Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht e Dil ) Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht e Dil ) Episode 2
حور کالج کیلیے تیار ڈائننگ کی جانب بڑھ رہی تھی جب کمرے سے نکلتی ازقہ پر نظر گئی سادہ سے لان کے سوٹ میں ملبوس بالوں پر سلیقے سے دوپٹہ کیے آنکھوں میں کاجل ڈالے تیکھے نقوش کی حامل گورے رنگ کی وہ دیکھنے میں بہت پیاری تھی
“اہم اہم کس کیلہے اتنا سج سنور کے جایا جارہا”
حور اسے دیکھ فورا اس کی جانب بڑھتی اسے چھیڑتے ہوئےمزے سے بولی ازقہ نے اسے دیکھا
“ک۔۔کسی کیلیے نہیں”
ازقہ گھبرا کر لڑکھڑاتے ہوئے جواب دینے لگی حور اسے دیکھنے لگ گئی
“جیسے مجھے معلوم ہی نہ ہو”
حور اسے مسکرا کر کہتے ساتھ ڈائننگ پر چلی گئی ازقہ نفی میں سر ہلا کر ڈائننگ ٹیبل پر آ گئی
حور ہمیشہ کی طرح حاکم چوہدری سے ملتی کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی اور ازقہ بھی اس کیساتھ موجود کرسی کو سنبھال گئی
حور کالج سے واپس گھر جارہی تھی چہرہ نقاب سے ڈھکے ہوا تھا اچانک گاڑی رکی اور حور نے نظریں سامنے کی جانب کی تو ملک ذامل کو آج بھی ویسے ہی کھڑا پایا حور اس سے صاف بات کرنے کا سوچتی گاڑی سے اتر کر اس کی جانب قدم بڑھانے لگی ذامل اسے دیکھ سیدھا ہوا اور چہرے پر دلفریب مسکراہٹ سجا گیا
“کیا چاہتے ہو تم مجھ سے کیوں میرا راستہ روکتے کیوں میرے کھڑکی کے باہر کھڑے ہوتے ہو وجہ کیا ہے “
حور سینے پر بازو باندھے اپنی نظریں اس پر مرکوز کیے لہجے میں پریشانی لیے اس سے پوچھنے لگی
“اچھی لگتی ہو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے مختصر سا جواب دے گیا اس کی بات پر حور کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی جو ذامل کو نہیں دیکھی
“شاید تم بھول رہے ہو ملک ذامل کے میں تمہاری دشمن ہو”
وہ اسی پر نظریں جمائے اسے یاد دلانے لگی ذامل بھی سینے پر بازو باندھ کر سیدھا ہوا
“تم میری دشمن نہیں ہو جان ہمارے دونوں خاندانوں کے بیچ دشمنی ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے فورا بتانے لگا اور جان سن کر حور کو شدید غصہ آیا
“مجھے صرف میرے راستے کی رکاوٹ بننے اور میری کمرے کی کھڑکی کے پاس آکر کھڑی ہونی کی وجہ بتاؤ”
وہ اس کی بات نظرانداز کرتی آنکھیں سکیڑے اسے دیکھ پوچھنے لگی
“بیکوز آئی لو یو”
ذامل اسے صاف لفظوں میں اپنی دلی کیفیت بتا گیا حور بس اسے دیکھتی رہ گئی
“پیار تمہیں پتہ ہے تم گلی کے وہ آوارہ غنڈے ہو جسے ہر ہفتے پیار ہوتا ہے اور مہینے بعد وہ پیار کسی اور سے ہورہا ہوتا ہے صرف تم نہیں ہر مرد”
حور اس کی بات کو سنجیدہ نہ لیتے ہوئے اس کے احساس کی بےعزتی کرتی بولی
“یہ تمہیں پتہ چل ہی جائے گا کہ میں گلی کا آوارہ غنڈہ ہوں یا ایک ضدی عاشق”
ذامل سرد لہجے میں اس کی سیاہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے بولتا مونچھوں کو تاؤ دیتا گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا
“آیا بڑا ضدی عاشق”
منہ بنائے کہتے ساتھ وہ واپس اپنی گاڑی میں آکر بیٹھی اور ڈرائیور گاڑی سڑک پر دوہرا گیا ملک ذامل کی باتیں کہیں نہ کہیں حور کے دل و دماغ میں رہ گئی
حور نے حویلی میں قدم رکھا تو حاکم چوہدری کو ٹی وی لاؤنچ میں موجود پایا دراب چوہدری بھی وہی موجود تھے
“اسلام و علیکم”
حور نقاب نیچے کرتی سنجیدگی سے حاکم چوہدری کی جانب بڑھ کر گلے لگتی کہنے لگی حاکم چوہدری نے اس کی جانب دیکھا
“کیا ہوا میری گڑیا کو”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگے حور نے ان کی جانب دیکھا
“نہیں کچھ نہیں”
وہ انہیں دیکھ فورا سے جواب دینے لگی اور نظریں ابھی بھی حاکم چوہدری پر جمی تھی
“دادا واقع میرے ابو کو قتل کرنے والے ملک شہراز انکل ہے”
حور نے حاکم چوہدری کو دیکھتے ہوئے پوچھا حاکم چوہدری کو سامنے دیکھنے لگ گئے اس کی بات سے حور کو دیکھا
“تمہیں اپنے دادا پر شک ہے کیا”
وہ اسے دیکھ تھوڑے خفگی سے بولے حور فورا نفی میں سر ہلا گئی
“میرا وہ مطلب نہیں تھا دادا آپ کی حور کو تو خود سے بھی زیادہ آپ پر یقین ہے”
حور کہتے ساتھ ان کے گلے سے لگ گئی حاکم چوہدری مسکرا دیے
ملک ذامل اسوقت ڈیرے پر موجود سگریٹ کے گہرے گہرے کش لگا رہا تھا
“تمہیں کیا ہوگیا ہے ایسے کیوں بیٹھے ہو ناکام عاشق کی طرح”
شہریار ذامل کا بیسٹ فرینڈ اس کے پاس آکر بیٹھتا اسے دیکھ کر پوچھنے لگا
“میں نے جان سے محبت کا اقرار کردیا”
ذامل نظریں سامنے ہی مرکوز کیے اسے جواب دینے لگ گیا وہ اسے دیکھنے لگ گیا
“کردیا تھپڑ تو ضرور پڑا ہوگا”
شہریار فورا سے حیران سا ہوتا اس سے کہنے لگا جس پر ذامل نے گھور کر اسے دیکھا
“وہ مجھے گلی کا آوارہ غنڈہ سمجھ رہی ہے”
وہ اسے غصے سے بتانے لگا شہریار اثبات میں سر ہلا گیا
“وہ حور جان پورے گاؤں کی مشہور لڑکی جس پر گاؤں کے بہت سے لڑکے مرتے ہیں اور جتنوں نے بھی پرپوز کیا ہے اسے ہر کوئی اپنا منہ تڑوا کر ہی واپس لوٹا ہے حیرت ہے تجھے اس نے کچھ نہیں کہا”
شہریار اسے دیکھ فورا سے بتانے لگا ذامل کھڑا ہوا
“اگر وہ حور جان تو میں بھی ملک ذامل ہوں”
وہ سگریٹ زمین پر پھینک کر اس کے پاؤں دے کر کہنے لگا جس پر شہریار نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“ماننا تو ہوگا اسے”
وہ لہجے میں اعتماد لیے شہریار کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا شہریار اسے دیکھتا رہا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ کس قدر ضدی تھا
“تم میری دشمن نہیں ہو جان”
حور اپنے کمرے میں بیٹھی ٹیسٹ کی تیاری کررہی تھی اچانک اس کے ذہن میں ذامل کی کہی بات آئی اس کا چلتا ہوا ہاتھ رکا
“بیکوز آئی لو یو”
حور اسی کے متعلق سوچتے ہوئے بیڈکراون سے ٹیک لگا گئی اچانک وہ ہوش میں آئی
“تمہیں کیا ہے حور فضول بول رہا تھا ٹیسٹ ہے تمہارا”
حور خود سے جھنجھوڑتے ہوئے غصے بولتی کتاب میں منہ دے گئی تھی
“حور بی بی آپ کو ہاجرہ بی بی کھانے کیلیے بلا رہی ہیں”
ملازمہ دروازے پر دستک دیتے ہوئے اسے ہاجرہ بیگم کا پیغام دینے لگی حور نے سر اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا اور پھر نظر گھڑی پر ڈالی وہ پھر سے لیٹ ہو گئی تھی
“افف حور پڑھنے اور اس لچے آوارہ انسان کو سوچنے میں تم پھر لیٹ”
حور اپنے سر پر چپٹ لگا کر بولتی کتابیں وغیرہ بند کرتی ہیں رکھ تیزی سے باہر کی جانب بڑھ گئی تھی
حور بریک کے وقت کالج کے اوپر والے پورشن میں پھر رہی تھی اور کھڑکی کے پاس آکر کھڑی ہو گئی
“تم کیوں خاموش ہو “
نوال اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے اسے ہلا کر پوچھنے لگی
“نہیں کچھ نہیں پیپر اچھا نہیں ہوا”
وہ ہوش میں آتی نوال کو جھوٹ بولتی سامنے دیکھنے لگی
“پیپر اور تمہارا اچھا نہ ہو میں مان ہی نہیں سکتی”
نوال فورا سے اسے کہنے لگی حور نے نظریں نیچے کی جانب کی جہاں ملک ذامل سینے پر بازو باندھے آنکھوں پر گلاسز لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“حور”
نوال نے اسے پکارا مگر حور کو آواز نہ آئی نوال اس کی نظروں کا تعاقب کرتی نیچے کی جانب دیکھنے لگی
“یہ تو ملک ذامل علی ہے نا”
نوال فورا سے اسے پہنچانتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی اس کے اس طرح بولنے پر حور نے اسے دیکھا اور کھڑکی بند کردی
“لیکن یہاں کیوں کھڑا تھا”
وہ حور کی جانب دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی
“مجھے کیا پتہ میرا جیسے بیسٹ بڈی ہو ہونہہ”
حور تپ کر اسے جواب دیتے ساتھ کلاس کی جانب بڑھ گئی نوال اسے جاتا دیکھنے لگ گئی۔
“زاہد ملک شہراز پر نظر رکھو اس کے چہرے پر موجود مسکراہٹ سے مجھے خطرے کا احساس ہورہا تھا”
حاکم چوہدری اپنے کمرے میں موجود بیڈ پر بیٹھے ہوئے اپنے ہوتے کو دیکھ کر بولے
“بےفکر ہوجائیں دادا”
زاہدہ فرمانبرداری سے کہتے ساتھ انہیں کے پاس بیٹھ گیا
“اس شخص نے میرے بیٹے کو میری اکلوتی اولاد کو مجھ سے چھینا ہے اگر اب بھی اس نے یہی سب کیا تو برداشت نہیں کر سکو گا”
وہ تکلیف سے بھرے لہجے میں اسے دیکھ کر بولے شاید ان کے لہجے اور آنکھیں میں موجود تکلیف صاف دیکھ سکتا تھا
“اب ایسا کچھ نہیں ہوگا دادا”
زاہد انہیں تسلی دیتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگا جس پر وہ بھی مسکرا دیے۔
“مجھے یہی امید ہے تم سے”
حاکم چوہدری زاہد کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے مزید حوصلہ دیتے ہوئے بولے جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گیا
“راشد بتا رہا تھا کہ ملک ذامل حور جان کے بہت ارد گرد رہتا ہے اس پر بھی نظر رکھو”
حاکم چوہدری کو جیسے ہی راشد کی بات یاد آئی انہوں نے فورا سے زاہد کو بتایا جس پر زاہد کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھی
“میری بہن کیساتھ کوئی غلط کرنے کی جرات بھی نہیں کرسکتا ہے دادا”
زاہد غصے سے کہتے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا اور حاکم چوہدری کو تسلی سی ہوئی
کالج سے واپسی پر جب حور گھر آرہی تھی تو ذامل کو کالج کے باہر ہی موجود پایا قہ اسے ایک نظر دیکھ نظرانداز کرتی گاڑی میں بیٹھ گئی اور ڈرائیور نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی آج وہ حور کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنا تھا حور جیسے ہی حویلی پہنچی گاڑی سے اتر کر اندر کی جانب بڑھی اور ٹی وی لاؤنچ میں کسی کو موجود نہ دیکھ کر وہ روم میں فریش ہونے کیلیے بڑھ گئی
حور فریش وغیرہ ہوکر باہر آئی تو زاہد کو اپنے بیڈ پر بیٹھا موجود پایا وہ تھوڑی پریشان ہوئی
“زاہد لالا آپ خیریت”
وہ بیڈ کی جانب قدم بڑھا کر مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر زاہد نے اسے دیکھا
“مجھے بات کرنی ہے گڑیا بیٹھو”
زاہد چوہدری لہجے میں نرمی لیے اس سے کہتے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا
“جی لالا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھنے لگی زاہد اسے ہی دیکھ رہا تھا
” ملک ذامل نے تمہیں تنگ کیا ہے یا کوئی دھمکی “
زاہد لہجے میں فکرمندی لیے حور کو دیکھ کر پوچھنے لگا حور حیران سی اسے دیکھ رہی تھی
“نہیں بھائی ایسا کچھ نہیں ہے “
وہ فورا سے نظریں چراتی جھوٹ بولنے لگی زاہد سامنے دیکھنے لگا
“پھر راشد نے کیوں بولا”
زاہد اب کی بار سرد لہجے میں مخاطب ہوا تھا حور گھبرائی تھی
“بس ایک ہی دفعہ وہ بیچ راستے میں گاڑی روک کر کھڑا تھا بھائی پھر نہیں”
حور نے فورا سے اسے جھوٹ بولا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی وہ ایسا کیوں کررہی ہے زاہد اس کے سر پر ہاتھ رکھتا کمرے سے چلا گیا حور نے سکھ کا سانس لیا۔
زاہد باہر آیا تو نظر ازقہ پر گئی جو کچن سے باہر نکل رہی. تھی وہ سینے پر بازو باندھے رک گیا ازقہ نے اسے دیکھا نظریں جھکا کر سائیڈ سے گزرنے لگی زاہد نے اس کا راستہ روکا ازقہ نے اسے دیکھا دوسری طرف سے جانے لگی زاہد اس طرف بڑھ گیا
“کیوں کررہے ہیں”
ازقہ معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“میرا دل کر رہا ہے”
وہ مسکراتے ہوئے اسے جواب دینے لگا ازقہ نے نظریں ادھر ادھر گھمائی
“کسی نے دیکھ لیا تو”
وہ ڈرتے ہوئے گھبرا کر کہتی نظریں جھکا کر بولی
“تو کیا تم بہت جلد مسز زاہد ابرار چوہدری بننے والی ہو”
وہ پراعتماد لہجے میں اسے بتانے لگا ازقہ کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی اور دل نے ایک بیٹ مس کی تھی
“ابھی جانے دیں”
وہ کنفیوز سی ہوتی اسے بولی اور اس کی معصومیت پر ایک بار پھر زاہد چوہدری ہار کر رہ گیا اور اسے جانے کا راستہ دینے لگا وہ تیزی سے بھاگ گئی
حور کمرے کی بیلکونی میں کھڑی چائے پی رہی تھی جب اس کی نظر پھر ذامل پر گئی
“تمہارا مسئلہ کیا ہے پاگل ہو”
غصے سے اسے گھور کر کہنے لگی ذامل ہلکا سا مسکرا دیا
“تمہیں اپنی جان کی ذرا پرواہ نہیں ہے اگر میرے دادا یا میرے لالا کو پتہ چل گیا کہ تم میرے اردگرد ہر وقت پھرتے ہو تو جان لے لیں گے تمہاری”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے بتانے لگی
“لے لیں”
وہ حور پر نظریں جمائے اسے بولا اور حور اسے بس دیکھتی رہ گئی
“تمہیں اپنی جان کی پرواہ نہیں ہے”
حور حیران سی اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی
“نہیں”
ذامل فورا لفظی جواب دیتا حور کو واقع متاثر کر گیا
“بھاڑ میں جاؤ”
حور اپنے تاثرات کو نارمل کرتی غصے سے کہتے ساتھ کھڑکی زور سے بند کر گئی اور وہ اسے بس مسکرا دیا
“ذامل تم کہاں تھے”
رات کے دس بجے اسے حویلی آتا دیکھ ملک شہراز فکرمندی سے پوچھنے لگے ذامل نے مونچھوں کو تاؤ دیا
“کچھ کام وغیرہ دیکھ رہا تھا آپ نے کھانا کھا لیا”
ذامل جواب دیتا ملک شہراز سے پوچھنے لگا
“نہیں تمہارا انتظار کررہا تھا”
وہ فورا سے اسے کہتے ساتھ ڈائننگ کی جانب بڑھ گئے ذامل جانتا تھا وہ اس کے بغیر کبھی بھی نہیں کھانا کھاتے تھے وہ خاموشی سے ڈائننگ ایریا کی جانب بڑھ گیا
وہ دونوں خاموشی سے کھانا کھا رہے تھے
“حاکم چوہدری کوئی نئی سازش تو نہیں کررہا ہے ہم دونوں کے خلاف”
ملک شہراز خاموشی توڑتے ہوئے ذامل سے مخاطب ہوئے
“نہیں”
ذامل لفظی جواب دیتا پانی پینے لگ گیا اور ملک شہراز اثبات میں سر ہلا گیا
“مگر نظر رکھے رکھو”
وہ اسے تہنبیہ کرنا نہ بھولے جس پر ذامل سر اثبات میں ہلا گیا اور وہ مسکرا دیے۔
جاری ہے۔
