Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 23)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 23)
Black Monster by Ayn Khan
شرمین شازم کے ساتھ سیدھا مجید چوہدری کے گھر آئی تھی ۔
ارسہ اُن کو دیکھ کر دورتے ہوئے شرمین کے ساتھ لگ گئی ۔
شازم کو بھی حوصلہ ہوا تھا ارسہ کو دیکھ کر پر جس طرح وہ رو رہی تھی شازم کو اس شخص پر غصہ آ رہا تھا ۔
مجید چوہدری اور مسسز مجید بس ارسہ کو روتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔
ارسہ کو کون یہاں لے کر آیا ہے ۔۔۔۔شازم آہستہ پر سخت لہجے میں اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
پلیز آپ تھوڑی دیر بیٹھے سکون سے بات کرتے ہیں ۔۔۔مجید چوہدری اُن کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ مگر عاجزی لیے بولے ۔
نہیں آپ ۔۔۔۔
شازم بات سن لو اُن کی۔۔۔۔شرمین نے شازم کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
شازم لب بھچیے ارسہ کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں صوفے پر بیٹھ گیا تھا ورنہ ارسہ جس طرح شرمین کے ساتھ لگی رو رہی تھی اس کا دل نہیں تھا یہاں بیٹھنے کو ۔
آنٹی گھر چلتے ہیں ۔۔۔ورنہ وہ پھر آ جائے گا ۔۔۔۔۔. ارسہ ممنائی ۔
ارسہ گھبراؤ نہیں ۔۔۔ہم ہیں نہ شازم بھی ہے ۔۔۔۔
آنٹی وہ بہت برا ہے ۔۔۔۔
آپ کو وہ ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا ۔۔جان سے مار دوں گا میں اسے ۔۔۔۔شازم غصے سے بولا تو ارسہ چپ سی شرمین کے ساتھ لگ گئی تھی ۔
مجید چوہدری اور مسسز مجید بھی چپ ہو گے تھے ۔
ہم بہت معذرت خواہ ہیں سعد کی طرف سے ۔۔۔۔۔۔بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔مجید چوہدری شازم اور شرمین کو دیکھتے ہوئے بولے۔
آپ کی بیٹی کا فیس سعد کی وائف سے ملتا ہے اور سعد ارسہ کو اسی لیے گھر لے آیا تھا ۔۔۔
مجید چوہدری بولے تو شازم اور شرمین حیرت زدہ سے رہ گئے ۔
مسسز مجید نے ان کے آگے اپنا موبائل کیا تھا جس میں سعد اور ارانیہ کے نکاح کی اور کچھ بچپن کی تصویریں تھی ۔
تینوں ہی حیرت زدہ سے دیکھ رہے تھے ۔۔
یہ ارانیہ ہے میرے دوست کی بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔اس کی ماں اسے چھوڑ کر یہاں سے چلی گئی تھی یہ ہمیشہ ہمارے گھر رہی سعد کا اور اس کا نکاح ہوا تھا اور پھر ۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری اُن کو سب بتاتے چلے گئے ۔
وہ تینوں افسوس اور دُکھ سے سب سن رہے تھے ۔
پر انکل میں وہ نہیں ہوں ۔۔۔۔ارسہ روتے ہوئے نہ میں سر ہل گئی تھی ۔
جانتے ہیں ہم۔۔۔پر سعد اس بات کو سمجھنے کے لیے ہی تیار نہیں ہے ۔۔۔۔. پاگل ہوا بیٹھا ہے ۔۔. اسی لیے ہم معذرت کر رہے ہیں ۔۔۔مجید چوہدری شرمندہ سے تھے ۔۔۔
یہ کون ہیں ۔۔۔۔ارسہ جو موبائل فون میں تصویر دیکھ رہی تھی ایک تصویر کو دیکھتے ہوئے بولی ۔
یہ یہ ارانیہ کے فادر ہیں ۔۔۔۔نکاح والے دن لی تھی میں نے یہ تصویر میں سے تاکہ ارانیہ کو حوصلہ ہو سکے ۔۔۔۔۔مجید چوہدری ارسہ کی طرف دیکھتے ہوئے وہ لمحہ سوچ کر مسکرا دئے ۔
یہ تو میرے بابا ہیں ۔۔۔۔۔۔ارسہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی ۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری اور مسسز مجید حیران ہوئے ۔
شرمین اور شازم نے بھی ارسہ کی طرف دیکھا ۔
یہ یہ ماما نے پیچر دکھائی تھی مجھے یہ میرے بابا ہیں ۔۔۔۔۔۔ارسہ اُن کی طرف دیکھتے ہوئے نم لہجے میں بولی ۔
ماما کا کیا نام ہے آپ کی ۔۔۔
ارباب ۔۔۔۔نام ہے میری ماما کا ۔۔۔۔۔۔ارسہ بولی تو مسسز مجید اور مجید چوہدری اسے دیکھ کر رہ گئے تھے ۔۔۔۔
شرمین اور شازم بھی معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے اب ۔۔۔
یعنی ارباب نے جھوٹ بولا تھا کے تم مر گئی ہو ۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو اَن کا لہجہ کھویا کھویا تھا ۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔شرمین بولی شازم بس اَن سب کو دیکھ کر ہی رہ گیا تھا ۔
ارباب ارانیہ کی ماں ہے ۔۔۔۔۔
اور اس نے کہا تھا کے اس کی ایک بیٹی مر چکی ہے اور ارانیہ کو وہ اس کے باپ کے پاس چھوڑ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔اور خود اس کے پیچھے کیا وجہ تھی ہمیں کبھی معلوم نہیں ہو پائی اک دم سے ارانیہ کے فادر کی موت نے سب راض راض ہی رکھے ۔
یعنی آپ ارانیہ کی جڑواں بہن ہیں ۔۔۔۔۔۔شازم ہی ارسہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
مجید چوہدری نے سر ہاں میں ہلایا ۔
میری بہن مر گئی ہے، ۔۔۔۔۔۔. ارسہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی ۔۔۔آنکھوں کے گوشے نم ہو چکے تھے ۔
ارانیہ کی پرچھائی نظر آتی ہے مجھے آپ میں ۔۔۔مسسز مجید اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
وہ میری بیٹی تھی بہت چھوٹی سی تھی جب میری گود میں آئی ۔۔۔اور بہت تھوڑا وقت لے کر آئی تھی وہ بھی اذیت بھرا۔۔۔۔۔۔۔۔مسسز مجید نم لہجے میں ارسہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
ارسہ چپ سی کر گئی تھی کہنے کو کچھ نہیں رہا ۔
ایک سگھا رشتہ بچا تھا وہ بھی نہیں رہا اب اس دنیا میں ۔۔۔۔۔ارسہ کا لہجہ نم ہو چکا تھا ۔
نہیں بیٹا آپ میرے دوست کی بیٹی ہیں آپ کا باپ ہوں میں ۔۔۔۔جیسے ارانیہ میری بیٹی تھی ویسے ہی آپ بھی ہیں ۔۔۔۔۔مجید چوہدری ارسہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے ۔
ارسہ سر ہلا کر مسکرا دی ۔۔۔۔جس بہن کو دیکھا نہیں اس بہن کی باتیں سن کر دل میں ایک ٹھس سی اُٹھی تھی ۔۔۔اس کے ساتھ اتنا برا ہوا اس کی موت کی دردناک حقیقت جان کر ارسہ کے دل کو بہت تکلیف ہوئی تھی ۔
انکل میں ارانیہ کی قبر پر جاؤں گی، ۔۔ارسہ آنسو کو صاف کرتے ہوئے بولی تو مجید چوہدری نے سر ہلایا ۔
ابھی نہیں ابھی میں کو رسک نہیں لے سکتا سوری انکل آپ کا بیٹا پاگل ہے ارسہ کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔۔۔شازم بول تو ارسہ بھی چپ کر گئی ۔
جیسا آپ کو بہتر لگے ۔۔۔۔
ارسہ بچے جب بھی تھوڑے سے حالت بہتر ہوتے ہیں ہم آپ کو لے جائے گے ۔۔۔میں سعد کو بھی سمجھاؤں گا۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری اس کی طرف دیکھتے ہوئے نرم لہجے میں بولے ۔
ارسہ نے سر ہلا دیا ۔
پھر شرمین اور مسسز مجید کے درمیان کچھ باتیں ہوئی تھی اور انہوں نے اَن کو شادی کے لئے بھی بلایا ۔۔
ہم چلتے ہیں ۔۔کوفی دیر ہو چکی ہے ۔۔۔۔. شرمین بولی۔
حیال رکھنا بیٹا آپ اپنا ۔۔۔۔مسسز مجید نے ایک دفع ارسہ کو گلے لگایا تھا ۔۔ ارسہ بھی اُن کی فیلنگ سمجھتے ہوئے اَن کے ساتھ لگ گئی ۔
پھر انہوں نے نم آنکھوں سے اسے رحصت کیا ۔۔۔۔۔
تب ہی میں کہوں مجھے اس میں ارانیہ کی خوشبو کیوں آ رہی تھی ۔۔۔۔مسسز مجید نم لہجے میں بولی تھی تھی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔
سنبھالے خود کو سب بہتر ہو جائے گا بس سعد کو کہے اپنا پاگل پن چھوڑ دے ۔۔۔۔۔۔۔
ہممممم ،۔۔۔اللہ میرے بچے کو صبر دے ۔۔۔اگر وہ شازم کے ساتھ نہ ہوتی تو ۔۔۔۔
تو پھر بھی میں کبھی سعد کے ساتھ اس نہ باندھتا ۔۔۔کیوں کہ جو کچھ سعد ارانیہ کے ساتھ کر چکا ہے اس کے بعد میں کبھی بھی یہ سب ارسہ کے ساتھ نہ ہونے دیتا ۔۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو مسسز مجید چپ کر گئی ۔
جو کچھ بھی تھا سعد نے سچ میں سب غلط کیا تھا ارانیہ کے ساتھ ۔۔۔۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سعد کو جب سے پتہ چلا تھا مجید چوہدری نے ارسہ کو اس کے گھر بھیجا دیا ہے پاگلوں کی طرح پورے کمرے کو توڑ رہا تھا، ۔۔چیخا رہا تھا رو رہا تھا ۔
آپ کیسے کر سکتے ہیں کیسے ۔۔۔سعد ہر چیز توڑتے ہوئے چیخا تھا ۔
مجید چوہدری اور مسسز مجید کب سے سب سن رہے تھے ۔۔
مجید چوہدری اُٹھے تھے اور غصے سے اس کے روم کی طرف گے مسسز مجید بھی اُن کے پیچھے پیچھے گئی ۔
اُنہوں نے دروازہ کھولا ۔۔۔
بس کر دو یہ سب ڈرمے اپنے، ۔۔۔۔بہت تکلیف دی تھی تم نے ارانیہ کو جو اب اس کی بہن کو بھی دینا چاہتے ہو ۔۔۔۔مجید چوہدری اس کی طرف دیکھتے ہوئے چیخے ۔۔۔سعد کی سانس پھول رہی تھی پر پھر بھی مجید چوہدری کی طرف دیکھنے لگا ۔
آنکھیں غصے اور ضبط سے لال ہو رہی تھی ۔
جھوٹ کہیے رہے ہیں آپ وہ ارانیہ ہے پہلے بھی آپ نے اسے چھپا دیا تھا اب بھی مجھ سے بدلہ لینے کے لیے سب کر رہے ہیں آپ ۔۔۔ سعد ہاتھ میں پکڑا واس سامنے دیوار پر مارتے ہوئے چیخا ۔
کاش میں نے تم جیسے بے حس انسان کے ساتھ ارانیہ کا نکاح کیا ہی نہ ہوتا تو آج وہ بھی زندہ ہوتی سکون سے اپنے گھر بس رہی ہوتی ۔۔۔۔۔مجید چوہدری سعد کا پاگل پن دیکھتے ہوئے چیخے تھے ۔
ایسا نہیں ہوسکتا وہ میری ارانیہ ہے اور میں اسے ہر حال میں یہاں لے کر آؤں گا وہ صرف اور صرف سعد کی ہے صرف میری ۔۔۔۔سعد پھر سے چیخا تھا ۔
حبر دار جو اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہو خبر دار ۔۔۔۔۔مجید چوہدری سعد کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولے ۔
وہ میری ارانیہ ہے صرف میری ۔۔۔۔سعد کی آنکھوں میں پاگل پن اور ایک جنون سا تھا ۔۔۔۔
سعد آپ ۔۔۔۔ارسہ کو کچھ نہیں کہہ سکتے آپ، ۔۔وہ ارانیہ نہیں ارسہ ہے ارسہ ۔۔۔۔اس دفع مسسز مجید بولی ۔
آپ جائے یہاں سے، ۔۔مسسز مجید بولی تو مجید چوہدری سعد کو گھورتے ہوئے چلے گئے ۔
سعد پلیز یہ پاگل پن بند کر دو ۔۔۔۔۔۔مسسز مجید نے آگے بڑ کر سعد کا اپنے ساتھ لگایا تھا ۔۔
بیٹا وہ ارسہ ہے ارانیہ نہیں ۔۔۔۔۔۔
ماما پلیز ۔۔ارانیہ ہے وہ اسے لا دے مجھے ورنہ میں مر جاؤں گا آپ کا سعد ارانیہ کے بغیر مر جائے گا ۔۔۔۔۔۔سعد مسسز مجید کے ساتھ لگا روتے ہوئے بولا ۔
سعد میرے بس میں نہیں ورنہ میں اسے لے آتی وہ ارسہ ہے ارانیہ کی جڑواں بہن وہ ارانیہ نہیں ہے ۔۔۔۔مسسز مجید سعد کو لے کر بیڈ پر بیٹھایا تھا اور اسے پانی دیا ۔
ماما ۔۔۔۔
چپ سعد بالکل چپ اب مت کہنا ارانیہ کا وہ مر چکی ہے اور اس حقیقت کو قبول کر لو آپ ۔۔۔۔مسسز مجید اسے پھر سے ساتھ لگائے سمجھا رہی تھی ۔
سعد بس چپ کر گیا تھا ۔۔۔
کوئی مجھ پر یقین نہیں کر رہا وہ میری ہے بس میری ۔۔۔اور اسے کیسے حاصل کرنا ہے یہ میں جانتا ہوں ۔۔. سعد ایک جنون سے بولا تھا ۔
مسسز مجید کو لگ رہا تھا سعد سمجھ گیا ہو گا پر وہ نہیں جانتی تھی کے یہ خاموشی آنے والے طوفان سے پہلے کی ہے ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
ماما شادی جلد از جلد رکھیں میں اب کوئی ریسک نہیں لے سکتا وہ انسان پاگل ہے بالکل پاگل ۔۔۔۔۔۔شازم ادھر سے اُدھر چکر لگاتے ہوئے شرمین سے بولا ۔
جب سے ارسہ کو اس حال میں دیکھا ہے میرا دل بند ہو رہا ہے اس جیسے بے حس انسان کے سے خوفزدہ ہوں میں اپنی ارسہ اسے نہیں دے سکتا ۔۔۔۔شازم پریشان سگریٹ سلگا چکا تھا ۔
شازم تم ڈر گے ہو ۔۔۔۔
نہیں ماما مجھے میری جان کی بھی پروا نہیں ہے بس مجھے ارسہ کو کھونے سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔ آج ارسہ کی بہن مر گئی سعد کی وجہ سے میں نہیں چاہتا کے ارسہ کو کوئی بھی نقصان پہنچاے اس انسان کی وجہ سے ۔۔۔۔۔شازم تھک کر صوفے پر بیٹھا گیا ۔
ہم ایسا کرتے ہیں کچھ دن بعد چھوٹی سی مہندی رکھ کر پھر نکاح کی تقریب رکھ دیں گے اور پھر ولیمہ کی تقریب بہت بڑی رکھیں گے ۔۔۔۔شرمین کچھ سوچ کر بولی۔
جو بھی ہو بس مجھے ارسہ اپنے نام چاہے میں اس کی لائف پر کوئی بھی ریسک نہیں لے سکتا ۔۔. آپ ارسہ کو بھی بتا دیں ۔۔۔۔۔۔۔ شازم شرمین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
اوکے میں بات کرتی ہوں پھر کرتے ہیں ہم یہ سب انتظام تم گھبراو مت سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔شرمین مسکرا دی ۔
شرمین کا ایک ہی بیٹا تھا شازم اور اس کا میاں شازم کے چھوٹے ہوتے ہی وفات پا گیا تھا شرمین نے اپنے بیٹے کو اکیلے پالا تھا اور اپنا سارا بزنس بھی اسی نے سیٹ کیا تھا ۔
ارسہ کی ماما شرمین کی دوست تھی اور پاکستان وہ کسی کام سے آئی اور بیماری کی وجہ سے اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی ۔
تب سے ارسہ ان کے پاس تھی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ![]()
شرمین نے ارسہ سے بات کر لی تھی اور شرمین اور شازم کے سوچنے کے بعد دن بھی رکھے جا چکے تھے ۔۔۔۔شازم خوش تھا کے سعد نامی بلا ٹلے گی ۔
شرمین نے اکیلے ہی ساری شاپنگ وغیرہ کر لی تھی کیونکہ ارسہ نے جانے سے صاف انکار کر دیا تھا اور وجہ سعد سے خوفزدہ ہونا تھا ۔
ارسہ اپنے روم میں سو رہی تھی ۔۔۔
کھڑکی میں سے کوئی اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔سوئی آرسہ کی طرف دیکھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
میری پری ۔۔۔۔مجھے پھر سے مل جائے گی میں نے سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔سعد جو اپنی بلیک ہڈی میں آیا تھا ارسہ کی طرف بڑھا ۔۔
آپ گھبرانا مت بہت جلد آپ کو سب سے دور لے جاؤ گا اس شازم نامی ولین کو آپ کی زندگی سے بہت دور کر دوں گا بہت دور ۔۔۔۔۔سعد اس کے پاس بیٹھا پیار بھرے لہجے میں بولا ۔
ارسہ سکون سے بے حبر سو رہی تھی ۔۔۔ یہ جانے بغیر کے جس انسان کی وجہ سے وہ گھر سے باہر نہیں نکل رہی وہ انسان اس کے پاس بیٹھا ہے ۔
آپ ارانیہ ہیں میری ارانیہ صرف میری ۔۔۔سعد اس کے کان کے پاس جھکا آہستہ آواز میں بولا ۔
اپنے پاس کسی انسان کی ماجودگی محسوس کرتے ہوئے آرسہ کی نیند ٹوٹنے لگی تھی ۔
آرسہ نے بمشکل ہلتے ہوئے آنکھوں کو کھولا لائٹ کی ڈیم روشنی میں اپنے پاس کسی وجود کو بیٹھے دیکھ کر آرسہ کے منہ سے چیخ نکلی تھی ۔
سعد ایک پل کو اس سے دور ہوا ۔۔۔۔اور مسکراہٹ لیے اس سے دور ہوتا گیا ۔۔۔اور جلدی سے وہاں سے جس طرح آیا تھا وہی سے بھاگ گیا ۔
آرسہ آنکھوں کو بند کئے بس چیختی جا رہی تھی ۔
شرمین اور شازم آرسہ کی چیخیں سن کر جلدی سے اندر آئے ۔
کیا ہوا ہے آرسہ ۔۔۔۔شرمین جلدی سے لائیٹ جالاتے ہوئے بولی تھی شازم بھی پریشان سا آرسہ کو دیکھنے لگا ۔
آنٹی وہ آیا تھا وہ آیا تھا یہاں میرے پاس میرے پاس بیٹھا تھا آنٹی وہ ۔۔۔۔۔آرسہ روتے ہوئے شرمین کے ساتھ لگی بولی ۔
شازم آرسہ کی بات سنتے ہوئے پورے کمرے کو دیکھنے لگا اور پردے پیچھے کرتے ہوئے کھڑکی کو بھی دیکھا پر وہاں کوئی نہیں تھا ۔
شازم نے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔
کوئی بھی نہیں ہے آرسہ بیٹا ۔۔۔
نہیں آنٹی وہ تھا وہ میرے پاس تھا ۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آنٹی وہ مجھے لے جائے گا لے جائے گا مجھے ۔۔۔۔۔آرسہ روتے ہوئے بولی تھی ۔
زبان کی لڑکھڑاہٹ اور چہرے پر جو ڈر تھا وہ بتا رہا تھا کے آرسہ کافی زیادہ خوفزدہ ہے ۔۔۔
ریلکس میں ہوں شازم بھی ہے ہم ہیں آپ کے پاس کوئی بھی آپ کو نہیں لے کر جا سکتا ۔۔۔ شرمین اسے اپنے ساتھ لگائے پیار بھرے لہجے میں بولی ۔
آرسہ اُن کے ساتھ لگی سسک رہی تھی ۔
شازم کو سعد سے نفرت محسوس ہو رہی تھی جو اس کی آرسہ کے خوف کا باعث تھا ۔
ریلکس رہے آرسہ کوئی بھی نہیں ہے ۔۔. آپ کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔۔۔۔جان سے مار دوں گا میں اسے ۔۔۔شازم آرسہ کی طرف دیکھتے ہوئے اسے حوصلہ دیتے ہوئے بولا ۔
ماما آپ آرسہ کے پاس رہ لے اسی کے پاس سو جائے ۔۔۔۔۔شازم بولا تو شرمین نے سر ہلا دیا ۔شازم ارسہ کی طرف دیکھتے ہوئے چپ چاپ باہر نکل گیا شرمین وہی ارسہ کے پاس لیٹ گئی تھی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ![]()
آرسہ کا ہر وقت خوفزدہ رہنا اور اس سب کی وجہ سے مہندی نہیں کی گئی تھی بس نکاح کی تقریب رکھی گئی تھی تاکہ آرسہ کو ایک دفع سیکور کیا جائے اور اس کا ڈر ختم کیا جائے ۔
ماما ارسہ کو پالر رہنے دیں یہاں ہی کسی پالر والی کو بلا لے تو بہتر ہے ۔۔۔۔شازم شرمین سے بولا تھا جو پالر جانے کے لیے چیزیں اکھٹی کر رہی تھی ۔
شازم اب اتنا بھی کیا ڈرنا بات کی تھی میں نے مجید چوہدری سے کے اپنے بیٹے کو سمجھا کر رکھیں ۔۔۔۔شرمین ارسہ کی چیزیں بیگ میں رکھتے ہوئے بولی ۔
ہممم ٹھیک ہے جیسا آپ کو بہتر لگے ۔۔۔آپ آ جائے ارسہ کو لے کر میں گاڑی میں بیٹھا ہوں ۔۔۔شازم کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
ارسہ کو شرمین لے کر وہاں سے باہر گئی تھی تاکہ دونوں پالر جا سکے ۔
السلام علیکم ۔۔۔ارسہ سلام کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
شازم کا سارا دھیان ارسہ کی طرف تھا جو ابھی بھی خوفزدہ سی تھی۔
ارسہ ریلکس رہے میں ہوں ۔۔۔شازم بولا تو ارسہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سر ہلا دیا تھا پر ابھی دل میں عجیب سا خوف تھا ۔
پورے راستہ کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔
پالر کے آگے گاڑی روکتے ہوئے شازم بار بار ارسہ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
شازم میں ارسہ کو چھوڑ کر آتی ہوں ۔۔۔پھر تھوڑی دیر بعد اسے لے جائے گے ۔۔۔۔شرمین کہتے ہوئے باہر نکلی تھی ۔۔ارسہ بھی چپ چاپ اس کے پیچھے چل دی ۔
شازم کا سارا دھیان اس کی طرف تھا ۔۔۔۔۔ جو شرمین کے ساتھ چل رہی تھی ۔
شازم نے تھک کر سر سیٹ سے ٹکا دیا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد شرمین آئی ۔
کیا بات ہے شازم ۔۔۔؟؟شرمین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
ماما دل بے چین سا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا شازم کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔شرمین بولی تو شازم نے سر ہلا دیا ۔
چلو اب چلتے ہیں جو تیاریاں رہ گئی ہیں وہ کر لے ۔۔۔۔۔۔پھر مہمانوں کے آنے کا وقت ہو جائے گا ۔۔۔۔شرمین بولی تھی شازم نے گاڑی سٹارٹ کر دی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
آپ کو کوئی لینے باہر آیا ہے ۔۔۔۔۔ارسہ تیار سی بیٹھی تھی کے پالر والی لڑکی اس کے پاس آئی ۔
یہ چادر اوپر اوڑھ لے میں آپ کو باہر تک چھوڑ دیتی ہوں ۔۔۔اس لڑکی نے اسے ایک چادر دی تھی ارسہ نے اسے خود پر اوڑھ لیا ۔۔۔اس لڑکی نے اس کی میکسی پکڑ کر اسے گاڑی میں بیٹھنے میں مدد کی اور اسے گاڑی میں بیٹھا کر چلی گئی ۔
ارسہ نے گہرا سانس لیا تھا اس نے سمجھا شاید اسے شازم لینے آیا ہے اسی لیے تھوڑی جھجک رہی تھی ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی کہی روکی تھی ارسہ نے سر اُٹھا کر دیکھا پر چادر کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔اور ارسہ شرم کے مارے اسے پیچھے بھی نہیں کر رہی تھی ۔
پیچھے والا دروازہ کھولا ۔۔
کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔اور چہرے سے چادر اک دم سے پیچھے کی ۔۔۔۔۔ارسہ نے خوفزدہ سا جب سامنے دیکھا تو اس کے چہرے کی ہوائیاں اَڑ گئی ۔
آپ میری ارانیہ ہے صرف میری اور ارانیہ سعد کی ہے بس سعد کی ۔۔۔۔سعد اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا تھا چہرے پر عجیب سی خوشی اور آنکھوں میں جنون سا تھا ارسہ کانپنے لگی لگی تھی ۔
میاکاپ سے سجا چہرا پیلا زرد ہو چکا تھا ۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہیں ہیں ۔۔۔۔سعد بولا تو ارسہ جیسے ہواش میں آئی ۔
چھوڑیں مجھے پاگل انسان ۔۔۔۔ارسہ چیخی تھی ۔
سعد پھر بھی مسکرا دیا اور اس کی پرواہ کئے بغیر اسے گود میں اُٹھائے اوپر اپنے فلیٹ کی طرف لے گیا ۔
ارسہ رو رہی تھی چیخ رہی تھی پر سعد پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا ۔
آج میں آپ کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنا لوں گا ۔۔۔۔۔سعد بولا تو ارسہ خوفزدہ سی چلانے لگی تھی سعد اس پرواہ کئے بغیر اسے اندر اپنے فلیٹ کی طرف لے گیا۔
پلیز جانے دیں مجھے پلیز ۔۔۔۔ارسہ روتے ہوئے چیخی تھی سعد نے اسے آرام سے بیڈ پر بیٹھایا ۔
دیکھیں ہم اپ کی بیوی نہیں ہیں نہیں ہیں ہم آپ کی بیوی ۔۔۔۔ ارسہ اسے دھکا دیتے ہوئے چیخی تھی ۔
سعد اس سے دو قدم پیچھے لڑکھڑایا ۔۔
آپ کا نکاح ہوا ہے مجھ سے ۔۔۔۔سعد غصے سے لال ہوتی آنکھوں لیے چیخا ۔
پاگل ہیں آپ میرا نکاح آج ہے اور وہ بھی شازم کے ساتھ ۔۔۔۔ارسہ روتے ہوئے چیخی تھی ۔
آپ کو ہمارا نکاح یاد نہیں ۔۔۔۔سعد اس کی طرف دیکھتے ہوئے کھوئے ہوئے لہجے میں بولا ۔
بکواس بند کریں جب نکاح ہوا ہی نہیں تو یاد کیسے ہو گا ۔۔۔ارسہ رو رہی تھی آنکھوں کا کاجل رونے کی وجہ سے پھیل گیا تھا ۔
ارانیہ ارانیہ پاگل نہیں ہوں میں ۔۔۔۔آپ میری ارانیہ ہیں ۔۔۔ آپ کی یاداشت نہیں ہو گی ایسا کرتے ہیں دوبارہ نکاح کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سعد پاگلوں کی طرح ارسہ کو دیکھتے ہوئے بولا ۔
پاگل ہیں آپ میں کبھی بھی آپ سے نکاح نہیں کروں گی میں محبت کرتی ہوں شازم سے سنا آپ نے مجھے اُن سے محبت ہے ۔۔۔۔ارسہ نہ میں سر ہلاتے ہوئے چیخی تھی ۔
سعد ارسہ کی بات سن کر وہی سن سا کھڑا رہا گیا تھا وہ نہیں جانتا تھا اب کیا کرنا ہے اس کے آگے ۔۔۔ پر جو بھی تھا وہ ارسہ کو نہ چھوڑنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
