Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 09,10)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 09,10)
Black Monster by Ayn Khan
میں یہاں کیسے ۔۔۔؟ ؟ زمل بھاری ہوتے سر کو تھام کر بولی ۔
تب ہی اندر ردا آئی ۔۔۔۔
یار تم رات کو کلب میں بے ہوش ہو گئی تھی اسی لئے میں تمہیں یہاں کے کر آئی ہوں ۔۔۔۔ردا بولی تو زمل بس اسے دیکھ کر رہ گئی ۔
مجھے گھر جانا ہے آج لاسٹ دن ہے میرا یہاں ۔۔۔۔زمل سر کو تھامے ہوئے ہی بتا رہی تھی ورنہ اسے لگ رہا تھا سر درد سے پھٹ جائے گا ۔
ردا بس اسے گھور کر رہ گئی تھی جو اب اُٹھا کر اپنے بیگ کو پیک کرنا شروع کر چکی تھی ۔
بھائی لینے آنے والے ہوں گے ۔۔۔۔مجھے جانا ہے ۔۔۔زمل سر کے درد کے باوجود بھی اپنا سامان پیک کر رہی تھی ۔
میری بلا سے عجیب پاگل ہے ۔۔. ردا بڑ بڑاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی ۔
پر زمل کو پرواہ نہیں تھی کیونکہ اسے بس گھر جانا تھا کیونکہ ہادی آنے والا تھا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
ارانیہ نیچے آئی تو اس کی آنکھیں رونے سے سوجی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
السلام علیکم ۔۔۔۔سلام کرنے کے بعد چپ چاپ ٹیبل پر بیٹھ گئی ۔۔ سعد مسسز مجید اور مجید چوہدری سب ہی وہاں موجود تھے ۔
سعد کے دل کو کچھ ہوا ارانیہ کو اس طرح دیکھ کر ۔۔۔۔آنکھیں رونے کی صاف چغلی کر رہی تھی ۔۔۔سعد کا دل کر رہا تھا اسے خود میں بھیچ کر سمیٹ لے پر آنا بھیچ میں آ رہی تھی ۔
سب نے چپ چاپ کھانا کھایا تھا ۔۔۔۔ارانیہ تو صرف کھانے کا نام ہی کر رہی تھی مجید چوہدری اور سعد کی پوری پوری نظر اس پر تھی جو چالوں کے ساتھ صرف کھیل ہی رہی تھی ۔
کیسے ہو بچے آپ ۔۔۔؟ مجید چوہدری ارانیہ کو دیکھتے ہوئے بولے جو چپ چاپ بیٹھی پلیٹ میں چمع چلا رہی تھی ۔
میں ٹھیک ہوں انکل ۔۔۔۔
اچھی بات ہے کل سے یونیورسٹی جا رہی ہیں آپ ۔۔۔۔اور یہ رخصتی نہیں ہو گی ابھی جب تک آپ کی سٹیڈی کمپلیٹ نہیں ہو جاتی ۔۔۔جس کو اعتراض ہے ہوتا رہے ۔۔۔۔یہ میری بیٹی کی زندگی ہے اگر وہ نہیں چاہتی تو نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔مجید چوہدری سعد کی طرف دیکھ کو بولے ۔
بابا مجھے رخصتی چاہے ۔۔۔۔۔ ۔سعد کھڑے ہو کر غصے سے بولا ۔۔مسسز مجید اور ارانیہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی تھی ۔
میرا فیصلہ آخری ہے سعد ۔۔یہ سمجھو یہ ایک باپ کا فیصلہ ہے اس کی بیٹی کے لئے ۔۔۔۔۔ سنا تم نے ۔۔۔۔مجید چوہدری اس وقت پوری طرح غصے میں تھے ۔
تو ٹھیک ہے بابا پھر آپ اپنی بیٹی کو سنبھل کر رکھیں ۔۔۔۔۔ بہت جلد ہی آپ کی بیٹی کو آزادی کا پروانہ بھی دے دوں گا اور پورے دھوم دھام سے دوسری شادی کروں گا ۔۔۔سعد ایک ایک لفظ ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جس کا رنگ دونوں کی لڑائی سے زرد ہو رہا تھا ۔
مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے سعد ۔۔میری بیٹی ہے وہ کوئی کھولنا نہیں جو جیسا تم کہو گیے ویسا کر گی ۔۔۔دفع ہو جاؤ یہاں سے سنا تم نے میرے سامنے مت آنا ۔۔۔
مجید چوہدری بھی کھڑے ہو کر غصے سے غرائے ۔۔
آزادی مبارک ہو ارانیہ ۔۔۔سعد ارانیہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا ۔
ارانیہ کی آنکھیں پانی سے بھر گئی ۔۔۔۔اس نے روتے ہوئے نہ میں سر ہلایا ۔
خوش ہو جائے سب ۔۔۔۔سعد کہتے ہوئے چئیر کو پرے دھیکل کر وہاں سے جانے لگا ۔
ایک بات یاد رکھنا میری سعد ۔۔۔کچھ بھی الٹا کام کیا تو بھول جانا تمہارے ماں باپ بھی ہیں ہم سمجھے گئے ہمارا ایک ہی بیٹا ہے ۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو سعد لب بھیچے وہاں سے چلا گیا ۔
ارانیہ بس بے یقینی سے سعد کو جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی، اس کے لفظوں سے وہ پتھر کی طرح ہو گئی تھی دل میں میں کچھ ٹوٹا تھا ۔
آنی انکل میں تیار ہوں ۔۔۔۔پلیز سعد کو کہے ایسا مت کرے ۔۔۔۔ارانیہ بہتے ہوئے آنسو سے بولی ۔
ارانیہ ریلکس رہو آپ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا وہ ۔۔۔۔۔مجید چوہدری تحمل سے بولے ۔
آپ اسے روک لے پلیز ۔۔۔۔وہ کچھ غلط نہ کر دے ۔۔۔اس میں مسسز مجید بس اتنا سا بولی ۔
جانے دو آ جائے گا گھر رات کو ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے سعد کو ایسا تو نہیں تھا میرا بچہ ۔۔۔۔مسسز مجید بھی وہاں سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔
ارانیہ کو اپنا آپ مجرم ہی لگ رہا تھا ۔
کیا سعد کو مجھ سے محبت نہیں تھی کیا تھا وہ سب ۔۔ارانیہ کو اپنا ذہن ماوف ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
وہ آج تُو یہاں کیسے ۔۔۔۔سعد ہادی کے پاس اس کے گھر آیا تھا تب ہادی اسے دیکھ کر سپرائز ہوتے ہوئے بولا۔
نہیں برداشت میں تجھ سے تو بتا دے چلا جاتا ہوں میں یہاں سے ۔۔۔۔۔۔سعد غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
نہیں تُو مجھے برداشت ہے آ جا اندر آ جا ۔۔۔۔۔ہادی ہنستے ہوئے بولا اسے پتہ چل رہا تھا کے وہ اس وقت پوری طرح غصے میں ہے۔
بیٹھ میں کچھ پانی چائے لے کر آیا ۔۔۔
نہیں مجھے نہیں چاہے ۔۔۔. سعد صوفے پر بیٹھ کر بے زار سا بولا ۔
کیا بات ہے اتنا غصہ کیوں ہے یار ۔۔۔؟؟ ہادی بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔
تھوڑی دیر کے لیے سکون چاہے پھر بتاتا ہوں میں تمہیں ۔۔فل وقت کوئی سوال مت پوچھنا مجھ سے ۔۔۔۔۔سعد صوفے سے سر ٹکائے آنکھوں کو موند گیا ۔
ہادی اُٹھا تھا اور اندر دوسرے روم کی طرف چلا گیا ۔۔
زمل زمل بچے ۔۔۔۔۔
جی بھائی ۔۔۔۔؟؟ زمل جو آنکھوں کو موندے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی ہادی کے بولنے پر سیدھی ہو گئی ۔
کچھ چائے وغیرہ بنا لو سعد آیا ہے اس وقت اور کچھ ہے بھی نہیں تم ایسا کرو چائے وغیرہ اور ساتھ کباب فرائی کر لو ۔۔۔. ہادی بولا تو سعد کا نام سن کر زمل کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی ۔
ج۔۔۔جی بھائی ابھی بنا لیتی ہوں ۔۔۔زمل مسکرا کر کہتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی ۔
سعد کا نام سن کر عجیب سی خوشی ہونے لگی تھی دل کو خوشی خوشی اس کے لیے چائے بنانے لگی اور ساتھ بسکٹ کباب وغیرہ تیار کرنے لگی ۔
سب کچھ تیار کرنے کے بعد چیزیں لے کر وہ ہادی کے روم کی طرف گئی تھی جہاں سعد تھا ۔۔
بھائی ۔۔۔دھڑکتے دل کے ساتھ زمل نے آواز دی تھی ۔
سعد ابھی بھی روم میں سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔زمل بس اسے دیکھتی جا رہی تھی ۔۔۔ہادی نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے چیزیں لی ۔۔
ہادی نے نوٹ کیا تھا کے زمل سعد کو غور سے دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔سعد بے زارا سا بیٹھا تھا اس نے نظریں اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا بھی نہیں ۔
زمل تم جاؤ ۔۔۔. ہادی بولا تو زمل ہواش میں آئی اور جلدی سے سر ہلا کر باہر جانے لگی پر جاتے جاتے بھی پیچھے مڑ کر سعد کو دیکھ رہی تھی ۔
ہادی نے یہ سب نوٹ کیا تھا پر زمل کو بولا کچھ نہیں ۔
سعد کیا بات ہے کیا پریشانی ہے۔. یہ چائے تو پی ۔۔۔ہادی سعد کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ۔
ہادی کی بات سن کر باہر جاتی زمل تجسس کے مارے وہی کمرے کے باہر کھڑی ہو کر اُن کی باتیں سننے لگی ۔
میں نے رخصتی کا کہا تھا پر ارانیہ نے انکار کر دیا ۔۔۔اور بابا بھی اسی کو سپورٹ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔سعد بے زار سا بولا ۔
تو کیا ہو گیا پہلے بھی تو یہ تہہ ہوا تھا کے رخصتی سٹیڈی کے بعد ہو گی ۔
پر مجھے ابھی چاہے ۔۔. مجھے ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے ارانیہ کسی اور میں انٹرسٹ لینے لگی ہے ۔۔۔کچھ تو ہے وہ مجھ سے دور ہو رہی ہے ۔۔۔
یار مجھے تو ایسا نہیں لگتا ۔۔۔
ایسا ہی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو کیا اعتراض تھا اسے اس رخصتی سے ۔۔۔اب رخصتی کبھی بھی نہیں ہو گی بس ۔۔۔۔سعد کا لہجہ غصے سے بھرا ہوا تھا ۔
باہر کھڑی زمل کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔
سعد پاگل ہے کیا ۔۔۔؟؟
نہیں پہلے تھا اب نہیں ہوں اب وہ کروں گا جو میرا دل کرے گا ۔۔۔. سعد سرد اور عجیب سے لہجے میں بولا ۔
سعد ۔۔۔۔۔۔
پلیز کچھ مت کہنا ایسا میں آگے ہی بہت بے زار ہوں اس سب سے اور آج میں یہاں رہ سکتا ہوں اگر تُو چاہے تو۔۔۔؟ ؟
پاگل ہے کیا میں کیوں انکار کروں گا جتنے دن مرضی رہ تیرا اپنا گھر ہے ۔۔
پر ایک چیز اس بات کو اتنا مت بڑھا ۔
ہادی چپ کر جا ورنہ میں چلا جاتا ہوں یہاں سے ۔۔۔. سعد غصے سے بولا تو ہادی چپ کر گیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
اللہ میری دعا اتنی جلدی پوری ہو جائے گی میں نے سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔. زمل کمرے میں آ کر ہنستے ہوئے خود سے بول رہی تھی ۔
میں چھن لوں گی سعد کو ارانیہ سے سعد صرف میرے ہیں صرف میرے ۔۔۔۔۔۔زمل جنونی سے انداز میں ہنس رہی تھی ۔
زمل سعد چوہدری ۔۔۔میں بن کر رہو گی ارانیہ اب وقت ہو رہا ہے سعد کی زندگی سے جانے کا ۔۔۔۔۔ہاہاہاہا ہاہاہاہا زمل ہنستے ہوئے بول کر گول گول گھومنے لگی ۔
سعد میرے ہیں میرے ۔۔۔صرف زمل کے ۔۔۔سعد کی باتیں سن کر عجیب سا جنونی پن ہو چکا تھا زمل کو ۔
آپ کو سکون نہیں دے سکتی وہ لڑکی آپ کو سکون میں دوں گی ہم دونوں ہمیشہ خوش رہے گے ۔۔. ہمیشہ ۔۔ایک دوسرے کے ساتھ ۔۔۔۔.زمل کی آنکھیں چمکنے لگی تھی عجیب سی خوشی تھی اُن میں ۔۔۔۔
زمل زمل۔۔۔
جی جی بھائی ۔۔۔ ہادی کی آواز سن کر زمل جلدی سے باہر گئی ۔
میڈیسن لی تم نے اپنی ۔۔۔۔؟؟
جی جی بھائی ابھی لینے لگی تھی ۔۔۔۔زمل مسکراتے ہوئے کچن میں پکڑے میڈیسن باکس میں سے میڈیسن نکلنے لگی ۔
اچھے بچے اپنی میڈیسن وقت سے لیتے ہیں ۔۔۔۔
جی بھائی سوری آئندہ وقت سے لوں گی ۔۔. وہ مسکرائی تھی ۔
گوڈ گرل ۔۔۔. ہادی اس کے سر پر ہلکے سے تھپڑ لگ کر مسکرایا ۔
زمل کو ہارٹ کی پرابلم تھی اور وہ بہت زیادہ ہو چکی تھی اسی لئے ہادی اس کا بہت زیادہ دھیان رکھتا تھا۔
بھائی اب سعد کو پا لوں گی تو بس دیکھتے جانا آپ آپ کی زمل کتنی جلدی ٹھیک ہو جاتی ۔۔۔. زمل مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
کبھی کبھی کسی کی بے اعتباری آپ کو اندر ہی اندر ختم کر دیتی ہے ۔۔۔اور آج سیڈ آپ کی بے اعتباری آپ کا سرد روائیہ مجھے اندر ہی اندر ختم کر رہا ہے ۔۔۔۔۔ارانیہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔
اتنی چھوٹی سی بات کا اتنا بڑا ایشو کیوں بنا دیا ہے آپ نے سعد کیوں۔۔۔۔ارانیہ اس وقت باہر گارڈن میں بیٹھی تھی ۔۔۔رات کے اندھیرے کو چیر کر روشنی پھر سے اپنے ڈھیرے ڈالنے لگی تھی پر سعد کے انتظار میں وہی ٹھنڈی گھاس پر بیٹھی ارانیہ کی آنکھیں ابھی بھی اس ستمگر کے انتظار میں تھی ۔
میرے ستمگر تیرا انتظار میں اپنی آخری سانس تک کروں گی ۔۔۔آنسو کے ساتھ سوچتے ہوئے وہاں سے اُٹھی تھی ۔
کاش بابا آپ کے ساتھ میں بھی مر جاتی ۔۔کاش ۔۔۔۔دل میں اُٹھتی ٹیسو کے ساتھ بھی مسکرا دی ۔
ارانیہ بچے ۔۔۔۔۔۔پیچھے سے مسسز مجید کی آواز آئی ۔
ج۔۔۔۔جی ۔۔۔۔جی آنی ۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ زبردستی مسکرائی ۔
سب ٹھیک ہو جائے گا سعد ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو ارانیہ ان کے ساتھ لگ کر بے تحاشا رو دی ۔
ارانیہ کو تو جیسے کسی احساس اور اپنے کی ض تھی ۔
آنی مجھے سکون نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔۔۔سعد میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ۔۔اتنی آسانی سے انہوں نے کہہ دیا کے میں آزاد ہوں ایک دفع بھی نہیں سوچا کے میرا کیا ہو گا ۔۔۔۔
میرا دل کیوں نہیں بند ہو گیا آنی کیوں ۔۔۔مجھے مر جانا چاہے تھا اسی وقت ۔۔۔ارانیہ رو رہی تھی مسسز مجید نے درد سے روتی ارانیہ کو دیکھا کر اسے خود میں بھیچ لیا ۔
کاش میں مر جاتی اسی وقت جب انہوں نے کہا تھا تم آزاد ہو ۔۔۔۔ارانیہ۔۔ مسسز مجید کے ساتھ لگی سسک رہی تھی ۔
بچے بس بس ۔۔۔۔۔ ۔۔ مسسز مجید کے لیے ارانیہ کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا ۔
آنی انہوں نے ہمیشہ مجھے دھتکارا ہے میں نے برداشت کر لیا پر اب نہیں ہو رہا ۔۔۔۔۔اس مرتبہ انہوں نے مجھے اپنا بنا کر دھتکار دیا میں برداشت نہیں کر پا رہی آنی پلیز سعد کو کہیں اتنی ستم مت کریں مجھ پر ارانیہ مر جائے گی ۔۔۔۔۔ارانیہ مسسز مجید کے ساتھ لگی روتی جا رہی تھی ۔۔۔
تب ہی گیٹ کھلا تھا اور اندر گاڑی آئی ۔۔۔۔مسسز مجید کے ساتھ لگی ارانیہ روتی جا رہی تھی اس کی سسکیاں بند گئی ۔
گاڑی میں سے صالحہ اور عالیان نکلے تھے ۔
ماما ۔۔۔عالیان اور صالحہ دونوں ارانیہ اور مسسز مجید کو دیکھ کر وہی ان کے پاس ا گئے ۔
مسسز مجید کے ساتھ لگی ارانیہ غنودگی میں جا رہی تھی ۔
کیا بات ہے ماما کیا ہوا ارانیہ کو ۔۔۔عالیان پریشانی سے بولا صالحہ بھی اسے اس طرح دیکھ کر پریشان ہو چکی تھی ۔
ارانیہ ارانیہ بچے ۔۔۔مسسز مجید جو خود بھی ارانیہ کے ساتھ لگی رو رہی تھی ۔۔۔پریشان سی ہو گئی۔
اسے اندر لے کر چلو عالیان ڈاکٹر کو کال کرو میری بچی ۔۔۔۔مسسز مجید ارانیہ کو ساتھ لگائے بولی ۔
عالیان اسے اُٹھا کر کر اندر لے کر گیا اور اسے بیڈ پر رکھا ۔اور جلدی سے ڈاکٹر کو کال کی ۔
ماما سب ٹھیک ہے کیا ہوا ہے ارانیہ کو ۔۔۔. عالیان ڈاکٹر کو کال کرنے گیا تھا تب صالحہ مسسز مجید سے بولی جو ارانیہ کا ہاتھ تھام کر بیٹھی تھی ۔
بہت کچھ ہو گیا اتنے دونوں میں ہی بہت کچھ ہو گیا ۔۔۔۔۔میرے گھر کو نظر لگ گئی میرے بچوں کی خوشیوں کو نظر لگ گئی ۔۔۔مسسز مجید خود رو رہی تھی ۔
پھر ڈاکٹر آیا اور ارانیہ کو چیک کرنے کے بعد کچھ میڈیسن دی تھی اور انجکشن لگایا ۔۔۔اور چلا گیا ۔
ڈاکٹر نے کہا ہے اسے سٹریس ہے اس کا دھیان رکھیں ورنہ اس کا نروس بریک ڈاؤن بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔عالیان مسسز مجید کو بتا رہا تھا جو ابھی بھی کچھ پڑھ کر ارانیہ پر پھونک رہی تھی ۔
ماما کیا ہوا ہے ایسا کے ارانیہ کی یہ حالت ہو گی ہے ۔۔۔۔؟؟ عالیان پریشانی کے عالم میں بولا ۔
مسسز مجید نے سعد کا سارا واقع بتا دیا جسے سن کر خود عالیان اور صالحہ پریشان ہو چکے تھے ۔
اتنی سی بات کا سعد اتنا بڑا ایشو کیوں بنا رہا ہے ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اپنے بابا سے بھی لڑ کر گیا ہے اور وہ بھی ٹینشن میں تھے میں تو ان کے پاس ہی تھی اَن کو میڈیسن دی تھی وہ سوئے تو یہاں باہر ارانیہ کو دیکھا جو ساری رات کی باہر بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔
میں سعد سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ عالیان بولا تو مسسز مجید نے سر ہلایا ۔
تم دونوں آرام کر لو تھک گئے ہو گے ۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو دونوں سر ہلا کر وہاں سے چلے گے ۔
مجھے تو ایسے لگ رہا ہے تم دونوں کو ایک ساتھ جوڑ کر میں نے بہت غلط فیصلہ کر لیا ہے تم ٹھیک کہتی تھی سعد سچ میں یہ رشتہ نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔مسسز مجید کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔
ارانیہ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔ماں بن کر پالا تھا تمہیں پر تمہارے ساتھ زیادتی کرنے والے کو بدعا بھی نہیں دے سکتی وہ بھی میرا اپنا خون ہے ۔۔۔۔مسسز مجید پریشان سی ارانیہ پر پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
اُٹھا گیا یار تُو ۔۔۔؟ ؟ سعد صبح اُٹھ کر باہر آیا تو ہادی بولا ۔
جی اُٹھا گیا۔۔۔سوتا تو تب نہ ۔۔۔۔۔۔۔نیند نہیں آئی ۔۔۔سعد صوفے سے سر کو ٹکائے بولا ۔
حیر ناشتہ کرے گا نہ ۔۔۔میں زمل کو کہتا ہوں وہ بنا دے گی ۔۔۔۔۔ہادی بولا تو سعد نے اس کی طرف دیکھا ۔
زمل تمہاری بہن جو ہوسٹل ہوتی ہے ۔۔۔؟ ؟
جی پر اب یہی ہماری یونیورسٹی ہے تو ہوسٹل چھوڑ دیا ہے اب یہی میرے پاس رہے گی ۔۔۔ہادی بولا تو سعد نے سر ہلایا ۔
السلام علیکم ۔۔۔۔۔تب ہی تھوڑی دیر میں زمل وہاں آئی تھی ۔
سعد زمل کو دیکھ کر ٹھٹکا تھا ۔۔۔۔
آپ ۔۔۔۔
جی میں آپ کیسے ہیں ۔۔۔۔سیڈ ۔۔۔زمل مسکرا کر بولی ۔
جی الحمدللہ۔۔ آپ سنائے ۔۔۔۔؟
آپ جانتے ہیں ایک دوسرے کو ۔۔۔۔۔۔ہادی سعد کو دیکھ کر بولا جو زمل کو دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔
جی بھائی سیڈ نے میری مدد کی تھی یونیورسٹی میں ورنہ تو لڑکے مجھے تنگ کر رہے تھے ۔۔۔زمل مسکرا کر بتا رہی تھی ۔
میں تو رات کو روم میں بھی آئی تھی پر آپ اتنے پریشان تھے کے میری طرف دیکھا بھی نہیں ۔۔۔۔زمل آخر ساتھ شکوہ بھی کر گئی ۔
جی بس ۔۔۔۔سعد کچھ نہیں بولا بس نظروں کو جھکا گیا ۔
کوئی بات نہیں میں سب کے لیے ناشتہ بناتی ہوں ۔۔۔۔زمل ان کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں سے چلی گئی ۔
ہادی کو اپنی بہن کا انداز کچھ بدلہ بدلہ سا لگ رہا تھا ۔۔۔وہ آنکھوں کو پڑھنے کا ہنر خوب جانتا تھا ۔
یونیورسٹی جانے کا اردہ ہے ۔۔۔؟ ؟ ہادی سعد کو دیکھ کر بولا ۔
ابھی دونوں بات کر ہی رہے تھے کے ہادی کا فون رنگ ہوا ۔
السلام علیکم بھائی ۔۔۔۔جی جی سعد یہی ہے ۔۔۔ہادی بولا تو سعد نے اس کی طرف دیکھا ۔
تو کیا اب ٹھیک ہے ارانیہ ۔۔۔؟؟ارانیہ کے نام پر سعد کے دل کو کچھ ہوا ۔
جی بہتر میں سعد کو بتا دوں گا ۔۔۔۔۔کہتے ہوئے کال بند کر دی ۔
پوچھو گے نہیں ۔۔۔؟ ؟ ہادی سعد کو چپ دیکھتے ہوئے بولا ۔
کیا۔۔۔؟
ارانیہ کے بارے میں ۔۔
نہیں بہت لوگ ہیں اس کی فکر کرنے کو ۔۔۔۔۔سعد تلخ سا ہنس دیا ۔
ہممم ٹھیک ہے تمہاری مرضی ۔۔۔۔۔۔ہادی نے کندھے اچکا دئے ۔
سعد چاہتا تھا کے ہادی اسے بتائے پر ہادی بھی چپ چاپ اپنا موبائل یوز کرنے لگا ۔۔۔۔
سعد بے چینی سے بار بار پہلو بدل رہا تھا.م ۔۔۔جس پر ہادی کے لب مسکرائے ۔
نروس بریک ڈاؤن ہو سکتا تھا ڈاکٹر نے کہا ہے ۔۔۔۔۔زیادہ ٹینشن لی تو شاید ہو بھی جائے ۔۔۔۔ہادی بولا تو سعد کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا ۔
مجھے جانا ہے ۔۔۔۔سعد بینا کچھ سوچے اُٹھا تھا ۔
ناشتہ ۔۔۔۔تیار ہے ۔۔۔۔زمل کی آواز سن کر سعد نے اس طرف دیکھا ۔
نہیں بھوک نہیں مجھے جانا ہے ۔۔۔۔زمل نے سب سن لیا تھا ۔
ہادی پھر صحیح مجھے ابھی جانا ہے ۔۔۔سعد کہتے ہوئے ہادی کو بائے بول کر وہاں سے نکل گیا ۔
بھائی کیا ضرورت تھی آپ کو بتانے کی ناشتہ تو کرنے دیتے ۔۔۔۔۔زمل غصے سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ بولی ۔
ہادی نے محسوس کیا تھا عجیب سا جنون تھا زمل کے لہجے میں ۔۔
میں ہوں ہم دونوں کرتے ہیں ۔۔
نہیں مجھے نہیں کرنا. ۔۔زمل کہہ کر وہاں سے چلی گئی ۔
ہادی زمل کے بدلتے روائے سے پریشان ہوا تھا ۔
اللہ جیسا میں سوچ رہا ہوں ویسا بالکل بھی نہ ہو ۔۔۔ہادی زیر لب بڑھ بڑھا ۔
Episode 10
سعد گھر واپس آیا تو ۔۔۔۔ سب سامنے لاؤنچ میں تھے ارانیہ بھی ان کے درمیان چپ سی اور خاموش سی بیٹھی تھی ۔
آنکھوں کے نیچے حلقے اور رنگ پیلا زرد ہو رہا تھا ۔
سعد کہاں تھے ۔۔۔؟ ؟ مجید چوہدری اس کی طرف دیکھتے ہوئے سرد انداز میں بولے ۔
آپ نے کہا تھا دفع ہو جاؤ اسی لیے چلا گیا تھا میں ۔۔۔۔۔سعد کا انداز سرد اور بدتمیزی لیے ہوئے تھا ۔
سعد کیا بدتمیزی ہے یہ ۔۔۔۔عالیان کو بھی سعد کی بات سن کر غصہ آیا ۔۔
کیا بھائی ایک چھوٹی سی خواہش کی ہے میں نے کچھ غلط نہیں کہا میں نے تو پھر اتنا تماشا کس چیز کا ۔۔۔۔۔۔۔
پہلے سب تہہ ہوا تھا ۔۔۔۔پھر کیوں ضد ہے تمہاری وجہ بتاؤ ہمیں ۔۔۔۔مجید چوہدری کو اس پر بہت غصہ آ رہا تھا۔
ارانیہ نے نظروں کو جھکا رکھا تھا ۔۔۔۔ایک بھی مرتبہ سعد کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی ۔
اعتبار نہیں ہے مجھے آپ کی لاڈلی پر پوچھے اس سے کیا کرتی پھر رہی ہے یونیورسٹی میں ۔۔۔۔۔سعد ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا ۔
تب ہی مجید چوہدری کا ہاتھ اُٹھا تھا اور سعد کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا ۔۔۔اور یہ زندگی میں پہلی مرتبہ تھا جو مجید چوہدری نے اس پر ہاتھ اُٹھایا ۔
سب نے ہی اس کی طرف حیرت سے دیکھا تھا۔۔۔ارانیہ خوفزدہ سی بس دونوں کو دیکھتی رہ گئی ۔
سعد نے دُکھ سے مجید چوہدری کو دیکھا ۔
ارانیہ ۔۔۔ارانیہ ۔۔۔۔ سعد چیخا تھا ۔
ارانیہ سعد کے چیخنے سے کانپی تھی ۔۔۔
میرے ساتھ جانا چاہتی ہو یا یہی رہنا ہے ۔۔۔۔۔۔ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے بولا ۔
ارانیہ کہیں نہیں جائے گی سنا تم نے جہاں جانا چاہتے ہو جا میری بیٹی کہیں نہیں جائے گی ۔۔۔۔مجید چوہدری بھی چیخے ۔
میں اپنی بیوی سے بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔سعد کا لہجہ اور انداز عجیب سا ہو رہا تھا ۔
ارانیہ آخری دفع پوچھ رہا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔
مج۔۔۔۔ھے ۔۔۔۔مجھے مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ خوفزدہ سی اٹک اٹک کر بولی ۔
میں سعد اپنے پورے ہوش حواس میں ارانیہ ۔۔۔کو ۔۔۔۔سعد ابھی اتنا بولا تھا کے ۔
سعد ایسا کچھ بھی کہا تو سمجھ جانا تمہاری ماں مر گئی ۔۔۔۔۔سعد ابھی کچھ بولتا مسسز مجید اس سب میں پہلی دفعہ بولی تھی اُن کا لہجہ کانپ رہا تھا ۔
ارانیہ بے یقینی سے بس سعد کے لفظوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔دل بند ہونے کو تھا ۔۔۔آنکھوں سے آنسو کی برسات ہو رہی تھی ۔
آپ کی وجہ سے اس نام نہاد رشتے کو ختم نہیں کر رہا ورنہ میری لیے اب ارانیہ کی کوئی حیثیت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔سعد ایک ایک لفظ چبا کر بولا ۔
مجید چوہدری تو سعد کے لفظوں سے چپ چاپ وہی بیٹھ چکے تھے ۔
ارانیہ کو لگ رہا تھا سعد کے لفظوں سے آج وہ اندر ہی اندر مر گئی ہو ۔
ہمارے بہت خاص بہت اپنے ہمیں اپنے لفظوں کے وار سے ختم کر دیتے ہیں اور آج آپ کے لفظوں کے وار سے میرا دل بند ہو رہا ہے پتہ نہیں کیوں یہ بند کیوں نہیں ہو جاتا اسے تو ان لفظوں کے مار سے بند ہو جانا چاہے تھا ۔۔۔۔۔ارانیہ بے بس سی سب دیکھ رہی تھی ۔
وہ اُٹھی تھی وہاں سے اور چپ چاپ لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے وہاں سے اوپر اپنے روم کی طرف جانے لگی ۔
سعد نے جاتی ہوئی ارانیہ کو دیکھا تھا ۔۔۔ضبط سے بس چپ سا کھڑا تھا۔
کہاں جا رہے ہو تم ۔۔۔؟ ؟ سعد غصے سے پھر سے واپس جانے لگا تھا کے عالیان چیخا ۔
اس گھر کو چھوڑ کر ۔۔۔۔
چپ چاپ اپنے کمرے میں جاؤ ۔۔۔۔یہ ناٹک بند کرو ۔۔۔۔سن. تم نے ۔۔عالیان بولا تو سعد ان کو دیکھ کر رہ گیا ۔
جب بابا نہیں چاہتے تو میں کیوں رہو اس گھر میں ۔۔۔۔
بکواس بند کر آگے بہت کچھ بول دیا ہے اسی لیے جاؤ یہاں سے اپنے روم میں ۔۔۔۔عالیان نے کہا تو سعد وہاں سب پر ایک نظر ڈال کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
اس کو کہتے چلا جائے یہاں سے ۔۔۔۔مجید چوہدری تھکے سے اندازہ میں بولے ۔
بابا پلیز ریلکس رہ کر اس معاملے کو سنبھالے ۔۔۔۔سعد بھاگی ہو رہا ہے اس وقت ۔۔۔۔۔اور اس طرح ہم اسے خود سے اور دور کر دیں گے ۔۔عالیان تحمل سے بولا تھا ۔
ورنہ تو دونوں میاں بیوی کو سعد کی باتوں سے چپ سے لگ گئی تھی ۔
گھر رہے گا تو ٹھیک ہو جائے گا ورنہ ۔۔۔۔۔۔.
ہممممم عالیان بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ۔۔۔۔۔اس سب میں صالحہ پہلی مرتبہ بولی ۔
ابھی کچھ دن گزر لینے دیں پھر بات کرتے ہیں دونوں سے ایک مرتبہ تھوڑا معاملہ ٹھنڈا ہو لینے دیں ۔۔۔غصہ کم ہو جائے سعد کا ۔۔. عالیان بولا تھا پر دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سعد ارانیہ کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔
آپ کی وجہ سے ہوا ہے سب میرے بابا نے صرف آپ کی وجہ سے مجھ پر دوسری دفع ہاتھ اُٹھایا ۔۔پہلے بھی آپ ہی وجہ تھی اور اب بھی آپ ہی ہو ۔۔۔۔۔۔سعد ارانیہ کو بازوں سے تھام کر جھنجھوڑتے ہوئے غرایا ۔
ارانیہ بس اسے روتے ہوئے دیکھتی رہ گئی ۔۔
میری ایک بات یاد رکھنا ۔۔نہ آپ کبھی کسی اور کی ہو پائے گی اور نہ میں آپ کو کبھی بھی اپنا بناؤں گا پل پل پر لمحہ اذیت دوں گا آپ کو سنا آپ نے ۔۔۔۔۔سعد نے اسے جھٹکے سے چھوڑ تھا ارانیہ اوندھے منہ بیڈ پر گری اور وہ وہاں سے جانے لگا ۔
ابھی بھی آپ مجھے اذیت دے رہے ہیں سعد ۔۔۔۔۔ارانیہ ایسے ہی گری سسکتے ہوئے بولی ۔
سعد کے جاتے قدم واپسی کے لیے مڑے تھے ۔
اذیت ہاہاہاہا اذیت میں تو میں ہوں جو آپ جیسی لڑکی میری لائف میں آ گئی ہے ۔۔۔۔سعد کے کڑوے لفظ سے ارانیہ نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا ۔
میں آپ کی لائف سے چلی جاؤں گی سعد ۔۔۔۔۔۔
چلی جائے جان چھوڑ دیں دور رہے مجھ سے تاکہ مجھے سکون محسوس ہو ۔۔۔
آپ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔۔؟؟
بالکل نہیں بالکل بھی نہیں آپ جائے گی تو مجھے بہت خوشی ہو گی کیونکہ آپ کی وجہ سے میرے بابا نے مجھے مارا ۔۔۔۔سعد اپنے لفظوں کے زہر ارانیہ کے کانوں میں انڈیل کر وہاں سے دروازے کو ٹھوکر مارتے ہوئے نکل گیا ۔
ارانیہ سعد کی باتیں سنتے ہوئے وہی ہاتھوں میں سر دئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
سب میری وجہ سے خراب ہو رہا ہے میں یہاں سے چلی جاؤں گی ۔۔۔۔انکل نے بھی سعد کو میری وجہ سے مارا ۔۔۔۔۔سب خراب کر دیا میں نے. ۔۔۔۔ارانیہ روتے ہوئے خود سے باتیں کر رہی تھی ۔
میں چلی جاؤں گی چلی جاؤں گی ۔۔۔ارانیہ اُٹھی تھی ۔۔۔۔اپنے آنسو صاف کئے ۔۔۔زمین پر پڑھا اپنا ڈوپٹہ اُٹھایا تھا ۔۔۔
بہت دور جا رہی ہوں آپ سے سیڈ بہت دور ۔۔
یہ آخری نشانی جو میرے پاس رہے گی اس گھر سے کچھ نہیں لے کر جا رہی بس کچھ یادیں اور یہ پازیب جو آپ نے نکاح کا تحفہ دیا تھا ۔۔۔۔ارانیہ مسکرائی تھی درد بھری مسکراہٹ تھی وہ ۔
اپنی محبت کے لئے کچھ بھی کروں گی آپ سے دور بھی چلی جاؤں گی ۔۔۔آپ خوش ہیں تو مجھے اور کیا چاہے ۔۔۔۔ارانیہ اُٹھی تھی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔اس وقت لاؤنچ میں بھی کوئی نہیں تھا ۔۔۔
گاڑدن ائریا سے ہوتے ہوئے بڑے گیٹ کی طرف چلی گئی اس وقت شاید گیٹ پر بھی کوئی نہیں تھا۔۔.عالیان شاید گاڑی لے کر باہر نکلا تھا کیونکہ گیٹ کھولا ہوا تھا ۔
اس سے پہلے کے اس کا دروازہ بند ہوتا ارانیہ جلدی سے باہر نکل گئی ۔
پیچھے مڑ کر بند ہوتے گیٹ کو دیکھا اور پھیکی سی ہنسی اس کے چہرے پر آئی تھی ۔
سعد آج جا رہی ہوں میں اب واپس لوٹ کر نہیں آؤں گی آپ خوش رہے ۔۔۔۔ارانیہ آپ کی زندگی سے جا رہی ہے ۔۔۔۔۔آنسو کے ساتھ دل میں سعد سے محاطب تھی ۔
اور مڑتے ہوئے وہاں سے چلتے ہوئے دور ہو رہی تھی اس گھر سے جس گھر میں اس کی یادیں تھی جو اس کی آخری پناہ گاہ تھا ۔
ارانیہ بس چلتی جا رہی تھی اسے نہیں معلوم تھا اسے کہاں جانا ہے ۔۔۔۔بس سعد سے دور جانا تھا اس کی خواہش کو پورا کرنا تھا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
صبح سے اگلا دن آ گیا تھا ۔۔۔سب ہی اپنے کمروں میں بند تھے کسی کو نہیں معلوم تھا کون کہاں ہے ۔۔۔۔۔
صبح سب ناشتے پر ائے تھے سواہے سعد اور ارانیہ کے۔۔۔۔۔۔
ارانیہ نہیں آئی ۔۔۔؟؟ مجید چوہدری ہی بولے ۔۔سعد جو وہاں چئیر پر بیٹھ رہا تھا ارانیہ کا نام سن کر لب بھیچ گیا ۔
ماما میں دیکھتی ہوں ۔۔۔۔صالحہ ان کو بتا کر اوپر گئی ۔۔
مسسز مجید اور مجید چوہدری اور عالیان میں سے کسی نے بھی سعد سے بات نہیں کی تھی اور نہ اس نے کسی سے کی تھی چپ چاپ اپنا ناشتہ کرنے لگا ۔
ماما ماما ارانیہ روم میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔وہ یونیورسٹی تو نہیں چلی گئی ۔۔۔صالحہ نیچے آ کر بولی تو مسسز مجید نے اس کی طرف دیکھا ۔
یونیورسٹی ایسی حالت میں نہیں جا سکتی ۔۔۔باہر گارڈن میں نہ ہو ۔۔۔۔زولحہ زولحہ باہر دیکھ کر آو ارانیہ تو نہیں ہے ۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو زولحہ نے سر ہلایا ۔
بی جی میں جاتی ہوں پر ۔۔۔ میں نے کل رات سے ان کو نہیں دیکھا وہ کمرے سے باہر نہیں آئی ۔۔۔۔زولحہ بول کر وہاں سے باہر کی طرف چلی گئی ۔۔۔اس کی بات سن کر سب ہی پریشان ہو چکے تھے ۔
یہ ہی ہو گی گھر نہ ہوئی تو یونیورسٹی گئی ہو گی اور کہاں جا سکتی ہے وہ ۔۔۔۔۔۔عالیان ان کی طرف دیکھتے ہوئے پریشان سا بولا ۔
مسسز مجید اور مجید چوہدری پریشان ہو چکے تھے ۔
باجی وہ نہیں ہیں وہاں بھی ساری طرف دیکھ کر آئی ہوں وہاں نہیں ہیں باجی ارانیہ ۔۔۔۔۔زولحہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی ۔
کہاں جا سکتی ہے ارانیہ۔۔۔ سعد بھی پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
عالیان چوکیدار سے پوچھو ۔۔۔۔۔۔۔سی ٹی فوٹیج چیک کرو ارانیہ کب گئی یا یہی کہیں گھر میں ہی ہے ۔۔۔۔۔مجید چوہدری اُٹھئے تھے اور عالیان بھی سر ہلا کر باہر کی طرف نکل گیا ۔
چلی جائے جان چھوڑ دیں دور رہے مجھ سے تاکہ”
مجھے سکون محسوس ہو” ۔۔۔
سعد کو اپنے ہی کہے لفظ کان میں گھونجتے محسوس ہو رہے تھے ۔
کہیں ارانیہ ۔۔۔۔سعد چئیر سے کھڑے ہو کر سوچ کر رہا گیا ۔
سعد بینا کچھ کہے اُٹھا تھا ۔۔۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے لیے چیکر روم کی طرف چلا گیا ۔۔۔جہاں عالیان پہلے سے ہی موجود تھا. ۔مجید چوہدری بھی وہاں تھے ۔
فوٹیج دیکھ کر سعد کے ہاتھ جو چئیر پر تھے کانپنے لگے تھے ۔
ارانیہ کو گیٹ سے باہر جاتے ہوئے دیکھ کر دل کو کچھ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
بابا ارانیہ کل کی گھر نہیں ہے ۔۔۔۔۔وہ کہاں جاسکتی ہے بابا ۔۔۔۔اس کا تو یہاں کوئی ہے بھی نہیں ۔۔۔عالیان ساری فوٹیج دیکھتے ہوئے بولا ۔
اگر اسے کچھ ہو گیا تو کیا جواب دوں گا میں اپنے دوست کو کے ایک بچی کی حفاظت بھی نہیں کر پایا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔
بابا رہلکس رہے ان شا اللہ اسے کچھ نہیں ہو گا وہ بالکل ٹھیک ہو گی میں اپنے دوست سے بات کرتا ہوں وہ پولیس میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عالیان کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
سعد کو مجید چوہدری بھی اگنور کرتے ہوئے اندار کی طرف بڑھ گئے ہیں۔
سعد بار بار اسی ویڈیو کو دیکھتا جا رہا تھا ارانیہ کا مڑ کر دیکھنا اور پھر وہاں سے چلے جانا ۔۔۔سعد کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔
میں نے اتنی سی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر کیا کر دیا ۔۔۔۔سعد وہی سر پکڑ کر چئیر پر بیٹھ گیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
کچھ پتہ چلا سار گھر دیکھ لیا ہے کہیں نہیں ہے ۔۔۔۔۔مسسز مجید مجید چوہدری کو آتے ہوئے دیکھ کر بولی ۔
ارانیہ کل سے گھر نہیں ہے وہ کل سے کہی چلی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری تھکے سے آئے تھے لگ رہا تھا سچ میں بوڑھے ہو گے ہیں ۔۔۔۔
کیا مطلب. ۔کہاں چلی گئی ہے وہ ۔۔یہاں کون ہے اس کا یہاں تو کوئی بھی نہیں اس کا کوئی بھی نہیں ۔۔۔۔کہاں جا سکتی ہے وہ ۔۔۔۔مسسز مجید رو دینے کو تھی ۔
پتہ نہیں کہاں چلی گئی ۔۔۔سچ میں بدنصیب نکلی وہ. ۔۔۔ہمیں نہیں کرنی چاہے تھی یہ شادی نہیں کرنی چاہے تھے ۔۔۔۔پتہ نہیں کہاں چلی گئی وہ ۔۔۔
اس کا تو یہاں کوئی نہیں ہے آپ جانتے ہیں نہ ۔۔۔ساری رات گزر گئی اور ہمیں معلوم ہی نہیں ۔۔۔۔۔
صالحہ اس کی کو کال کرو اس کے پاس فون تو ہو گا ۔۔۔۔۔مسسز مجید صالحہ سے بولی ۔
صالحہ جلدی سے فون لے کر آئی تھی ۔۔۔اور ارانیہ کو کال کرنے لگی ۔
ماما بیل جا رہی ہے پر اُٹھا نہیں رہی۔۔۔۔
فون بھی گھر ہو گا ۔۔۔۔مجید چوہدری بولے ۔
اس کی کسی دوست کو کر لو کال ۔۔اس کا فون گھر ہوا تو یہی ہو گا کہیں ۔۔۔مسسز مجید بولی تو سعد جو اندر آ رہا تھا ۔۔
اس نے ان کی بات سن لی تھی اور ارانیہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
اور جب نیچے آیا تو سعد کے ہاتھوں میں ارانیہ کا سیل فون تھا ۔۔۔۔
سعد کی آنکھوں میں پانی بھر آیا ۔۔۔۔
سعد اس کی کسی دوست کو کال کرو ۔۔۔۔سعد نے جلدی سے آنسو کو اندر کیا اور نمبر دیکھ کر باری باری سب کو کال کرنے لگا ۔
کہیں نہیں ہے ارانیہ ۔۔۔۔۔۔۔سعد فون کو ہاتھ میں پکڑے بے بس سا بولا ۔
سعد ارانیہ کے فون کی جلتی سکرین کو دیکھی جا رہا تھا جہاں دونوں کے نکاح کی تصویر تھی ۔۔۔۔۔
اچھا ہے چلی گئی ۔۔ مر جائے ۔۔۔۔۔اس بدنصیبی کی زندگی سے جان چھوٹ جائے گی اس کی ۔۔۔۔۔. مجید چوہدری غصے سے سعد کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ۔
بابا پلیز ۔۔۔
کیا پلیز خوشی مناؤ خوش ہو جاؤ چلی گئی وہ نہیں آئے گی اب وہ، جاؤ کرو دوسری شادی ۔۔۔۔۔مجید چوہدری غصے سے چیخے تھے ۔
بابا پلیز ایسا مت کہے ۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں ہو گا اسے ۔۔۔۔
خوشیاں مناؤ ۔۔۔ مجید چوہدری سعد کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں سے چلے گئے تھے.
مسسز مجید رو رہی تھی صالحہ ان کو سنبھال رہی تھی ۔
ماما ۔۔۔
سعد اگر ارانیہ کو کچھ ہو گیا تو میں تمہیں معاف نہیں کرو گی کبھی بھی نہیں ۔۔۔مسسز مجید روتے ہوئے سعد کی طرف دیکھ کر بولی ۔
اسے کچھ نہیں ہو گا ۔۔میں ڈھونڈ لوں گا اسے مل جائے گی وہ ضرور مل جائے گی وہ ۔۔۔. سعد مسسز مجید کو بول کر وہاں سے باہر چلا گیا ۔
ماما دعا کریں ۔۔۔ضرور مل جائے گی وہ ۔۔.. صالحہ تسلی دیتے ہوئے بولی تھی ۔۔
مسسز مجید بس دعا ہی کر سکتی تھی وہ جانتی تھی اس کا نہ یہاں کوئی ہے اور نہ ہی وہ کسی کو جانتی ہے یہاں ۔۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
آج پورا ہفتہ ہو گیا تھا سب ہی ارانیہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکے تھے پر اس کا نام نشان نہیں تھا یہاں ۔۔۔۔پر دوست ہر کسی سے معلوم کر لیا تھا پر ارانیہ نہیں مل رہی تھی ۔
پولیس سٹیشن ہاسپٹل ہر جگہ ۔۔۔۔۔۔۔ پر ارانیہ اُن کو کہی نہیں ملی تھی ۔
مجید چوہدری اور مسسز مجید کو تو چپی سی لگ گئی تھی ۔۔۔
سعد الگ ارانیہ کو ڈھونڈنے میں اتنا مصروف تھا کے اس نے یونیورسٹی جانا تک چھوڑ دیا ۔
ایک دفع مل جاؤ ارانیہ صرف ایک مرتبہ پھر کبھی بھی تنگ نہیں کروں گا میں آپ کو کبھی نہیں کرو گا ۔۔۔۔. سعد اس کے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا دل سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کے کہیں وہ کسی غلط کے ہاتھوں میں نہ چلی گئی ہو۔
مجھے خوشبو آتی ہے تمہاری یہاں لوٹ آؤ ارانیہ لوٹ آؤ ۔۔۔۔۔
سعد سعد ۔۔۔۔باہر سے عالیان کے اونچا چیخنے کی آواز آئی تھی ۔
کیا ہوا ہے بھائی ۔۔۔۔؟؟
چلو میرے ساتھ ۔۔۔ہمیں جانا ہے ۔۔۔۔
عالیان اس کی طرف دیکھتے ہوئے بول کر باہر کی طرف نکلا تھا ۔
کیا ہوا بھائی سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔؟
سب ٹھیک ہو گا بس دعا کرو سب ٹھیک ہو گا ۔۔۔۔عالیان گاڑی میں سوار ہوا ساتھ ہی سعد بھی بیٹھ گیا ۔۔۔سعد کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا ۔
بھائی کہاں جا رہے ہیں ہم ۔۔۔؟؟
میرے دوست کی کال آئی تھی ۔۔۔ایک لڑکی کی لاش ملی ہے تو ان کو شک ہے وہ ارانیہ نہ ہو ۔۔۔۔عالیان بولا تو سعد کو لگا تھا اس کا دل بند ہونے لگا ہے ۔
بھائی وہ ارانیہ نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔سعد کو اپنی ہی آواز دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
ان شا اللہ نہیں ہو گی وہ ارانیہ ۔۔۔۔۔عالیان بول کر گاڑی کو اور بھی تیز کر گیا ۔
