Dasht E Dil By Mahnoor Shehzad Readelle50291 (Dasht E Dil) Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
(Dasht E Dil) Episode 11
آج چھٹی کا دن تھا حور فریش وغیرہ ہوکر ذامل سے کال کرکے ناشتے کیلیے نیچے آئی سب لوگ ڈائننگ پر موجود تھے۔
“لگتا ہے ہماری گڑیا بہت مصروف ہوگئی ہیں ہمارے لیے وقت نہیں ہے بلکل بھی”
حاکم چوہدری فوراً سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے
“ارے نہیں دادا جان سارا وقت آپ کا ہی ہے”
وہ مسکراتے ہوئے کہتے ساتھ کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی جس پر حاکم چوہدری کے لب مسکرا دہے۔
“ناشتے کے بعد کمرے میں آئیے گا ضروری بات کرنی ہے”
حاکم چوہدری حور کو دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ ناشتہ کرنے لگ گئے حور نے ایک نظر انہیں دیکھا اور اثبات میں سر ہلا گئی
“ٹھیک ہے دادا”
وہ جواں دیتے ساتھ خود بھی ناشتہ کرنے لگی اور ایک نظر آدم پر ڈالی جو مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا حور برا سا منہ بنا کر اپنی نظریں دوسری سمت کر گئی۔
سب لوگ خاموشی سے ناشتہ کررہے تھے ناشتے کے بعد حاکم چوہدری اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھ گئے زاہد زمینیں وغیرہ دیکھنے کیلیے اٹھ کھڑا ہوا اور باقی سب بھی اپنے کام دیکھنے کیلیے چل رہے تھے
ازقہ اور ہاجرہ بیگم نے مل کر سارے برتن اٹھائے اور حور حاکم۔چوہدری کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
حور اجازت لیتی کمرے کے اندر آئی جہاں وہ بیڈ پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
“آپ نے بلایا تھا دادا”
حور مسکرا کر ان کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی حاکم چوہدری اثبات میں سر ہلا کر اسے اپنے پاس بلانے لگے حور ان کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔
“جی ہم نے بلایا ضروری بات کرنی ہے”
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اسے کہنے لگے حور نے حاکم چوہدری کی جانب دیکھا
“جی دادا آپ بولیں میں سن رہی ہوں”
وہ انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی حاکم چوہدری نے اسے دیکھا ۔
“آپ ہماری سب سے لاڈلی پوتی ہیں حورِ جان میں جو بات کرنا جارہا ہوں شاید وہ آپ کو پسند نہیں آئے مگر زور زبردستی نہیں ہے میں نہیں چاہتا آپ ہم سے دور جائیں کبھی”
حاکم چوہدری سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے جس پر حور فوراً ان سے الگ ہوئی
“دادا ایسی کیا بات ہے پریشان کررہیں آپ مجھے”
حور لہجے میں پریشانی لیے انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگی
“دراب نے تمہارا رشتہ مانگا ہے ہم سے “
حاکم چوہدری نے اسے مدعے کی بات کی حور حیرت سے حاکم چوہدری کو دیکھنے لگی۔
“دادا”
وہ بےیقینی سے انہیں دیکھتے ہوئے پکارنے لگی حاکم چوہدری نے اسے دیکھا
“زبردستی نہیں ہے نہیں پسند تو انکار کردیں مگر ہم نے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا تھا”
حاکم چوہدری سامنے دیکھتے ہوئے اس کے تاثرات سے اندازہ لگائے کہنے لگے۔
“میں سوچ کر جواب دوں گی”
حور حاکم چوہدری کا پاس رکھتی انہیں ایک امید دیتی کہتے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی حاکم چوہدری اسے جاتا دیکھنے لگے۔
آدم باہر کھڑا ساری باتیں سن رہا تھا حور کے باہر آتے ہی سائیڈ پر ہوگیا حور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
ازقہ کچن میں کھڑی کچھ بنانے میں مصروف تھی
“اللہ کرے پسند آجائے”
وہ چمچ ہلاتے ہوئے مسکرا کر کہنے لگی تبھی زاہد کچن میں آیا اور اس کی بات پر لب مسکرائے
“کیا کررہی ہو”
وہ دہوار سے لگے سینے پر بازو باندھے پوچھنے لگا اس کی آواز پر ازقہ نے مڑ کر اسے دیکھا
“کھیر”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی اس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب تھی
“تم میرے سامنے آنے سے گھبرا کیوں جاتی ہو؟”
زاہد اس کے مقابل میں آکر کھڑا ہوتا پوچھنے لگا جس پر ازقہ نے اسے دیکھا
“آتے بھی تو آپ اچانک ہی ہیں”
وہ فوراً سے اسے منہ بنا کر دیکھتے ہوئے جواب دینے لگی اس کے چہرے کے اظہارات دیکھ وہ مسکرا دیا
“مسکرایا کرو مجھے دیکھ مجھے تمہارے مسکراہٹ بہت پسند ہیں”
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا جس پر ازقہ شرماتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔
“حور اتنی پریشان کیوں ہو”
ہاجرہ بیگم ازقہ حور ٹی وی لاؤنچ میں بیٹھے تھے اور باتیں کررہے تھے حور کو خاموش دیکھ ہاجرہ بیگم پوچھنا لازمی سمجھنے لگی
“نہیں کچھ نہیں”
حور فوراً سے جواب دیتی چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجا گئی۔
“اچھا”
یہ کہتے ساتھ ہاجرہ بیگم اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی اور ازقہ نے حور کو دیکھا۔
“سب ٹھیک ہے”
ازقہ نظریں سامنے مرکوز کرتی حور سے مخاطب ہوئی حور نے ازقہ کو دیکھا۔
“نہیں دراب چاچو نے میرے لیے رشتہ بھیجا ہے اپنے بیٹے کا “
حور ازقہ کو دیکھتے ہوئے فوراً سے بتانے لگی ازقہ نے اسے دیکھا۔
“آدم کیلئے؟”
ازقہ حیرانگی سے حور کو دیکھتی کنفرم کرنے لگی حور اثبات میں سر ہلا گئی۔
“سب ٹھیک کہاں ہوسکتا ہے”
کہتے ساتھ حور اٹھ کر وہاں سے چلی گئی ازقہ اسے جاتا دیکھنے لگی۔
“ابا یہ ٹھیک نہیں کیا آپ نے”
کہتے ساتھ ازقہ اٹھ کر اوپر دراب چوہدری کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
“یہ کیا کیا آپ نے”
ازقہ فوراً سے کمرے میں آتی پوچھنے لگی دراب چوہدری نے اسے دیکھا۔
“کیا؟”
دراب چوہدری نے اسے دیکھتے ہوئے بدلے میں سوال کیا
“حور کا رشتہ آدم کیلیے کوئی جوڑ ہے ان کا”
ازقہ فوراً سے انہیں بتانے لگی دراب چوہدری کے لب مسکرائے۔
“جوڑ تو تمہارا اور زاہد کا بھی نہیں تھا ہاں”
وہ فوراً سے طنز کرتے ہوئے اسے کہنے لگے ازقہ دراب چوہدری کو دیکھنے لگی۔
“اگر آپ پڑھنے کی اجازت دیتے تو میں بھی پڑھ جاتے مگر آپ ہی کی وجہ سے ہوا”
ازقہ لہجے میں افسردگی سجائے دراب چوہدری سے بولی وہ فوراً کھڑے ہوئے
“تم اس معاملے سے دور رہو لڑکی ہو لڑکی بنو مردوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
دراب چوہدری اسے گھور کر دیکھتے ہوئے غصے سے کہنے لگے جس پر ازقہ انہیں دیکھنے لگ گئی۔
“یہ آپ کی سوچ ہے میں شادی کے بعد زاہد سے بولوں گی وہ مجھے پڑھائیں “
وہ نم آنکھوں سے اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے کہتے ساتھ کمرے سے چلی گئی اور وہ اسے جاتا دیکھنے لگ گئے۔
“ذامل فون اٹھاؤ”
حور فون کان سے لگائے ٹہلتے ہوئے بولی مگر دوسری طرف بیل جارہی تھی مگر فون نہیں اٹھایا جارہا تھا۔
“مجھے تمہیں بتانا ہے”
وہ آنکھوں میں نمی لیے خود سے بولتی پھر سے فون ملانے لگی مگر فون نہیں اٹھایا جارہا تھا۔
وہ مغرور اور بگڑی نواب زادی سی حور گھمنڈی بگڑے
نواب زادے ملک ذامل کے عشق میں پوری طرح پاگل ہوچکی تھی۔۔
حور فون رکھتی پریشانی سے ٹہلنے لگی اسے گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی وہ اپنے دادا کو صاف منع کرنا غلط سمجھ رہی تھی اس لیے وہ ذامل کو فون کرکے رشتے کا کہنا چاہ رہی تھی مگر وہ مصروف ہونے کی وجہ سے فون نہیں اٹھا رہا تھا
حور گھبراہٹ زیادہ محسوس کرتی کمرے سے باہر آئی اور لان کی طرف بڑھ گئی۔
حور لان میں ٹہلتے ہوئے حاکم چوہدری کی باتیں سوچ رہی تھی وہ سوویت حویلی کے بلکل آخری اور سنسان جگہ پر کھڑی تھی جہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ دماغ بلکل سن تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی تبھی کوئی دیوار ٹاپ کر لان میں داخل ہوا حور نے مڑ کر فوراً اس طرف دیکھا مگر شخص تیزی سے حور کی پشت اپنی طرف کرکے اس کے سر بندوق تان گیا حور اس اچانک حملے پر گئی اس سے پہلے چیختی حور کے منہ پر فوراً ہاتھ رکھا حور کی آنکھیں بڑی ہوگئی۔
“جان پیاری ہے نا خاموشی سے ان پر سائن کر”
وہ اس۔ کے کان میں ہلکی آواز میں اسے کہنے لگے حور اسے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی اس شخص نے اس کا منہ سامنے کیا۔
“جلدی ورنہ چلا دوں گا”
وہ ٹریگر پر انگلی رکھتا اسے مزید ڈراتا کہنے لگا حور روتے ہوئے اثبات میں سر ہلا گئی
“یہ کے”
زبردستی اس کے ہاتھ میں ہیں پکڑوایا اور پیج آگے کیے اور سائن کروانے لگا حور اسے دیکھ رہی تھی مگر اس کا چہرہ ڈھکا تھا
“سائن کر”
وہ فوراً سے بولا حور کانپتے ہاتھوں سے سائن کرنے لگی پیپرز پر لکھا بھی حور نے پڑا شاید زمین کے پیپرز تھے حور نے سائن کیے اور وہ شخص پیپرز لیتا جانے لگا۔
“دادا لالا”
جیسے ہی اس شخص نے حور کے منہ سے ہاتھ ہٹایا وہ چیخنے لگی سارے ملازم ایک ساتھ اکھٹے بھاگے اور ایک ملازم حاکم چوہدری کو بلانے کیلیے بڑھ گیا وہ شخص تیزی سے پچھلی طرف سے بھاگنے لگا حور نے اسے پکڑنا چاہا مگر دیر کرگئی۔
سب جب اس طرف آئے تو وہ شخص جا چکا تھا حور کی آنکھوں میں آنسو تھے حاکم چوہدری اور باقی سب حور کو اندر لائے۔
“کون تھا وہ”
حاکم چوہدری نے اسے صوفے پر بٹھایا زاہد نے فوراً پوچھا حور نفی میں سر ہلا گئی اس کی حالت بولنے والی نہیں تھی وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔
“پانی پیو گہرا سانس کو”
ازقہ اسے پانی گلاس تھما کر فوراً سے کہنے لگی حور نے پانی پیا اور سانس لیا۔
“بتاؤ حور کیسے اندر آیا کون تھا”
وہ فوراً سے حور سے ایک بار میں کئی سوال کر گیا
“مجھے نہیں پتہ اور میرا نہیں خیال میں نے اسے کبھی دیکھا بھی ہے وہ دیوار سے اندر آیا گن رکھی سائن کروائے اور تیزی سے پچھلی طرف سے نکل گیا”
حور گہرا سانس لے کر نم آنکھوں سے انہیں ایک ایک بات بتانے لگی زاہد کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“کیسے پیپرز تھے؟”
حاکم چوہدری نے فوراً سے سوال کیا حور نے انہیں دیکھا۔
“زمینوں کے تھے اور فیکٹری بھی لکھا تھا”
حور حاکم چوہدری ہو فوراً سے بتانے لگی جس پر حاکم چوہدری اثبات میں سر ہلا گئے
“ملک شہراز کا کام ہے یہ نہیں چھوڑوں گا”
وہ غصے سے تیش میں کہنے لگے زاہد نے فوراً حاکم چوہدری کو دیکھا
“دادا نہیں میں نے ملک شہراز کے سارے ملازم دیکھیں ان میں سے کوئی نہیں تھا وہ کوئی اور تھا”
حور فوراً سے حاکم چوہدری سے کہنے لگی جس پر زاہد کے اثبات میں سر ہلا دیا
“جی دادا ملک شہراز ایسے حرکت نہیں کرسکتا “
زاہد بھی فوراً سے انہیں بتانے لگا جس پر حاکم چوہدری خاموش ہو گئے۔
“تو پھر پتہ لگاؤ کون تھا جس نے حاکم چوہدری کی پوتی کی جان لینے کی کوشش کی ہے مجھے صبح تک پتہ لگ جانا چاہیے”
وہ سرد لہجے میں زاہد کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے زاد اثبات میں سر ہلا گیا اور ازقہ نے حور کو گلے سے لگایا جو رو رہی تھی ۔
حور رات سے اب کافی بہتر تھی اور اٹھتے ہی اس نے سیدھا ذامل کو فون کیا تھا
وہ اپنے کمرے میں موجود تھا تبھی اس کا فون بجا ذامل نے فون اٹھایا
“جان”
ذامل نے فوراً فون اٹھایا اور اسے پکارا حور کے لب بھی مسکرائے
“ذامل مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے”
حور فوراً سے اسے کہنے لگی جس پر ذامل کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے ۔
“سب ٹھیک ہے؟”
ذامل پریشان سا حور سے پوچھنے لگا۔
“نہیں کچھ ٹھیک نہیں ہے میرا رشتہ آیا ہے تم پلیزز اپنے دادا سے بات کرو اور آج ہی ان کے ہاتھ رشتہ حویلی بھیجو”
حور لہجے میں بے چینی لیے ذامل کو بتانے لگی اس کی بات پر ذامل اپنی جگہ ساکت ہو گیا۔
“ذامل تم سن رہے ہو نا”
حور جواب نہ پاکر فوراً سے پوچھنے لگی جس پر وہ ہوش میں آیا۔
“ہاں سن رہا ہوں میں کرتا ہوں دادا سے بات”
ذامل نے اپنے لہجے کو نارمل رکھے اسے بولا حور اس کے جواب خوش ہوئی۔
“تم منا لو گے نا”
حور اس سے فوراً پوچھنے لگی ذامل نے ایک نظر فون کو دیکھا
” میں کرتا ہوں بات بعد میں”
یہ کہتے ساتھ ذامل فون رکھ گیا اور بیڈ کراؤن سے سر ٹکا گیا سائیڈ سے سگریٹ اٹھا کر جلاتا وہ لبوں سے لگا گیا آنکھوں میں نمی آئی تھی مگر وہ اپنے آنسو اپنے اندر اتار گیا۔
جاری ہے۔
