Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht E Dil) Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht E Dil) Episode 17
“تم یہاں”
نوال کو ڈیڑے پر دیکھ کر شہریار حیرانگی سے کھڑا ہوتا پوچھنے لگا
“ہاں وہ مجھے تم سے کچھ پوچھنا تھا”
نوال اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بتانے لگی شہریار نے اس کی جانب قدم بڑھائے
“بولو”
شہریار اسے غور سے دیکھتا کندھے اچکائے پوچھنے لگا
“تمہیں معلوم ہے نا حور کا انکار مت کرنا بہت امید سے تمہارے پاس آئی ہوں مجھے بتا دو وہ کہاں ہے”
نوال اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر معصومیت سجائے اسے کہنے لگی
“تم بتادو گی”
وہ فوراً اسے دوسری جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا نوال اسے دیکھ رہی تھی
“آئی پرامس میں نہیں بتاؤں گی پلیزز بتادو یار”
نوال فوراً سے اسے مسکرا کر بولی شہریار نے اسے دیکھا اس کے لب مسکرائے
“یقین کرکے بتارہا ہوں امید کرتا ہوں تم یہ یقین نہیں توڑو گی”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا نوال اثبات میں سر ہلا گئی
“ذامل اسے کیڈنیپ کرکے لے گیا تھا اس کے ساتھ نکاح بھی کرلیا ہے “
شہریار پرسکون سا اسے سب بتانے لگا اور نوال آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھ رہی تھی
“واقع”
نوال بےیقینی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی شہریار اثبات میں سر ہلا گیا
“پتہ نہیں اسے کیسے دھمکا کر خود کیساتھ نکاح کرنے پر راضی کیا ہے لیکن جو بھی ہوا ٹھیک ہوا”
شہریار مسکراتے ہوئے سامنے دیکھتے ہوئے بتانے لگا نوال اسے دیکھتی رہ گئی
“یہ ٹھیک ہوا ہے اگر ان دونوں کے خاندان والوں کو پتہ لگ گیا تو جینا حرام سمجھو انکا ہوگا”
نوال پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے کہنے لگی
“ذامل اس کی حفاظت کرلے گا ڈونٹ وری”
شہریار اعتماد بھرے لہجے میں اسے بتانے لگا جس پر نوال منہ بنا گئی
“ہونہہ وہ وہی ہے جس نے اپنے دادا کے کہنے پر اسے چیٹ کیا “
نوال اسے گھورتے ہوئے یاد دلاتی بولی شہریار نے اسے دیکھا
“اسے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے”
وہ اسے دیکھتا سنجیدگی سے بتانے لگا نوال خاموشی سے اسے دیکھنے لگی
“خیر آج تو بہت لیٹ ہوگیا ہے میں کل تمہیں یہی ملو گی مجھے حور سے ملوانے لے چلنا “
نوال اسے کہتے ساتھ وہاں سے جانے کیلیے مڑ گئی
“خیال رکھنا یوں بار بار ملاقات ہوتے پیار نہیں کر بیٹھنا”
وہ ہنستے ہوئے اسے تنگ کرتا کہنے لگا نوال نے مڑ کر اسے دیکھا
“اتنے برے دن نہیں آئے ابھی میرے”
وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور کر جواب دیتی وہاں سے چلی گئی شہریار قہقہ لگا کر ہنسا۔۔
وہ کمرے میں خاموشی سے بیٹھی تھی نیچے نہ جانے کی ضد کیے ہوئے تھی
“حور ناشتہ لگا دیا نیچے آؤ”
ذامل کمرے میں آتے ہوئے اسے نرمی سے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا
“میں نہیں کھاؤں گی”
حور اسے دیکھے بغیر سرد لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہنے لگی
“بچوں کی طرح ضد میں کرو مان جاؤ”
ذامل اس کی جانب آتا اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا حور نے اس کی جانب دیکھا
“نہیں کا مطلب نہیں ہوتا ہے”
وہ اسے غصے سے دیکھتی جواب دینے لگی ذامل اس کے ساتھ بیٹھا حور تھوڑا فاصلہ اختیار کر گئی
“میں کروا کر رہوں گا”
ذامل اسے اسی کے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے بولا حور ناک پھلا گئی
“تم ناشتہ کرلو جو کہو گی وہ کرو گا”
ذامل اسے آفر دیتے ہوئے کندھے آچکا کر کہنے لگا جس پر حور نے اسے دیکھا
“وعدہ بدلو گے تو نہیں”
حور فوراً سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی ذامل اثبات میں سر ہلا گیا ذامل نفی میں سر ہلا گیا
“مجھے حویلی لے چلو گے”
حور فوراً سے کہنے لگی ذامل اسے دیکھنے لگا دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
“بولو”
حور اسے خاموش پا کر فوراً سے پوچھنے لگی جس پر ذامل بس اثبات میں سر ہلا گیا
“ناشتہ کرو سب”
ذامل اٹھ کر کھڑا ہوتا اسے کہنے لگا حور خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور دونوں کی نیچے کی طرف بڑھ گئے
دونوں کے ناشتہ کیا ذامل ناشتے کے وقت خاموش رہا حور بھی خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی
“چلیں”
ناشتہ ختم ہوتے ہی حور فوراً سے پوچھنے لگی ذامل نے اسے دیکھا
“تم خود کو ڈھک کر آؤ میں گاڑی میں انتظار کررہا ہوں”
ذامل سنجیدگی سے کہتے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گیا اور حور اوپر کی طرف بڑھ گئی خود کو چادر سے ڈھک کر وہ نیچے آئی اس کے گاڑی میں آکر بیٹھتے ہی ذامل نے گاڑی سڑک پر دوہرا دی۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں حویلی کے باہر موجود تھے ذامل اور حور دونوں گاڑی سے اترے ملازم وہاں موجود تھے حور کو دیکھ وہ ان دونوں کو خاموشی سے جانے کی اجازت دینے لگ گئے
حویلی میں گہری خاموشی سے چھائی ہوئی تھی حور نظریں ادھر ادھر گھمائے ذامل کے ساتھ اندر کی طرف بڑھی سب ٹی وی لاؤنچ میں پریشان سے بیٹھے تھے حور ان سب کو دیکھنے لگی
“دادا جان”
حور مسکراتے ہوئے انہیں پکارنے لگی حور کی آواز پر حاکم چوہدری سمیت سب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“میری گڑیا”
حاکم چوہدری حور کو دیکھ خوشگواری سے کہتے ساتھ اس کی طرف بڑھے مگر ذامل کو قدم دیکھ رک گئے
“حور یہ یہاں”
حاکم چوہدری حور سے فوراً سوال کرنے لگی حور نے نظریں گھما کر ذامل کو دیکھا
“میں آپ کو سا”
ذامل ابھی بول رہا تھا جب حاکم چوہدری نے اسے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا
“ہم نے اپنی حور سے پوچھا ہے حور بتائیں”
وہ ذامل کو خاموش رہنے کا بولتے حور سے پوچھنے لگے ہر آفراد کی نظر ان پر جمی تھی
“د۔۔دادا وہ ذامل نے نکاح ۔۔۔کرلیا ہے مجھ سے”
حور ہمت جمع کرتے ہوئے انہیں سچائی نم آنکھوں سے بتانے لگی وہاں موجود ہر شخص اپنی جگہ ساکت ہو گیا آدم شدید غصے میں آ گیا
“آپ ہوش میں تو ہیں حور”
حاکم چوہدری غصے سے اونچی آواز میں پہلی دفعہ حور سے مخاطب ہوئے حور سہم گئی
“دادا یہ سچ ہے لیکن یہ پوری بات نہیں ہے میری پوری بات سنیں”
حور فوراً سے حاکم چوہدری کی طرف بڑھتے ہوئے آنسو لیے بولی
“ہمیں نہیں سننی”
حاکم چوہدری اسے خود سے دور کرتے سرد لہجے میں کہنے لگے حور انہیں دیکھ رہی تھی وہ اتنا جانتی تھی کوئی اسے سمجھے یا نہ سمجھے اس کے دادا سمجھیں گے مگر یہاں تو وہ فوراً ہی بدل گئے تھے
“دادا میری بات تو سنیں آپ کیوں نہیں سن”
حور حاکم چوہدری کو روتے ہوئے جھنجھلا کر اداسی سے مخاطب کرنے لگی جب انہوں نے اس کی گال کی جانب ہاتھ بڑھایا حور کے لب سل گئے
” بیوی ہے میری ملک ذامل کی عزت ہے سمجھے اور آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ میری بیوی کے ساتھ اس طرح سے پیش آئی”
ملک ذامل حاکم چوہدری کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں لیے سرد لہجے میں کہتے ساتھ حور کے آگے آ گیا حور سمیت سب اسے دیکھنے لگ گئے
“تو اپنی بیوی کو یہاں سے لے جاؤ یہ نہ ہو ہم کچھ غلط کر بیٹھے”
وہ اپنا ہاتھ جھٹک کر نظریں دوسری سمت کیے پتھریلے لہجے میں کہنے لگے ذامل نے حور کی جانب دیکھا اور اس کا ہاتھ مضبوط گرفت میں لیتا حویلی سے لے جانے لگا
“مجھے دادا سے بات کرنی ہے چھوڑو میرا ہاتھ ذامل چھوڑو”
حور اس سے ہاتھ چھڑوانے کی سعی کرتے ہوئے مسلسل ایک ہی بات کرنے لگی وہ اس کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے حویلی سے باہر لایا اور گاڑی سے زور سے لگایا
“مجھے دادا سے بات کرنی ہے ہٹو”
حور اسے غصے سے گھورتے ہوئے چلا کر بولی جب امام نے اس کی بازوؤں پر مضبوط گرفت حائل کردی اس کی انگلی حور کو اپنے بازوؤں میں دھنستی ہوئی محسوس ہورہی تھی
“سمجھ نہیں آرہی ہے نہیں کرنا چاہتے وہ تم سے بات”
وہ اسے سخت تیور لیے غصے سے کہنے لگا حور نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
“وہ غلط سمجھ رہے ہیں مجھے میں ان کی نفرت برداشت نہیں کرسکتی ہوں”
حور روتے ہوئے کہتے ساتھ اس کے سینے میں منہ دی گئی اور ذامل کی ہارٹ بیٹ یکدم تیز ہوگئی وہ اپنی جگہ ساکت ہوگیا۔
کچھ دیر حور اسی طرح اس کے سینے میں منہ دیے روتی رہی پھر اچانک جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی آنسو صاف کرتے ہوئے وہ گاڑی میں بیٹھ گئی ذامل اس کی حالت سمجھتا خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ کر سٹارٹ کرتا سڑک پر دوہرا گیا ۔
وہ دونوں گھر پہنچ چکے تھے حور فوراً سے اوپر کی طرف بڑھ گئی ذامل اس کے پیچھے گیا
“حور”
ذامل اس کے پاس آکر اسے پکارنے لگا حور نے مڑ کر اسے دھکا مارا
“سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے نہ آتے تم میری زندگی تمہاری وجہ سے آج میں اس حالت میں ہوں میرے دادا مجھ سے نفرت کرنے لگ گئے ہیں میری ماں میری شکل نہیں دیکھنا چاہتی ہوں گی میرے بھائی مجھے غلط سمجھ رہے ہیں۔ کسی کی وجہ سے صرف اور صرف تمہاری وجہ سے ذامل تمہاری وجہ سے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے روتے ہوئے غصے سے چلاتے ہوئے بولی ذامل اسے سن رہا تھا
“نفرت کرتی ہوں میں تم سے شدید نفرت اور یہ نفرت اب بڑھے گی کم نہیں ہوگی یاد رکھنا”
حور اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے غصے سے غراتے ہوئے بولی جب ذامل نے اس کی کلائی تھامے کر جھٹکے سے قریب کیا۔۔
“میں سب برداشت کرسکتا ہوں تمہاری نفرت نہیں میں مانتا ہوں غلطی ہے میری اور قبول بھی کررہا تھا تمہارے دادا نے بولنے کا موقع نہیں دیا میں تمہیں ہر چیز کی اجازت دیے سکتا ہوں جان مگر خود سے نفرت کرنے کی اجازت میں ہرگز نہیں دوں گا”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے اپنے قریب شدت سے بولتا اس کے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھنے لگا
“جان مت بلاؤ مجھے دور رہا کرو مجھ سے پہلی بھی انہی باتوں نے مجھے پگھلا دیا لیکن سب نہیں”
حور اس کے دونوں ہاتھوں کو جھٹک کر شہادت والی انگلی دیکھائی سرد آنکھوں سے اسے بولی
“نہ میں پہلا جھوٹا تھا نہ اب”
وہ اسے فوراً سے جواب دینے لگا حور اسے دیکھنے لگی
“جو مرضی بولو تم نے میرا اعتماد کھو دیا ہے”
حور اسے سرد لہجے میں بتانے لگی ذامل اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا
“میں اعتماد واپس لے آؤ گا”
وہ اسی پر نظریں جمائے اعتماد بھرے لہجے میں کہنے لگا حور مسکرا دی
“ناممکن ہے”
حور مسکرا کر اسے طنزیہ بولی ذامل کے لب مسکرائے
“ناممکن کو ممکن کرنا ملک ذامل کو آتا ہے”
ذامل اسے کے انداز میں مسکراتے ہوئے اسے جواب دینے لگا ذامل اور حور کی نظریں آپس میں ٹکرائیں
“ایک وقت پھر سے لاؤں گا جب تم مجھے سسی شدت سے چاہو گی جان اور اس دفعہ اس کو سٹوری کی اینڈنگ ہیپی ہوگی ہر جگہ تمہارا محافظ بنو گا تمہیں ہمیشہ اپنا بنا کر رکھو گا تمہیں خود کے اس قدر کرلوں گا تم دو منٹ ملک ذامل کے بغیر نہیں رہ سکو گی وعدہ ہے میرا”
ذامل اس کے چہرے پر گہری نظریں جمائے پر اعتماد لہجے میں اسے ایک ایک بات کہنے لگا حور بس اسے دیکھ رہی تھی
“دیکھتے ہیں “
حور اسے جواب دیتے ساتھ باتھروم کی طرف بڑھ گئی ذامل اسے جاتا دیکھنے لگ گیا
“بن کر رہنا تمہیں صرف ملک ذامل کا ہے”
ذامل باتھروم کے دروازے پر نظریں ٹکائے بول کر وہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“صاحب میں نے ملک ذامل کو حور بی بی کے ساتھ دیکھا ہے”
ملازم فوراً سے آتے ہوئے ملک شہراز کو بتانے لگا جس پر وہ اسے دیکھنے لگ گئے
“تمہیں یقین ہے وہ ملک ذامل ہی ہے”
ملک شہراز فورا سے ملازم سے ایک بار کنفرم کرنا ضروری سمجھنے لگے
“جی صاحب”
ملازم فوراً سے بتانے لگا ملک شہراز اثبات میں سر ہلا گئے
“دادا کے دھوکے بازی یہ دن بھی دیکھنا تھا ہمیں”
ملک شہراز افسردگی سجائے خود سے کہنے لگے اور ملازم کی جانب دیکھا
“نظر رکھو ذامل پر جیسے ہی پتہ لگے مجھے بتانا ہے کہاں ہے وہ “
وہ ملازم کو دیکھتے ہوئے حکم دیتے ساتھ اندر کی طرف قدم بڑھا گئے اور ملازم ملک شہراز کے حکم پر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا
جاری ہے ۔
