Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Monster (Episode 01)

Black Monster by Ayn Khan

سردیوں کی رات اور سنسان سڑک رات کا اندھیرے اور اندھیرے میں کتوں کے بوکنے کی آواز اس اندھیرے اور اس سنسان سڑک کو اور بھی خوفناک بنا رہی تھی ۔

پر اس سڑک پر چلتا ایک سایہ جس نے بلیک ہڈی پہن رکھی تھی دونوں ہاتھ ٹراؤز کی پاکٹ میں چہرے پر ماسک اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا پیپی تھا سفید کالر کا ۔۔۔۔۔۔

آنکھوں میں نفرت ۔۔۔

اپنی متلوبہ جگہ پہنچ کر وہ نیچے زمین پر بیٹھا تھا اور اس چھوٹے سے پیپی کی پیٹ کو سہلایا تھا جیسے اسے کچھ بتا رہا ہو ۔۔۔۔۔سمجھا رہا ہو ۔۔۔۔

اور پھر خود اُٹھا تھا اور سامنے بنے ویلا کو دیکھا جہاں اس کا شکار تھا ۔۔۔نیچے سے اُٹھا اور گہرا سانس لیتے ہوئے اپنے کندھے پر ڈالے بیگ سے کچھ نکالا ۔۔۔وہ اپنی کارروائی کر رہا تھا اور پیپی نیچے زمین پر بیٹھا کر سب دیکھ رہا تھا ۔

اس سایے نے اپنے آلات استعمال کرتے ہوئے ایک راسی کو اندر کی طرف پھینکا اور سائیڈ پر بنی چھوٹی سی ایک دیوار کو پھلانگ کر اندر کودا ۔

اس کی نظریں صرف اپنی منزل کی تلاش میں تھی ۔۔۔۔۔۔وہ درخت کی سائیڈ سے ہوتے ہوئے اس کی شاخ پر پاؤں رکھتے ہوئے اوپر چلا گیا ۔

اور پھر وہاں کی بالکنی سے ہوتے ہوئے دوسرے بالکنی میں کھودا ۔۔۔۔اور اسے ایک ونڈو کھلی ملی تو اس میں سے داخل ہوتے ہوئے اپنی راہ تلاش کرتے ہوئے اپنے قدموں کی چاپ کو آہستہ رکھے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔

تو تم یہاں ہو ۔۔۔۔۔۔ایک کمرے کے سامنے پہنچا کر مسکراتے ہوئے خود سے بولا اور اپنے ہاتھ میں موجود پین سے ڈور کو کھولا اور اندر داخل ہوا ۔

بہت انتظار کیا ہے میں نے اس پل کا۔۔بہت زیادہ اور آج وہ موقع آ گیا ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے بیڈ پر آیا ۔۔۔۔۔۔بیڈ پر پڑھا وجود ٹھیر سا لیٹا ہوا تھا کمبل نیچے گرا ہوا تھا ۔۔۔

میرا پہلا شکار ۔۔۔۔۔۔۔چہرے پر زہریلی مسکراہٹ لیے اپنی ٹانگ کا ٹراؤز اوپر کرتے ہوئے وہاں سے ایک چاکو نکالا ۔۔۔۔

اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا ۔۔۔انتی زور سے راکھا کے سامنے پڑھا وجود آنکھوں کو کھول کر اس کی طرف دیکھنے لگا اس کی گرفت اتنی سخت تھی کے وہ وجود خوف سے آنکھوں کو کھولے اسے بس دیکھی جا رہا تھا ۔

شششششش آواز نہیں اگر آواز نکلی تو تمہاری آخری رات ہو گی آج ۔۔۔۔۔اپنے ہونٹوں پر چاکو رکھ کر اسے خوفزدہ کرتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔

کون ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ خوفزدہ سا وہ بولا ۔

میں” سزا” ہوں تمہاری “سزا” ۔۔۔۔۔۔۔بولتے پہ اس نے ہاتھ میں پکڑا چاکو سے اس کی گردن کی رگ کاٹ دی تھی ۔۔۔

وہ اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اسے تڑپتے ہوئے دیکھتا رہا جب تک اس کی آخری سانس نہیں نکل گئی ۔

سب کہ سزا آج سے شروع ہوئی۔۔۔۔ہاتھ میں پکڑا چاکو اس کے کپڑوں سے صاف کرتے ہوئے ۔۔۔جیسے آیا تھا ویسے ہی دبے پاؤں وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔

ہمارا پہلا شکار جہنم وصل ہوا ۔۔۔۔۔۔باہر آ کر زمین پر بیٹھے پیپی کو ہاتھ میں لیتے ہوئے پیار سے بولا ۔۔۔۔.انکھو میں عجیب سی چمک لیے اسے نیچے رکھ دیا ۔

اور پھر جس طرف سے آیا تھا اسی طرف سے واپسی کے لئے چلا گیا ۔

اس کے پیچھے پیچھے وہ پیپی بھی چلا گیا ۔

❤️
❤️
❤️
❤️
❤️

سد۔۔۔۔۔۔مجھے بھی یونیورسٹی لے جائے ۔۔۔۔وہ اس کی گاڑی کے سامنے آئی جس کی وجہ سے اسے گاڑی کو روکنا پڑا ۔

ارانیہ ۔۔۔۔۔۔اپنی اس عادت کو بدل لو ۔۔۔۔۔سعد نے اس کو گھورتے ہوئے کہا جس پر ۔۔۔. ارانیہ چہرے کو جھکا گئی ۔

اب یہ بت کی طرح کھڑی کیوں ہو ۔۔۔؟ ؟بیٹھوں اندر ۔۔۔۔۔سعد روڈ سا بولا جس پر ارانیہ شرمندہ سی اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی ۔

میں تو آپ کی دوست ہوں سڈ پلیز اس طرح روڈ مت ہوا کریں ۔۔۔۔۔۔وہ اپنے لب چھباتے ہوئے نم آنکھوں سے رُخ باہر کی طرف موڑے بولی ۔

دوست ۔۔۔میرے سر پر مسلت کیا ہوا ایک رشتہ ہو صرف تم ۔۔۔۔۔۔. سعد بے زار سا بولا ۔

ارانیہ نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا تھا اسے اپنی تزلیل محسوس ہوئی اسی لیے ضبط سے بیٹھی رہی ۔

چلو نکلو یہی ۔۔۔۔۔یونیورسٹی پہچ کر سعد نے گاڑی روکتے ہوئے کہا جس پر ارانیہ ۔۔۔۔۔ خون کے آنسو پیتے ہوئے باہر نکلی تھی اور اپنی کلاس کی طرف بڑ گئی ۔

وہ جانتی تھی سعد اسے حاض پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔پر وہ محبت کے ہاتھوں مجبور تھی ۔

ارانیہ اور سعد دونوں کی منگنی بچپن میں ارانیہ کے پاپا نے کر دی تھی ۔۔۔۔۔پر ارانیہ کے پاپا کی موت کے بعد اب ارانیہ سعد کے گھر ہی رہتی تھی ۔

ارانیہ کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔؟ ؟ وہ کلاس میں بیٹھی کلاس لے رہی تھی کے ۔۔۔۔اس کی دوست بولی جس پر وہ مسکراتے ہوئے نہ میں سر ہلا گئی ۔

دونوں کلاس لے کر باہر آئی تھی اور ابھی وہ گراؤنڈ کی طرف جا رہی تھی کے دوسری طرف ہونے والی لڑائی کی آوازیں سن کر اس طرف گئی ۔

یہ تو سعد ہے ارانیہ ۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ کی دوست صالحہ بولی ۔

سعد اور ایک لڑکے کی لڑائی ہو رہی تھی اور کوئی بھی ان کے قریب نہیں جا رہا تھا ۔

سڈ کیا کر رہے ہیں آپ پاگل ہو چکے ہیں ۔۔۔۔۔ارانیہ ہی آگے بڑ کر اسے بازوں سے تھام کر پیچھے کرتے ہوئے بولی جس پر سعد نے اسے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔۔

تب ہی پیچھے سے اس لڑکے نے وار کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔جو ارانیہ کی کمر پر لگا ۔

ارانیہ نے لب بھیچے اپنے درد کو کنٹرول کرتے ہوئے سعد کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر سرد سے تاثر آ چکے تھے ۔

وہ لڑکا جو جلدی میں دیکھ نہ سکا اب وہ بھی پریشان سا پیچھے ہوا ۔

پلیز سڈ نہیں ۔۔۔۔. سعد اس کی طرف بڑتا ۔۔ارانیہ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے روک لیا ۔۔۔۔. سعد نے غصے سے اس کے درد بھرے چہرے کی طرف دیکھا جس پر وہ پوری طرح سے اپنے لب کنٹرول کرتے ہوئے درد کے تاثر کو چھپانا چا رہی تھی۔

پر ارانیہ کی آنکھوں سے کہیں آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔۔سعد نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالا اور اس لڑکے کی طرف بڑ گیا ۔۔۔. ارانیہ نے ایک دفع مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور پیچھے قدم لیتے ہوئے وہاں سے بھاگتے ہوئے نکلی تھی ۔

سعد جب اس لڑکے کو مار کر پیچھے ہوا تو ارانیہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی پر وہ نہیں تھی ۔

ارانیہ چلی گئی ہے ۔۔۔ ارانیہ کی دوست کی بات سن کر اسے غصہ آیا ۔

وہ غصے سے سب کو اگنور کرتے ہوئے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔

❤️
❤️
❤️
❤️
❤️
❤️

یہ گھر ہے مجید چوہدری کا۔۔۔۔۔۔ان کی بیوی سارا اور ان کے دو بیٹے تھے بڑا بیٹا عالیان چوہدری ۔۔۔۔۔اور چھوٹا بیٹا سعد چوہدری۔۔.عالیان جتنا سیدھا اور اچھا تھا سعد اتنا ہی غصے والا اور سخت مزاج کم گو ۔۔۔۔۔

ارانیہ بھی اسی گھر میں رہتی تھی ۔۔۔۔۔کیوں کے اس کے باپ کی موت ہو چکی تھی اور ارانیہ مجید چوہدری کے بہترین دوست کی اکلوتی بیٹی تھی جس کو وہ خود مجید چوہدری کو سونپ کر گئے تھے ۔

عالیان کی انگجمنٹ اس کی کزن کے ساتھ اور سعد کی مجید چوہدری نے ارانیہ کے ساتھ کی تھی پر سعد ارانیہ کو زیادہ پسند نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔۔اور ارانیہ کو بہت دفع اپنے روئیہ سے بتا بھی چکا تھا ۔

❤️
❤️
❤️
❤️
❤️

کیا پرابلم ہے تمہارے ساتھ بتاؤ کیوں مجھے بتائے بغیر وہاں سے آئی ۔۔۔۔۔۔سعد رات کو گھر لیٹ ہی آیا تھا ۔

اور سیدھا ارانیہ کے کمرے میں آیا جو بیڈ پر بیٹھی اپنی ہی کسی سوچ میں گم تھی ۔

ارانیہ خوفزدہ سی بس اسے دیکھتی رہ گئی تھی بولی کچھ نہیں ۔۔۔

بتاؤ اب بولو گی یا گونگی بن کر رہو گی ۔۔۔۔۔سعد اسے بازوں سے جھنجھوڑتے ہوئے بول جس پر ارانیہ نے نم آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا ۔

جب میں آپ کے لیے اہمیت نہیں رکھتی تو میرا وہاں رہنا یا نہ رہنا ایک برابر ہے ۔۔۔۔۔۔. ارانیہ آہستہ آواز میں بولی تھی سر جھکا ہوا تھا ۔

ہاں نہیں رکھتی اہمیت اسی لیے آئندہ مت آنا میرے معاملے میں ۔۔۔پتہ نہیں کیوں تم جیسی ڈیمپ لڑکی کو باندھ دیا ہے ڈیڈ نے میری لائف کے ساتھ نہ عقل ہے نہ ہی کونفیڈنس ۔۔۔۔۔۔بے کار ۔۔۔۔۔۔۔سعد اسے کہہ رہا تھا اور ارانیہ کی آنکھوں میں پانی بھر آیا ۔

سڈ۔۔۔۔۔۔

چپ بالکل چپ ائیدہ تم میرے کسی بھی معاملے میں نہیں آؤ گی سنا تم نے ۔۔۔۔ورنہ بہت برا ہو گا ۔۔۔۔۔

ج۔۔۔۔جہ۔۔۔جی ۔۔۔۔

سعد کو اس پر بہت غصہ آیا پر وہ گہرا سانس لیتے ہوئے اسے ایک جھٹکے سے چھوڑ کر باہر نکل گیا ۔

میں جانتی ہوں کچھ نہیں ہوں میں آپ کے لیے اور جلد ہی آپ کی زندگی سے دور چلی جاؤں گی نہیں آنے لگی آپ کی زندگی میں آپ کی زندگی برباد کرنے کے لیے سعد ۔۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ بہتے ہوئے آنسو کو صاف کرتے ہوئے تلخ سا مسکرائی ۔

بابا میری ماما کہاں ہیں آپ مجھے ان کے پاس چھوڑ جاتے نہ سعد میری زندگی میں آتا اور نہ ہی مجھے اُن سے محبت ہوتی اور نہ ہی میری انتی بے عزتی کرتے ۔۔۔۔۔۔کاش ارانیہ نم آنکھوں سے اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے دل میں اپنے باپ سے محاطب تھی ۔

محبت انسان کو بہت تکلیف دیتی ہے اور سعد کی محبت مجھے بہت تکلیف دے رہی ہے ۔۔۔۔وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے مسکرائی اور اپنے بلکیٹ میں لیٹ کر خود کو اس میں چھپا لیا ۔

پر بلکیٹ میں اس کا لرزتا وجود بتا رہا تھا کے وہ رو رہی ہے سعد کا روائیہ اس تکلیف دیتا ہے ۔

😍
😍
😍
😍
😍

آج اتوار کا دن تھا سب ہی گھر میں تھے ارانیہ مسسز مجید کے ساتھ مدد کروا رہی تھی ۔

سعد کمرے میں ابھی بھی سو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور یہاں دن کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا ۔

ارانیہ بیٹا جاؤ سعد کو جگا کر آؤ تاکہ کم از کم وہ لانچ تو ہمارے ساتھ کرے ۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو ارانیہ نے ان کی طرف دیکھا ۔۔۔

آنی وہ غصہ کرے گئے ۔۔۔۔ارانیہ ممنائی ۔۔۔

اگر غصہ کیا تو بتانا مجھے میں خود اس سے پوچھ لوں گی ۔۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو ارانیہ کو جانا ہی پڑا ۔

جی آنی ۔۔۔۔۔۔

آہستہ آہستہ سیڑھیاں کراس کر کے ارانیہ سعد کے کمرے کے باہر کھڑی اب ڈور کو ناک کر رہی تھی کیونکہ وہ سعد کے کمرے میں نہیں جاتی تھی ۔

سعد آنی بلا رہی ہیں ۔۔۔۔سعد سعد ۔۔۔۔۔ آوازیں بھی دی پر اس نے کوئی رسپانس شو نہیں کیا۔۔۔

ارانیہ لب چھباتے ہوئے ڈور کھول کر اندر داخل ہوئی پورا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔ارانیہ نے ہاتھ مارتے ہوئے لائٹ کی تلاش کی اور لائٹ جلائی ۔۔۔۔تو ارانیہ کو اس کا روم دیکھ کر خوف سا محسوس ہوا ۔

اس کا پورا کمرا کالے رنگ کا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ہر چیز کالے رنگ کی ۔۔۔ارانیہ چاروں اطراف دیکھتے ہوئے سامنے پڑھے وجود کو دیکھا جس نے کالے رنگ کا بلکیٹ لیا ہوا تھا ۔

سعد آنی بلا رہی ہیں ۔۔۔ارانیہ آہستہ سے بولتے ہوئے اس کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔۔

س سس س سعد۔۔۔۔۔۔ا نی نی بلا رہی ہیں کھانا کھا لے ا کر ۔۔۔۔۔. ارانیہ نے ڈرتے ڈرتے اس کے اوپر سے کمبل اتارا تھا ۔۔ہاتھ ابھی بھی کانپ رہے تھے ۔

کیا تکلیف ہے تمہیں کیوں آئی میرے روم میں میں نے کہا تھا کے میرے روم میں قدم مت رکھا کرو پھر کیوں آئی ۔۔۔۔۔۔۔. سعد نے ایک جھٹکے سے اُٹھ کر اس کی کلائی تھامی ۔۔۔۔۔

وہ۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔وہ ا۔۔۔نی۔۔۔آنی نے کہا ۔۔۔۔۔سعد کو شرٹ لیس دیکھ کر ارانیہ آنکھوں کو بند کئے ہوئے ہی بولی ۔

ارانیہ کا آنکھیں بند کئے کانپتے ہوئے دیکھ کر سعد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی پر وہ مسکراہٹ ایک پل کے لیے ہی تھی سعد واپس سے اپنے خول میں آ چکا تھا ۔

میں نے جب کہا تھا کے یہاں مت آنا تو کیوں آئی تم کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعد اتنی زور سے چیخا کے ارانیہ کی آنکھوں میں سے آنسو بہہ نکلے ۔۔۔

رونا مت ۔۔بالکل مت رونا ۔۔۔۔اور آنکھیں کیوں بند ہیں کھولو آنکھیں کھوکو۔۔۔۔۔سعد پھر سے اس پر غرایا ۔

نہیں پہلے آپ شرٹ پہن لے پھر کھول دوں گی۔۔۔۔ارانیہ بولی تو سعد نے خود کی طرف دیکھا تھا جو شرٹ کے بغیر بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا اور ارانیہ کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا ۔۔۔۔

سعد نے ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور اپنی شرٹ اُٹھا کر پہنیں لگا۔

جانا مت رُوکو ۔۔۔۔۔۔۔ ارانیہ بھاگ رہی تھی کے سعد غرایا ۔

ادھر دیکھو میری طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعد اس کے پیچھے کھڑا بولا ارانیہ نے ڈرتے ہوئے مڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔

ایم سوری سعد آنی نے کہا تھا آپ کو اُٹھا دوں تاکہ آپ کھانا کھا لے آ کر ۔۔۔۔ارانیہ ایک سانس میں سب بول گئی ۔

میری ایک بات کان کھول کر سن لو یو ڈیمپ لڑکی ۔۔۔۔۔۔۔آئندہ میرے روم میں مت آنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔۔

ارنیہ جھکی نظروں کو اُٹھ کر اس کی طرف دیکھنے لگی ۔

مجھے تم ناپسند ہو ۔۔. تم ساری زندگی کیسے جھیلوں گا۔۔۔۔پتہ نہیں تم جیسی ۔۔۔۔۔۔

پلیز سعد ۔۔۔۔

ہاں تو اور کیا اگر تم میری زندگی میں آئی تو صرف اور صرف ماما بابا کی وجہ سے آؤ گی ورنہ تم جیسی کو میں آپنی زندگی میں کبھی بھی نہ لاؤں سنا تم نے ۔۔۔۔

اسی لیے کوئی بھی خوش فہمی نہ پال لینا۔۔۔۔۔۔سعد اس کا بازو ایک جھٹکے سے چھوڑ کر بولا ۔

ارانیہ اس کی طرف دیکھتی رہ گئی ۔

ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔

سعد نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔

کیا آپ کے دل میں میرے لیے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟ ارانیہ کی آنکھیں نم تھی ۔

سعد کا دل کیا اس گلے لگا لے اور سمیٹ لے ۔۔۔۔۔پر جب وہ بولا تو سخت دل سے بولا ۔

اتنا کچھ کہنے پر بھی تم یہ پوچھ رہی ہو ۔۔۔۔۔تو سنوں ہاں کچھ بھی نہیں ہے میرے دل میں تمہارے لئے سوائے نفرت کے ۔۔۔۔۔سعد بول کر وہاں روکا نہیں تھا واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔

کیوں کہ ارانیہ کے چہرے پر آنسو بہہ نکلے تھے ۔

ارانیہ تلخ سی مسکراہٹ لیے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *