Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 23

ازقہ اور زاہد کی شادی دو ہفتے بعد تھی نوال اور شہریار کا رشتہ بھی ہو چکا تھا اور ذامل نے دونوں کی شادی ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا
سب لوگ اسوقت شاپنگ وغیرہ کیلیے گئے ہوئے تھے حویلی میں صرف حور اور ذامل ہی موجود تھے اور باقی ملازم وغیرہ ذامل کی طبیعت کی وجہ سے حور نہیں جا سکی تھی
ذامل کمرے میں بیٹھا شدید بور ہو چکا تھا اور حور تھی کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ذامل کمرے سے باہر نکلا اور نیچے کی طرف بڑھا
“بیگم صاحبہ کو دیکھا ہے؟”
ملازمہ کو دیکھتا وہ پوچھنے لگا جس پر ملازمہ اثبات میں سر ہلا گئی
“کچن میں ہیں”
ملازمہ اسے بتانے لگی ذامل خاموشی سے کچن کا رخ کر گیا
کچن میں آیا تو حور کو مصروف سا پایا ذامل کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی ذامل نے اسے پیچھے سے حصار میں لیا جس پر حور گھبرائی
“ذامل”
حور اسے مڑ کر دیکھتی آنکھیں دیکھائے پکارنے لگی ذامل نے اس کی گال پر لب رکھے
“کیا بنا رہی ہو”
ذامل اس سے الگ ہوتا سامنے کھڑا ہوتا پوچھنے لگا
“سوپ بنا رہی ہوں تمہارے لیے”
حور لبوں پر مسکراہٹ سجائے سوپ پر چمچ چلاتی اسے بتانے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“تمہیں کھانا پکانا آتا ہے؟”
ذامل حیرانگی سے آئبرو اچکائے پوچھنے لگا جس پر حور نے اسے دیکھا
“نہیں پہلی دفعہ بنارہی ہوں تمہارے لیے”
حور اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے بتانے لگی جس پر ذامل کی مسکراہٹ تھوڑی سمٹی
“اللہ خیر”
ذامل ہلکی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے بولا
“ارے پریشان نہ ہو میں ریسپی لی ہے امی سے تم نے پینا لازمی ہے”
حور اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی ذامل اثبات میں سر ہلا گیا
“چلو اب جاؤ مجھے بنانے دو”
حور اسے کہتے ساتھ کام میں مصروف ہو گئی ذامل اسے نظروں کے حصار میں لیے کھڑا رہا
“جاؤ نا”
حور اسے کھڑا دیکھ پھر سے کہنے لگی ذامل اس کے تھوڑا قریب ہوا
“تم اپنا کام کرو میں اپنا کام کررہا ہوں”
ذامل اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اسے کہنے لگا جس پر حور اسے دیکھنے لگی
“ذامل سارے ملازم پھر رہے شرافت سے کمرے میں جاؤ”
حور اسے گھورتے ہوئے شرمندگی سے کہنے لگی ذامل نظریں اسی پر جمائے ہوئے تھا
“مجھے فرق نہیں پڑتا”
ذامل اسے جواب دیتا اسے دیکھنے میں مصروف رہا
“ذامل”
حور سینے پر بازو باندھے اسے پکارنے لگی
“جی جان”
اس محبت بھرے لہجے میں اس سے پوچھنے لگا حور نے زبردستی اسے کچن سے نکالا ورنہ وہ شخص جانے والا نہیں تھا
“افف ذامل”
مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ سوپ دیکھنے میں مصروف ہوگئی


“سوپ بن گیا”
حور کمرے میں آتے ہوئے ہاتھ میں ٹرے لیے کہنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“چلو ہیو اور بتاؤ کیسا پے؟”
حور اس کے سامنے رکھتی مسکراتے ہوئے بولی ذامل نے اسے دیکھا اور پینے لگا
“کیسا ہے؟”
حور اسے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے پوچھنے لگی جس پر ذامل نے اسے دیکھا
“بہت مزے کا ہے”
ذامل مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگا حور اسے دیکھنے لگی
“واقع مزے کا ہے؟”
حور حیرانگی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر ذامل اثبات میں سر ہلا گیا
حور نے چمچ لیا اور پینے لگی
“یخخخ”
حور فوراً سے چمچ رکھ منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے کہنے لگی۔۔
“اتنا گٹھیا بنا ہے اور تمہیں پسند آیا بیمار کردے گا یہ تمہیں چھوڑو اسے”
حور فوراً سے اس کے ہاتھ سے چمچ لیتے ہوئے کہنے لگی ذامل مسکرا کر اسے دیکھنے لگ گیا
“مجھے تو بہت پسند آیا ہے کیونکہ یہ ذامل کی جان نے بہت محبت سے بنایا ہے”
ذامل اسے گہری نظروں میں لیے حور اسے دیکھنے لگی اور پھر مسکرا دی
“لیکن تم یہ نہ پیو بیمار ہوجاؤ گے”
حور اس کے آگے سے ٹرے ہٹاتے ہوئے بولی جس پر ذامل سر کو خم دے گیا
“تم اتنے اچھے کیوں ہو؟؟”
حور اس کے پاس آکر بیٹھتی مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی
“تم اتنی حسین کیوں ہو؟”
ذامل اسے اپنے حصار میں قید کیے بدلے میں سوال کرنے لگا حور اسے دیکھنے لگی اور نفی میں سر ہلا گئی ذامل نے اس کی ناک پر لب رکھے
“کیا خیال ہے آج فیوچر پلیننگ کا سوچا جائے “
وہ اس کی گردن پر انگلیاں پھیرتے ہوئے شوخیہ لہجے میں کہنے لگا
“ممم۔۔مجھے نیند آرہی ہے”
حور کنفیوز سی ہوتی بامشکل بولتی ذامل کی قید سے نکلنے کی سعی کرنے لگی
“نکلنا ناممکن ہے اور آج نہیں “
یہ کہتے ساتھ ذامل نے اس کی گردن پر لب رکھے اس کی ایک گال پر رکھے دوسری گال پر لب رکھے اس کی پیشانی پر لب رکھے اس کے ہونٹوں پر شدت سے لب رکھ دیے حور سانس روک گئی پورا وجود کانپنے لگا گیا
ذامل اسے بیڈ پر لٹاتا لیمپ آف کرتا آپ ی شدتیں اس پر نچھاور کرنے لگا وہ بےبس خود میں سمٹی اس کی شدتیں بس برداشت کررہی تھی ۔۔۔۔


کل رات ذامل نے اپنی محبت کا ثبوت حور کو دیا صبح ذامل کی آنکھ کھلی نظر حور پر گئی جو اس کے سینے میں منہ دیے پرسکو ن سی سورہی تھی ذامل کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی اس کے ماتھے پر لب رکھتا کمر کے گرد بازو حائل کر گیا
“کل رات میں زندگی میں کبھی نہیں بھول سکتا جان”
ذامل اس کے کان کے قریب سرگوشی نما سا بولا جس پر حور تھوڑا سا کسمسائی اور واپس اس کے سینے میں منہ چھپا گئی ذامل اس کی حرکت پر مسکرا دیا
“صاحب اور بیگم صاحبہ کو ملک شہراز ناشتے پر بلارہے ہیں”
ملازمہ دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہنے لگی جس پر ذامل نے اسے جواب دیا اور ملازمہ خاموشی سے چلی گئی ۔۔۔۔
“جان اٹھ جاؤ”
ذامل اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگا جس پر حور بامشکل آنکھیں کھول سکی۔۔۔
“سونا ہے مجھے ابھی”
وہ نیند میں منہ بنائے کہتی اس کے سینے پر واپس منہ چھپا گئی
“دادا ناشتے کیلیے بلارہے ہیں”
وہ اسے نرمی سے بتانے لگا جس پر حور نے نظر اٹھا وال کلاک پر ڈالی گھڑی اسوقت بارہ بجا رہی تھی حور ایکدم اٹھی نظر اس پر گئی جو پرسکون سا لیٹا تھا
“اتنی دیر ہوگئی مجھے اٹھایا ہی نہیں تمہیں “
حور اسے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہتے ساتھ باتھروم کی طرف بھاگی ذامل اسے جاتا دیکھتا رہ گیا
کچھ دیر میں حور فریش ہوکر گیلے بالوں میں باہر نکلی اور ڈریسنگ کے سامنے آکر کھڑی ہوئی ہے ذامل کی نظر اس پر گئی اور وہی رک سی گئی
“اتنی دیر ہوگئی پتہ نہیں کیا سوچ رہے ہوں گے سب”
وہ بالوں کو کنگا کرتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگی ذامل اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا
“تم کیوں مسکرا رہے ہو مسکرانے والی بات ہے کیا”
حور نے مرر سے ذامل کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا حور تپ کر بولی
ذامل بیڈ سے اٹھ کر اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوا اسے پیچھے سے حصار میں لیا
“تم لوگوں کی باتوں کو اتنا مت سوچو تم ہماری رات یاد رکھو صرف ملک ذامل کو یاد رکھو”
ذامل اس کے کندھے پر منہ رکھے گھمبیر لہجے میں کہتے ساتھ اسے شرمانے پر مجبور کر گیا جس پر حور نظریں جھکا گئی
“پیچھے ہو ہم پہلے لیٹ ہو چکے”
حور اسے کہتے ساتھ دوپٹہ لیتی سر پر کرنے لگی ذامل نے اس کے ہاتھ سے لیا اور اپنے ہاتھوں سے اس کے سر پر ٹکایا جس پر حور مسکرا دی
“پرفیکٹ”
ذامل اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا اور دونوں نیچے کی طرف بڑھ گئی


“ذامل شادی پر صرف چار دن ہے میری بیسٹ فرینڈ اور میری بجو کی شادی ہے مجھے سارے ڈریس نیو چاہیے تم ٹھیک ہوگئے تم مجھے لے چلو اپنے ساتھ”
حور کمرے میں آتے ہی ذامل کو دیکھتے ہوئے فوراً سے کہنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“کل چل لیں گے نا آج نہیں “
ذامل اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور نے اسے دیکھا
“تینوں دن جانا ہے مجھے آج پسند نہیں آئے گا کل جائیں گے کہ نہیں پسند آئے گا تو پڑسو”
حور اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بتانے لگی ذامل اسے دیکھنے لگ گئی
“مجھے شاپنگ میں ذرا انٹرسٹ نہیں ازقہ اور تم ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤ “
ذامل بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اسے بتانے لگا حور بھی اس کے پاس آکر بیٹھی
“میری شادی تم سے ہوئی ہے ڈرائیور یا ازقہ بجو سے نہیں اور میں تمہارے ساتھ ہی جاؤ گی میں تیار ہونے جارہی “
حور اسے بتاتے ساتھ وارڈروب کی طرف بڑھی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“جان”
ذامل اسے پکارنے لگا حور نے مڑ کر اسے دیکھا
“ہم جارہے ہیں جان “
حور اسی کے انداز میں اسے جواب دیتے ساتھ تیار ہونے لگی ذامل کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی
حور زبردستی اسے اپنے ساتھ لائی تھی اس کا ہاتھ تھامے وہ شاپنگ کررہی تھی
“ہائے یہ کتنا پیارا ہے”
حور ڈریس دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“ذامل اچھا ہے نا؟؟”
حور فوراً سے پوچھنے لگی ذامل اثبات میں سر ہلا گیا حور نے وہ ڈریس لے لیا
اس کے بعد ان دونوں نے جیولری وغیرہ اور جوتے وغیرہ لیے تھے
“مجھے بھوک لگی ہے بہت”
حور شاپنگ کے بعد چلتے ہوئے اچانک سے کہنے لگی جس پر ذامل نے اسے دیکھا
“کیا کھانا پے؟”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگا
“کچھ دیسی کسی ڈھابے سے”
وہ فوراً سے ذامل کو کہنے لگی ذامل اثبات میں سر ہلا کر گاڑی کی طرف بڑھا
وہ دونوں آج صحیح معنوں خوش اور پرسکون تھے سب ٹھیک ہو چکا تھا
آدم ان دونوں کی گاڑی کو دیکھ رہا تھا آنکھوں میں نفرت وحشت دونوں چھائی ہوئی تھی
“انتظار کرو “
وہ گاڑی پر نظریں جمائے چہرے پر شاطر مسکراہٹ سجائے دل میں کہنے لگا
جاری ہے ۔۔۔۔