Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 24)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 24)
Black Monster by Ayn Khan
تھوڑی دیر میں نکاح خواں آئے گا ہمارا نکاح ہے آپ ارانیہ ہیں ۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں آپ ناراض ہیں مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔سعد ارسہ کی طرف دیکھتے ہوئے سرد نظروں سے بولا ۔
میں ارسہ ہوں ارسہ ارانیہ نہیں ارانیہ آپ کی وجہ سے مر گئی میں اس کی بہن ہوں بہن ۔۔۔. سنا آپ نے ۔۔۔۔۔۔ اور میں اتنی بری نہیں ہوں کے نکاح پر نکاح کروں ۔۔۔ارسہ روتے ہوئے چیخی تھی ۔
خوبصورتی سے سجایا ہوا میکاپ اب رونے کی وجہ سے پھیل رہا تھا آنکھوں کا کاجل پھیل چکا تھا ۔
آپ جھوٹ بول رہیں ہیں جھوٹ بول رہیں ہیں ۔۔۔سعد اتنی زور سے چیخا تھا کے ارسہ خوف سے دیوار کے ساتھ چیپک گئی ۔
میں نہیں نہیں بول رہی جھوٹ میں نہیں ہوں ارانیہ ۔۔۔۔۔۔ارسہ آہستہ آہستہ دیوار کے ساتھ لگی نیچے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
نہیں ہوں ۔۔۔۔۔ارسہ سسک رہی تھی سعد اسے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا کے دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔
آپ میری ارانیہ ہیں۔۔۔۔۔۔ سعد اس کے پاس بیٹھ گیا ۔
نہیں ہوں میں آپ کی ارانیہ نہیں ہوں سنا آپ نے ۔۔۔. سنا آپ نے ۔۔۔میں ارسہ ہوں ارسہ ۔۔۔۔۔ارسہ نے چیختے ہوئے اسے خود سے دور دھکا دیا ۔
آپ کو ارانیہ سے محبت تھی اور آپ کو اتنا بھی نہیں معلوم کے یہ میں ہوں ارانیہ نہیں ۔۔۔۔ارسہ چیخ رہی تھی ابھی بھی باہر دروازے پر دستک ہو رہی تھی ۔
ارانیہ کی خوشبو محسوس نہیں ہوتی آپ کو کیا۔۔۔؟ ہوتی ہے آپ کو مجھ میں محسوس ۔۔۔؟ ارانیہ کی خوشبو محسوس بتائے ۔۔۔۔میری آنکھوں میں محبت دکھائی دیتی ہے اپنے لیے ۔۔۔۔۔کوئی جزبہ نہیں ہے آپ کے لیے میرے دل میں ۔۔۔۔ ارسہ روتے ہوئے چیخی ۔
نہیں ہوں میں ارانیہ نہیں ہوں۔۔مر گئی ہے وہ۔۔۔ آپ کی دشمنی کی بھٹ چڑ گئی ۔۔۔۔ارسہ پھر سے سسکی تھی ۔
سعد چپ سا کر گیا تھا ۔۔کہنے کو کوئی لفظ نہیں تھا ۔
سعد دروازہ کھولا سعد ۔۔۔۔باہر سے مجید چوہدری کی آواز آئی ۔
سعد نے بینا سوچے جا کر دروازہ کھول دیا تھا ۔
شرم نہیں آتی تمہیں ۔۔۔۔مجید چوہدری نے سعد کے چہرے پر تھپڑ مارا ۔
مسسز مجید چپ سے بس دیکھتی رہ گئی اور پھر جلدی سے ارسہ کی طرف بڑی تھی ۔
انٹی مجھے یہاں سے لے جائے پلیز ۔۔۔۔۔ارسہ اُن کے ساتھ لگی بولی تھی ۔
بابا ارانیہ ۔۔۔۔۔یہ ارانیہ ۔۔۔۔سعد مجید چوہدری کے ساتھ لگ گیا تھا ۔۔۔
مسسز مجید ارسہ کو ساتھ لگائے بس سعد کو دیکھ رہی تھی جو سچ میں ٹوٹا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔
عالیان سعد کو لے کر جاؤ۔۔ میں اور تمہاری ماما ارسہ کو اس کے گھر چھوڑ کر آتے ہیں ۔۔. مجید چوہدری نے سعد کو پیچھے کیا تھا ۔
عالیان کل ہی پاکستان واپس آیا تھا ۔
ارسہ مسسز مجید کے ساتھ لگی رو رہی تھی ۔
بیٹا ایم سوری ۔۔۔ہم آپ کو وہاں پہنچا دیتے ہیں بس چلے آپ میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔
میں شازم کو کہہ کر آیا ہوں کے ارسہ ہمارے ساتھ آئے گی ۔۔۔۔مجید چوہدری سعد کی طرف ہی
دیکھتے ہوئے بولے تھے جو وہی بیٹھا گیا تھا کھویا کھویا سا ۔
اسے لے کر جاؤ ارانیہ کی قبر پر تاکہ اسے معلوم ہو وہ مر چکی ہے اور وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ خود ہے یہ خود ۔۔۔ مجید چوہدری بولتے ہوئے مسسز مجید اور ارسہ کو لے کر وہاں سے لے کر چلے گئے ۔
بھائی ارانیہ ۔۔۔
وہ ارانیہ نہیں تھی سعد وہ ارسہ ہے ارسہ ۔۔۔۔۔ارانیہ کی بہن ۔۔۔۔. عالیان سعد کو غصے سے بولا تھا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ![]()
مسسز مجید ارسہ کو قریبی پالر میں لے گئی تھی جو اُس کی دوست کا تھا ۔۔اور وہاں سے اس کا حولیا درست کروایا تھا ۔۔
اور مسسز مجید کے سمجھانے پر چپ کر گئی تھی مسسز مجید اور مجید چوہدری اسے لے کر وہاں سے سیدھا شازم کے گھر پہنچے تھے ۔
انٹی۔۔۔۔ارسہ نے کار میں سے نکلتے ہوئے ان کی طرف دیکھا ۔
بیٹا ہم نے بات کی تھی شرمین سے اُن کو کہا تھا کے آپ کو ہم لے کر آئے گے اپنی بیٹی بنا کر ۔۔۔میں آ ہی رہا تھا کے میں نے سعد کو دیکھ لیا اور آ سکا پیچھا کرتے ہوئے وہاں تک پہنچ گیا ۔
مجید چوہدری نے بتایا تو ارسہ کو تھوڑا سکون ہوا تھا ۔
آپ پریشان مت ہوں میں اب سمجھا لوں گا سعد کو ۔۔۔. آپ فکر مت کریں ۔۔۔۔۔مجید چوہدری نے ارسہ کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور گاڑی کا دروازہ کھول دیا ۔۔
مسسز مجید اسے لے کر باہر نکلی تھی ۔
سامنے ہی شرمین کھڑی تھی ارسہ کو دیکھتے ہوئے مسکرائی تھی اور اس کے گلے لگتے ہوئے اس کا ماتھا چوما ۔
بہت بہت پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔شرمین پیار بھرے لہجے میں بولی ۔
ارسہ بمشکل مسکرا دی ۔۔
چلے اندر چلتے ہیں اور پھر مسسز مجید اور شرمین ارسہ کو لے کر اندر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔دونوں نے اسے سیٹج کے دوسرے طرف بیٹھایا تھا ۔۔۔۔دوسری طرف شازم پہلے سے ہی بیٹھا ہوا تھا ۔
مسسز مجید نے مجید چوہدری کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
دونوں کی آنکھوں میں نمی سی اتر آئی تھی ۔۔۔۔ایک ٹھس سی اُٹھی تھی دل میں پر دونوں ارسہ کے لیے خوش تھے ۔
تھوڑی ہی دیر میں نکاح پڑھایا گیا تھا ۔۔۔۔اور ارسہ کو شازم کے نام کر دیا گیا ۔۔۔
بھیچ سے پردہ اُٹھایا گیا تھا شازم کی نظریں ارسہ کی طرف اُٹھی تھی ۔۔۔جو نظروں کو جھکائے ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی ۔۔۔
شازم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔اور آگے بڑھتے ہوئے ارسہ کو کندھوں سے تھام لیا تھا ۔۔۔۔تب ہی ارسہ کی نظریں شازم کی نظروں سے ملی تھی ۔۔
نکاح بہت بہت مبارک ہو مسسز شازم ۔۔۔۔۔. ۔کہتے ہوئے ماتھے پر لب رکھے تھے ۔
ارسہ کی آنکھیں سے ایک آنسو نکل کر بہہ نکلا تھا ۔۔۔ارسہ نے مسکراتے ہوئے آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔۔وہ اس لمحے کے سچ ہو جانے کو محسوس کرنا چاہتی ہو جیسے ۔۔
پھر مبارک باد کے لیے سب ہی بار بار دونوں سے ملنے لگے تھے ۔۔مسسز مجید بھی ارسہ کے پاس آئی تھی ۔
بہت بہت مبارک ہو بیٹا ۔۔. ہو سکے تو سعد کو معاف کر دینا ۔۔۔مسسز مجید اسے پیار دیتے ہوئے آہستہ آواز میں بولی تو ارسہ نے آہستہ سے سر ہلا دیا ۔
شازم کی کزنز نے کچھ رسمیں کی تھی ۔۔۔شازم تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ۔۔۔بار بار نظریں بھٹک کر ارسہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔۔کو شازم کی کزنز کی باتوں سے ہلکے سے مسکرا رہی تھی اور شرما بھی رہی تھی ۔
اب بس کر دیں بہت ہوا ۔۔۔۔اب ارسہ کو بھی آرام کرنے دیں اور سب لوگ گھر جا رہے ہیں آپس لڑکیاں اب ارسہ کو روم میں لے جائے ۔۔. تھوڑی دیر بعد شرمین آئی تھی اور اُن سب کو کہا جس پر وہ مسکراتے ہوئے سر ہلا کر وہاں سے ارسہ کو لے گئی ۔۔
شازم بس ارسہ کو جاتے ہوئے دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔
پھر اسی طرح تھوڑی دیر بعد تقریب کا اختتام ہوا سب ہی اپنے اپنے گھر کو چلے گئے تھے ۔۔۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سعد ارانیہ کی قبر پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔آنسو جیسے سوک سے گے تھے ۔۔۔۔
سعد اپنی پہ سوچ میں تھا رات کے اندھیرے چاروں اطراف پھیل چکے تھے ۔۔۔سعد جہاں بیٹھا تھا وہاں روشنی کی لکیر سی پڑتی تھی ۔۔۔سعد کا سایہ سا نظر آ رہا تھا ۔۔۔
سعد اپنی ہی سوچوں میں گم تھا کے سعد کو سامنے جلتی لائٹ کی روشنی میں ایک شخص رات کو قبرستان کے راستے سے گزرتے ہوئے نظر آیا ۔۔۔جیسے کو کسی قبر کی تلاش میں ہو ۔
ہادی ۔۔۔۔۔۔سعد کے لب پڑپھڑائے تھے ۔۔۔
آنکھوں میں جیسے جنگارے سے بھر آئے تھے ۔۔۔۔نفرت کی ایک لہر تھی جو سعد کو خود کے وجود سے گزرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
ارانیہ ۔۔۔۔. آپ کا آخری قاتل آ چکا ہے ۔۔۔آج وقت ہی مجھے یہاں لے کر آیا تھا تاکہ آپ کے آخری قاتل تک پہنچ سکوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔سعد سامنے چلتے انسان کی پرچھائی کو دیکھتے ہوئے جیسے ارانیہ سے بات کر رہا ہو ۔
بیلک منسٹر ۔۔۔۔۔۔۔۔سعد کے لبوں نفرت بھرے لفظ نکلے تھے ۔
اختتام کی گھڑی ۔۔۔۔۔سعد کے وہاں سے اُٹھا تھا اور بینا ہادی سے ملے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
ہممممم ۔۔۔۔کیا میں اندر آ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔شازم دروازے کو ناک کرتے ہوئے آہستہ آواز میں بولا ۔
ارسہ جو سر کو جھکائے بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی اک دم سے سر اُٹھا کر سامنے کھلے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سامنے ہی شازم کھڑا تھا چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔
جی جی آ جائے ۔۔۔ارسہ کھڑی ہوتے ہوئے جلدی سے بولی تھی ۔۔۔۔دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑتے ہوئے نروس سی لگ رہی تھی ۔
آپ اتنا گھبراتی کیوں ہیں آپ مجھ سے اب ۔۔۔۔شازم آہستہ آہستہ سے چلتے ہوئے ارسہ کے پاس کھڑا ہوا ۔
ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔ارسہ تھوڑے نروٹھے پن سے بولی ۔
ہاہاہاہاہاہا آپ تو ناراض ہو رہیں ہیں ۔۔۔۔شازم اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھتے ہوئے ہنس دیا ۔
نہیں تو میں آپ سے کیوں ناراض ہونے لگی ۔۔۔۔۔۔ ارسہ اپنا رُخ پھیر گئی ۔
شازم ہلکے سے مسکرا دیا تھا ۔۔۔اسے ارسہ کے انداز نے مسکرانے پر مجبور کر دیا ۔
میں بہت خوش ہوں اج۔۔۔۔آج میں نے اپنی محبت کو پا لیا ۔۔۔۔۔۔شازم ارسہ کو دیکھتے ہوئے بولا جو اپنا رُخ پھیرے ہوئے کھڑی تھی ۔
ارسہ کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ تھی ۔۔
یہ آپ کے لیے تحفہ لایا تھا ۔۔۔۔ارسہ ۔۔۔۔۔پر۔۔۔ شازم بولتے ہوئے روکا ۔
پر کیا ۔۔۔؟ ارسہ جلدی سے واپس مڑتے ہوئے بولی ۔
پر آپ تو ناراض لگ رہیں ہیں مجھ سے ۔۔۔۔۔۔سو رہنے دیتا ہوں ۔۔۔۔شازم نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کندھے اچکائے ۔
نہیں ایسا تو نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔ارسہ نے جلدی سے نہ میں سر ہلایا ۔
تو پھر کیسا ہے ۔۔. شازم اس کی طرف دیکھتے ہوئے ایک ائبرو اچکا کر بولا ۔
کچھ نہیں ہے ۔۔آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔۔ارسہ غصے سے بولتے ہوئے پھر سے رُخ پھیر گئی ۔
میری محرم کے لیے پہلا تحفہ ۔۔۔۔شازم نے ارسہ کو کلائی سے تھامتے ہوئے اپنی طرف کھینچ لیا ۔۔
ارسہ اس کے لیے بالکل تیار نہیں تھی آ کر شازم کے سینے سے لگی ۔۔
آج میری زندگی کا اتنا حاض دن تھا اور اپنی وائف کے لیے کچھ نہ لے کر آتا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔شازم اس کی کمر کے گرد گیرا تنگ کرتے ہوئے اس کے چہرے پر نظریں گاڑے بولا ۔
اس عمل سے ارسہ کے چہرے کی ہوائیاں اُڑ چکی تھی ۔
شا۔۔۔۔۔شاز۔۔۔۔۔شازم پل۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔ارسہ نروس ہوتے ہوئے ممنائی ۔
کیا پلیز آپ تو گھبراتی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔شازم ارسہ کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹ کو کھنچتے ہو بولا تھا ۔۔
شا۔۔۔زم ۔۔۔۔۔ارسہ شازم کی کربت میں کانپنے لگی ۔
یہ آپ کے لیے تحفہ ہے اور خود پہنا دوں گا میں ۔۔۔۔شازم ایک ہاتھ سے ارسہ کی کمر کو پکڑے دوسرے ہاتھ کو جیب میں ڈالتے ہوئے اس میں سے ایک چین نکال کر سامنے لہراتے ہوئے بولا ۔
نہیں میں ۔۔۔۔میں خود پہن لوں گی ۔۔۔۔ارسہ نے نہ میں سر ہلاتے ہوئے شازم کا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا ۔
ایسے کیسے ۔۔۔۔۔میں ہوں نہ ۔۔۔شازم اسے گھورتے ہوئے اب چین کی ہک کھولنے لگا ۔۔۔ارسہ گھبرا رہی تھی ۔۔شازم نے ہک کھولنے کے چکر میں ارسہ کی کمر کو چھوڑا ۔
کہاں پیچھے جا رہیں ہیں ۔۔۔. شازم ارسہ کو دیکھتے ہوئے بولا جو قدم پیچھے لے رہی تھی ۔
شازم خود ۔۔۔۔۔
شششششش میں خود پہنا رہا ہوں نہ ۔۔۔شازم کا لہجہ اس دفع سرد ہوا۔۔۔۔
ارسہ چپ کرتے ہوئے نظروں کو پھر سے جھکا گئی ۔
شازم آرام سے آگے بڑھا تھا اور ارسہ کا ڈوپٹہ پیچھے کرتے ہوئے چین پہنائی ۔۔۔شازم کے ایسا کرنے سے ارسہ کو کرنٹ سا محسوس ہوا ۔۔شرم سے چہرا لال ہو رہا تھا ۔
ارسہ کے اس طرح کانپنے سے شازم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی اور جلدی سے چین پہنا کر پیچھے ہوا وہ ارسہ کو اور تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
بس اتنا سا کام تھا ۔۔۔ شازم مسکرایا ۔۔۔۔ ارسہ نے اسے گھور کر دیکھا ۔
چلے اپنا دھیان رکھیں گا ۔۔۔۔ شازم نے اس کے ماتھے پر لب رکھے تھے اور اس کا گال تھپتھپا کر باہر نکل گیا ۔
ارسہ نے گہرا سانس لیا تھا اور اور چین پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا دی ۔۔۔
شازم کے حیالوں میں ہی تھی کے اک دم سے صبح کا ہوا واقع آنکھوں کے سامنے آیا تھا ۔
اللہ جی تھینک یو سو مچ آپ نے بچا لیا مجھے ۔۔۔۔ ارسہ تشکر سے دل میں بولی تھی ۔۔۔
پر جانتی نہیں تھی ابھی ایک امتحان اور باقی ہے ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ![]()
ہادی آپ کا کام مکمل ہونے میں وقت ہے تو آپ ایسا کریں ۔۔میری خالہ کے گھر جائے ۔۔۔۔دو دن بعد میرے کزن کا ولیمہ ہے وہاں ضرور جائیے گا ۔۔۔۔۔ہادی ابھی اپنے فلیٹ میں پہنچنا تھا کے اسے رابعہ کی کال آئی ۔
اوکے بیگم جو آپ کا حکم میں ضرور جاؤں گا وہاں ۔۔۔ہادی ہنستے ہوئے بولا ۔
اب بتائے میری دونوں شاہزادیاں کیسی ہیں ۔۔۔۔ہادی اپنی دونوں بیٹیوں کے بارے میں پوچھ رہا تھا ۔
ٹھیک ہیں ہم۔۔۔ ہم تینوں کو آپ کی بہت یاد آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ رابعہ افسودگی لیے بولی ۔
مجھے بھی بہت یاد آ رہی ہے تم تینوں کی ۔۔۔۔ہادی آنکھوں کو بند کئے مسکرایا تھا ۔
جلدی آ جائے ہادی ہم تینوں کو آپ کا انتظار ہے ۔۔۔جلدی آ جانا ہادی ۔۔۔
جی میری جان بہت جلدی آنے والا ہوں بس تھوڑے دن ۔۔۔پھر آپ کا ہادی آپ کے پاس واپس آ جائے گا ۔۔۔۔
جی اور ویسے بھی اب خالہ سے ضرور مل کر آئیے گا آپ ۔۔۔۔۔اور اُن کے بیٹے کے ولیمہ پر ضرور جانا آپ ۔. ۔۔۔میری اکلوتی خالہ ہے میرا اکلوتا رشتہ ۔۔. رابعہ ہنسی تھی ۔
ہاہاہاہا جی تب ہی تو ضروری ہے جانا جانتا ہوں ۔۔۔ضرور مل کر آؤں گا ۔۔۔۔
چلے آپ آرام کریں آپ اب اور میری بیٹیوں کا بہت بہت دھیان رکھنا اپ۔۔۔۔۔بابا کا بہت بہت پیار دینا دونوں کو ۔۔۔۔ہادی کے چہرے پر پیار اورخوشی تھی دونوں کے لیے ۔
جی آپ بھی اپنا بہت بہت خیال رکھنا ۔۔۔آرام کر لے آپ بھی اب ۔۔۔۔ہادی نے کہتے ہوئے کال بند کر دی تھی ۔
اب نیا کام ہے ۔۔۔۔وہاں بھی جانا پڑے گا ۔۔۔ہادی سوچتے ہوئے سر صوفے پر رکھ گیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سعد تھکا سا گھر واپس آیا تو سامنے ہی مسز مجید عالیان اور مجید چوہدری بیٹھے ہوئے تھے ۔
سعد کہاں تھے تم۔۔۔۔؟؟ عالیان کی آواز پر سعد نے اَن کی طرف دیکھا ۔
ارانیہ کی قبر پر گیا تھا بھائی ۔۔۔۔۔۔۔سعد کے لہجے میں تھکاوٹ تھی ۔
ہو گیا یقین کے وہ مر چکی ہے ۔۔۔۔مجید چوہدری غصے سے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ۔
بابا ۔۔۔۔۔۔
جی بیٹا ۔۔ اسے تو مار ہی دیا تھا اب میری دوست کی دوسری بیٹی کو بھی جیتے جی مارنے والے تھے شرم نہیں آئی تمہیں یہ سب کرتے ہوئے سعد ۔۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری غصے سے صوفے سے کھڑے ہوئے تھے ۔
پلیز ریلکس رہیں ۔۔غصہ مت کریں آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔مسسز مجید نے اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
میری طبیعت ٹھیک کب ہے یہ لڑکا اسے برباد کر گیا اور اب خود کو برباد کر رہا ہے ۔۔کیوں نہیں آگے بڑھتا اور کیوں نہیں یقین کرتا کے وہ مر چکی ہے وہ معصوم لڑکی درندگی کی نظر ہو چکی ہے ۔۔۔۔پل پل تڑپ تڑپ کر مری ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری کی آواز روند گئی تھی ۔
سعد کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ۔
سب کی آنکھوں میں نمی تھی ۔
بس کر دو سعد بس کر دو ۔۔۔۔۔ مجید چوہدری اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوئے نیچے کی طرف گرے تھے ۔
بابا بابا ۔۔۔عالیان اور سعد دونوں اُن کی طرف دوڑے تھے ۔۔۔
ایم سوری بابا ۔۔۔سعد روندی ہوئی آواز میں بولا ۔۔۔
سعد میں گاڑی نکال رہا ہوں بابا کو لے کر باہر آؤ ۔۔۔۔عالیان بولا تو سعد نے سر ہلاتے ہوئے جلدی سے مجید چوہدری کو تھاما تھا مسسز مجید بھی سعد کے ساتھ ہو لی تھی ۔
دونوں ایسے تیسے مجید چوہدری کو ہاسپٹل لے کر گئے تھے ۔۔
ڈاکٹر اب مجید چوہدری کو لے کر اندر آئی سی یو میں چلے گئے تھے ۔
مسسز مجید بھی وہی بہنچ پر بیٹھی رو رہی تھی سعد دیوار کے ساتھ سر ٹکائے خود پریشان سا کھڑا تھا ۔
عالیان مسسز مجید کو حوصلہ دے رہا تھا ۔۔۔۔
بابا پلیز مت جانا اب برداشت نہیں کر سکتا اپنا کوئی بھی نقصان میں ۔۔۔سعد کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے ۔
تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر باہر آئی تھی۔۔
جی آپ کا پیشنٹ ابھی خطرے میں ہے اُن کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔۔۔۔ دعا کریں جلدی ہوش آ جائے ۔۔۔۔ڈاکٹر بول کر باہر وہاں سے چلی گئی ۔
ماما ایم سوری ۔۔۔ سعد مسسز مجید کے پاس زمین پر بیٹھا اُن کی گود میں سر رکھ گیا ۔
سعد خدا سے دعا کرو آپ کے بابا ٹھیک ہو جائے ۔۔۔۔۔اور ماں باپ اپنے بچوں سے ناراض نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔ مسسز مجید پیار سے بولی تھی عالیان اور سعد دونوں کو اُنہوں نے ساتھ لگا لیا ۔
