Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 14)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 14)
Black Monster by Ayn Khan
سعد پوری رات باہر گزار کر آیا تھا ۔۔۔۔۔تھکا سا جب صبح گھر داخل ہوا تو مسسز مجید کی آواز ڈائنگ ائریا سے آ رہی تھی ۔
وہاں سب ہی مل کر ناشتہ کر رہے تھے، ۔۔۔
سعد بھی آ گیا ۔۔۔جب سعد اندر داخل ہوا تو مسسز مجید مسکراتے ہوئے بولی ارانیہ مجید چوہدری مسسز مجید سب ہی وہاں مجھے تھے ۔
ارانیہ بھی سعد کو دیکھ کر مسکرائی ۔
آ جاؤ سعد ناشتہ کرو پھر آج ہم شاپنگ پر جائے گے تم دونوں کی شادی کی شاپنگ کرنے ۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو ارانیہ شرم سے سر جھکا گئی ۔
مجھے بھوک نہیں ہے ماما ۔۔۔سعد وہی کھڑا تھا ۔
سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔؟؟ مسسز مجید سعد کا تھکا سا انداز دیکھ کر بولی ۔
عالیان اور صالحہ بھی آنا چاہتے تھے پر صالحہ کی طبیعت نہیں ٹھیک اسی لیے نہیں آ سکے ۔۔چلو تم تھوڑا آرام کر لوں پھر اُٹھا کر ہم تینوں شاپنگ پر جائے گے دن تھوڑے ہیں اور کام بہت زیادہ ۔۔۔مسسز مجید سعد سے بولی ۔
ماما ۔۔۔بابا۔۔۔۔
جی ۔۔۔سعد بولا تو مسز مجید نے اس کی طرف دیکھا مجید چوہدری بھی اسے دیکھنے لگے ارانیہ کا دھیان بھی اس کی طرف گیا ۔
میری شادی ہو گی ۔۔۔۔پر ۔۔۔۔
پر کیا ۔۔۔۔؟؟کچھ خاص انتظام کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔مسسز مجید اسے دیکھتے ہوئے شرارتین ہنسی ۔
نہیں ۔۔۔۔۔
پھر سب ٹھیک ہے ۔۔۔؟ ؟
ماما میری شادی ہو گی پر ارانیہ کے ساتھ نہیں زمل کے ساتھ، ۔۔۔۔۔۔سعد بولا تو ارانیہ جس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا ایک پل میں وہی ٹیبل پر گرا ۔۔۔
سب ہی سعد کو دیکھ کر رہ گے ۔
کیا مزاق ہے یہ سعد ۔۔۔؟؟مجید چوہدری اس دفع غصے سے بولے ۔
بابا میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں ۔۔۔مجھے ارانیہ سے نہیں زمل سے شادی کرنی ہے آپ سب تیاریاں کریں میری اور زمل کی شادی کی ۔۔۔۔
بکواس بند رکھو اپنی ۔۔۔۔مجید چوہدری غصے سے چیخے ۔
ارانیہ تو سن سی بس سعد کو سن رہی تھی ۔۔۔۔آنکھوں میں جو پہلے والی چمک تھی اس کی جگہ وارانی سی آ چکی تھی ۔
بابا اگر کسی نے مجھے زمل سے شادی نہ کرنے دی تو میں خودکشی کر لوں گا ۔۔۔۔اور اس دفع میں بتا نہیں رہا کر بھی سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
ماما تیاری کریں شادی کی ۔۔۔زمل بھی اب اسی گھر میں رہے گی اس کا کوئی نہیں ہے اسی لیے وہ اسی گھر میں رہے گی جب تک شادی نہیں ہو جاتی ۔۔۔۔۔سعد بولا سب اسے دیکھ کر رہ گے ۔
دفع ہو جاؤ میرے گھر سے ۔۔۔۔مجید چوہدری چیخے ۔
بابا یہ آپ کا گھر نہیں ہے یہ دادا نے ہم دونوں بھائیوں کے نام کیا تھا ۔۔۔۔اسی لیے پورا پورا حق ہے میرا اس گھر پر آپ کیا کوئی بھی مجھے یہاں سے نہیں نکال سکتا ۔۔۔۔۔
تو پھر کرتے رہو شادی ہم نہیں دیں گے تمہارا ساتھ ۔۔۔اس دفع مسسز مجید بولی ۔
تو ٹھیک ہے میں خود کو ختم کر لوں گا اگر آپ لوگوں نے میرا اس میں ساتھ نہ دیا تو ۔۔۔سعد ابھی بول رہا تھا ارانیہ اُٹھی تھی وہاں سے ۔۔۔اور بھاگتے ہوئے اوپر روم کی طرف چلی گئی ۔
سعد بس چپ سا اسے جاتے دیکھتا رہ گیا ۔
سعد کہہ دو یہ جھوٹ ہے سب ۔۔۔۔
ماما زمل آتی ہے کل تو آپ اسے ساتھ لے جا کر اس کی پسند کی شاپنگ کروا دیجئے گا ۔۔۔۔۔سعد ان کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔
دیکھ لیا آپ نے آپ کہتی تھی یہ بدل گیا ہے پر دکھا دیا اس نے کے یہ نہیں بدل سکتا ۔۔۔۔مجید چوہدری وہی سر پکڑ کر بیٹھ گے ۔مسسز مجید کی تو زبان جیسے گونگی ہو چکی تھی ۔
اب کیا ہو گا ۔۔۔۔مسسز مجید بمشکل بولی ۔۔۔
میں مجبور ہوں ۔۔ایک ماں آج صحیح معنی میں مجبور ہو چکی ہے ۔۔۔مسسز مجید روتے ہوئے وہی ڈھ سی سی گئ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
کیوں کیا سعد آپ نے میرے ساتھ ایسا کیوں ۔۔۔۔ارانیہ وہی زمین پر بیٹھی روتی ہوئی چلائی ۔۔
کس گناہ کی سزا دے رہے ہیں مجھے کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔کیوں نہیں سمجھ آتا آپ کی ارانیہ مر جائے گی ۔۔۔۔ارانیہ روتے ہوئے بالوں کو نوچ رہی تھی ۔۔۔۔
مر جانا چاہے مجھے شاید اس طرح سب کو سکون مل جائے گا سب کو ۔۔۔ارانیہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے اسی لیے سامنے ڈریسنگ پر پڑے فروٹ چاکو کو اُٹھا لیا ۔۔
پاگل پن بند کرو اپنا ارانیہ ۔۔۔۔پیچھے سے سعد کو اس کے رونے کی آواز سن کر آیا تھا ارانیہ کے ہاتھ سے چاکو تھامتے ہوئے بولا ۔
ڈونٹ ۔۔۔۔جائے یہاں سے سنا آپ نے ہاتھ بھی مت لگائے مجھے آپ ۔۔۔۔ارانیہ سعد کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے دھکا دیتے ہوئے چلائی ۔
دھوکے باز انسان ہیں آپ ۔۔۔آپ مجھ سے بدلہ لے رہے ہیں نہ سعد ۔۔۔۔۔
ارانیہ پاگلوں کی روتے ہوئے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
مجھے نیچے دکھانا چاہتے ہیں آپ سعد ۔۔۔۔۔انکل کے تھپڑ کا بدلہ لے رہے ہیں نہ اس طرح دوسری شادی کر کے آپ بدلہ لے رہے ہیں ۔۔۔۔ارانیہ اسے کالر سے دبوچے چیخ رہی تھی ۔
بولے کیوں نہیں بولتے ۔۔۔۔۔
ہاں لے رہا ہوں میں بدلہ لے رہا ہوں ارانیہ آپ سے بدلہ ۔۔. سنا آپ نے ۔۔۔۔۔سعد نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر جھٹکے ۔
سعد، ۔۔۔۔تو پھر آپ کو مجھ سے کیا میں مرجاؤ تو مرنے دیں مجھے ۔۔۔۔ارانیہ غصے سے چلائی ۔
ایسے کیسے مرنے دوں سب الزام مجھ پر لگائے گے۔۔۔۔۔سعد اس کی طرف بڑھ کر اسے ایک جھٹکے میں خود کے قریب کر گیا ۔
آپ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا میرے مرنے سے ۔، ۔۔۔۔ارانیہ کا دل اس کی بات سن کر زخمی ہوا۔
نہیں پڑے گا تھوڑا سا ۔۔۔۔ اتنے عرصے ہمارے گھر ہمارے ٹکروں پر پلی ہو تھوڑا تو پڑے گا ۔
سعد ۔۔۔ارانیہ نے اسے خود سے دور کرنا چاہا دل میں درد سا اُٹھا تھا سعد کی بات دے۔
ہمارا احسان ہے آپ پر ارانیہ ۔۔۔اسی لیے اس احسان کے بدلے خود کر کچھ مت کرائیے گا ورنہ سب سے پہلا الزام آپ کی آنی اور انکل پر لگے گا ۔۔۔۔۔سعد اس کی کمر پر ہاتھ رکھے اسے بالکل قریب کر چکا تھا ۔
آپ کا احسان یاد رکھوں گی ہمیشہ خود کو کچھ نہیں کروں گی مسٹر سعد چوہدری ۔۔۔۔۔ارانیہ ہنسی تھی درد بھری ہنسی تھی اس کے چہرے پر ۔
جائے آزاد کیا آپ کو اس رشتے سے، ۔۔۔اجازت دی آپ کو دوسری شادی کی ۔۔۔۔ارانیہ آپ کے لیے آج سے ابھی سے مر گئی ۔۔۔
خوشیاں منائے خود باضابطہ میں آنی کی مدد کرواں گی آپ کی دوسری شادی میں ۔۔۔۔۔۔
اور آپ کو خود اپنے ہاتھوں سے دولہا بناؤں گی ۔۔۔ارانیہ سعد کی گال پر ہاتھ رکھے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ بولی ۔
ارانیہ کی روتی آنکھوں اور لہجے کے ٹوٹ پھوٹ کو دیکھتے ہوئے سعد کو اپنا دل سو ٹکروں میں ٹوٹا ہوا محسوس ہوا ۔
چھوڑیں مجھے ۔۔۔ارانیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔
چھوڑوں گا کبھی بھی نہیں آپ میری پہلی بیوی کی حصیت سے میرے ساتھ رہے گی ۔۔۔۔۔۔
آپ کو آپ کے کسی حق سے محروم نہیں کروں گا یہ وعدہ ہے میرا ۔۔۔۔سعد نے اس کے بہتے آنسو کو صاف کرنا چاہا ۔
ڈونٹ ۔۔۔میں آپ کو اپنے آنسو صاف کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتی مسٹر سعد چوہدری ۔۔۔۔اور آپ حق کی بات کرتے ہیں ۔۔۔
مجھے آپ سے کسی حق کی نہ امید ہے اور نہ ہی مجھے کوئی حق چاہے ۔۔۔۔سارے حق آپ اپنی دوسری بیوی کو دیں ۔۔۔سنا آپ نے ۔۔۔۔۔ارانیہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولی ۔
چھوڑیں مجھے ۔۔۔کل میری یونیورسٹی ہے اور مجھے تیاری کرنی ہے یونیورسٹی جانے کی ۔۔۔۔ارانیہ کا لہجہ ایک دم سے بے لچک اور کھردا ہو چکا تھا ۔
سعد نے اسے چھوڑا تھا اور پیچھے ہٹا ۔۔۔اور چپ چاپ باہر کی طرف قدم لینے لگا ۔
آئندہ اس کمرے میں تشریف مت لے کر آئیے گا ۔۔۔اور بے فکر رہے خودکشی نہیں کرتی ۔۔۔آپ لوگوں کے بہت احسان ہیں جانتی ہوں میں ۔۔۔۔ارانیہ اپنے بہتے آنسو کو بے دردی سے صاف کرتے ہوئے مسکرائی ۔
سعد نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر افسودگی اور نفرت تھی ۔
سعد ارانیہ کے چہرے پر اپنے لئے نفرت نہیں دیکھ پایا تھا اور وہاں سے باہر نکل گیا ۔
ارانیہ نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔۔
بہت برے ہیں آپ سعد بہت برے ۔۔۔. ارانیہ وہی دروازے کے ساتھ لگی نیچے بیٹھتی چلی گئی ۔۔
میری دنیا تباہ کر دی آپ نےایک بدلے کے لیے سب تباہ کر دیا سب کچھ ایک دفع پھر مجھے یہاں لا کر مجھ سے بدلہ لیا۔۔۔۔۔۔ارانیہ دروازے کے ساتھ سر ٹکائے روتے ہوئے خود سے بولی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
آج پھر سے وہ ہڈی پہیں باہر نکلا تھا ۔۔۔۔۔کوئی منزل نہیں تھی ۔۔
قبرستان پہنچ کر ایک قبر کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھ ۔۔رات کے بڑھتے اندھیرے میں وہ بے خوف سا اس قبر کے پاس بیٹھا۔۔۔
آپ کے لیے پھول لے کر آیا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔ بہت پسند تھے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ قبر سے باتیں کرتے ہوئے اس پر پھول ڈالنے لگا ۔۔۔
آپ کے ہر مجرم کو سزا دی ہے اس بلیک منسٹر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا سے کیا کر دیا آپ نے مجھے ۔۔۔۔۔ایک دفع لوٹ آئے ایک دفع صرف ایک دفع ۔۔۔. اس دفع کوئی تکلیف نہیں دوں گا سچ میں پکا پرامس ہے میرا آپ سے پلیز لوٹ آو ۔۔۔۔۔۔
جانتا ہوں ہر دفع جھوٹ کہتا ہوں کے نہیں دوں گا تکلیف پر اس دفع جھوٹ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔پر اس دفع وہ واپس نہیں آنے والی تھی ۔
میری تو دنیا ختم ہو چکی ہے ۔۔. بس اس آخری انسان کو مار دوں اسے ایسی سزا دوں گا اس کی سات نسلے یاد رکھیں گی کے اس نے میری پری کو نقصان پہنچایا تھا ۔
آپ کا مانسٹر آپ کے پاس پھر سے آئے گا ۔۔۔۔خود کو کنٹرول کرتے ہوئے وہ پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔
ایک دفع تم مجھے مل جاؤ پھر دیکھنا ویسے ہی تڑپ تڑپ کے مارو گے جیسے میری پری کو مارا تھا ۔۔۔جیسے وہ مری تھی ویسے ہی تم مرو گے پر تمہیں تو قبر بھی نصیب نہیں ہو گی ۔۔۔کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔دھندلاتے منظر کے ساتھ وہ لڑتے ہوئے وہاں سے باہر نکل گیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
السلام علیکم ۔۔۔۔آنی انکل بات کرنی ہے آپ سے ۔۔۔۔. رات کو ارانیہ دونوں کے کمرے میں آئی تھی ۔
دونوں بس خاموشی سے اسے دیکھ کر رہ گے تھے بولنے کو کچھ نہیں تھا اور سعد کی دھمکی کے سامنے مجبور بھی تھے ۔
آنی انکل سعد کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دے دی ہے میں نے ۔۔۔ویسے تو ان کو اجازت کی ضرورت نہیں تھی پر اب مجھے کو اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔
اگر اَن کی خوشی ہے اس شادی میں تو میں خوش ہوں آپ کی مدد کر دوں گی میں آنی شاپنگ میں ۔۔۔۔ارانیہ مسکرائی ۔۔۔۔۔اس کی مسکراہٹ میں درد تھا ۔
مسسز مجید اور مجید چوہدری ارانیہ کو دیکھ کر رہ گئے ۔
نہیں ہو گی یہ شادی سنا لو سب ۔۔۔اگر اسے شادی کرنی ہے تو ہم یہ گھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں خوشی سے رہے اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔۔مجید چوہدری غصے سے دھڑے ۔۔۔
انکل پلیز ۔۔۔۔۔ہونے دیں یہ شادی میں خوش ہوں اپنی زندگی میں اور کل سے میں یونیورسٹی جاؤں گی ۔۔۔۔۔مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے پلیز آپ سعد کی خوشی میں خوش ہو جائے ۔۔۔۔ارانیہ مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی پر مسکرا نہیں پا رہی تھی ۔
یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے ارانیہ ۔۔۔۔؟؟مجید چوہدری نے اس کی طرف دیکھا ۔۔مسسز مجید چپ سی تھی ۔
جی انکل ۔۔۔۔۔
تو ٹھیک ہے ہم سعد کی شادی کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔پر ۔۔.
پر کیا۔۔۔۔۔ ارانیہ ان کی بات سن کر ان کی طرف دیکھنے لگی ۔
پر سعد کی شادی کے بعد آپ کی طلاق لوں گا اور آپ کی شادی میں اپنے کسی دوست کے بیٹے کے ساتھ کروں گا ۔۔۔۔۔
پلیز انکل مجھے کیسی اور امتحان میں مت ڈالے نہیں کرنی مجھے شادی ۔۔۔۔ ارانیہ نے تڑپ کر اُن کی طرف دیکھا تھا ۔
تو ٹھیک ہے سامان پیک کرو آج ہم اس گھر کو چھوڑ کر جا رہے ہیں ہمیشہ کے لیے کبھی نہ واپس آنے کے لیے ہمارا بیٹا مر گیا ۔۔۔۔۔مجید چوہدری سیریس سا بولے ۔
پر انکل ۔۔۔
تو ٹھیک ہے پھر رضامندی چاہے مجھے دوسری شادی کی آپ دوسری شادی کریں گی ارانیہ ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے انکل میں تیار ہوں جیسا آپ کہے گے ویسا ہی کروں گی انکل ۔۔۔۔۔
آپ سعد کو شادی کرنے دیں ۔۔۔۔
جو آپ کا حکم ہو گا وہی ہو گا ۔۔۔۔ارانیہ کا لہجہ بھگا گیا تھا ۔
مسسز مجید کچھ نہیں بولی تھی بس چپ سی وہی بیٹھی ہوئی تھی ۔
آنی میری ضرورت ہوئی تو بتائیے گا ۔۔۔ارانیہ بمشکل مسکرا کر بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی ۔
مجید ۔۔۔۔
ایسا ہی ہو گا اب میں سعد کے لیے ارانیہ کی زندگی برباد نہیں کرنے دوں گا ارانیہ کو اپنی زندگی کا نیا پاٹنر پسند کرنا ہو گا ۔۔۔مجید چوہدری بولے تو مسسز مجید نے سر ہلا دیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ![]()
زمل یہ سوپ پی لو پھر ہمیں گھر بھی جانا ہے ۔۔۔ہادی زمل کو سوپ پلا رہا تھا ۔
نہیں پینا مجھے لے جائے اسے یہاں سے ۔۔۔۔زمل چڑ کر بولی ۔
ٹھیک نہیں ہو پاؤ گی ایسے ۔۔۔۔
کیا کروں گی ٹھیک ہو کر ۔۔۔۔زمل منہ بنا کر بولی ۔
گھر بھی جانا ہے پھر پیکنگ کرنی ہے ہم نے ۔۔۔۔ہادی مسکرایا ۔
کیوں ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔؟ ؟ زمل پریشانی سے اس کی طرف دیکھنے لگی ۔
ہم سعد کے گھر شفٹ ہو رہے ہیں ۔۔۔اور ۔۔۔
اور کیا کیا اور کیوں بھائی ۔۔۔؟ ؟
کیوں کہ میری زمل کی شادی ہے سعد کے ساتھ اسی ماہ کے لاسٹ میں ۔۔۔۔اب یہ پی لو ۔۔۔۔ ہادی نے اس کی طرف سپون کی تو زمل نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پی لی ہے ۔
بھائی سچ میں ۔۔۔۔آپ سچ کہہ رہے ہیں ۔۔۔زمل خوش ہوتے ہوئے ہادی کے گلے لگ گئی ۔
جی میرا بچہ سعد کی اور آپ کی شادی ہے سب مان گے ہیں بس آپ کے ٹھیک ہونے کا انتظار ہے اور پھر اسی ماہ کے لاسٹ میں شادی ہے ۔۔۔۔۔. ہادی بولا تو زمل خوشی کے مارے اس کے ساتھ لگی رہی ۔
تھینک یو سو مچ بھائی تھینک یو سو مچ۔۔۔۔زمل ہھر سے کھل گئی تھی ۔
آج زمل اور ہادی ارانیہ کی خوشیوں پر اپنے محل تعمیر کر رہے تھے ۔۔
