Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 21)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 21)
Black Monster by Ayn Khan
مجھے معلوم کر کے بتاؤ یہ گاڑی کس کس کے پاس ہے اس شہر میں اور یہ کام مجھے آج کے آج ہی بتاؤ ۔۔۔۔۔۔سعد اپنے کیسی آدمی کو کال کرتے ہوئے بولا۔
سعد اس وقت گھر واپس آیا تھا اور باہر صوفے پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ جب سے اس لڑکی کو دیکھا تھا دل بے چین سا تھا اور ایک اس سی تھی دل میں ۔۔۔۔۔
مسسز مجید نیچے آئی تو سعد کو سامنے پریشان سا بیٹھا دیکھا تھا ۔
کیا بات ہے سعد سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔،؟
ماما ایک بات کہوں مانے گی ۔۔۔۔۔
کیا بات ہے سعد ۔۔۔۔مسسز مجید خود پریشان ہو چکی تھی ۔
ماما میں نے خود ارانیہ کی میت کو قبر میں اتارا تھا ۔۔۔۔. سعد اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے نم لہجے میں بولا ۔
اس کی اس بات سن کر مسسز مجید کی آنکھیں بھی نم ہوئی تھی ۔
کیا بات ہے سعد ۔۔۔۔۔۔۔
ماما میں نے آج اسی شکل کی لڑکی کو دیکھا مجھے ایسے لگا وہ ارانیہ ہے۔۔۔۔ماما وہ ارانیہ ہی تھی ۔۔مجھے ایسے محسوس ہوا وہ ارانیہ ہے سچ میں ماما ۔۔۔۔۔سعد ایک دم سے بولتے ہوئے ان کے قدموں میں بیٹھا گیا ۔
سعد سنبھالو خود کو ۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ مر چکی ہے ۔۔۔۔ مسسز مجید خود رونے لگی تھی سعد کے سر کو گود میں لیے نم لہجے میں بولی ۔
ماما مجھے محسوس ہوا وہ تو ارانیہ تھی ۔
وہ تمہاری نظروں کا دھوکا ہو گا سعد ۔۔۔۔۔ارانیہ مر چکی ہے ۔۔۔۔مسسز مجید سعدکا سر سہلاتے ہوئے اس کے ماتھے پر لب رکھے بولی ۔
ج۔۔۔۔جی جی ماما ۔۔۔سعد آنکھوں کو موند گیا تھا ۔۔۔
ایک دم سے پھر سے آنکھوں کے سامنے وہ منظر اور اس کا بھاگنا سعد کے سامنے آیا تھا ۔
اس کی آنکھیں اُن آنکھوں میں ۔۔۔۔
ماما اس لڑکی کی آنکھوں میں نفرت تھی میرے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
ایسا کیوں ہو سکتا ہے وہ ارانیہ ہی تھی ۔۔۔سعد ایک دم سے سر اوپر اُٹھا کر مسسز مجید سے بولا ۔
سعد ۔۔۔۔۔بس کر دو ارانیہ مر چکی ہے بس اب جاؤ آرام کر لو تھوڑی دیر ۔۔۔مسسز مجید نم لہجے میں بولی تھی ۔
سعد چپ چاپ وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔
مسسز مجید اسے بس جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی تھی ۔
میرا بچہ کیا سے کیا ہو گیا ۔۔۔۔سب برباد ہو گیا میری ارانیہ ۔۔۔بولتے ہوئے چپ سی کر گئی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
کیا ہوا ارسہ سب ٹھیک ہے آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ جب گھر آئی تو شازم اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔کیوں کہ وہ ایسے پریشان سی لگی تھی ۔
وہ میں ڈر گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
سب ٹھیک تو ہے ہوا کیا ہے آپ کو ۔۔۔۔؟؟آپ روکے میں پانی لے آتا ہوں ۔۔۔شازم بولتے ہوئے پانی لینے گیا ۔
یہ لے پانی پی لے ۔۔۔۔شازم نے اسے گلاس تھمایا تھا ۔۔
تھینک یو ۔۔۔۔پینے کے بعد ارسہ بولی ۔
کیا ہوا ہے آپ کو اب بتائے ۔۔۔
کچھ نہیں بس وہ روڈ پار کرتے ہوئے میں ایک گاڑی کے سامنے آ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
آپ پاگل ہیں کتنی دفع کہا ہے میں نے آپ کو کے مت جایا کریں آپ باہر پر آپ ہیں کے بالکل نہیں سنتی ۔۔۔آئندہ آپ اکیلی باہر نہیں جائے گی ۔۔۔۔شازم اس کی طرف دیکھتے ہوئے غصے میں بولا۔
آنٹی سے پوچھ کر گئی تھی ۔۔۔۔بس ضروری جانا تھا مجھے ۔۔۔۔۔وہ ممنائی ۔
کوئی بات نہیں پر اب آپ جب بھی جائے گی یا تو میں جاؤں گا آپ کے ساتھ یا پھر ماما یا کوئی اور اکیلے بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔شازم بولا تو اس نے سر ہلا دیا ۔
شازم سچ میں ارسہ کو دیکھ کر پریشان ہو چکا تھا ۔۔
جائے روم میں جا کر آرام کریں ۔۔۔۔
جی پر وہ شخص پاگل تھا میرے پیچھے آنے لگا ۔۔۔۔۔میں ڈر کر بھاگ آئی تھی ۔۔۔۔ارسہ گھبرائی ہوئی بولی ۔
کیا مطلب کون تھا وہ ۔۔۔۔؟
پتہ نہیں کون تھا پر میرے پیچھے آنے لگا میں خوفزدہ ہو چکی تھی اور میں بھاگ آئی ۔۔۔۔۔
کون تھا وہ۔۔۔؟؟ پیچھے سے شازم کی ماما آ کر بولی تھی ۔۔
انٹی پتہ نہیں کون تھا وہ ۔۔۔۔بس میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی بہت زیادہ ۔۔۔۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بالکل بھی ۔۔۔۔آئندہ میں ساتھ جایا کروں گی آپ کے ۔۔۔۔شرمین بولی ۔
جائے آپ آرام کریں اب۔۔۔شرمین اسے پیارے دیتے ہوئے بولی تھی ۔
جی آنٹی ۔۔۔۔ارسہ بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی ۔
ماما دھیان رکھا کریں اس کا ۔۔۔۔آپ جانتی ہیں اسے نہ شہر کے راستوں کا پتہ ہے اور نہ کچھ ۔۔۔پھر بھی آپ اسے بھیج دیتی ہیں ۔۔۔۔شازم پریشان سا بولا ۔
میں جانتی ہوں میں نے تو اسے ڈرائیور کے ساتھ ہی بھیجا تھا ۔۔۔اکیلے ایسے بور ہو رہی تھی اور ایک دم سے ماں کی وفات کے بعد تو بالکل ہی اکیلی ہو گئی ہے بچی ۔۔۔۔۔
ماما جانتا ہوں پر پھر بھی آپ اسے اب کیلے مت بھیجئے گا ۔۔. شازم بولتے ہوئے سر صوفے پر ٹکا گیا ۔
کیا بات ہے شازم ۔۔اتنے پوزیسو کیوں ہو رہے ہو ۔۔۔۔؟شرمین اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی ۔
ماما مجھے ارسہ سے ۔۔۔۔۔
شازم ۔۔۔
ماما مجھے ارسہ سے محبت ہونے لگی ہے اس کے بغیر رہنا میرے لیے بہت مشکل ہو رہا ہے ایسے ۔۔۔۔۔۔شازم آنکھوں کو بند کئے مسکراہٹ بھرے لہجے میں بولا ۔
شرمین بھی بیٹے کی بات سن کر مسکرا دی ۔
میرا بچہ ۔۔۔۔مجھے تو ارسہ ویسے ہی بہت پسند ہے ۔۔۔۔
تو ماما آپ بات کریں ارسہ سے ۔۔۔۔. میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔دن با دن میں اس کے لیے اور بھی زیادہ پوزیسو ہوتا جا رہا ہوں ۔۔۔۔شازم شرمین کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر پیار بھرے لہجے میں بولا ۔
جی ضرور کرتی ہوں میں بات اور پھر دونوں کی شادی دھوم دھام سے کروں گی ۔۔۔۔ وہ بولی تو شازم مسکر دیا تھا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
کون تھا وہ کون تھا ۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں باتیں کرتی ہیں ۔۔۔۔۔ عجیب انسان ہے وہ ۔۔۔آرسہ فریش ہو کر باہر آئی تو ۔۔اپنے بالوں کو ٹاول سے صاف کرتے ہوئے خود سے ہی باتیں کر رہی تھی ۔
پاگل ہی تھا جو بھی تھا ۔۔۔۔۔ٹاول کو بیڈ پر اچھال کر بالوں کو بریش کرنے لگی ۔۔۔
میں اندر آ جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔شرمین کی آواز سن کر ارسہ نے دروازے کی طرف دیکھا تھا ۔
جی جی آنٹی آ جائے آپ ۔۔۔۔ارسہ جلدی سے بیڈ پر پڑھا ٹاول اُٹھا کر بولی ۔
ارسہ آپ ٹھیک ہیں نہ اب ۔۔۔۔۔؟؟
جی جی آنٹی میں بالکل ٹھیک ہوں بس اس وقت خوفزدہ ہو گئی تھی پر اب بالکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ارسہ مسکرائی ۔
مجھے آپ سے بات کرنی تھی ۔۔ ۔۔
جی آنٹی بولے ۔۔۔۔۔
ارسہ آپ کو کوئی پسند تو نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟شرمین بولی تو ارسہ نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا ۔
کیا ہوا آنٹی آپ کیوں پوچھ رہیں ہیں ۔۔۔؟ ؟
آپ بتائے آپ کو کوئی پسند ہے تو میں اس سے آپ کی بات کروں گی ۔۔۔۔
آنٹی میں بہت جلدی یہاں سے چلی جاؤں گی ۔۔۔ارسہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔
ایسا کسی نے کہا ۔۔۔آپ کیوں جائے گی یہاں سے ۔۔۔؟ ؟آپ میری بیٹی ہیں ۔۔۔۔شرمین اس کی طرف دیکھتے ہوئے پیارے بھرے لہجے میں کہا کر اس کا ہاتھ پکڑا کر آپنے پاس بیٹھا چکی تھی ۔
آنٹی میں تو بس ۔۔۔۔۔۔میری لائف میں کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔
میں بس یہ ہی جانا چاہتی تھی کیونکہ۔۔۔۔وہ بولتے ہوئے ٹھہری تھی ۔
ارسہ بس ان کی طرف دیکھتی رہ گئی ۔
شازم آپ سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔. پر میں چاہتی تھی کے میں آپ سے جان لوں کے آپ کی زندگی میں کوئی اور تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔
شرمین بولی تو ارسہ لب کاٹتے ہوئے سر جھکا گئی ۔
آپ کیا چاہتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
آپ شازم سے شادی کریں گی ۔۔؟ میں آپ کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا چاہتی ہوں ہمیشہ کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔شرمین بولی تو ارسہ نے نظروں کو جھکا لیا تھا ۔
پر آنٹی ۔۔۔۔۔
کیا بات ہے ارسہ ۔۔۔۔
شازم نے آپ کو کہا ۔۔۔؟؟ارسہ ہاتھ کی انگلیاں مڑورتے ہوئے کہا ۔
شازم کی خواہش پر ہی میں آپ کے پاس آئی ہوں ۔۔۔۔۔۔شرمین کے بولنے پر ارسہ مسکرا دی ۔
آپ کو جیسے بہتر لگے آنٹی مجھے کو اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
تھینک یو سو مچ بیٹا آپ نے مجھے خوش کر دیا میرے بیٹے کی خوشی سے دے کر ۔۔۔۔۔شرمین مسکراہٹ بھرے لہجے میں بولتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگ گئی ۔
ارسہ بھی مسکرا دی ۔
ہم ایسا کرتے ہیں یہ پرسوں جو جمعہ آ رہا ہے تم دونوں کی انگجمنٹ رکھ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ج۔۔۔ جی۔۔۔۔ جی ۔۔۔
میں تو بہت جلد اپنے شازم کی اور آپ کی شادی کر دوں گی بس ۔۔۔۔ شرمین نے بولتے ہوئے ارسہ کا ماتھا چوما تھا اور خوش ہوتے ہوئے باہر چلی گئی ۔
پیچھے ارسہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کے وہ خوش ہو یا پھر روئے ۔۔۔
عجیب سی کیفیت ہو چکی تھی اس کی ۔۔۔۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سر یہ دو نام بھیجے ہے آپ کو یہ گاڑی بس دو لوگوں کے پاس ہے ۔۔۔ سعد کو اس کے پی اے کی کال آئی تھی ۔
ٹھیک ہے ۔۔۔سعد نے کہتے کال بند کر دی تھی ۔
شازم خان اور جسٹس اطہر عباس ۔۔۔۔کون ہو سکتا ہے اس میں سے وہ ۔۔۔۔۔۔۔سعد دونوں ناموں کو دیکھتے ہوئے سوچ کر خود سے ہی بولا تھا ۔
وہ ارانیہ ہی تھی ۔۔۔وہ میری ارانیہ تھی ۔۔۔اسے میرے پاس آنا ہو گا وہ میری ہے صرف میری ۔۔۔ارانیہ سعد کی ہے سعد کی، ۔۔۔۔۔۔وہ ایک جنون سے بولا ۔
سعد نے اپنا فون لیا تھا اور کسی کو کال کرنے لگا ۔۔۔
میری بات سنوں میں تمہیں کچھ سینڈ کر رہا ہوں مجھے ان کی سب انفارمیشن چاہے ایک ایک پل کی انفارمیشن لا کر دو مجھے ۔۔۔۔۔۔سعد نے بولتے فون بند کر دیا تھا اور نام سینڈ کر دیا ۔
ایک آپ مجھے مل جائے ۔۔۔۔. سعد بیڈ پر گر سا گیا تھا ۔
میری ارانیہ وہ میری ہے میرا جنون میرا سب کچھ ۔۔۔۔۔
تمہارے ہر مجرم کو سزا دی ہے ان اسے بھی سزا دوں گا تمہارے سامنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعد آنکھوں کو بند کئے آج اتنے عرصے بعد مسکرایا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
ارسہ کے ہاں کے بعد شرمین نے انگجمنٹ کی تقریب رکھی تھی ۔۔۔اور دو دن پر لگا کر گزر گے تھے ۔۔۔۔ اور آج تقریب تھی انگجمنٹ کی ۔
شازم گھر پہنچ چکا تھا ۔۔۔تقریب گھر رکھی گئی تھی صرف حاض حاض لوگوں کو بلایا گیا تھا ۔۔۔۔
ارسہ کو ابھی شرمین ڈرائیور کے ساتھ پالر سے لینے گئی ہوئی تھی ۔
ماما کب تک انے کا ارادہ ہے آپ کا ۔۔۔۔۔شازم نے شرمین کو کال کی ۔۔۔
بس دس منٹ پہنچ گئے ہیں ہم۔۔۔۔
جلدی آئے سب مہمان آ چکے ہیں اور بس آپ اور آپ کی ہونے والی بہو گھر نہیں آئے ۔۔۔. شازم بولا تو شرمین ہنس دی ۔
زرا سامنے دیکھو ۔۔۔۔۔۔۔شرمین بولی تو شازم جو بات کرتے مسکرا رہا تھا سامنے شرمین کے ساتھ کھڑی ارسہ کو دیکھ کر دیکھتا ہی رہ گیا ۔
وہ ہو۔۔۔۔۔۔ شازم ارسہ کو دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔
ارسہ جو پیچ کالر کی میکسی پہین ڈوپٹہ سر پر سجائے ہوئے تھی ۔۔۔۔۔نظروں کو جھکا رکھا تھا ۔۔۔۔خوفزدہ سی شرمین کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔
شازم مسکراتے ہوئے اُن کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔
مئے آئی ۔۔۔۔۔شازم نے بولتے ہوئے ارسہ کے سامنے ہاتھ کیا ۔۔۔۔
ارسہ نے مس شرمین کی طرف دیکھا تھا جنہوں نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا ۔۔
تب ہی کسی نے کلیک کیا تھا اور اُن کی پیچرز لی۔
ارسہ نے کانپتا ہوا ہاتھ شازم کے ہاتھ پر رکھ دیا ۔
شازم اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے سٹیج کی طرف لے گیا تھا ۔۔۔۔
ریلکس رہے ارسہ ۔۔۔۔. میں ہوں آپ کے پاس ۔۔۔. شازم اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈال کر بولا ۔
مجھے لوگوں سے خوف آتا ہے شازم ۔۔۔۔..وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی ۔
میں ہوں آپ کے ساتھ کچھ نہیں ہو گا آپ کو ۔۔۔۔۔ڈریں مت کوئی آپ کو کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔. شازم مسکراتے ہوئے بولا تھا اور دونوں سٹیج پر کھڑے ہو گے ۔۔
شرمین بھی اُن کے پیچھے تھی انہوں نے دونوں کو ایک ایک رنگ دی ۔۔۔۔
شازم نے مسکراتے ہوئے اپنا ایک گھنٹہ نیچے زمین پر رکھا تھا۔۔۔۔اور پرپوز کرنے کے سٹائل میں ارسہ کے آگے رنگ کی ۔۔
مس ارسہ اعجاز کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی ۔۔۔۔. شازم اس کے آگے رنگ کرتے ہوئے بولا ۔
ارسہ نے نظریں جھکا رکھی تھی شازم کے بولنے پلکوں کی جالر اُٹھاتے ہوئے شازم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
آپ کی ہر ادا پر میں فدا ہو جاؤ ۔۔۔۔۔ارسہ کے اس طرح کرنے سے شازم کے منہ سے بے ساختہ نکا تھا جس پر ارسہ نے لب کاٹتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اپنا ہاتھ اگے کیا ۔
شازم نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ میں رنگ پہین دی ۔۔۔۔۔۔
تھینک یو سو مچ ارسہ میری زندگی میں آنے کے لیے تھینک یو سو مچ ۔۔۔۔۔۔شازم بولا تو ارسہ نظروں کو جھکائے مسکرا دی ۔
پھر ارسہ نے شازم کو انگوٹھی پہنائی ۔۔۔۔پورے ہال میں تالیاں گھونجی تھی ۔۔۔
شازم کی نظریں ارسہ پر سے ہٹ نہیں رہیں تھی ۔
شرمین دونوں سے ا کر ملی تھی دونوں کو بھاری بھاری گلے لگایا ۔۔
ہمیشہ خوش رہو تم دونوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرمین بولتے ارسہ کو ساتھ لگ گئی ۔
پھر ایسے ہی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی تھی اور ارسہ شرمین کے ساتھ اندر آ گئی ۔
ارسہ کو شازم نے جھجک سی محسوس ہو رہی تھی آگے وہ اس سے کھل کر بات کر لیتی تھی پر اب رشتے کے بدلنے سے ارسہ کو شازم سے شرم محسوس ہو رہی تھی ۔
اور شازم ارسہ کا جھجکنا سب محسوس کر رہا تھا ۔۔۔پر شازم کو یہ سب اچھا لگ رہا تھا ۔
چلو تم دونوں اب آرام کرو ۔۔۔۔اور ہم صبح ڈیسائڈ کریں گے شادی کا ۔۔۔۔۔شرمین بولی تو ارسہ نے ان کی طرف دیکھا ۔
ارسہ آپ کی ماما آپ کی زمینداری مجھ پر چھوڑ کر گئی تھی اور میں یہ ہی چاہتی ہوں کے سب کچھ ویسا ہی ہو جیسا آپ چاہتی ہیں ۔۔۔۔۔
جیسا آپ چاہے گی ویسا ہی ہو گا ۔۔۔شرمین اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولی ۔
چلے اب آپ دونوں آرام کر لے میں بھی چلتی ہوں ۔۔۔شرمین بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی ۔
ارسہ بھی جلدی سے شازم کی نظروں سے بچتے ہوئے وہاں سے بھاگنے والی تھی کیونکہ وہ کب سے محسوس کر رہی تھی شازم کی نظریں اسی پر ہی ہیں ۔
ارسہ ۔۔۔۔۔شازم جلدی سے ارسہ کے سامنے آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
ج۔۔۔۔ج۔۔جی ۔۔۔۔۔گھبراہٹ کی وجہ سے ارسہ کے منہ سے آواز تک نہیں نکل رہی تھی ۔
گھبرائے مت میں ہی ہوں ۔۔۔۔۔۔شازم ۔۔جس سے پہلے بات کرتی تھی ویسے ہی کر لے بات ۔۔۔۔شازم اسے دلچسپی سے دیکھتے ہوئے اپنی ہنسی کنٹرول کر رہا تھا ۔
شازم مجھے جانا ہے ۔۔۔۔. ارسہ اپنا خلق تر کرتے ہوئے بولی ۔
کہاں جانا ہے آپ کو ۔۔۔؟ ؟
ر۔۔۔رو۔۔۔روم میں ۔۔۔۔ارسہ اپنے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے اٹک اٹک کر بولی ۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا یہ کچھ زیادہ ہو رہا ہے ارسہ ۔۔۔۔آپ میری جان لے کر رہے گی ۔۔. آپ کا یہ گھبرانا شرمنا میری جان لے لے گا ۔۔۔۔۔۔شازم اس کی طرف دیکھتے ہوئے ہنس کر بولا ۔
شازم آپ اس طرح دیکھیں گے تو میں سچ میں بے ہوش ہو جاؤ گی ۔۔۔پلیز جانے دیں مجھے ۔۔۔۔ارسہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بول کر وہاں سے جانے لگی تھی کے پھر سے شازم کے اس سامنے آ گیا ۔
ارسہ نے بس سے اسے دیکھتی رہ گئی ۔
آئی لو یو ارسہ ۔۔۔آپ میری جان ہے ۔۔۔۔اور آپ آج بالکل پری لگ رہی تھی ۔۔. ۔ایسے لگ رہا تھا کے آسمان سے اتری ہوئی کوئی پری ہو ۔۔۔۔۔۔شازم اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو ارسہ اسے بس دیکھ کر رہ گئی ۔
ریلکس رہے اور جائے اب ۔۔۔۔شازم بولتے ہوئے سامنے سے ہٹ گیا ۔
ارسہ نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور بھاگتے ہوئے وہاں سے اوپر کی طرف چلی گئی ۔
پیچھے شازم اسے کی پھرتی دیکھتے ہوئے ہنس دیا ۔
آج کل کے اس بولڈ زمانے میں میری معصوم سے پری ہیں آپ ۔۔۔شازم بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرایا ۔
