Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dasht E Dil) Episode 13

پوری رات ذامل کی وہی بیڈ پر ساکت بیٹھے گزری تھی اور دوسری طرف وہ بلکل سیدھی لیٹی اس کیساتھ گزرا ہر ایک لمحہ یاد کرتی اپنی رات گزار گئی تھی۔۔
حور کے کانوں میں فجر کی اذانوں کی آواز گونجی وہ خود پر سے بلینکٹ ہٹا کر باتھروم کی طرف بڑھ گئی وضو کرکے بالوں کو اچھے سے چھپائے وہ باہر آئی شاید اسے اس قدر تکلیف میں دیکھ کر خدا نے اسے خود سے گفتگو کرنے کیلیے اپنے در پر بلایا نیت باندھ کر وہ نماز ادا کرنے لگی نماز ادا کرتی سلام پھیر کر دعا کیلیے ہاتھ اٹھا گئی آنکھیں بھیگ رہی تھی
“اے اللہ تو رحیم ہے تو مہربان ہے میں جانتی ہوں میں نے ایک نامحرم سے محبت کی مگر ایک حد میں رہ کر مگر اس نے مجھے دھوکہ دیا میں کچھ نہیں چاہتی ہوں اس کے ساتھ کچھ غلط ہو بس یہ چاہتی ہوں اس دل سے اس انسان کی محبت جلد نکال دے اور مجھے اتنا بتا دے کہ میرے لیے کیا صحیح ہے غلط ہے آج آپ کی یہ بندی بے بےحد تکلیف میں ہے مجھے سکون چاہیے اور صبر”
یہ کہتے ساتھ حور سجدے میں جاگری اور زارو قطار رونے لگ گئی۔۔


اندھیرا روشنی میں تبدیل ہوگیا تھا یہ صبح حور کیلیے ایک سرد صبح تھی وہ اپنے کمرے میں ہی بیڈ پر لیٹی تھی
تبھی حاکم چوہدری کمرے میں آئے اور اسے دیکھا حاکم چوہدری کو دیکھتے ہی حور سیدھی ہوکر بیٹھی۔
“کیسی ہے میری گڑیا “
وہ پیار سے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگے۔
“بہتر ہوں دادا “
حور لبوں پر زبردستی مسکراہٹ سجائے انہیں جواب دینے لگی۔
“لگ تو نہیں رہا ہے آپ کی آنکھیں اتنی سوجھی کیوں ہوئی ہیں؟”
حاکم چوہدری فکرمند سے اسے غور سے دیکھتے کہنے لگا
“شاید زیادہ سونے کی وجہ سے میں بہتر ہوں فریش ہوکر نیچے آتی ہوں میں”
حور نظریں چرا کر کہتے ساتھ اٹھ کر جانے لگی
“حورِ جان”
حاکم چوہدری نے اسے پکارا حور کے بڑھتے قدم رکے اور اس نے مڑ کر انہیں دیکھا۔
“جی دادا “
حور فوراً سے ان سے پوچھنے لگی حاکم چوہدری اپنی جگہ سے اٹھے
“آپ نے جواب نہیں دیا ہمیں؟”
وہ اس کے سامنے آکر کھڑے ہوتے ہوئے کہنے لگے حور انہیں ناسمجھی سے دیکھنے لگی۔
“کس بات کا دادا؟”
حور ناسمجھی سے ان سے پوچھنا ضروری سمجھنے لگی
“آدم کیلیے ہاں ہے یا نہ”
حاکم چوہدری نے اسے دیکھتے ہوئے اس کی الجھن ختم کی حور نے فوراً انہیں دیکھا
“دادا مجھے یہ رشتہ منظور ہے”
حور نے جیسے یہ الفاظ بولے تھے وہ یہی جانتی تھی مگر اسے یہی اپنے لیے ٹھیک لگا۔
“مجھے پتہ تھا میری گڑیا میں آپ کی ماں سے بات کرتا ہوں اور آج ہی سب کو یہ خبر سناؤ گا”
حاکم چوہدری خوشی سے کہتے ساتھ کمرے سے چلے گئے اور حور نم آنکھوں سے انہیں جاتا دیکھنے لگی۔۔۔


ذامل ویسے ہی بیٹھے بیٹھے سو گیا تھا اسے خود بھی معلوم نہ ہوا کب اس کی آنکھ لگی ہے جب دروازے پر دستک ہونے سے اس کی نیند ٹوٹی
“کون”
وہ نیند سے بیدار ہوتا سخت لہجے میں پوچھنے لگا
“صاحب ملک صاحب ناشتے پر بلارہے ہیں”
ملازم اسے بتانے لگا ذامل نے گھڑی پر نظر ڈالی۔
“آرہا ہوں”
وہ کہتے ساتھ باتھروم کی طرف بڑھ گیا اور ملازم نیچے کی طرف بڑھ گیا
کچھ دیر میں فریش وغیرہ ہوکر وہ نیچے آیا ملک شہراز نے اسے دیکھا
“رات کو کیا ہوا تھا”
ملک شہراز اس کے بیٹھتے ہی فوراً سوال پوچھنے لگے
“بس اکیلا رہنا چاہتا تھا”
ذامل جواب دیتے ساتھ چائے کا کپ لبوں سے لگا گیا ۔
“آج زمینوں کو دیکھ آؤ اپنے اس دوست کو ساتھ لے جا کر”
ملک شہراز ناشتہ کرتے ہوئے کہنے لگے ذامل سر کو خم دے گیا۔
“تم مرد ہو ذامل ہم مانتے ہیں ہم نے آپ سے غلط کروایا مگر وہ سب آپ کیلیے کیا تھا آپ کی ماں باپ کی موت کی خاطر مجھے نہیں معلوم تھا آپ سیریس ہو جائیں گے یہ جو پیار کا بھوت سر پر سوار ہوا ہے اسے ختم کریں”
ملک شہراز اسے دیکھتے سنجیدگی سے سمجھانے لگے ذامل نے انہیں دیکھا ۔
“یہ پیار کا بھوت دو مہینے پہلے نو سال کی عمر سے چڑھا ہوا ہے ملک ذامل نے اپنے پیار کو قربان کیا ہے آپ کی خاطر”
وہ انہیں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہتے ساتھ اٹھ کر بھاری قدم اٹھائے باہر کی جانب بڑھ گیا۔


“ناشتے کے بعد آپ سب لوگ ٹی وی لاؤنچ میں ملے مجھے ضروری بات کرنی ہے”
حاکم چوہدری سب کو دیکھتے ہوئے اپنی جانب متوجہ کرتے ہوئے کہنے لگے سر اثبات میں سر ہلا گئے اور ناشتہ کرنے لگ گئے۔
ناشتہ کرنے کے بعد حاکم چوہدری کے حکم کے مطابق سب لوگ ٹی وی لاؤنچ میں موجود تھے
“مجھے آپ سب سے ضروری بات کرنی ہے ایک ہفتے بعد زاہد اور ازقہ کی رخصتی ہے اسی کے ساتھ حورِ جان اور آدم کی شادی بھی ہوگی حورِ جان سے میں نے پوچھ لیا اسے کوئی اعتراض نہیں ہے ہے نا حور”
حاکم چوہدری سب کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگے دراب چوہدری کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ نمودار ہوئی اور آدم کے لب بھی مسکرائے تھے ازقہ زاہد جبران صارم حور کو دیکھنے لگے۔
“جی”
حور جواب دیتے ساتھ اٹھ کر وہاں سے چلی گئی زاہد اسے جاتا دیکھنے لگ گیا ازقہ اس کے پیچھے گئی
“حور یہ کیا تھا”
ازقہ کمرے میں آتی اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی حور نے اسے دیکھا
“مجھے یہی ٹھیک لگا ہے میں کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتی ہوں اب ادھر اپنوں کے سامنے تو رہوں گی”
حور ازقہ کو دیکھتے ہوئے اسے جواب دینے لگی ازقہ اسے دیکھنے لگی
“تمہیں پتہ ہے تم نے کیا کیا ہے تم نے آدم کیلیے ہاں کی ہے”
ازقہ اسے حیرت سے دیکھتے بتانا ضروری سمجھنے لگی حور نے ازقہ کو دیکھا
“تو آپ بتائیں اور کیا کروں میں ہاں بولیں اور بدل گیا ہے وہ”
حور ازقہ کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہنے لگی ازقہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی
“جیسی تمہاری مرضی”
ازقہ یہ کہتے ساتھ وہاں سے چلی گئی اور اس کے جاتے ہی حور بیڈ پر بیٹھ گئی آنکھوں میں نمی فوراً آ گئی تھی۔۔


“مبارک ہو تمہیں تمہاری جان”
شہریار ذامل کے پاس آکر مسکراتے ہوئے ابھی بول رہا تھا جب ذامل نے اس کا گریبان پکڑا
“جان صرف میں کہ سکتا ہوں سمجھا”
وہ غصے سے سرد لہجے میں اسے بولا شہریار گھبرا گیا
“ٹھیک ہے بھائی حاکم چوہدری کی پوتی بول دیتا ہوں”
شہریار اس کا ہاتھ گریبان سے ہٹاتے ہوئے گھبراتے ہوئے کہنے لگا ذامل اثبات میں سر ہلا گیا
“حاکم چوہدری کی پوتی کا رشتہ پکا ہوگیا ہے اگلے ہفتے شادی ہے اس کی”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا ذامل نے فوراً اسے دیکھا
“تجھے کس نے بتایا”
ذامل ایک دم سیدھا ہوکر بےچینی سے پوچھنے لگا
“اعلان ہوچکا ہے آدھے گاؤں میں آدھے گاؤں میں ہوجائے گا”
وہ اسے مسکراتے ہوئے کہنے لگا ذامل نے جیب سے سگریٹ نکال کر لبوں سے لگائی
“تم تو خوش ہو گے نا “
شہریار اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ذامل نے اسے دیکھا
“مجھے لڑکے کا معلوم کرکے دے کس کے ساتھ ہوا ہے “
ذامل دھواں ہوا میں اڑاتا اسے سنجیدگی سے کہنے لگا شہریار اس کے سامنے آیا۔
“تمہیں اس سے کیا”
شہریار اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا ذامل اسے دیکھنے لگا
“تجھے سب معلوم ہے نا جتنا کہا ہے اتنا کر”
ذامل اسے کہتے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلا گیا شہریار اسے جاتا دیکھنے لگا
ذامل شہریار کی باتیں سوچتے ہوئے چل رہا تھا جب سامنے سے آتے وجود سے ٹکرایا
“دیکھ کر نہیں چل سکتے”
آدم غصے سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ذامل نے اسے دیکھا
“تم دیکھ لیتے”
ذامل سرد لہجے میں کہتے ساتھ سائیڈ سے جانے لگا۔
“آج میں نے تجھے معاف کیا آج میں بہت خوش ہوں “
وہ اسے جاتا دیکھ کر مسکرا کر کہنے لگا ذامل نے مڑ کر اسے دیکھا
“مجھے میری حور جو ملنے والی”
آدم اسے دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے بول رہا تھا جب ذامل آگے بڑھ کر ایک زوردار مکہ اس کے منہ پر مار گیا
“نام نہ لی اس کا سمجھا”
وہ سرد نگاہوں سے اسے غصے سے چیخ کر کہنے لگا جس پر آدم کے لب مسکرا دیے
“تو بس اب یہی کر اپنے منہ سے ہاں کی ہے اس نے اور تیری چھٹی کردی خیر اس نے تیرے لیے ویسے بھی کبھی ہاں نہیں کرنی تھی ایک طرفہ پیار ہی رہ جائے گا تیرا “
آدم کے الفاظ ذامل کو غصہ دلوانے پر مجبور کررہے تھے مگر اپنے غصے پر قابو کرتا وہ اس کی سننے لگا
“تو سچ بول رہا ہے”
ذامل اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“یقین نہیں ہوتا تو ایک ہفتے بعد آکر خود دیکھ لینا “
یہ کہتے ساتھ آدم وہاں سے چلا گیا اور ذامل اسے جاتا دیکھنے لگا
“حاکم چوہدری تم کیسے اس شخص کیساتھ حور کی شادی کروا سکتے ہو”
ذامل آدم کو جاتا دیکھ خود سے بولتا حویلی کا رخ کرگیا۔


زاہد لان میں پریشان ٹہل رہا تھا تبھی ازقہ وہاں آئی اور نظر اس پر گئی
“پریشان ہیں”
وہ اس کے پاس آکر اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی زاہد اثبات میں سر ہلا گیا
“حور کی وجہ سے”
ازقہ نے ایک اور سوال کیا زاہد اثبات میں سر ہلا گیا
“مجھے سمجھ نہیں آرہی اس نے آدم کیلیے کیوں ہامی بڑھی”
زاہد پریشانی سے ازقہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا دونوں ساتھ چل رہے تھے ۔
“وہ بچی نہیں ہے زاہد ہوسکتا ہے کچھ سوچ کر فیصلہ کیا ہو تسلی نہیں ہے تو خود اس سے بات کرکے دیکھیں”
ازقہ زاہد کو سمجھاتے ہوئے کہنے لگی زاہد اسے دیکھنے لگ گیا
“مجھے بات ہی کرنی ہوگی اور تھینک یو”
وہ مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ازقہ آئبرو اچکا گئی۔
“مجھے سمجھانے کیلیے”
زاہد اسے خود کو دیکھتا پاکر بتانے لگا جس پر ازقہ مسکرا دی
“یہ میرا فرض ہے”
ازقہ مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ وہاں سے چلی گئی زاہد اسے جاتا دیکھنے لگا


حور اس وقت بیلکونی میں کھڑی تھی آنکھوں میں آنسو تھے وہ کہیں سے بھی نہیں اسوقت ایک مغرور سرپھری نواب زادی نہیں لگ رہی تھی بلکل ٹوٹی ہوئی سی لگ رہی تھی۔
تبھی اس کا فون بجا مگر وہ نظر انداز کرتی نظریں باہر کیے کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتی تھی
“کیا میں نے آدم کیلیے ہاں کرکے ٹھیک کیا”
وہ خود سے سوال کرنے لگی اور جواب سوچنے لگی
“ہاں ٹھیک کیا ہے”
حور خود کو تسلی دینے کیلیے بولتی کمرے میں آ گئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
اچانک نظر سائیڈ ٹیبل پر گئی جہاں ٹیڈی پڑا تھا آنکھوں میں ایکدم غصہ درخآیا اٹھ کر غصے سے اس ٹیڈی کو اٹھتی باہر پھینک گئی
“نفرت ہے مجھے تم سے نفرت ہے مجھے تمہاری دی ہوئی ہر چیز نفرت ہے تمہارے ساتھ گزرے ہوئے ہر ایک لمحے سے”
وہ نم آنکھوں سے لہجے میں غصہ کیے بولتی کھڑکی بند کرکے اس کے ساتھ لگ کر آنسو بہانے لگی۔
ذامل کا دل حور کو شدت سے دیکھنے کا کررہا تھا اس لیے ہمیشہ والے راستے سے آتا وہ اس کی ایک جھلک دیکھنے کیلیے بےچین تھا مگر اپنا دیا ہوا ٹیڈی وہ زمین کر پڑا دیکھ اسے اٹھانے لگا
“آئی ایک سوری جان”
وہ ٹیڈی اٹھا کر کھڑکی پر نظر ڈالتا سر جھٹک کر کہنے لگا۔
“عشق نہ ہو تو ہی بہتر ہے
اگر ہوجائے تو انسان کو فنا کردیتا ہے”🖤
جاری ہے۔۔