Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 19)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 19)
Black Monster by Ayn Khan
کون ہو تم لوگ ۔۔۔مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہو کیوں ۔۔۔۔۔وہ پیچھے ہوتے ہوئے رو رہی تھی ۔
سامنے تین آدمی کھڑے تھے اور ایک آدمی سکون سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا جیسے یہ سب دیکھ کر انجوائے کر رہا ہو ۔
وہ تینوں آدمی لڑکی کی طرف بڑھے تھے ۔۔۔۔۔۔
تم ارانیہ ہو سعد کی بیوی ۔۔۔۔آج تمہاری چیخیں پورے اس گھر میں گھونجے گی ۔۔۔۔اور وہ سعد وہاں تڑپے گا ۔۔اس کی تڑپ دیکھنا چاہتے ہیں ہم۔۔. تم تو صرف موحرا ہو اس سے بدلہ لینے کا ۔۔۔۔ایک لڑکا ارانیہ کے پاس بیٹھا تھا ۔۔
یار یہ تو بہت خوبصورت ہے ۔۔۔۔۔۔
چھوڑیں مجھے ۔۔ہاتھ مت لگائے ۔۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے چیخی تھی ۔
ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔۔۔وہ تینوں ہنسے تھے ۔۔۔۔۔اور ایک لڑکے کے ہاتھ میں کیمرہ تھا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سعد کو ایک یو ایس بی وصول ہوئی تھی ۔۔۔وہ اسے لے کر اندر ایا ۔
کیا ہوا سعد کون تھا باہر ۔۔۔؟ ؟مسسز مجید اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔
ماما کسی نے یہ دی ہے اور اوپر لکھا ہے ارانیہ کا پیغام ۔۔۔۔سعد یو ایس بی نکال کر ایک پیک ان کی طرف کرتے ہوئے بولا ۔۔
کیا ہے اس میں لگاؤ ۔۔۔مجید چوہدری بولے تھے دونوں ارانیہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گے تھے پر اس کا کوئی بھی پتہ نہیں چل رہا تھا ۔۔پولیس کو بھی کوئی سراغ نہیں ملا ۔
سعد نے یو ایس بی سامنے ٹی وی پر لگائی تھی ۔۔۔۔۔۔
چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔۔چھوڑیں ۔۔۔۔ارانیہ کی درد بھری چیخیں ٹی وی پر چلنے لگی ۔۔۔۔سامنے ارانیہ کا وجود تھا جو بے لباس تھا ۔۔۔اور وہ لڑکے اس پر ہنس رہے تھے ۔۔۔۔اور ایک لڑکا اس پر مکمل طور پر حاوی تھا ۔۔۔اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ عارب تھا ۔
خدا کے لیے مجھے چھوڑ دیں چھوڑ دیں مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ آنکھوں کو بند کئے رو رہی تھی ہاتھ ان کے آگے جوڑ رکھے تھے ۔
مجید چوہدری نے درد سے آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔
سعد کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑے رہنا مشکل ہو چکا تھا ۔
مسسز مجید یہ سب دیکھ کر وہاں گر سی گئی تھی ۔
سامنے چلتی سکرین پر ۔۔۔ارانیہ کی چیخوں کی آوازیں تھی ۔۔۔۔۔سعد کے اندر حوصلہ جیسے ختم ہو رہا تھا وہ پاگلوں کی طرح بے سد ہوتے ہوئے زمین پر بیٹھتا چلا گیا ۔
ایسا نہیں ہو سکتا نہیں ہو سکتا ۔۔۔سعد نے ٹی وی پر چلتی ارانیہ ک چیخوں اور گڑگڑاہٹ کو سنتے ہوئے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے ۔
تب ہی سعد کا سیل رنگ ہوا ۔۔۔۔سعد کو کوئی ہواش نہیں تھا ۔۔۔۔۔سکرین پر صرف لائٹ کی روشنی جلتی ہوئی نظر آ رہی تھی اور اس میں ارانیہ پر ہوتے ظلم کی آوازیں ۔۔۔
سعد نے سامنے ساتھ پڑے واس کو اُٹھا کر سامنے ٹی وی پر دے مارا تھا ۔
سعد کے اس طرح کرنے سے سب ہی ہوش میں آئے تھے ۔۔۔
سعد کا بجتا سیل دیکھ کر مجید چوہدری نے ہمت کرتے ہوئے سیل اُٹھایا ۔۔
ہیلو ۔۔۔
اگلے انسان کی بات سنتے ہوئے مجید چوہدری نے سیل پر سپیکر کو اون کیا ۔
کیسا لگا میرا تحفہ سعد چوہدری ۔۔۔۔۔۔ یار کل سے تیری بیوی ہمارے پاس ہے ۔۔۔. اور بچاری ابھی بے ہوش ہوئی ہے ۔۔۔۔
پر ہے کمال کی ۔۔۔
میں تمہیں جان سے مار دوں گا ۔۔۔سنا تم نے ۔۔۔۔سعد فون کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے چیخا تھا ۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا پہلے اپنی بیوی کو ڈھونڈ لے پھر ہمیں بھی جان سے مار دینا کیوں کہ اب وہ اس قابل تو رہی نہیں کے ۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا سمجھ رہا ہے نہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
بکواس بند کر اپنی اب اگر اسے دوبارہ تکلیف دی تو جان سے مار دوں گا سوچنا بھی مت اسے تکلیف دینے کی ۔۔۔۔سعد ہمت کرتے ہوئے چیخا تھا ۔
اچھا تو پھر یہ سن ۔۔۔۔۔ یہ میرے پاس چاکو ہے اور اس سے میں تیری بیوی کو مارو گا ۔۔۔۔۔اتنا کہنا تھا کے دوسری طرف ارانیہ کی چیخیں پھر سے سعد کے کان میں گھونجی تھی ۔۔
سعد نے درد سے آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔۔
پلیز پلیز اسے کچھ مت کرو مجھ سے بدلہ لینا چاہتے ہو نہ مجھ سے لے لو میری ارانیہ کو کچھ مت کرو ۔۔خدا کا واسطہ ہے تمہیں ۔۔۔۔۔سعد بے بسی لیے بولا ۔
ہاہاہاہاہاہا خدا کے واسطے تمہاری بیوی نے بھی بہت دئے تھے پر بچاری ۔۔پر رحم نہیں کھایا ہم نے ۔۔۔۔
بکواس بند کر خبر دار جو میری ارانیہ کو کچھ کہا ہو تو ۔
آواز نیچے رکھ ورنہ اور بھی برا کروں گا اس کے ساتھ ۔۔۔۔
پلیز چھوڑ دو مت کرو ایسا مجھ سے بدلہ لو میں پوری یونیورسٹی کے سامنے معافی مانگ لوں گا میری ارانیہ کو چھوڑ دو ۔۔۔۔سعد کی بے بسی انتہا پر تھی پیچھے ارانیہ کے رونے اور سسکنے کی آوازیں سعد کو پاگل کر رہی تھی ۔
مجھے مار دو مار دو مجھے ۔۔۔۔۔
سنا تمہاری بیوی اپنی اتنی عزت افزائی پر تو مرنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔۔کیا کرو مار دوں یا چھوڑ دوں ۔۔۔۔
پلیز کچھ مت کرنا میں ہاتھ جوڑتا ہوں تم لوگوں کے آگے ۔۔۔۔۔۔
مسسز مجید اور مجید چوہدری بس چپ سے سن رہے تھے ان کو تو چپی لگ چکی تھی ۔
پلیز خدا لے لیے سعد کی طرف سے میں معافی مانگی ہوں میری بیٹی کو چھوڑ دو ۔۔۔۔
سعد نے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا جو خود روتے ہوئے ہاتھ جوڑے ہوئے تھی ۔
ہاہاہاہاہاہا بہت اچھا لگ رہا ہے بہت اچھا ۔۔۔۔اب انجوائے منٹ کا ٹائم ہوتا ہے ۔۔۔۔
یاد رکھنا سعد تمہاری بیوی کو تمہارے قابل نہیں چھوڑنے والا ۔۔۔۔۔
پلیز خدا کے لیے میں معافی مانگتا ہوں ارانیہ کو کچھ مت کہو ۔۔. سعد روتے ہوئے چیخا تھا پر دوسری طرف شاید پھر سے وہ اپنے بدلے میں ارانیہ کو ہواس کا نشانہ بنانے لگ گے تھے ۔
میں جان سے مار دوں گا تم لوگوں کا تڑپ تڑپ کے مرو گے جیسے میری ارانیہ رو رہی ہے اسی طرح تڑپو کے گے تم لوگ ۔۔۔سعد چیخا تھا پر دوسری طرف جیسے کوئی سن نہ رہا ہو ۔
موبائل میں پھر سے ارانیہ کی درد بھری چیخیں گڑگڑاہٹ گھونجنے لگی ۔
بابا ارانیہ ۔۔۔بابا اسے بچا لے پلیز کچھ کریں ۔۔۔۔۔سعد وہ سب سن کر پاگل ہو رہا تھا اب تو فون کب کا بند ہو کا تھا ۔
کون ہے یہ ۔۔۔ہمیں پولیس اسٹیشن جانا ہو گا ۔۔۔مجید چوہدری اُٹھے تھے ورنہ اس منظر کی وجہ سے تو ان کی ہمت جیسے ختم سی سی ہو گئی تھی ۔
یہ ویڈیو ہم پولیس کو دکھائے گئے ۔۔۔
نہیں بابا بالکل بھی نہیں ہم یہ سب دکھا کر ارانیہ کو سب کے سامنے بے لباس کر دیں گے ۔۔۔سعد نے نہ میں سر ہلایا ۔
پر بچے اس طرح تو۔۔۔
بس بابا ایک دفع بہت برا کر چکے ہیں اسے جلدی سے جلدی ڈھونڈنے پر ویڈیو نہیں ۔۔۔۔سعد نے نہ میں سر ہلایا تھا ۔۔
دونوں وہاں سے نکلے تھے ۔۔۔سعد نہیں جانتا تھا اب کیا کرنا ہے اسے اور کیا نہیں ۔۔۔
مسسز مجید سے تو کچھ بھی بولی نہیں جا رہا تھا ارانیہ کی حالت دیکھ کر وہ بالکل چپ سی کر گئی تھی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
دو دن ہو چکے تھے اس بات کو پر ارانیہ کا کچھ پتہ معلوم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔
پولیس نے عارب کو بہت تلاش کیا پر اس کا کوئی بھی پتہ معلوم نہیں ہو رہا تھا اور اس کی پہنچ بھی بہت زیادہ تھی ۔۔۔
سعد اپنی ہر مکمل کوشش کر چکا تھا پر کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا ۔
گھر میں سوگ کا سامنا تھا ۔۔۔
ماما دعا کریں میری ارانیہ ٹھیک ہو یہ سب خواب ہو اور میں آنکھیں کھولوں اور پھر سے سب پہلے جیسا ہو جائے ۔۔۔۔سعد مسسز مجید کی گود میں سر رکھ کر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔آنکھوں سے کہیں آنسو بہہ گے تھے ۔
مسسز مجید کی آنکھیں خود نم سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
دعا کرو سعد وہ مل جائے اور اسے سنبھالنا سب سے مشکل ہے جو کچھ اس کے ساتھ ہو چکا ہے اس کے بعد تو ۔۔۔۔۔مسسز مجید بولتے چپ سی کر گئی تھی ۔
ماما میں ایسے سنبھال لوں گا دور لے جاؤں گا یہاں سے بس وہ مل جائے میری ارانیہ مل جائے مجھ سے ۔۔۔۔۔سعد مسسز مجید کی طرف رُخ کر کے روتے ہوئے بولا ۔
مل جائے گی ۔۔۔۔میری ارانیہ کی قسمت ۔۔۔۔۔مسسز مجید بولتے ہوئے رو دی تھی ۔۔۔
سعد کا فون رنگ ہوا ۔۔۔سعد نے فون کو دیکھتے ہوئے جلدی سے فون اُٹھایا تھا ۔
ہیلو کچھ پتہ چلا ارانیہ کا ۔۔۔. سعد نے فون اُٹھا کر کہا کیوں کہ دوسری طرف پولیس کی کال تھی ۔
سر ایک لاش ملی ہے سڑک پر اور اس کا خولیا بھی ویسا ہی ہے جیسا آپ نے بتایا تھا ۔۔۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔
سر آپ آ جائے وقت نہیں ہے ہمارے پاس اڈریس بھیج رہے ہیں آ جائے جلدی سے ۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف کی بات ان کر سعد کو اپنے کا سائے سائے کرتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔
کیا ہوا سعد ۔۔۔؟؟
ماما وہ ۔۔۔سعد اٹکا ۔
کیا وہ سعد ۔۔۔۔؟؟
ماما کوئی ڈیڈ باڈی ملی ہے ۔۔۔. سعد نے اپنا حلق تر کرتے ہوئے اٹک کر کہا ۔
وہ ارانیہ نہیں ہو گی۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو سعد نے ان کی طرف دیکھا ۔
جی وہ ارانیہ نہیں وہ سکتی ۔۔۔سعد بولتے ہوئے جلدی سے اُٹھا تھا ۔۔۔۔اور کار کی کیز کے کر جلدی سے باہر بھاگا ۔۔۔
یا اللہ وہ ارانیہ نہ ہو ۔۔ سعد گاڑی میں بیٹھا کر دل میں دعا گو تھا ۔۔۔
گاڑی کی رفتار تیز کرتے ہوئے جلدی سے پہچنا چاہتا تھا ۔۔۔
وہ ضبط کی انتہا پر تھا ۔۔۔۔آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔۔
کاش وہ تم نہ ہو کاش ۔۔۔۔۔گاڑی کی رفتار تیز کرتے ہوئے دل میں بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔ پولیس کی بتائی جگہ پر پہنچ کر جیسے ہی وہ گاڑی سے اتارا اس کے دل کی رفتار حد سے تیز تھی ۔
اس کے کان میں ارانیہ کے بولے گئے لفظ گھونجے تھے۔۔۔۔۔
سڈ۔۔۔۔
کون سا رنگ پسند ہے تمہیں ۔۔۔۔؟
Black…
مجھے کالے رنگ کے پھول پسند ہیں ۔۔۔۔۔
مجھے کالا رنگ خوف میں مبتلا کرتا ہے سیڈ۔۔۔
اس کے لہجے میں عجیب سا خوف تھا ۔
پر میرا روم، میرے روم میں پڑھی ہر چیز
Black
ہے۔۔۔۔۔جاناں ۔۔۔
میرے لیے اس رنگ کو چھوڑ نہیں سکتے تم ۔۔۔۔؟؟ اس کا لہجہ التجائیہ تھا ۔
نو مائے لووووو ۔۔۔۔۔۔ہاہاہاہا ہااس کا انداز مزاق اُڑانے والا تھا ۔۔۔اس کے قہقہے میں سچائی تھی ۔
ایک دن میں جب اس دنیا سے گی تو اسی رنگ میں جاؤں گی ۔۔۔۔صرف تمہارے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
اور آج اس کی لاش سڑک پر پڑھی تھی اور اس کے کپڑوں کا رنگ کالا تھا ۔۔۔
Black..
سعد پاگلوں کی طرح بالوں کو نوچتے ہوئے زمین پر بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔۔۔سامنے پڑھا وجود کوئی اور نہیں اس کی محبت اس کی بیوی تھی ۔۔۔۔۔
آ آ ا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعد کی دل دہلا دینے والی چیخیں پوری سڑک پر گھونجی تھی روتے ہوئے وہ کوئی پاگل دیوانہ ہی لگا رہا تھا ۔۔۔
مجید چوہدری بھی وہاں پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔ارانیہ کی لاش پر جلدی سے کپڑا دیا گیا تھا ۔۔۔۔اور اسے مجید چوہدری نے ہی کنفرم کیا تھا اور اسے وہاں سے اُٹھا کر لے جایا گیا ۔
سعد وہی زمین پر بیٹھا روتے ہوئے کوئی پاگل ہی لگ رہا تھا ۔
مجید چوہدری میں خود اتنا حوصلہ نہیں تھا کے وہ سعد کو سنبھال سکے ۔۔۔۔۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
ماما ارانیہ ایسے کیسے جا سکتی ہے ہمیں چھوڑ کر ۔۔۔۔۔۔سعد سامنے پڑھے ارانیہ کے وجود کو دیکھتے ہوئے پاگل سا ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
ابھی ابھی ایمبولینس سے ارانیہ کی باڈی کو اتار کر نیچے رکھا گیا تھا ۔
پولیس کی کارروائی پوری ہونے کے بعد اب ارانیہ کی لاش کو گھر لایا گیا تھا عالیان اور صالحہ بھی وہاں پہنچ چکے تھے ۔۔۔
مسٹر سعد ہمیں آپ کے سگنچر چاہے ۔۔۔۔پولیس بھی وہاں آئی تھی وہ سعد سے بولی جس کو اپنا آپ سنبھالنا مشکل سا لگ رہا تھا ۔
سعد نے ان کی طرف دیکھا تھا اور سامنے پڑی لاش کی طرف ۔۔۔
آپ کی بیوی کے ساتھ ریپ ہوا ہے ۔۔۔۔اور ان کے جسم پر جگہ جگہ جلنے اور کٹ کے نشانات ہیں ۔۔۔۔اور ان کے دل پر وار کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی ۔۔۔۔اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے ۔۔۔
یہ سب سن کر سعد کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔سعد بولا تو اسے خود کی آواز دور سے آتی محسوس ہوئی ۔
ان کی باڈی کو کاٹ کر ان کے دل کے مقام پر وار کیا گیا تھا ۔۔۔اور یہ سب ہوش میں ہوا ہے ۔۔۔۔۔یہ سب سن کر سعد نے ضبط سے آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔
اور ۔۔۔۔۔۔
آپ کی بیوی کے ساتھ ایک دفع نہیں بہت دفع زیادتی کی گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سعد کچھ نہیں بولا تھا ۔۔۔اور چپ چاپ سائن کر دیا ۔۔۔
اندر سے سعد کو رونے اور چیخنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی ارانیہ کی لاش کو اندر لے جایا گیا ۔۔۔سعد اپنی ہی سوچ میں سن سا وہاں کھڑا تھا اس کا دماغ سائے سائے کر رہا تھا ۔
سعد آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس طرف بڑھ رہا تھا جہاں ارانیہ تھی ۔۔۔
یہ لڑکا سبز قدم ہے ۔۔۔۔سعد کو پیچھے سے کسی کی آواز سنائی دی ۔۔۔
سعد کے چہرے پر اذیت بھری مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔
سچ میں ارانیہ سچ میں میں سبز قدم ہوں آپ کو میری محبت کھا گئی کھا گئی آپ کو آپ کو میرا ساتھ برباد کر گیا ۔۔۔۔
سعد سامنے پڑھے وجود کو دیکھتے ہوئے ہنس کر بولا ۔۔
وہاں بیٹھی مسسز مجید یا صالحہ کسی کو بھی ہوش نہیں تھا ارانیہ کی لاش کو سب کے بے حد رولا دیا ۔
میں سعد چوہدری ۔۔۔۔۔۔آپ کے ہر دکھ ہر درد ہر تکلیف کا بدلہ سود سمیت لوں گا ۔۔۔۔۔۔وہ ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بول کر اس کے ماتھے پر آہستہ سے لب رکھتے ہوئے پیچھے ہٹا تھا اور قدم پیچھے لیتے ہوئے وہاں سے نکلا۔
کہاں جا رہے ہو سعد ۔۔۔؟؟عالیان نے اسے روکا تھا ۔
بھائی ارانیہ کی آخری آرام گاہ کو دیکھنے اپنے ہاتھوں سے اسے ۔۔۔۔سعد اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولتے بولتے پھر چپ کر گیا ۔۔
سعد ۔۔۔۔عالیان بولتے ہوئے اس کے گلے لگا تھا ۔۔
بھائی چھوڑ گئی مجھے اتنی بڑی سزا دے گئی اپنے سعد کو چھوڑ گئی کبھی نہ واپس آنے کے لیے ۔۔۔۔
بھائی مجھ سے ناراض تھی وہ ۔۔۔۔مانی بھی نہیں اور چھوڑ کر چلی گئی ۔۔۔جس دل میں میں تھا انہوں نے اس دل پر وار کیا ۔۔۔۔
میں کیسے کیسے اتاروں گا اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں کیسے ۔۔۔۔۔۔سعد بچوں کی طرح روتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔
بھائی اسے کہے آ جائے کاش اس دن میں نہ لے کر جاتا اسے۔۔ڈانٹ دیتا زبردستی کرتا پر نہ جانے دیتے ۔۔۔۔بھائی مجھے پتہ ہوتا تو میں اسے چھپا لیتا سب سے ۔۔۔
سعد رو رہا تھا ۔۔۔۔عالیان کے لیے اسے سنبھال پانا مشکل ہو رہا تھا ۔
بھائی اس کی حفاظت کا دعوا کیا تھا نہیں کر پایا اس کی حفاظت ۔۔۔سب نے اسے بے لباس کر ایک بار نہیں بار بار ۔۔۔۔اور میں ۔۔۔سعد رو رہا تھا ۔
میں نے بہت تکلیف دی اسے ۔۔اور آج اس نے سب بدلے پورے کر لیے سب بدلے ایسے پورے کیے ہیں کہ مجھے اکیلا چھوڑ گئی کہتی تھی تمہارے پسند کے رنگ میں اس دنیا سے جاؤ گی ۔۔۔۔
اور دیکھا بھائی اس کے کپڑوں کا رنگ ۔۔۔۔۔بھائی وہ وعدے کی پکی نکلی ۔۔۔ میں ہی چھوٹا تھا ۔۔۔۔
میں نے اسے اتنی تکلیف دی ہے کے اب وہ کبھی بھی میرے پاس نہیں آئے گی کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔۔
سعد عالیان کے ساتھ لگا اتنا رویا کے عالیان خود بھی اس کے ساتھ رو دیا ۔
