ہوں”
وہ مسکراتے ہوئے ہاجرہ بیگم کو تسلی دیتی کمرے کی طرف بڑھ گئی وہ اسے جاتا دیکھنے لگی
کمرے میں آتے ہی چینج وغیرہ کرتی حور کچھ دیر سونے کا ارادہ کرکے بیڈ پر لیٹ گئی۔
“کچھ دیر سکون چاہتی ہوں اللہ تعالیٰ پلیز نیند آجائے”
کہتے ساتھ وہ آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی ذامل کی باتیں ذہن میں گردش کررہی تھی۔۔


ذامل اسوقت اپنے کمرے میں کھڑا اپنے ماں باپ کی تصویر کو دیکھ رہا تھا ملک شہراز اس کے کمرے میں آئے تھے
“میرے اکلوتے بیٹے اور بہو کو اس ابرار چوہدری نے ختم کیا تھا”
ملک شہراز بھی تصویر پر نظریں مرکوز کیے بولے ذامل نے ان کی جانب دیکھا۔
“کیوں کیا تھا انہوں نے”
ذامل اداسی لہجے میں ملک شہراز سے پوچھنے لگا وہ نفی میں سر ہلا گئے۔
“نہیں معلوم مجھے بھی”
ملک شہراز بھی لہجے میں افسردگی سجائے بتانے لگے۔
“مگر تم بےفکر رہو اس کیلیے معاف میں انہیں کبھی نہیں کروں گا برباد کرکے رہوں گا”
ملک شہراز لہجے میں نفرت لیے سرخ نگاہوں سے بولے
“بدلہ تو لیا آپ نے اس شخص کو ختم کردیا جنہوں نے مارا تھا “
وہ ملک شہراز کی جانب دیکھتے ہوئے بولا ملک شہراز نے اسے دیکھا ۔
“میرا اکلوتا بیٹا جو مجھے میری جان سے عزیز تھا اسے مجھ سے دور کیا اتنی آسان سزا تو نہیں دوں گا”
وہ غصے سے سرخ آنکھیں ہر لفظ چباتے ہوئے کہنے لگے ذامل خاموش رہا تھا اور ملک شہراز اس کے کمرے سے چکے گئے ۔


حور اسوقت اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے پڑھ رہی تھی
“افف ذامل کس مشکل میں ڈال دیا ہے”
حور اچانک سے کتاب سے نظریں ہٹائے منہ بسور کر
خود سے بولتی بیٹھ گئی
“ناجانے کیارشتہ بن گیا ہے تم سے تم اچانک سے اچھے لگنے لگے ہو قریب آنے سے ہارٹ بیٹ تیز ہوجاتی ہے “
وہ اس کے متعلق سوچتی لبوں پر مسکراہٹ سجائے خود سے بولی تھی ۔
“لیکن دادا اور خاندانی دشمنی کی وجہ سے ہم دونوں کا ایک ہونا ناممکن ہے”
وہ اچانک سے سوچ کا زاویہ بدلتی سر جھٹک کر اداس لہجے میں بولی۔
(“دونوں خاندانوں کے بیچ دشمنی ہے اس کی سزا ہم دونوں ایک دوسرے کو کیوں دیں ایک دفعہ بولو مجھے یقین جانو سب کا مقابلہ کرلوں گا”)
حور ذامل کے کہے گئے الفاظ یاد کرنے لگی۔۔
“کہ تو ٹھیک رہا تھا وہ “
حور خود سے کو ہی بتانے لگی۔
“صحیح کہ رہا ہے وہ ہے نا دادا ویسے بھی بہت پیار کرتے ہیں وہ میرے لیے مان جائیں گے اور ذامل کہ تو رہا ہے وہ سٹینڈ لے گا”
حور خود سے سوچتی فیصلہ کرنے والے انداز میں بولی۔
“آئی لو یو ملک ذامل”
وہ مسکرا کر خود سے اقرار کرتی شرما دی۔۔
“چھوٹی بی بی کھانے کیلیے بلارہی ہیں آپ کو”
ملازمہ دروازے پر دستک دیتی پیغام بتاتی چلی گئی اور حور کتاب بیڈ پر رکھتی نیچے کی طرف بڑھ گئی۔


سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر موجود ہر تھے اور خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے۔
“ہاجرہ بیگم اور دراب مجھے آپ دونوں سے ضروری بات کرنی ہے”
حاکم چوہدری جی روعبدار آواز نے ڈائیٹنگ ٹیبل پر خاموشی توڑی تھی اور سب ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے
“جی ابا”
ہاجرہ بیگم اور دراب چوہدری فورا سے بولے سب لوگ بھی حاکم چوہدری کو دیکھ رہے تھے۔
“اگلے ہفتے میں ازقہ اور زاہد کا نکاح کروادینا چاہتا ہوں امید ہے آپ دونوں کو اعتراض نہیں ہوگا”
وہ سنجیدگی سے باری باری دونوں پر نظر ڈالتے ہوئے کہنے لگے ازقہ اور زاہد کے لب مسکرا دیے تھے حور نے ازقہ کی جانب دیکھا اور اسے تنگ کرنے لگی
“نہیں ابا جان بہت اچھا فیصلہ ہے یہ مجھے کوئی اعتراض نہیں”
دراب چوہدری فورا سے جواب دے گئے جس پر حاکم چوہدری مسکرا دیے
“مجھے بھی نہیں ابا جان”
ہاجرہ بیگم نے بھی جواب دیا وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئے زاہد اور ازقہ نے ایک دوسرے کو دیکھا دونوں جگہ بیٹ مس ہوئی تھی۔
“شکر ہے کوئی تو فنکشن آیا “
حور خوشی سے مسکرا کر کہنے لگی جس پر حاکم چوہدری مسکرا دیے
اور پھر سب لوگ خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے


حور کافی کا مگ لیے بیلکونی میں موجود تھی مگر ذامل نہیں آیا تھا تبھی حور کو وہ نظر آیا جو سینے پر بازو باندھے مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا حور کی پلکیں خودبخود جھک گئی اور دھڑکنیں بےترتیب سی ہوئی تھی۔
“تمہیں کوئی کام وام نہیں ہے بہت ہی فارغ ہو”
حور نظریں جھکائے اسے دیکھے بغیر منہ بنائے بولی ذامل کھڑکی کے پاس آیا
“ہے نا میری زندگی کا سب سے اہم کام تمہیں دیکھنا “
وہ اس کے چہرے پر نظریں مرکوز کیے اسے جواب دینے لگا حور نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
“یہ باتیں سیکھتے کہاں سے ہو”
حور فورا سے آئبرو اچکائے پوچھنے لگی جس پر ذامل کی مسکراہٹ گہری ہوئی
“جب کسی کو پیار ہوتا ہے نا کسی سے تو یہ باتیں خودبخود آجاتی ہیں”
ذامل اسے ہمیشہ اپنے جواب سے متاثر کر گیا حور مسکرا دی
“کچھ سوچا؟”
اب کی بار سوال ذامل کی طرف سے آیا حور نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“مجھے ڈر لگتا ہے”
حور اسے دیکھے بغیر جواب دینے لگی ذامل اس کے معصوم سے جواب پر مسکرا دیا
“سوچو وقت ہے “
وہ اسے بس یہی جواب دے سکا حور نے اس کی جانب دیکھا اور ہلکا سا مسکرا دی۔
“تمہیں ڈر نہیں لگتا”
حور نے اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا ذامل فورا نفی میں سر ہلا گیا
“ملک ذامل ڈرانے والوں میں سے ہے ڈرنے والوں میں سے نہیں”
وہ مونچھوں کو تاؤ دیے مغرور سے لہجے میں بولا اس کے جواب پر وہ خاموش رہی تھی۔
“مجھے پڑھنا ہے”
حور اسے کہتے ساتھ کھڑکی بند کرنے لگی ذامل اسے دیکھنے لگا
“جاؤ”
وہ اسے ویسے کھڑا دیکھ کہنے لگی ذامل نے ایک نظر اسے دیکھا اور خاموشی سے چلا گیا حور نے مسکرا کر کھڑکی بند کرلی۔


“کچھ سمجھ نہیں آرہی کیا کروں”
ملک شہراز ٹہلتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگے ملازم نے سن کی طرف دیکھا۔
“بڑے صاحب فیکٹری جلا دیں یاد ہے چار مہینے پہلے آپ کے پلاٹ پر آگ لگی تھی حاکم چوہدری نے ہی لگوائی ہوگی”
ملازم فورا سے انہیں مشورہ دینے لگا جس پر ملک شہراز نے اسے دیکھا
“مشورہ اچھا ہے “
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے کہنے لگے ملازم بھی مسکرا دیا۔
“اس متعلق سوچا بھی جاسکتا ہے اور جلد از جلد اس کام کو سرانجام بھی دینا ہوگا”
وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے سوچتے ہوئے بولے جس پر ملازم سر کو خم دے گیا۔


“تم اپنا کام بخوبی نبھا رہے ہو آدم”
دراب چوہدری مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے بولے وہ بھی مسکرا دیا
“بس اب دیکھتے جائیں مگر حور سے شادی ہوگی نا میری”
آدم فورا سے دراب چوہدری کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس کر وہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئے
“بلکل ہوگی اصل خزانے کی چابی تو وہی ہے میرے بیٹے “
دراب چوہدری مسکرا کر اسے بولے آدم بھی مسکرا دیا
“بس ہم دونوں کو اپنے اپنے کاموں کو بہترین کرنا ہے پھر کامیابی ہماری ہی”
وہ اس کی کمر تھپتھپاتے ہوئے بتانے لگے
“بلکل ابا”
وہ ان کی بات کی ہامی بڑھتا کہنے لگا دراب چوہدری وہاں سے چلے گئے اور وہ حور کے متعلق سوچنے لگا۔۔
جاری ہے