Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 24

رات بھر وہ دونوں گھومے تھے کھانا کھایا تھا اور تھکے ہارے گھر واپس آئے اور آتے ہی سیدھا سو گئے تھے
سورج کی روشنی وال سے ٹکراتی کمرے میں پڑنے حور اپنا منہ ذامل کے سینے میں چھپا گئی وہ اس کی باہوں میں پرسکون سی سورہی تھی۔۔
“اللہ”
حور ایکدم اٹھ کر بیٹھتی گھڑی پر نظر ڈالے کہنے لگی ذامل کی نظر اس پر گئی
“کیا ہوا؟”
وہ پریشان سا اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر حور نے اسے دیکھا
“آج مایو ہے اور میں ابھی تک سورہی تھی”
حور اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ بیڈ سے اتر کر باتھروم کی طرف بڑھی
“مجھے ہر چیز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا تھا یار حد ہوگئی میں لیٹ ہوگئی”
حور فریش وغیرہ ہوکر باہر آتی شلوار قمیض میں ملبوس کانوں میں ٹوپس پہنتے ہوئے بولی ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“رات کو ہے مایو”
ذامل نے اسے بتانا ضروری سمجھا حور نے اسے دیکھا
“ہاں ہے تو رات کو”
وہ اپنے ہاتھوں کو اب آہستہ چلاتے ہوئے کہنے لگی ذامل کی مسکراہٹ گہری ہوئی
“ہنسو مت “
حور اسے ہنستا دیکھتے ہوئے کہنے لگی اور منہ سجا کر بیٹھ گئی
“کتنی بڑی بیوقوف ہو نا میں خوشی میں بھول ہی گئی کہ ابھی صبح ہے”
وہ خود کو منہ بنا کر کہتے ساتھ اسے دیکھنے لگ گئی
“کوئی بات نہیں ہم دونوں لان میں چلتے ہیں “
وہ اسے حصار میں قید کیے پیار سے کہنے لگا حور نے مسکرا کر اسے دیکھا اور دونوں لان کی جانب بڑھ گئے


حور اور ذامل واک کررہے تھے دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار تھی دونوں ساتھ ہمیشہ خوش رہتے تھے
“تمہیں بےبی پسند ہے ذامل”
حور چلتے ہوئے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی
“ہاں؟”
ذامل حیرانگی سے اسے دیکھتے بولا حور اسے دیکھنے لگی
” چھوٹے بچے پسند ہیں”
حور اسے حیران دیکھ پھر سے پوچھنے لگی
“ہاں پسند ہے”
ذذ۔ل اس کا ہاتھ پکڑے اسے جواب دینے لگا حور مسکرائی
“مجھے بھی پسند ہے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بتانے لگی ذامل نے اسے جھٹکے سے قریب کیا
“تو اب تم کیا چاہتی ہو”
ذامل اسے قریب کیے پیار سے پوچھنے لگا جس پر حور پلکیں جھکا گئی
“میں کچھ نہیں چاہ رہی ہے ناشتے کا وقت ہوگیا ہے میرے خیال سے ہمیں چلنا چاہیے”
حور اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ ہنستے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی ذامل اس کے پیچھے آیا۔۔


ازقہ سادہ سے پہلے رنگ کے جوڑے میں ملبوس تھی بہت پیاری لگ رہی تھی اور نوال کو بھی آج ملک حویلی ہی آنا تھا وہ بھی ییلو رنگ کے ڈریس میں پیاری لگ رہی تھی
حور اورنج کلر کی شارٹ شرٹ اور پٹیالہ شلوار پہنے گلے میں دوپٹہ کیے بالوں کو کھول کر لائٹ سے میک ایپ میں بےحد پیاری لگ رہی تھی کانوں میں بھاری جھمکے کہنے وہ اپنا عکس شیشے میں دیکھ رہی تھی
“واللہ”
ذامل پیچھے سے آتا اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا حور مسکرا دی
“تمہیں شرم نہیں آئی”
حور مڑ کر اسے سر تا پیر دیکھتے کہنے لگی جو سفید شلوار قمیض میں اس وقت بےحد ہینڈسم لگ رہا تھا
“کیوں؟”
ذامل ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے دیکھا
“اتنے ہینڈسم بن کر کسی خوشی میں جارہے ہو ہاں”
وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگی ذامل نے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کیے
“میں تو آپ کیلیے اتنا ہینڈسم تیار ہوا مجھے کسی اور سے کوئی لینا دینا نہیں”
وہ اسے گھورتے ہوئے پیار سے کہنے لگا جس پر حور مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی
“تمہاری لپسٹک خراب کروں”
وہ اس کے ہونٹوں پر فوکس کرتے ہوئے کہنے لگا حور نے اسے دیکھا
“نہیں کرو نا”
حور فوراً سے اس کی وید سے نکلنے کی سعی تیز ہوتی ہارٹ بیٹ سے کہنے لگی
“پھر لگا لینا”
ذامل اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنا انگوٹھا اس کے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے کہنے لگا
“نہیں تو بس نہیں”
حور اسے کہتے ساتھ اپنے بال ٹھیک کرنے لگی ذامل اپنے لب اس کے کان کے قریب لایا
“آج رات خیر منا لو کیونکہ مجھے بےبی بہت پسند ہے”
ذامل مسکراتے ہوئے تنگ کرتا اسے کہنے لگا جس پر حور اسے دیکھنے لگ گئی
“عجیب”
حور منہ بنائے اسے کہتی نیچے کی طرف بڑھ گئی ذامل مسکرا دیا۔۔۔


مایو کا انتظام لان میں ہوا تھا اور یہ فنکشن صرف لڑکیوں اور گھر کے لڑکوں کا تھا دلہے اس فنکشن پر الاؤ نہیں تھے
ساری لڑکیاں اسوقت مہندی لگوا رہی تھی اور باقی کچھ ڈھولک بجا کر گانے گانے میں مصروف تھی ملک حویلی میں رونق سی لگی ہوئی تھی
“ماشاءاللہ آپ بہت پیاری ہیں”
مہندی والی حور کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر حور مسکرا دی
“جی معلوم ہے مجھے میرے شوہر بتاتے رہتے ہیں”
حور مسکراتے ہوئے اسے جواب دینے لگی جس پر لڑکی مسکرا دی
“مہندی پر ہسبنڈ کا نام لکھوانا ہے؟”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا حور اثبات میں سر ہلا کر ذامل کا نام بتانے لگی
“اتنی شریف خدا کی قسم کبھی نہیں لگی”
حور نوال کے پاس آتے ہوئے اسے دیکھ کر بولی نوال نے اسے گھورا
“بیٹا تجھے بعد میں پوچھتی ہوں”
نوال اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی جس پر ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دی اور اٹھ کر چل دی۔۔
“کتنے خوش لگ رہے ہیں سب”
حاکم چوہدری سب کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگے
“ہاں بلکل”
ملک شہراز بھی مسکراتے ہوئے کہنے لگا اور سب کو دیکھنے لگ گئے


“کیسی لگی ہے مہندی”
حور ذامل کے سامنے آتی چہرے پر ہاتھ رکھے اس سے پوچھنے لگی اسے دیکھ ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“بہت حسین “
وہ اس کے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور نے چہرے سے ہاتھ ہٹایا
“چلو اپنا نام ڈھونڈو “
حور اس کے سامنے ہتھیلی پھیلاتے ہوئے کہنے لگی جس پر ذامل اسے دیکھتا ہاتھ میں ڈھونڈنے لگ گیا
“یہ اتنا مشکل نہیں ہے”
ذامل کہتے ساتھ اپنے نام پر انگلی رکھ گیا حور کے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
“تم جاؤ میں آتا ہوں”
ذامل اپنا فون بجتا دیکھ کر حور سے کہنے لگا وہ خاموشی سے اندر کی طرف بڑھ گئی
“کیا مصیبت ہے”
ذامل فون کان سے لگائے اس سے پوچھنے لگا
“یار ایک تصویر بھیج دے نیں نے تیرا کتنا ساتھ دیا ہے تیرے لیے ایک گانا بنتا ہے دوست دوست نہ رہا”
شہریار فون کان سے لگائے اسے منہ بجا کر کہنے لگا
“میں نہیں بھیج رہا”
ذامل اسے صاف منع کرتے ہوئے کہنے لگا شہریار نے فون کو گھورا
“بیٹا تیرا ٹائم بھی آئے گا”
شہریار اسے دھمکاتے ہوئے کہنے لگا
“میرا ٹائم آکر چلا گیا تو اپنی خیر منا میری بیوی میرے پاس ہے”
ذامل اسے فورا جواب دینے لگا شہریار کا دل کیا ذامل کو کوئی چیز دے کر مارے
“تو دوست نہیں ہے بیٹا میں نے کتنا ساتھ دیا ہے تیرا”
شہریار اسے اموشنل بلیک میل کرتے ہوئے کہنے لگا جس پر ذامل مسکرا دیا
“مر نا بھیج رہا ہوں”
یہ کہتے ساتھ ذامل فون رکھتا لان کی طرف بڑھ گیا اور نوال کی تصویر لے کر شہریار کو بھیج دی جس پر اس کا رپلائے آئی لو یو ایس اور وہ مسکرانے لگا۔۔۔
باری باری سب مایو کی رسم ادا کرنے لگ گئے تھے
مایو کا فنکشن بہت اچھے سے ہوا تھا اور مہمان واپس جارہے تھے نوال بھی اپنے گھر جا چکی تھی جبکہ ازقہ بہت تھک گئی تھی حور اسے اس کے کمرے کی طرف لے گئے تھے
“سوری بجو میری وجہ سے آپ کو کتنی مشکلیں دیکھنے پڑی “
حور اس سے شرمندہ ہوتے ہوئے کہنے لگی ازقہ نے اسے دیکھا اور گلے لگایا
“آپ تو سب ٹھیک ہے نا اور تمہارا کوئی قصور قسمت میں ہی ایسے تھا”
ازقہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بتانے لگی حور بھی مسکرا دی
“یو آر دا بیسٹ”
حور کہتے ساتھ اس کی گال پر لب رکھ گئی ازقہ مسکرا دی اور حور چلی گئی


ازقہ واشروم سے باہر آئی اور سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ اسے دھچکا لگا
“آپ؟”
ازقہ حیران سی اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر وہ مسکرا دی
“ہاں میں مجھے تمہیں دیکھنے کا دل کیا سوچا آجاؤ”
زاہد اٹھ کر اس کے سامنے آکر کھڑا ہوتا کہنے لگا ازقہ نے فوراً سے دروازہ بند کیا
“آپ یہاں نہیں آ سکتے”
ازقہ فوراً سے گھبراتے ہوئے اسے کہنے لگی زاہد اسے دیکھنے لگ گیا
“کیوں؟”
زاہد نے فوراً پریشان سا اس سے پوچھنے لگا ازقہ نظریں ارد گرد گھمانے لگی
“اگر کسی نے دیکھ لیا تو”
ازقہ ہاتھوں کو مسلتے ہوئے اس سے بولی زاہد کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“تو دیکھنے دو تم میرے نکاح میں ہو”
زاہد لاپرواہی سے اسے جواب دیتے ساتھ اس کے قریب آتا ماتھے پر لب رکھ گیا
“لیکن پھر بھی”
ازقہ ابھی بھی خوفزدہ سی کہنے لگی زاہد نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے
“میں ہوں نا ساتھ تو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے”
وہ اسے مسکراتے ہوئے پیار سے کہنے لگا جس پر ازقہ ہلکا سا مسکرا دی اور زاہد اسے مایو کے جوڑے میں دیکھنے لگا جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی


“فون کیوں نہیں اٹینڈ کررہی تھی”
شہریار فون کان سے لگائے اسے کہنے لگا
“مصروف تھی میں”
نوال اسے فوراً سے جواب دینے لگی شہریار کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
“آج بہت پیاری لگ رہی تھی”
وہ مسکراتے ہوئے اسے کہنے لگا نوال پریشان سی ہوئی
“تم نے کہاں دیکھا ؟”
نوال فوراً سے اس سے پوچھنے لگی شہریار بھی اپنی بیلکونی میں آ گیا
“بس دیکھ لیا”
شہریار اسے تنگ کرتے ہوئے کہنے لگا نوال کو واقع حیرانگی ہوئی
“بتاؤ نا کہاں دیکھا”
نوال اس سے پھر سے وہی سوال کرنے لگی
“بس دیکھ لیا نا”
شہریار بھی وہی جواب دینے لگا نوال کو واقع غصہ آیا
“بتارہے ہو یا کال بند کرو”
نوال غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر شہریار ہنسنے لگ گیا
“وہ تصویر منگوائی تھی ذامل سے”
شہریار نے اسے فوراً بتایا نوال فون کو دیکھنے لگی
“تم واقع بہت بڑے ٹھرکی ہو”
نوال اسے منہ بنا کر کہنے لگی شہریار کی مسکراہٹ غائب ہوئی
“یہ ٹھرکی صرف تم سے ہی پیار کرتا ہے”
وہ اسے سنجیدگی سے جواب دینے لگا اور اسی طرح بحث وغیرہ کرتے کرتے وہ اپنی بات کرتے رہے


حور چینج کرکے کمرے میں آئی اور جیولری اتارنے لگی ذامل اسے دیکھ رہا تھا
“کس سے بات کررہے تھے فنکشن پر”
حور جانچتی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے سوال کرنے لگ گئی
“کیا مطلب”
ذامل ناسمجھی سے اسے دیکھتا بدلے میں سوال کرنے لگا
“بہت ہنسا جارہا تھا خیریت تھی نا”
حور مڑ کر غصے سے اسے کہنے لگی ذامل اس کا غصہ دیکھ مسکرا دیا
“ہاں بس ایسے ہی”
ذامل اسے مزید تپانے کیلیے جان کر کہنے لگا حور نے اسے گھور کر دیکھا
“ایسے تو ہوئی بلاوجہ نہیں مسکراتا جلدی بتاؤ”
حور اسے گھورتے ہوئے کہنے لگی جس پر ذامل نے اسے اپنے قریب کیا
“تمہیں کیا لگتا ہے”
ذامل اس پر نظریں جمائے چہرے پر ہاتھ رکھے کہنے لگا حور آئبرو اچکا گئی
“ملک ذامل ہر لڑکی پر پھسل جاتا ہے ؟”
ذامل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا جس پر حور اسے دیکھنے لگ گئی
“ملک ذامل ہر لڑکی پر پھسل کر تو دیکھائے پھر دیکھے ملک ذامل کی بیگم کیا کرتی ہے”
حور غصے سے جل کر کہنے لگی ذامل اس کی گال پر ہاتھ پھیرنے لگا
“تمہیں کچھ کرنے کی نوبت نہیں آئی تمہارے آگے بس فل سٹاپ لگا دیا ہے”
ذامل اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہتے ساتھ اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا
“اب بتاؤ کس سے بات کررہے تھے مجھے نہیں اچھا لگ رہا تھا میرے علاؤہ کوئی تمہارے چہرے کی مسکان بنے”
حور منہ بسورے اسے دیکھ اداسی سے بولتی سیدھا ذامل کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی
“شہریار تھا”
ذامل اس کے بال ٹھیک کرتے ہوئے بتانے لگا حور کو تھوڑی تسلی ہوئی
“اب میں اپنا کام کرلوں”
ذامل اس کے چہرے کے قریب آئے کہتے ساتھ اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ گیا حور آنکھیں بند کر گئی اس کی سانس رک سی گئی۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔