Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 04)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 04)
Black Monster by Ayn Khan
آج پھر سے ایک اندھیری رات اور ۔۔۔بادلوں کی گرج چمک رات کے اندھیرے کو اور بھی خوفناک بنا رہی تھی آج پھر سے ایک درندا اپنی ابدی نیند سونے والا ہے
اپنی گاڑی کو کو دور کھڑا کرنے کے بعد وہ نکلا تھا اور آج بھی اس کے ساتھ اس کا پیپی تھا ۔۔۔وہ ہی سفید کالر کا چھوٹا سا پیپی ۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں پہلے جیسی وخشت اور نفرت تھی ۔۔۔۔۔اپنی متلوبہ بلڈنگ کے پاس پہنچ کر ۔۔۔۔اس نے اپنے بیگ سے ایک ٹیب نکالا تھا اور اس کو اوپن کرتے ہوئے اس پر اب اس کی انگلیوں کی حرکت ہو رہی تھی ۔
اور وہ وہاں موجود کیمروں کو ہیک کر رہا تھا تاکہ کسی بھی سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ نہ ا سکے ۔
تم میرا انتظار کرو ۔۔۔۔۔میں تمہارے لئے خوشخبری لے کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔وہ زمین پر نیچے بیٹھ کر اس کی کمر سہلاتے ہوئے بولا ۔
اور پھر اُٹھا اور سامنے بلڈنگ کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔
سیڑھیوں سے اور جاتے ہوئے اپنے متلوبہ فلور پر پہنچ کر فلیٹ کے سامنے روک گیا ۔
اپنی جیب سے ایک پین نکال کر اس سے دروازے کو کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔جب اندر داخل ہوا تو پورا کمرا شراب کی بد بو سے بھرا ہوا تھا ۔
اندر جب دیکھتے ہوئے اس کے روم میں داخل ہوا تو ۔۔۔۔۔سامنے ہی ایک وجود تھا جو بیڈ پر بے سد پڑھا اپنی نیند پوری کر رہا تھا ۔۔اس چیز سے بے خبر کے آج اس کی آخری رات ہے۔
آگے بڑھ کر پہلے اس نے بیڈ کراؤن سے اس کے ہاتھ باندھے تھے ۔۔۔۔۔۔اور منہ پر ٹیپ لگائی ۔
پھر اپنی جیب سے چاکو نکالا۔۔۔اور اس کے پاؤں کے نچلے حصے میں چاکو اس طرح مارا کے وہ اس کے پاؤں کے اوپر والے حصے سے باہر آیا ۔۔۔
وہ سویا ہوا وجود جو نیند کی وادی میں مست سو رہا تھا درد کی وجہ سے اُٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔چیخنے کی کوشش کر رہا تھا آنکھوں سے آنسو آ رہے تھے ۔۔۔۔۔ پر نہ تو رو پا رہا تھا اور نہ ہی چیخ پا رہا تھا ۔۔۔اور ہاتھ باندھے ہونے کی وجہ سے اُٹھ بھی نہیں پا رہا تھا ۔
سامنے کھڑے وجود کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔
درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔مسکراتے ہوئے ماسک کے پیچھے سے آواز آئی ۔
اس نے روتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔۔۔
مجھے خوشی ہو رہی ہے ۔۔۔اس نے بیڈ پر پاؤں رکھتے ہوئے اس آدمی جس نے شرٹ نہیں پہن رکھی تھی ۔۔۔دوسرا چاکو پاؤں کے پاس سے نکالتے ہوئے ایک لمبی لکیر اس کے سینے سے کھنچتے ہوئے پیٹ تک لے کر آیا ۔
اسے بھی بہت درد ہوا ۔۔۔وہ بہت تڑپی تھی نہ ۔۔۔۔ایسے ہی۔۔۔۔ وہ اس کے نکلتے خون کو دیکھتے ہوئے جنونی سا بولا دوسری طرف وہ آدمی درد سے بلبلا اُٹھا تھا پر وہ کچھ کر نہیں پا رہا تھا ۔
میں انجیل ہوں ۔۔۔انجیل اپنی پری کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کہتے ہوئے اس کے دل کے مقام پر وہ ہی چاکو مارا تھا ۔
پر تم جیسوں کے لیے میں
“Black Monster”
ہوں
درد کی وجہ سے وہ پاؤں کو مار رہا تھا پر کر کچھ نہیں پا رہا تھا ۔
اپنے دونوں چاکو کو نکال کر اس کی بیڈ شیٹ سے صاف کرتے ہوئے پیچھے ہٹا تھا ۔
اگر تم اس دفع نام بتائے بغیر زندہ بچ گئے تو تمہیں اگلی دفع اس سے بھی دردناک موت دوں گا ۔۔۔
اس آخری آدمی کا نام بتا دو مجھے ۔۔۔۔تو باہر کھڑی ایمبولینس تمہیں ہاسپٹل لے جائے گی ۔۔۔۔۔۔وہ دور کھڑا اسے تڑپتے ہوئے دیکھ کر بولا ۔
اس آدمی نے سر ہلایا ۔
چیخنے کی آواز نہیں آنی چاہے ۔۔۔ورنہ ۔۔۔۔
نام ۔۔۔۔
وہ نام جو اس نے بتایا تھا اس آدمی کے پاؤں کے نیچے سےزمین کھینچ گیا ۔۔۔
دوبارا سے اس کے منہ پر ٹیپ لگا کر پیچھے ہٹ گیا ۔
ہر اس آدمی کی سزا موت ہے جس نے میری پری کو نقصان پہنچایا ۔۔۔۔
یہ “سزا “ہے “سزا” ۔۔۔تم سب کی” سزا”۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہوئے وہ باہر نکل گیا تھا ہر نشان مٹا کر ۔
اندر پڑھ وجود درد سے ترپ رہا تھا اور آپنی موت تک پہنچ رہا تھا ۔
وہ آدمی جیسے آیا تھا ویسے ہی اپنے پیپی کو لے کر نکل گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج آنکھوں میں ایسی نفرت تھی جیسے وہ ساری دنیا کو تباہ کر دے گا۔۔۔تیسرا نام جو اس کا گناہ گار تھا۔۔۔۔۔آج اس کا نام جان کر آج اس کا یقین اعتبار سب ٹوٹ گیا تھا ۔
میں تمہیں ایسی “سزا” دوں گا ساری دنیا جان جائے اعتبار توڑنا کیا ہوتا ہے ۔
اپنی گاڑی کا دروازہ کھول کر اس پیپی کو اُٹھاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا کر اپنے راستے کی طرف بڑھ گیا ۔
پر اس دفع جس “سزا” کا فیصلہ ہوا تھا وہ “سزا” سب سے زیادہ خطرناک ہونے والی تھی ۔






بہت خوش نظر ا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔سعد اور ہادی کلاس لے کر باہر نکلے تو ہادی اسے خوش دیکھ کر بولا۔
خوش تو ہونا ہی ہے کیوں نہ ہوں خوش ۔۔ ۔۔۔۔۔آخر تیرے بھائی کا نکاح ہے ۔۔۔۔۔سعد ہاتھ میں پکڑی فائل کو گول گول گھوماتے ہوئے بولا۔
کون ہے وہ بد قسمت۔۔۔۔۔۔۔۔یا مان گئی تیری پری ۔۔۔۔۔۔۔۔ہادی بولا تو سعد نے اسے گھور کر دیکھا ۔
منانا ہی تھا کیوں نہ مانتی مجھ جیسے ہنڈسم لڑکے کو کوئی ٹھکرا نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعد اپنی فرضی کالر بناتے ہوئے بولا ۔
ہاں ہنڈسم پلس سڑا ہوا ۔۔۔۔۔. ہادی نے منہ بنایا ۔۔۔۔۔
بھابھی نہیں آئی ۔۔۔؟ ؟
نہیں اب وہ نہیں آنے والی کچھ دن تک ۔۔۔۔جب تک نکاح نہیں ہو جاتا ماما نے پردہ رکھا ہے اس کا مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔سعد عام سے لہجے میں بولا ۔
یہ تینوں گھٹیا انسان باز نہیں آتے ۔۔۔۔۔۔سعد ہی سامنے کھڑے ان تینوں لڑکوں کو دیکھ کر بولا تھا جو آتی جاتی لڑکیوں کو گھور گھور کر دیکھ رہے تھے ۔
دفع کر چھوڑ ان کو ہمیں کیا یار ۔۔۔۔۔ہادی اسے دوسری سائیڈ سے لے کر جانے لگا ۔
دل تو کرتا ہے ان کا حشر بھگاڑ کر رکھ دوں ۔۔۔۔۔ سعد دانت پیستے ہوئے بولا ۔
چل بھگاڑ دینا پہلے کچھ شاپنگ کرنے جاتے ہیں شادی کی مجھے بھی کروا دینا تیرا غریب دوست ہوں ۔۔۔۔۔ہادی بولا تو سعد اس کی بات سن کر مسکرا دیا تھا ۔
تم جیسا غریب اللہ سب کو بنائے ۔۔۔۔۔۔۔سعد ہنستے ہوئے بولا تو ہادی بھی ہنس دیا ۔
پھر دونوں شاپنگ کے لیے شاپنگ مال گئے ۔۔۔
یار تم یہ ڈریس لے میں آتا ہوں ۔۔۔۔سعد اسے بول کر سامنے جیولری شاپ کی طرف گیا ۔۔۔۔ہادی کی ساری نظر جاتے ہوئے سعد کی طرف تھی ۔
تھوڑی دیر بعد سعد واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا اور چہرے پر مسکراہٹ ۔
یہ کیا ہے ۔۔۔۔ہادی شاپ سے شاپنگ بیگ پکڑ کر سعد کے پاس جا کر اسے بولا ۔
یہ کچھ سپیشل ہے ۔۔۔۔۔۔ سعد مسکراتے ہوئے بولا اور دونوں مال سے باہر کی طرف بڑھ گے ۔
سپیشل مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟دونوں چلتے ہوئے مال سے باہر آ چکے تھے ۔
ارانیہ کے لیے کچھ لیا ہے ۔۔۔۔نکاح کا گفٹ ۔۔۔۔جو صرف سب سے پہلے وہ ہی دیکھے گی ۔۔۔۔۔سعد ہنستے ہوئے ڈرائیورنگ سیٹ سنبھال کر بولا تھا ہادی دوسری طرف ا چکا تھا ۔
ہاہاہاہاہا مطلب تم مجھے بھی نہیں دکھانے والے ۔۔۔۔ہادی نے برا سا منہ بنایا ۔
بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔بیگ کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے سعد نے گاڑی سٹارٹ کر دی تھی ۔
ہاہاہاہاہا اوکے کوئی بات نہیں ۔۔۔۔بے وفا دوست ۔۔۔پر سوچ لو جس دن میں نے بے وفائی کی تو ۔۔۔۔
جس دن تُو بے وفائی کرے گا تُو جان سے جائے گا میرے یار ۔۔۔۔سعد ہنستے ہوئے بولا ۔
آف ربا ۔۔۔۔۔
ہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہا اور پھر دونوں کے قہقہے گاڑی کی فضا میں گھونجے تھے ۔






ارانیہ بچے آپ خوش ہیں نہ ۔۔۔۔؟ ؟ مسسز مجید ارانیہ کے پاس آئی تھی کیونکہ دو دن بعد نکاح تھا اور وہ چاہتی تھی کے ایک دفع پھر سے اس کی رضامندی جان لے ۔
جی آنی میں خوش ہوں ۔۔۔۔ارانیہ ان کے ہاتھوں کو تھام کر پیار بھرے لہجے میں بولی۔
میرا بچہ ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔۔۔۔وہ اسے پیار سے دیکھتے ہوئے بولی ۔
ارانیہ اگر تم چاہو تو تم اپنی ماما کو کال کر لو ۔۔۔۔۔۔۔ان کو بتا دو تم اپنی نئی لائف سٹارٹ کرنے والی ہو ۔۔۔۔۔۔مسسز مجید اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی ۔
کون ماما آنی ۔۔۔۔؟؟ کون سی ماما جس کو معلوم ہی نہیں کے ان کی کوئی بیٹی بھی ہے ۔، ۔۔۔۔نہیں آنی میری کوئی ماما نہیں ۔۔۔۔۔ارانیہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ۔
آپ لوگوں کے سوائے میرا کوئی بھی نہیں ہے کوئی بھی نہیں، ۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ گال پر بہتے ہوئے آنسو کو صاف کرتے ہوئے مسکرا کر بولی ۔
جانتی ہوں بچے ۔ پر پھر بھی اگر تم چاہو تو اپنی سب سے بڑی خوشی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں آنی آپ ہیں انکل ہے عالیان بھائی ہیں سب ہیں تو ۔۔۔۔پھر مجھے کسی کی ضرورت نہیں آپ سب ہی میرے لیے ہو ۔۔۔۔۔۔ارانیہ نے اس کے ہاتھوں کو تھام کر پیار کرتے ہوئے کہا تو مسسز مجید نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔
ہمیشہ خوش رہو اللہ تمہیں دنیا کی ہر خوشی دے ہر خوشی۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کے ماتھے پر پیار دے کر بولی ۔
ماما جانی ماما ۔۔۔۔تب ہی سعد کی باہر سے آواز آئی رہی تھی ۔
یہ لڑکا بھی نہ اب پتہ نہیں کیا بھول گیا ہے ۔۔۔۔ابھی مسسز مجید بولتے ہوئے باہر جاتی سعد اندر داخل ہو گیا ۔
سعد تم اندر داخل نہیں ہو سکتے میں نے کہا تھا تمہارا پردہ ہے ارانیہ سے ۔۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو ارانیہ بھی ہنس دی ۔
کیسا پردہ ماما یہ پرانی باتیں ہیں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔کوئی پردہ نہیں چار دن سے میں نے اسے دیکھا نہیں ۔۔۔۔۔سعد اپنی ماں کے پیچھے کھڑی ارانیہ کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا تھا ۔
جس کو مسسز مجید نے بالکل اپنے پیچھے کر کے چھپا لیا تھا ۔۔۔۔سعد اسے دیکھ بھی نہیں پا رہا تھا ۔
بالکل نہیں چلو نکلو باہر ۔۔۔۔مسسز مجید اس کا ہاتھ تھام کر اسے کمرے سے باہر لے آئی اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا ۔
ارانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔سعد کی محبت کے رنگ تھے اس کے چہرے پر ۔






آج گھر میں مسسز مجید نے لڑکیوں کی ڈولکی رکھی تھی ارانیہ کی دوست اور کچھ رشتے دار سب ہی وہاں آئے تھے ۔
ایک کمرے میں سب ہی بیٹھے ۔۔۔۔تھے اور ایک میں لڑکیاں تھی جو ڈولکی اور ساتھ ساتھ گانے اور مہندی بھی لگا رہی تھی ۔
مسسز مجید کے کہنے پر سب نے ارانیہ کو بھی پکڑ کر بیٹھایا ہواتھا اور اسے بھی مہندی لگا رہی تھی ۔
ارانیہ باجی آپ کی مہندی پر نام بھی لکھو ۔۔۔۔؟؟ مہندی لگانے والی لڑکی بولی تھی ۔
جی ۔۔۔۔ارانیہ شرماتے ہوئے بولی تھی اس کا چہرہ شرم سے لال ہو رہا تھا سب ہی اسے سعد کے نام سے بار بار چڑ رہے تھے ۔۔۔۔اس کے چہرے پر سعد کے نام سے رنگ کھیلنے لگتے ۔
باجی نام کیا لکھنا ہے ۔۔۔۔۔مہندی لگانے والی لڑکی جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے بولی ۔
تم جانتی ہو ۔۔۔۔ارانیہ نے اسے گھوری سے نوازا تھا ۔۔۔۔سب لڑکیاں ہنس دی ۔
تم سب ہنسو مت ورنہ تم لوگوں کی دفع بھی میں ایسے کروں گی ۔۔۔۔۔۔ارانیہ ان کو دیکھتے ہوئے بولی تو سب نے ہنستے ہوئے نہ کہا اور پھر سے ڈولکی بجانے لگی ۔
باجی نام اپنے منہ سے لے گی تو تب لکھوں گی ۔۔۔۔۔۔مہندی لگانے والی لڑکی بولی ۔
لکھو دو تم۔۔۔میں نہیں بولنے لگی ۔۔
سوچ لے باجی میں نہیں لکھنا پھر ۔۔۔۔۔
تم بہت بدتمیز ہو ۔۔۔۔۔یہاں سعد لکھنا ۔۔۔۔ارانیہ بولی تو وہ لڑکی ہنستے ہوئے سر ہلا گئی اور اس کے ہاتھ میں بنی مہندی پر سعد کا نام لکھا ۔
اس نے ارانیہ کے دونوں ہاتھوں پر مہندی لگائی تھی ۔
رات گئے تک سب نے بہت انجوائے کیا ۔۔۔۔لڑکیاں ڈولکی بجاتی رہی پر کیسی بھی لڑکے کو اندر آنے کی اجازت نہیں تھی ۔
سعد کی لاکھوں کوششوں پر بھی وہ ارانیہ سے نہیں مل پایا ۔
میری بھی ضد ہے آج تو میں ضرور مل کر رہوں گا ۔۔۔تمہاری مہندی کو میں چھونا چاہتا ہوں ۔۔اپنے ہاتھوں سے میری جاناں ۔۔۔۔۔سعد بولتے ہوئے دل میں سوچ کر رہا گیا ۔
رات گئے جب سب اپنے کمرے میں گئے تو سعد تب باہر نکلتے ہوئے اپنی بالکنی سے کھود کر اس کی بالکنی میں پہنچ گیا ۔
جب اس کے کمرے کی بالکنی کا دروازہ کھولنا چاہا تو وہ دروازہ بند تھا ۔
شٹ میڈیم بہت سیف پلے کرتی ہیں ۔۔۔۔دروازے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا ۔
کھڑکی ۔۔۔کچھ سوچتے ہوئے جب کھڑکی کی طرف گیا تو دیکھ کر خوش ہو گیا کھڑکی کا دروازہ کھولا ہوا تھا ۔
یہ ہوئی نہ بات سعد ۔۔۔۔۔بولتے ہوئے کمرے میں داخل ہو گیا ۔۔۔جب سامنے دیکھا تو ارانیہ دوسری طرف منہ موڑ سوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔دونوں ہاتھوں کو اس طرح رکھا ہوا تھا کے مہندی خراب نہ ہو ۔۔
سعد آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے پاس آیا ۔۔۔۔۔۔اور اس کے پاس اس کے بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔اس کے چہرے پر کچھ بالوں کی لیٹ تھی جو بار بار اس کے چہرے پر آ رہی تھی جس کو وہ بازو سے پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
سعد نے مسکراتے ہوئے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے بالوں کو کان کے پیچھے کیا ۔
بہت خوبصورت مہندی ہے ۔۔۔۔سعد نے اس کے پیچھے کئے ہاتھوں کو تھام کر کہا تھا ہاتھوں کو تھامتے ہوئے ارانیہ کو جھٹکا لگا تھا جس کی وجہ سے وہ اُٹھ گئی ۔
ابھی تھوڑی سی آنکھوں کو کھول کر دیکھتی ۔۔۔۔سعد کو سامنے اپنے ہاتھ تھامے دیکھ کر ایک جھٹکے سے بیٹھ گئی ۔
سعد آپ یہاں اس وقت کوئی کام تھا ۔۔۔۔۔. ارانیہ خوفزدہ سی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ہاتھوں کو کھنچ لیا تھا ارانیہ نے ۔
مہندی دیکھنے آیا تھا تمہاری تمہیں دیکھنا آیا تھا میں ۔۔۔۔۔۔۔میری جاناں کیسی لگ رہی ہے وہ ہی دیکھ رہا تھا ۔
سعد جائے یہاں سے ۔۔۔۔۔ کوئی دیکھ لے گا ۔۔۔ ارانیہ ڈرتے ڈرتے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ہونے والی بیوی ہو تم میری اور میں اس وقت صرف تمہیں دیکھنے تمہاری مہندی دیکھنے اور تم سے باتیں کرنے آیا ہوں ۔۔۔سعد کے آگے بڑھتے ہوئے اس کے ہاتھوں کو تھام لیا ۔
سعد پلیز میں آپ کی ہونے والی بیوی ہوں ابھی ہوئی نہیں جائے یہاں سے ۔۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے یہ اچھا نہیں ہے ہم دونوں ایک ساتھ رات کے اس پہر اچھا نہیں ہے سعد ۔۔۔۔۔ارانیہ خوفزدہ سی اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔
ارانیہ ۔۔۔۔۔۔
سعد پلیز جائے یہاں سے ۔۔۔۔ارانیہ بیڈ سے کھڑی ہو کر سائیڈ پر کھڑی ہو گئی تھی ۔
نہیں جانا میں نے یہاں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔سعد بھی کھڑا ہو کر اس کی طرف بڑھ ۔
سعد ہم دونوں اکیلے اس کمرے میں پلیز جائے ۔۔۔۔۔ارانیہ دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
تم بہت چھوٹی سی تھی تو اس گھر میں آئی تھی ارانیہ آج تک تمہیں میرے کون سے عمل سے لگا کے میں تمہارے ساتھ کچھ غلط کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔آج تک تم اکیلی بھی تھی میرے ساتھ اس گھر میں پر پھر بھی میں نے کچھ بھی ایسا کرنے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔تو آج تمہیں کیوں لگ رہا ہے ایسا۔۔۔۔۔۔۔سعد اس کے بالکل قریب کھڑا اس کے چہرے پر آئی لیٹ کو پیچھے کرنے لگا ۔
میں تو بس ۔۔۔۔
کیا تم بس۔۔۔؟ ؟
سعد پلیز ۔۔۔۔۔. سعد اس کی طرف دیکھ کر غصے سے جانے لگا ۔
مس ارانیہ میں جسم کا بھوکا نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میں بس محبت کا اظہار کرنے اور تمہیں اپنی محبت کا مان دینا چاہتا تھا ۔
سعد ۔۔۔۔
اب کیا ہے ۔۔۔ارانیہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
یہ آنی انکل کی تربیت ہے جو میں آپ کو اس وقت یہاں سے جانے کو کہہ رہیں ہوں ۔۔۔ورنہ یہ لوگ ہی انی انکل کی تربیت پر سوال کریں گے ۔۔۔۔ ارانیہ بولتے ہوئے نظروں کو جھکا گئ۔
سعد کا چہرا دوسری طرف تھا پر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔
کل ملنے آؤں گا پورے حق سے، ۔۔۔۔۔سعد بولتے ہوئے چلا گیا ۔
ارانیہ نے اس کے جاتے ہی گہرا سانس لیا تھا اور جلدی سے واپس اپنے بلینکیٹ میں گھس گئی ۔
پاگل ۔۔۔۔اتنی نفرت اور اب اتنی محبت عجیب ہی ہیں سعد بھی ۔۔۔۔۔۔ارانیہ مسکراتے ہوئے بول کر پھر سے سونے کے لیے آنکھوں کو بند کر گئی ۔
