Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 20

“مجھے نیند آرہی ہے”
وہ نظریں سامنے مرکوز کیے اسے بولی ذامل گود سے اٹھ گیا اور ایک نظر اس پر ڈالی۔۔
حور کروٹ بدل کر لیٹ گئی اور چہرے پر ہاتھ رکھا
“لائٹ بند کردو”
دو منٹ تک جب ذامل نے لائٹ آف نہیں کی تو حور نے مڑے بغیر اسے بولا ذامل نے خاموشی سے لائٹ بند کردی حور آنکھیں بند کر گئی ذامل خاموشی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“اگر کسی کو زبردستی ساتھ رکھو گے تو نہ وہ خوش رہے گا اور نہ ہی تم اس لیے بہتر ہے اس شخص کو آزاد کردینا چاہیے ذامل”
ذامل کو اپنی ماں کی کہی بات یاد آئی اور پھر اس نے حور کی باتوں کے متعلق سوچا ایک فیصلہ کرتا وہ بھی دوسری طرف منہ کیے لیٹ گیا۔۔۔۔۔


شہریار اپنے کمرے میں بیٹھا نوال کے متعلق سوچ رہا تھا اس نے فون اٹھایا
“جہاں تمہارا رشتہ ہوا ہے تم پسند کرتی ہو؟”
شہریار اسے میسیج کرتا اس کے میسیج کا ویٹ کرنے لگا
نوال جو ابھی کمرے میں فری ہوکر آئی تھی نظر فون پر گئی نوٹیفیکیشن دیکھ اس نے فون اٹھایا اور شہریار کا میسیج ریڈ کیا
“اسے تمہیں کیا میں پسند کرتی ہوں یا نہیں”
نوال اسے فوراً رپلائی دیتی فون بند کر گئی شہریار نے فون کی بل بنتی ہی فون اٹھایا اور میسیج دیکھا۔۔۔
“میرے لیے جاننا ضروری ہے”
شہریار نے اسے فوراً میسیج کا جواب دیا نوال نے ناچاہتے ہوئے بھی میسیج دیکھنا چاہا۔۔
“میں تمہیں بتانا ہزگز ضروری نہیں سمجھتی”
نوال نے اسے جواب دیتے ساتھ فون بند کرکے رکھ دیا اور بیڈ پر لیٹ گئی
“پتہ نہیں خود کو سمجھتا کیا ہے”
وہ منہ بنائے بولتی آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگی اور شہریار اس کا میسیج دیکھنے لگا۔۔


رات کے پہر ہاجرہ بیگم کو نیند نہیں آرہی تھی انہوں نے گھڑی پر نظر ڈالی جہاں دو بج رہی تھی
“مجھے دادا جان کو دراب چوہدری کی اصلیت بتانی ہی ہوگی کتنا گٹھیا آدمی ہے وہ”
ہاجرہ بیگم کچن میں کھڑی بولتے ہوئے باہر کی طرف بڑھنے کیلیے مڑی سامنے دراب چوہدری کو دیکھتی وہ اپنی ساکت ہوگئی سانس رک سی گئی۔۔
“اتنی جلدی کیا ہے بھابی”
دراب چوہدری مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ ہاجرہ بیگم کا ہاتھ تھامے زبردستی اوپر کی طرف بڑھ گئے ہاجرہ بیگم اپنا ہاتھ چھڑوانے کی سعی کرتی رہی مگر ناکام رہی۔۔۔
“چھوڑو گٹھیا انسان چھوڑو مجھے میں ابھی اصلیت”
ہاجرہ بیگم اونچی آواز میں بول رہی تھی جب دراب نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھا جس پر ہاجرہ بیگم اسے دیکھنے لگ گئی
“شش خبردار جو کچھ بتایا اگر میرے بارے میں کسی کو بتایا تو میں ازقہ کی جان لے لوں گا اور آپ جانتی ہیں میں لے سکتا ہوں کیونکہ وہ میری اپنی اولاد نہیں ہے”
دراب چوہدری چہرے پر زہریلہ مسکراہٹ سجائے انہیں ڈرانے پر مجبور کردیا۔۔
“آخر تم یہ سب کر کیوں رہے ہو”
ہاجرہ بیگم اداسی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر دراب چوہدری کی مسکراہٹ غائب ہوئی
“ابا جان کی وجہ سے ہی میری بیوی شازیہ مری تھی نا بدلہ تو لینا تھا مجھے لوں گا”
وہ چہرے پر اداسی سجائے بتاتے ساتھ ایک زوردار قہقہہ لگا گئے جس پر ہاجرہ بیگم انہیں دیکھتی رہ گئی ۔۔
“اس بات کو بھول جائیں اور خاموش رہے میری نظریں آپ پر ہی ہیں”
دراب چوہدری ہاجرہ بیگم کو ڈراتا کمرے سے چلا گیا۔
ہاجرہ بیگم وہ منظر یاد کرتی گھبرائی لیکن ہمت پیدا کرتی وہ بیڈ سے اٹھی دوپٹہ لیتی نیچے کی جانب احتیاط سے گئی نظریں ارد گرد گھمائے وہ حاکم چوہدری کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔
“ابا جان”
وہ کمرے کا دروازہ کھول کر بند کرکے حاکم چوہدری کو دیکھتی پکارنے لگی ہاجرہ بیگم کو دیکھ انہوں نے فوراً حور کی تصویر کو چھپایا
“خیریت ہے”
وہ چہرے پر سنجیدگی لیے پریشان سے پوچھنے لگے
“مجھے آپ کو بہت ضروری بات بتانی ہے”
ہاجرہ بیگم حاکم چوہدری کے پاس آتے ہوئے بتانے لگی جس پر وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گئے۔
ہاجرہ بیگم نے انہیں دراب چوہدری کی ایک ایک بات کو بتایا اور حاکم چوہدری اپنی جگہ ساکت ہوگئی۔
“ہمارا بیٹا ہمارے ساتھ ایسا کر سکتا ہے”
حاکم چوہدری افسردگی سے کہنے لگے ہاجرہ بیگم ان کی دلی کیفیت سمجھ سکتی تھی
“مجھے سچ بتانا فرض تھا”
ہاجرہ بیگم کہتے ساتھ خاموشی سے کمرے سے چلی گئی اور حاکم چوہدری اسی طرح کمرے میں بیٹھے رہے۔۔۔


صبح حور کی آنکھ نظر گھڑی پر ڈالی جو آٹھ بجا رہی تھی وہ اپنے ساتھ نظر ڈالتی خاموشی سے اٹھی اور باتھروم کی طرف بڑھ گئی
کچھ دیر بعد وہ گیلے بالوں کیساتھ باہر آئی نظر ذامل پر گئی جو اٹھا ہوا بیڈکراؤن سے ٹیک لگائے ہوئے تھا حور ایک نظر اس پر ڈال کر ڈریسنگ کے سامنے آ گئی اور بالوں کو سلجھانے لگی اور مرر سے نظریں ذامل پر جمائے ہوئے تھی دوسری طرف وہ بھی اسی پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا۔۔
“میں نے فیصلہ کرلیا ہے”
ذامل اٹھ کر اس کے پاس آکر کہنے لگا حور نے مڑ کر اس کی جانب دیکھا
“کیا؟”
حور اسے دیکھتے ہوئے آئبرو اچکائے پوچھنے لگی
“میں تمہیں زبردستی اس رشتے میں نہیں رکھو گا میں تمہیں جلد آزاد کردوں گا”
وہ اسے دیکھتے چہرے پر بھرپور سنجیدگی لیے اسے کہنے لگا حور نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“کل تک تو رہا نہیں جا رہا تھا ایک رات میں خود کو مضبوط کرلیا اتنا”
حور چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے اسے بولی ذامل اسے دیکھنے لگ گیا
“چاہتی کیا ہو جو کہ رہی ہو وہ کررہا ہوں تو تم خوش نہیں ہو اور رہنا بھی نہیں چاہتی ساتھ”
ذامل اسے کھینچ کر قریب کیے کہنے لگا حور اسے دیکھنے لگ گیا
“تم کنفیوز ہو تمہارا دل کہتا ہے تم میرے ساتھ رہو گے جبکہ دماغ کہ رہا ہے کہ میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے تو میرے ساتھ نہ رہو”
وہ اس پر اپنی گہری نظریں جمائے بےحد قریب کیے اسے بولا حور سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی وہ واقع حیران تھی وہ سب کیسے جان لیتا تھا
“شام تک کا وقت ہے مجھے اپنا فیصلہ سنا دو”
وہ اسے کہتے ساتھ جھٹکے سے الگ کرتا باہر کی طرف بڑھنے لگا
“مجھے حویلی جانا ہے”
حور نے اسے فوراً سے بولا ذامل نے مڑ کر اسے دیکھا
“ایک کام ہے وہ کرکے پھر آتا ہوں”
ذامل کہتے ساتھ خاموشی سے باہر کی طرف بڑھ گیا حور اسے جاتا دیکھنے لگ گئی
“اسے کیا ہوا ہے اچانک اتنا سیریس کیا واقع میں اس کیساتھ نہیں رہنا چاہتی”
حور ذامل کی باتوں کے متعلق سوچتے ہوئے پریشانی سے کہنے لگی اور کمرے میں ٹہلنے لگی۔


“سامان لاؤ”
حاکم چوہدری نے ملازم سے بولا ازقہ زاہد صارم جافر دراب چوہدری آدم چوہدری سب پریشانی سے حاکم چوہدری کو دیکھنے لگ گئے۔۔
“کس کا سامان ابا”
دراب چوہدری فوراً سے پوچھنا ضروری سمجھنے لگے۔۔
“اپنی زبان سے ابا مت کہو مجھے دراب چوہدری”
حاکم چوہدری آنکھوں میں سرخی لیے تیش سے کہنے لگے جس پر دراب چوہدری گھبرا گیا باقی سب بھی کھڑے ہو گئے اور انہیں دیکھنے لگے
“تمہارا اور تمہارے بیٹے کی اس حویلی میں کوئی جگہ نہیں تم نے پیٹھ پیچھے ہم پر چھڑا کھوپنا چاہا تمہیں ذرا شرم نہیں آئی مجھے آج کے بعد مجھے تم اس حویلی میں نظر نہ آؤ اور شازیہ بیگم کو ہم نے نہیں مارا انہیں قتل کیا گیا تھا جو کہ شازیہ بیگم کے اپنے باپ احسان خان نے کیا تھا “
حاکم چوہدری دراب چوہدری کو دیکھتے ہوئے صفائی دینے لگے
“نہیں حاکم چوہدری کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو نہیں مارتا آپ کو پسند نہیں تھی نا وہ اس لیے آپ نے کیا اور اتنی آسانی سے تو میں یہ حویلی چھوڑ کر نہیں جانے والا میں نے کیا کیا نہیں کیا آپ کی زندگی عذاب بنانے کیلیے آپ کے بہترین دوست ملک شہراز سے دشمنی کروائی آپ کے بڑے بیٹے کو مروایا آپ سب نے مجھے تکلیف دی اور میں نے آپ سب کو دینا چاہی اور ابھی بھی مجھے سکون نہیں ملا اس لیے میں اس لڑکی کو ماردوں گا کیونکہ یہ میری نہیں ملک عاصم کی بیٹی اور ملک ذامل کی سگی بہن ہے “
دراب چوہدری کہتے ساتھ گولی ازقہ کے سر پر رکھ گئے اور ازقہ بےیقینی سے ان سب کو دیکھنے لگے
“داد یہ سچ بول رہے ہیں”
ازقہ آنکھوں میں آنسو لیے حاکم چوہدری سے پوچھنے لگے
“ہاں ملک شہراز کو بیٹیاں نہیں پسند تھی اس لیے وہ تمہیں مار رہے تھے پیدا ہوتے ہی اس لیے ہم نے پھر تمہیں اس گھر میں رکھ لیا”
حاکم چوہدری نظریں جھکائے ازقہ سے کہنے لگے زاہد صارم اور جافر پریشانی سے انہیں دیکھنے لگے۔
“چھوٹی۔ چچا ازقہ کو ورنہ میں بولی چلا دوں گا”
زاہد اپنی گن نکال کر غصے سے کہنے لگا ازقہ اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی دراب چوہدری نے ازقہ سے گن نہیں ہٹائی اور زاہد نے اپنی گن چلا دی اور دراب چوہدری کے سیدھا سینے پر جا لگی ازقہ گولی کی آواز پر ہوش میں آئی
“ازقہ تم ٹھیک ہو”
زاہد اس کے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگا ازقہ اثبات میں سر ہلا کر اس کے گلے لگ گئی سب لوگ اپنی جگہ حیران ہوگئے تھے
“ابا “
آدم ان کی طرف تیزی سے بڑھا اور پکارنے لگا
“اسے ہسپتال لے جاؤ”
حاکم چوہدری دراب کو گرا دیکھ ملازموں سے کہنے لگے وہ لوگ اسے اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گئے سب لوگ پریشان سے بیٹھ گئے ۔۔۔۔


“خیریت ہے”
ذامل ڈیڑے پر آتء ہی شہریار سے ملتا پوچھنے لگا جس پر شہریار اسے دیکھنے لگ گیا
“مجھے محبت ہوگئی ہے”
شہریار ذامل کو دیکھتے ہوئے بتانے لگا ذامل نے اسے دیکھا
“سچ میں”
ذامل حیرت زدہ سا بولا شہریار اثبات میں سر ہلا گیا
“کون؟”
ذامل نے فوراً اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
“نوال”
شہریار نے اسے بتایا ذامل کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی
“تو بول دو “
ذامل فوراً سے اسے کہنے لگا جس پر شہریار سر جھٹک گیا
“بولا اس کا رشتہ ہوا ہے اس نے صاف انکار کردیا “
شہریار اسے دیکھتے ہوئے مایوسی سے بتانے لگا ذامل کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوئی
“رشتہ بھجوا دے اپنا “
ذامل اسے مشورہ دیتا اٹھ کھڑا ہوا جس پر شہریار اسے دیکھنے لگ گیا
“اس کا رشتہ “
شہریار ابھی بول رہا تھا ذامل نے اسے روکا
“رشتہ بھجوا دے اگر انکار ہوا تو زبردستی نہ کرنا اور اگر ہاں ہوا تو فوراً نکاح کرلینا”
وہ اسے کہتے ساتھ وہاں سے چلا گیا شہریار اسے جاتا دیکھنے لگ گیا
ملک شہراز کا آدمی جو وہاں سے گزر رہا تھا نظر ذامل پر گئی وہ فوراً ذامل کا پیچھے کرنے لگا ذامل حور کے متعلق ہوتے راستے سوچتے ہوئے اپنے گھر تک کا سفر طے کر گیا اور ملک شہراز کا آدمی ذامل کو گھر کے اندر تک جاتا دیکھ کر فوراً گاڑی واپس موڑ گیا۔۔۔


ذامل کمرے میں آیا نظر حور پر گئی جو بیڈکراؤن سے ٹیک لگائے مزے سے سوئی ہوئی تھی
“حور “
ذامل اسے سوتا پاکر پاس آکر پکارنے لگا جس پر حور فوراً اٹھی
“پتہ نہیں کیسے آنکھ لگ گئی”
حور اسے دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ بولتی کھڑی ہوگئی
“چلنا ہے حویلی “
ذامل سنجیدہ لہجے لیے اس سے پوچھنے لگا جس پر حور اثبات میں سر ہلا گئی
“میں چادر کرلوں”
وہ کہتے ساتھ وارڈروب سے چادر لیتی اوڑھ کر کمرے سے باہر کی جانب بڑھی۔
وہ دونوں نیچے کی جانب بڑھے اور گھر سے باہر نکلے حور اور ذامل دونوں گاڑی میں بیٹھے ذامل نے گاڑی چلا دی
ذامل اور حور نے تھوڑا سا ہی راستہ طہ کیا تھا کہ سامنے ملک شہراز اور اس کے آدمیوں کو دیکھ حور اور ذامل دونوں ہی پریشان ہوگئے ذا نے گاڑی کو بریک لگائی
“باہر نکل”
ملک شہراز کے اشارے پر وہ ملک ذامل گاڑی سے باہر نکلا
“اے تو بھ”
ابھی وہ حور کو چھونے ہی والا تھا جب ذامل نے زوردار مکہ اس کے منہ پر مارا وہ گھوم گیا
“خبردار جو چھوا اسے تیری جان لے لوں گا”
ذامل غصے سے آنکھوں میں سرخی لیے چلایا جس پر وہ شخص گھبرا گیا حور گھبراتے ہوئے خود ہی باہر آ گئی
“واہ ملک ذامل واہ جس دادا نے ساری زندگی تمہارا ساتھ دیا پالا آج اس لڑکی کیلیے تم اس دادا کے ساتھ بیوفائی کررہے ہو”
ملک شہراز چہرے پر تکلیف دہ مسکراہٹ سجائے کہنے لگے جس پر ملک ذامل نے انہیں دیکھا
“میں نے آپ سے کہا تھا میں بچپن سے عشق کرتا ہوں شادی کردے آپ نے کی ضد کی تھی”
ذامل ملک شہراز کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا حور نے ذامل کو دیکھا۔۔
“مجھے نفرت ہے اس لڑکی سے”
وہ کہتے ساتھ پستول کا نشانہ حور پر بنا گئے ذامل انہیں دیکھنے لگا۔
گولی کی آواز گونجی ذامل اور حور اپنی جگہ ساکت ہوگئے تھے اس سے پہلے گولی حور کو لگتی ذامل آگے آ گیا اور گولی سیدھا اس کے سینے پر جا لگی حور ساکت سی ذامل کو دیکھ رہی تھی ملک شہراز کے ہاتھ سے گن گر گئی حور کو اپنے وجود سے جان جاتی محسوس ہورہی تھی۔۔
“اس کے ساتھ کچھ نہیں ۔۔۔کرسکتے آپ جب تک میں۔۔۔ زندہ ہوں حور کو ہلکی سی خروش بھی۔۔۔ نہیں آنے دوں گا “
ذامل چہرے پر مسکراہٹ لیے ملک شہراز سے رک رک کر کہنے لگا اور لڑکھڑاتا زمین پر جاگرا
“ذاملللللللل”
ذامل کے گرنے پر حور ہوش میں آئی اور چلا کر اسے پکارنے لگی آنکھوں سے آنسو پانی کی طرح بہنے لگے۔
“ذامل تمہیں کچھ نہیں ہوگا سن رہے ہو نا مجھے تم میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گی”
حور گٹھنوں کے بل بیٹھتی نم آنکھیں لیے چلا کر اسے بولی ذامل مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا
“میں تمہیں بہت چاہتا ہوں”
ذامل بامشکل کانپتے ہاتھوں سے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے بولا حور روتے ہوئے مسکرائی۔۔
“میں بھی تمہیں بہت چاہتی ہوں تمہیں کچھ نہیں ہوگا آنکھیں نہیں بند کرنا تم کوئی ہے مدد کیلیے”
حور ذامل کے بال ٹھیک کرتے ہوئے اسے بولتی چیخ کر مدد کی پکار کرنے لگی ملک شہراز سامنے کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے اسی لمحے ذامل کی آنکھیں بند ہوگئی۔
“ذامل ذامل آنکھیں کھولو ذامل”
حور اس کا وجود ہلاتے ہوئے اسے پکارنے لگی مگر وہ آنکھیں بند کیے چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس کے ہاتھوں میں لیٹا تھا ذامل کی آنکھیں بند ہونے پر حور کی سانس رک سی گئی۔
“آپ انسان ہے بھی یا نہیں دل ہے بھی سینے میں یہاں نہیں پوتا کی حالت دیکھ رہے ہیں اور کھڑے ہیں”
حور غصے سے ملک شہراز کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی ملک شہراز فوراً ذامل کے پاس آئی
“جلدی ہسپتال لے کر چلو اسے”
ملک شہراز اپنے ملازموں کو چیخ کر حکم دینے لگے سب اثبات میں سر ہلا گئے اور ذامل کو اٹھا کر گاڑی میں لائے
ملک شہراز بیٹھنے ہی لگے حور نے انہیں دیکھا
“میں ہوں اپنے ذامل کے پاس “
حور کہتے ساتھ گاڑی میں اس کے پاس بیٹھ گئی ملک شہراز خاموشی سے آگے بیٹھ گئے حور نم آنکھوں سے ذامل کو دیکھنے لگی