Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Monster (Episode 15)

Black Monster by Ayn Khan

چلے زمل آ جائے ۔۔۔۔سعد زمل کولے کر اندر ایا تھا۔۔۔۔زمل کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ تھی ۔

آپ بیٹھے ۔۔۔۔میں ماما بابا کو بلا کر لاتا ہوں ۔۔۔۔سعد مسکرا کر کہتے ہوئے مسسز مجید کے روم کی طرف چلا گیا ۔

ماما باہر آئے زمل آئی ہے ۔۔۔۔۔سعد مسسز مجید کو بولا تھا جو بیڈ پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی ۔

سعد جاؤ یہاں سے اوپر والا روم صاف کروا دیا ہے وہاں رہ لے گی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔مسسز مجید نے آنکھوں کو بند کر لیا ۔

ماما باہر آئے زمل کے پاس اس سے مل لے ۔۔۔ارانیہ آپ کی بیٹی نہیں ہے میں ہوں آپ کا بیٹا ۔۔۔اور اگر آپ نہ آئی تو میں کچھ غلط کر لوں گا ۔۔میرا ساتھ دیں آپ لوگ ورنہ آپ کا بیٹا کچھ غلط کر لے گا اپنے ساتھ ۔۔۔میں تنگ آ گیا ہو ۔۔

بچپن سے ارانیہ نامہ سن سن کر اپنے بیٹے کو بھی توجہ دے دیا کریں ۔۔۔۔سعد غصے سے بول کر باہر نکل گیا ۔۔

مسسز مجید نے افسوس سے بس سعد کو دیکھتی رہ گئی تھی ۔

اور خود کو سنبھالتے ہوئے باہر آئی ۔۔۔

کیسے ہو بیٹا آپ ۔۔۔۔۔؟؟مسسز مجید زمل کے سر پر ہاتھ رکھا کر پیار بھرے لہجے میں بولی ۔

ٹھیک ہوں آنٹی آپ کیسی ہیں ۔۔۔زمل مسکراہٹ بھرے لہجے میں بولی ۔

طبیعت کیسی ہے اب ۔۔؟؟

جی بالکل ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔اب تو اور بھی ٹھیک ہو گئی ہے ۔۔۔۔زمل سعد کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی ۔

سعد بھی مسکرا دیا ۔

زمل آپ ایسا کریں ابھی آرام کر لے پھر کل جا کر ماما کے ساتھ شاپنگ کر کے آنا آپ ۔۔۔۔۔

شادی کو دن بہت کم ہے ۔۔۔۔

جی۔۔۔۔جی ۔۔۔۔۔۔زمل مسکرائی تھی ۔

سعد زمل کو کمرے میں چھوڑ آؤ ۔۔۔۔۔۔آرام کر لے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔

جی ماما ۔۔۔۔۔چلے زمل ۔۔. سعد مسکراتے ہوئے زمل سے بولا تھا ۔

تب ہی اندر ارانیہ آئی تھی ۔۔۔

سعد کے نظر ارانیہ پر پڑی جو یونیورسٹی سے ابھی ابھی آئی تھی ۔۔

السلام علیکم ۔۔۔ارانیہ نے لاؤنچ میں داخل ہوتے ہوئے سلام کیا ۔۔

ارانیہ کو دیکھتے ہوئے زمل کے چہرے پر عجیب سے مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔

سعد ۔۔۔ زمل گرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی تھی کے سعد جس کی نظر ارانیہ کی طرف تھی جلدی سے زمل کو تھام گیا ۔

آپ ٹھیک ہیں زمل ۔۔۔۔۔۔؟؟ سعد اسے تھام کر پریشانی سے بولا ۔

ارانیہ نے لب بھیچے لیے تھے ۔۔۔مسسز مجید بھی زمل کو اور سعد کو دیکھ کر رہ گئی ۔

زمل بیٹا آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو زمل نے سر ہلایا تھا۔

سعد کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر کھڑی تھی چہرے پر زہریلی مسکراہٹ تھی۔

ارانیہ لب بھیچے ۔۔۔وہاں سے کچھ بولے بغیر اوپر کی طرف بڑھ گئی ۔

میری یہاں جگہ ختم ہو رہی ہے ۔۔ارانیہ تلخ سا مسکرا دی ۔۔۔

چلے آپ کو کمرے میں لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔سعد زمل کو تھامے اوپر کی طرف لے جانے لگا ۔۔۔

مس ارانیہ تم دیکھتی جاؤ کیسے تمہیں اس گھر سے باہر پھینکتی ۔۔۔۔۔زمل سعد کا ہاتھ تھامے مسکرا کر سعد کے ساتھ چل رہی تھی ۔

یہ آپ کا روم ہے یہاں آرام کریں آپ ۔۔۔۔زمل کو اس کے روم میں چھوڑتے ہوئے بولا ۔

تھینک یو سعد ۔۔۔۔زمل مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر بولی ۔

جی ۔۔۔۔

سعد مجھے آپ سے بہت محبت ہے ۔۔۔۔۔تھینک یو سو مچ بھائی نے بتایا آپ کو بھی مجھ سے بہت محبت ہے ۔۔۔میں بتا نہیں سکتی میں کتنی خوش ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زمل سعد کا ہاتھ تھام گئی تھی ۔

سعد اس کی بات سن کر مسکرا بھی نہ سکا تھا ۔

جی جی آپ آرام کریں ۔۔۔کچھ چاہے تو مجھے بتائیں گا ۔۔۔سعد نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔

ہادی کچھ دن تک آ جائے گا کام سے گیا ہے تو پر شادی والے دن مہندی پر اس جائے گا ۔۔. آپ اس کو اپنا ہی گھر سمجھے ۔

جی مجھے معلوم ہے یہ میرا گھر ہی ہے اب ۔۔۔۔۔۔۔ زمل خوش ہوتے ہوتے بولی ۔

سعد بمشکل مسکرایا ۔۔

جی بالکل ۔۔۔۔۔۔آپ آرام کریں مجھے کام ہے ۔۔۔. سعد کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔

بہت جلدی آپ میرے ہو جائے گے صرف زمل کے ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔سعد صرف اور صرف زمل کے ۔۔۔زمل خوش ہوتے ہوئے بیڈ پر گر سی گئی تھی ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

دروازہ کھولا ہوا تھا تو سعد جاتے ہوئے ارانیہ کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔

سعد کو ارانیہ کے سسکنے کی آوازیں آئی تھی ۔۔۔جو شاید واش روم میں رو رہی تھی ۔

ارانیہ ارانیہ ۔۔۔۔۔۔سعد نے جب آواز دی تھی واش روم میں خاموشی ہوئی تھی ۔

کیا ہے آپ کو جائے یہاں سے ۔۔۔۔آنسو کو صاف کرتے ہوئے بمشکل بولی تھی ۔

باہر نکلو ۔۔۔۔۔

جائے یہاں سے جائے اپنی ہونے والی بیوی کے پاس میرے کمرے میں مت آیا کریں ۔۔۔۔۔۔سنا آپ نے جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ اندر سے چیخی تھی ۔

باہر نکلے ۔۔۔

نہیں نکلو گی جب تک آپ یہاں ہیں بالکل بھی نہیں آؤں گی ۔۔۔۔۔

اوکے میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔دروازے کے بند ہونے کی آواز آئی تو ارانیہ نے چہرے پر پانی پھینکا تھا اور بمشکل باہر آئی تھی ۔۔

ارانیہ باہر آئی تو سعد سامنے ہی دروازہ بند کئے پاس کھڑا تھا ۔

روئی روئی ارانیہ کو دیکھ کر دل کو کچھ ہوا ۔

ارانیہ نے نفرت سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور واپس سے مڑتے ہوئے واش روم میں بند ہوتی سعد نے آگے بڑھ کر اسے کلائی سے تھام کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے دروازے کے ساتھ پن کیا ۔

جائے یہاں سے پیچھے ہٹے ۔۔۔۔۔ارانیہ گھبراہٹ بھرے لہجے میں بولی ۔

میری طرف دیکھے ارانیہ ۔۔۔۔۔۔۔سعد نے اسے تھوڑی سے تھام کر چہرا اوپر کیا ۔

کیوں رو رہی تھی ۔۔۔۔۔. سعد اس کے روئے روئے لال گالوں کو دیکھتے ہوئے بولا ۔

آپ سے محبت کی تھی سعد ۔۔۔۔اور یہ سب سے بڑی غلطی تھی میری ۔۔۔۔اسی پر رو رہی ہوں میں ۔۔۔۔۔ارانیہ سعد کی طرف دیکھتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں بولی ۔

اتنی نفرت ۔۔۔۔۔سعد اس کی گال پر انگوٹھا رب کرتے ہوئے بولا ۔

نہیں سعد ۔۔. محبت ہو یا نفرت یہ جذبات ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔اور میں ارانیہ آپ کے لیے محبت تو دور کی بات نفرت جیسا جذبہ بھی میں آپ کے لیے نہیں رکھنا چاہتی ۔۔۔۔۔۔

پر آپ کی آنکھوں میں تو صرف مجھے سعد کے لیے محبت دکھائی دیتی ہے اور وہ بھی بے تحاشا ۔۔۔۔۔۔ اور یہ آنسو جو آپ کی آنکھوں سے بہہ رہے ہیں یہ میری محبت کی نشانی ہیں ۔۔۔سعد نے اس کی گال پر بہتے آنسو کو اپنی انگلی کی پور پر لیتے ہوئے ہوا میں اچال دیا ۔

انکل نے میرے لیے رشتہ دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔اور آپ کی شادی کے بعد میری شادی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ بولی تو سعد جو ارانیہ کے چہرے میں کہیں کھویا ہوا تھا چونکا ۔

یہ جو بابا اور آپ کی سوچ ہے یہ صرف سوچ ہی رہ جائے گی ۔۔۔مسس ارانیہ آپ میری بیوی ہیں اور ہمیشہ میری ہی رہے گی ۔۔۔سعد کو اس کی بات سن کر غصہ آیا تھا ۔

اس کو بالوں سے تھامے سرد سے لہجے میں کہا ۔

چھوڑیں مجھے انکل جو کہے گے وہ ہی ہو گا ۔۔۔. ارانیہ سعد کی گرفت میں بلبلا کر رہ گئی ۔

میں بھی سعد ہوں ۔۔۔۔سعد اس کو بالوں سے تھامے اس کے چہرے کو بالکل اپنے چہرے کے قریب کر گیا ۔

سعد ڈونٹ ۔۔۔۔۔

روک سکتی ہیں ۔۔۔ارانیہ کے کانپتے ہوئے ہونٹوں کو دیکھ کر سعد کی مسکراہٹ گہرائی ہوئی ۔

چھوڑیں نہیں ہے حق آپ کا مجھ پر ۔۔۔۔

پورا حق رکھتا ہوں ۔۔۔کہتے ہوئے سعد اس کے ہونٹوں پر جھکا تھا ۔۔۔

ارانیہ اس کے کندھے پر دونوں ہاتھوں کو مارتے ہوئے اپنی پوری کوشش کر رہی تھی سعد کو دور کرنے کی ۔

آپ چاہ کر بھی دور نہیں کر سکتی مجھے مسسز سعد چوہدری آپ پر میرا پورا پورا حق ہے اور اس بات کو کوئی قانون کوئی بھی مذہب نہیں جھوٹلا سکتا ۔۔۔۔۔

سعد ارانیہ سے پیچھے ہٹتے ہوں سرد سے تاثر سے بولا تھا ۔

آپ بس نفرت کے لائک ہیں سنا آپ نے نفرت کے لائک ۔۔۔۔. ارانیہ نے سعد کو خود سے دور دکھلتے ہوئے چلا کر کہا ۔

ارانیہ نفرت کہو یا محبت آپ بس میری ہیں یہ بات بابا اور آپ دونوں جان لے سنا آپ نے ورنہ میں دو منٹ نہیں لگاؤں گا ۔۔۔۔

جسٹ گیٹ لاسٹ ۔۔۔۔۔۔سعد اور بھی کچھ کہتا ارانیہ چیخی تھی اور پیچھے ہوتے ہوئے دروازے کھولا ۔

جا رہا ہوں ۔۔۔۔سعد جاتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر بولا ۔

ارانیہ نے نفرت سے رُخ پھیر لیا ۔

میں نہیں ہوں آپ کی اور بہت جلد آپ کو بتا دوں گی کے میں آپ کی نہیں ہوں ۔۔۔۔ارانیہ اپنے ہونٹوں کو رگڑتے ہوئے نفرت بھرے انداز میں بولی ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

دن گزرتے کا رہے تھے ارانیہ جو بالکل چپی سی لگ گئی تھی ۔۔۔۔زمل تو پورے گھر میں ایسے پھرتی تھی جیسے وہ اس کا گھر ہو ۔

ارانیہ اپنے کمرے کی ہو کر رہ گئی تھی ۔۔

مسسز مجید اور مجید چوہدری بالکل چپ سے کر کے جو سعد کہہ رہا تھا وہ کر رہے تھے ۔

انکل آپ نے بلایا ۔۔۔۔۔۔ارانیہ مجید چوہدری کے بلانے پر ان کے کمرے آئی ۔

جی بچے میں آپ سے بات کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔بیٹھو ۔۔

جی ۔۔۔۔ارانیہ پاس صوفے پر بیٹھ گئی تھی نظریں جھکا رکھی تھی ۔

میرا دوست کا بیٹا ہے اس کا نام ہے خاتم ۔۔۔۔اور سب کچھ بتا دیا ہے میں نے تمہارے بارے میں اسے اور ان کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔. اور وہ سعد کی شادی تک کا انتظار کر لے گے ۔۔۔

اور تم ان کو پسند بھی ہو ۔۔۔۔مجید بولے تو ارانیہ نے ان کی طرف دیکھا ۔

دل کی دھڑکن بند ہونے کو تھی ۔۔۔ایسے لگ رہا تھا سعد کا نام اگر نام سے ہٹ گیا تو سانسوں کی ڈور بھی ٹوٹ جائے گی ۔

جی ۔۔۔۔جی انکل ۔۔۔۔جو آپ کو بہتر لگے ۔۔۔۔۔ارانیہ بمشکل بولی تھی اسے اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی ۔

ہمم ٹھیک ہے کل یا پرسوں کوئی بھی پروگرام بنا لو آپ اس سے مل لینا ۔۔۔۔۔اور کچھ پوچھنا ہوا تو پوچھ لینا آپ ۔۔

نہیں انکل اس کی ضرورت نہیں ہے آپ کو جو بھی بہتر لگے ۔۔۔۔ارانیہ لب کاٹتے ہوئے بمشکل مسکرائی ۔

ایک دفع آپ اس سے ملے لے ۔۔۔۔۔

ج۔۔۔. جی ۔۔۔ٹھیک ہے انکل ۔۔۔۔

دو دن بعد گھر میں شادی شروع ہونے والی ہے ارانیہ کیسے ملے گی ۔۔

ہممم کوئی بات نہیں سعد کے مہندی پر بلا لے گے اسے اور ارانیہ بات کر لے گی ۔۔. مجید چوہدری بولے تو ارانیہ کے آنکھوں میں کہیں آنسو آئے تھے ۔

جی انکل جو آپ کو بہتر لگے ۔۔۔۔اپنے آنسو کو کنٹرول کرتے ہوئے بمشکل مسکرائی تھی ۔

جی آپ آرام کرو صبح یونیورسٹی بھی جانا ہے آپ کو ۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری بولے ۔

جی بہتر ۔۔۔۔۔

معاف کر دینا ہمیں ارانیہ ۔۔۔۔ارانیہ جانے لگی تھی کے مجید چوہدری کی آواز آئی ۔

ارانیہ کچھ نہیں بولی تھی بس چپ چاپ وہاں سے اُٹھی تھی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔

کمرے سے باہر نکلی تو ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا کہیں آنسو چہرے پر بہہ نکلے ۔۔

چچچچچچچچ چچچ۔۔۔۔۔۔بہت تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔سعد کو تم سے کبھی بھی محبت تھی ہی نہیں ۔۔۔۔ارانیہ جا رہی تھی کہ زمل سیڑھیوں میں اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔

ارانیہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا اور وہاں سے سائیڈ پر ہو کر جانے لگی ۔

کیا ہوا ۔۔۔۔ارانیہ کو رونا آ رہا ہے ۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا اوپس ابھی تو شروعات ہے ۔۔۔۔آگے آگے دیکھو اس گھر سے باہر کیسے پھینکتی میں تمہیں ۔۔۔یہ میرا گھر ہے اور سعد صرف میرے ہیں صرف میرے ۔۔۔۔۔زمل نفرت سے پھینکاری تھی ۔

جسٹ شٹ آپ ۔۔۔۔جاؤ جا کر سعد کو سنبھالو ۔۔۔۔ارانیہ کے لہجے میں نفرت تھی وہ زمل کر دیکھتے ہوئے کہہ کر اس کو بازو سے پیچھے کرتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گئی ۔

زمل نے سامنے آتے ہوئے سعد کو دیکھا تھا اور گرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے جلدی سے سہارا لیا ۔۔

زمل آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔سعد جلدی سے اس کی طرف بڑھا ۔

جی جی بس ارانیہ پتہ نہیں مجھے دھکا دے کر گئی ہے بس میں نے تو اتنا کہا تھا کہ ۔۔۔۔ہم دونوں سعد کے ساتھ خوش رہے گی ۔۔۔۔۔زمل بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے معصوم بن رہی تھی ۔

اسے چھوڑیں آپ چلے میرے ساتھ آرام سے صوفے پر بیٹھے ۔۔۔۔سعد اس کا ہاتھ تھام کر اسے لاؤنچ کے صوفے کی طرف لے گیا ۔

ارانیہ اوپر کھڑی سب سن اور دیکھ رہی تھی ۔

تھینک یو سعد ۔۔۔۔

آپ نے کھانا کھایا ۔۔۔۔

جی کھا لیا ماما نے دے دیا تھا ۔۔۔۔

آپ کو برا تو نہیں لگا ۔۔۔زمل اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی ۔

کس چیز کا ۔۔۔سعد الجھا ۔

آپ کی ماما کو ماما کہنے کا۔۔۔

نہیں بالکل بھی نہیں۔۔۔

آئندہ بھی کہنا ہے تو سوچا اب سے ہی شروع کر دوں اچھا ہے نہ ۔۔۔ زمل نے سعد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔سعد مسکرا دیا ۔

سعد کی نظر اوپر گئی تھی جہاں ارانیہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔

پر سعد کے دیکھنے پر جلدی سے وہاں سے چلی گئی ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

ارانیہ آج بھی یونیورسٹی اکیلی آئی تھی سعد کے ساتھ زمل تھی ۔۔۔اسی لئے وہ اکیلے ہی پوائنٹ سے ا گئی ۔۔

ابھی بھی اپنی کلاس لے کر باہر نکلی تو سامنے ہی گراؤنڈ میں کھڑی زمل کو اور سامنے کھڑے سعد کو دیکھا ۔۔۔

چارو اطراف لوگ جمع ہو رہے تھے ۔۔ارانیہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

پر کیا کرتی دل کو درد دینے والا کوئی اور نہیں اپنا ہی تھا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

آج میں سب کے سامنے سعد کو پرپوز کروں گی ۔۔۔اور وہ نہ نہیں کریں گے ۔۔۔زمل خوش ہوتے ہوئے خود سے بولی تھی ۔۔اور گراؤنڈ کی طرف گئی وہ جانتی تھی کہ اسی وقت ارانیہ کلاس سے باہر آتی ہے ۔۔۔۔

ارانیہ کو اپنے ڈیپارٹمنٹ سے نکلتے دیکھا تو زمل کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔۔

اور سعد کے پاس جا کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔

کیا بات ہے زمل ۔۔۔۔سعد نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا ۔

میں آپ کو پرپوز کرنا چاہتی ہوں اور آپ کو پوری یونیورسٹی کے سامنے انانوس کرنا ہو گا کے آپ میرے ہیں ۔۔۔زمل تڑھ کر بولی۔

زمل ہماری شادی ہے دو دن میں تو پھر یہ سب تماشا کیوں ۔۔۔۔؟؟ سعد کو اس کی بات سن کر غصہ آیا ۔

یہ تماشا نہیں محبت ہے میری اور ساری یونیورسٹی کو معلوم ہونا چاہے کے آپ میرے ہیں صرف میرے زمل کے ۔۔۔۔۔زمل بولتے ہوئے سعد کے پاس ایک گھٹنا نیچے رکھتے ہوئے پرپوز کرنے کے انداز میں بیٹھ گئی ۔

سعد چوہدری ۔۔۔۔ پوری یونیورسٹی کے سامنے میں زمل آپ کو شادی کے لئے پرپوز کرتی ہوں کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے ۔۔۔۔۔زمل اس کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلا کر بولی ۔۔۔

سامنے سے آتی ارانیہ کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔

آنکھیں نم ہو چکی تھی منظر دھندلانے لگے تھے ۔

سعد کی نظر اس کی طرف بڑھتی ارانیہ کی طرف گئی اس کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھ کر سعد کے دل کو کچھ ہوا ۔

سعد بتائے مجھے ۔۔۔شادی کریں گے ۔۔۔زمل نے بولا تو ۔۔سعد ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے زمل کے ہاتھ کو تھام کر سر کو ہاں میں ہلا گیا ۔

ارانیہ نے ضبط سے آنکھوں کو بند کر لیا ۔

زمل خوش کے مارے سعد کے گلے لگ گئی ۔۔۔

آپ صرف میرے ہیں صرف زمل کے ۔۔۔۔زمل اونچی آواز میں بولی تاکہ پاس کھڑی ارانیہ بھی سن لے

بہت بہت مبارک ہو سعد چوہدری ۔۔۔ارانیہ نے خود کو. سنبھالا تھا اور ان کے پاس آتے ہوئے اپنے آنسو کو کنٹرول کرتے ہوئے بولی ۔

پوری یونیورسٹی میں تالیوں کی گھونج تھی ۔

تھینک یو سو مچ ۔۔۔زمل برا سا منہ بنا کر بولی پر ارانیہ صرف سعد کی طرف دیکھ رہی تھی ۔اسے ایک نظر دیکھ کر وہاں سے نکلتے ہوئے یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر چلی گئی ۔

جاؤ زمل اب کلاس لے لو اپنی جا کر اوکے۔۔۔۔۔زمل نے سر ہلایا تھا اور چلی گئی ۔۔۔۔۔سعد بھی کہتے ہوئے دوسری طرف چلا گیا اور اس سائیڈ سے ہوتے ہوئے بیک سائیڈ کی طرف گیا تھا جہاں ارانیہ تھی ۔۔۔۔وہ جانتا تھا وہ وہی ہو گی ۔

سعد کو ارانیہ وہاں اکیلی کھڑی مل گئی ۔۔جو ہاتھوں میں چہرا چھپائے رونے میں مصرف تھی ۔

سعد نے آگے بڑھ کر اس کے آنسو کو صاف کیے ۔

ڈونٹ ٹیچ می مسٹر سعد ۔۔۔. ارانیہ نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔

بیوی ہو میری آپ ۔۔۔سعد نے کہا تو ارانیہ مسکرا دی۔۔

بیوی اور میں ۔۔۔ہاہاہاہا آپ دوسری شادی کر رہے ہیں سعد دن دن بعد آپ کی شادی ہے ۔۔۔ ارانیہ اسے کالر سے دبوچے روتے ہوئے غرائی تھی ۔

آپ میری پہلی بیوی ہیں اور ہمشہ رہے گی ۔۔۔۔۔سعد نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام لیا ۔

نہیں نہیں سعد ۔۔۔اس سوچ میں مت رہے گا ۔۔۔۔کچھ نہیں لگتے آپ میرے ۔۔آپ جیسا دھوکے باز انسان میں نے اپنی لائف میں نہیں دیکھا ۔۔۔۔جھوٹے مکار انسان ہیں آپ بدلہ ہوں نہ میں آپ کا جائے یہاں سے جائے ۔۔۔ارانیہ اپنے ہاتھ چڑاتے ہوئے پاگلوں کی طرح بہیو کرتے ہوئے اس سے اپنے ہاتھ چڑا رہی تھی ۔

جو بھی ہو جائے آپ بھی میرے ساتھ رہے گی مجھے میری دونوں بیویاں چاہے ۔۔۔۔اور آپ پر میرا پہلا حق ہے اور آپ کا مجھ پر ۔۔۔۔سعد اس کے چہرے پر چپکے بالوں کی لٹ کو پیچھے کرتے ہوئے بولا ۔۔۔جو آنسو کے پانی کے ساتھ چہرے پر چپک گئی تھی ۔

کوئی حق نہیں ہے آپ کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے سنا آپ نے ۔۔۔سو ڈونٹ ٹیچ می ۔۔۔۔ورنہ آپ کی سو کالڈ ہونے والی بیوی آ جائے گی مجھے تانے دینے اسی لیے ہو سکے تو دور رہے مجھ سے ۔۔۔

جو انکل نے فیصلہ کیا ہے اب وہ ہی ہو گا ۔۔۔ارانیہ سعد کو نفرت بھرے لہجے میں بولتے ہوئے وہاں سے جانے لگی ۔

سعد نے جاتی ہوئی ارانیہ کو بازو سے کھنچ کو دیوار سے پن کیا ۔

ایک بات میری کان کھول کر سن لو مسسز سعد چوہدری اگر میں اپنی آئی پر آیا نہ تو آپ کے انکل کیا اور آنی کیا کوئی بھی آپ کو میرے ہونے سے روک نہیں پائے گے ۔۔اسی لیے نرمی سے سمجھا رہا ہوں میری ہو کر رہو ۔۔. ورنہ ۔۔۔

کیا کریں لے گے آپ بتائے ۔۔۔ارانیہ چیخی ۔

سعد چوہدری کسی کی نہیں سنتا اتنا تو آپ جانتی ہیں نہ ۔۔۔؟ ؟ میں آپ کو اپنا بنانے میں ایک منٹ نہیں لگاؤ گا اور آپ زمل سے پہلے میرے روم میں ہوں گی ۔۔۔۔۔ سعد معنی حزی سے کہتے ہوئے ارانیہ کو جھجکنے پر مجبور کر گیا۔

ارانیہ اپنے لب بھیچ گئی ۔

کچھ اور کہنا ہے آپ نے کے گھر چلے ۔۔۔۔سعد بولا تو ارانیہ نے اس کا ہاتھ جھٹکا تھا ۔

مسسز ارانیہ یہ یونیورسٹی ہے ورنہ یہ جو ہاتھ جھٹکا ہے میں آپ کو بتاتا اس کا انجام ۔۔. سعد بولتے ہوئے اسے کی کلائی کو مڑور کر پیچھے کمر سے لگاتے ہوئے بولا ۔

ارانیہ نے درد اور ضبط سے آنکھوں کو بند کر لیا ۔

درد نہیں دینا چاہتا آپ کو پر آپ کے کام ایسے ہیں کے درد آپ کے حصے میں آ جاتا ہے ارانیہ ۔۔۔

نفرت ہے مجھے آپ سے سعد ۔۔۔نفرت ۔۔۔۔۔ارانیہ نم لہجے میں درد کو کنٹرول کر رہی تھی ۔

اور سعد چوہدری کو ارانیہ سے محبت ہے انہتا کی محبت ۔۔۔۔ سعد جھٹکے سے اسے خود کے قریب کئے مسکرا کر بولتے ہوئے چھوڑ گیا ۔

ارانیہ درد سے وہی بیٹھتی چلی گئی ۔

کچھ باتوں کا کچھ روائیہ کا اور کچھ سعد کی حرکت کا ۔۔

نہیں سمجھ پا رہی یہ کیسی محبت ہے یا کیسی نفرت ہے آپ کو مجھ سے ۔۔۔۔۔ارانیہ وہی اپنی کلائی پر سعد کے ہاتھ کے نشان دیکھتے ہوئے بولی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *