Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Monster (Episode 20)

Black Monster by Ayn Khan

ارانیہ کی موت کو پورے دو ماہ ہو چکے تھے سعد اپنے کمرے کا ہو کر رہا گیا تھا ۔۔۔پر پل ہر لمحہ وہ وقت یاد آتا جو اس کے ساتھ گزارا تھا ۔۔۔

ارانیہ کے ریپ کیس کو بالکل ختم کر دیا گیا تھا عارب نے بہت چلاکی سے سب ختم کروا لیا تھا ۔۔۔

اپنی پاور کے دم پر اب صرف دو ماہ کے اندر اندر سب ختم ہو چکا تھا ۔۔۔

سعد چپ سا ابھی بھی وہی زمین پر بیٹھا چھت کو گھور رہا تھا ۔۔۔

چھوٹا سا پیپی سعد کے پاس آیا ۔۔۔۔اور اس کے پاؤں میں بیٹھ کر اپنا سر ہلا کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

تمہیں بھی اس کی یاد آ رہی ہے ۔۔۔۔۔سعد اس کی طرف دیکھتے ہوئے نم لہجے میں بولا ۔۔

مجھے بھی بہت یاد آتی ہے اس کی ۔۔۔پہلے یہ تھا وہ مل جائے گی پر اب کہاں سے لے کر آئے گے اسے کہاں سے ۔۔۔۔۔اب تو نہیں آئے گی کبھی بھی نہیں آ سکتی ۔۔۔۔

ناراض ہو گئی مجھ سے اس دفع تو منانے کا کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا اس نے ۔۔۔۔۔سعد اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے بولا لہجہ نم تھا ۔

پر فکر مت کرو ہم دونوں اس کا بدلہ لے گے مل کر ۔۔۔۔ہر اس انسان کو زندہ درگور کر دوں گا جس جس نے میری ارانیہ کو تکلیف دی ۔۔۔۔۔سعد کی آنکھیں لال انگارا ہو رہی تھی ۔۔

آنکھوں میں عجیب سا جنون تھا ۔۔۔

سب سے پہلا نمبر عارب کا ہے ۔۔۔۔اسے تو میں ایسی درد ناک موت دوں گا کے وہ جان ہی نہیں پائے گا کے میں کون ہوں ۔۔۔

میں اپنی ارانیہ کا سعد اپنی پری کا مونسٹر ہوں ۔۔۔بلیک مونسٹر ۔۔۔۔۔سعد آنکھوں میں نفرت اور جنون لیے بولا تھا ۔

چہرے پر زہریلی مسکراہٹ تھی ۔

آج رات ہمارے پہلے قاتل کی موت ہو گی اور پھر ہو گی خون کی خولی کی شروعات ۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ایک کو ڈھونڈ کر بدلہ لوں گا ایک ایک کو ڈھونڈ کر۔۔۔۔۔۔۔

سعد اسے پیارے کرتے ہوئے بولا تھا آنکھیں سے ایک بھاگی آنسو بہہ نکلا تھا جو ارانیہ کی اذیت اور تکلیف پر تھا ۔

جو سعد کی محبت عشق اور بیوی کی موت پر تھا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

بلیک ہڈی پہین کر اپنی ہر چیز کو سعد نے تیار کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کسی قانون کی مدد نہیں لوں گا میں ارانیہ کا کیس خود لڑو گا اس کے ہر مجرم کو سزا ملے گی ضرور ملے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعد خود سے بولتے ہوئے اپنا بیگ پکڑ کر کھڑکی کے راستے باہر جانے ہی لگا تھا کے اسے اپنے پاس سے پیپی کی آواز آئی ۔

سعد مسکرایا تھا ۔۔اور اسے پکڑا کر پیار کرتے ہوئے اپنے ساتھ لگ لیا ۔

تم بھی میرے ساتھ چلو گے ۔۔۔؟ چلو ۔۔سعد اپنے ساتھ لگائے ہی کھڑکی سے باہر نکلا تھا اور ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے دیوار سے کھودا کر باہر چلا گیا ۔

سعد نے اس سب میں کسی کی بھی مدد نہیں لی تھی ۔۔۔اکیلا ہی اس معاملے سے نپٹنا چاہتا تھا ۔

آج تمہارے پہلے مجرم کو سزا ملے گی سعد خود سے ہی بات کرتے ہوئے مسکرایا تھا اور پھر اپنی منزل کی طرف نکل گیا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

پارٹی اپنے عروج پر تھی ۔۔۔ پارٹی میں موجود ہر شخص نشے میں مدہوش تھا ۔۔۔

آج عارب نے پارٹی رکھی تھی کل اس کی شادی تھی اور آج اسی لیے اس نے پارٹی رکھی تھی تاکہ انجوائے کر سکے ۔

اس کے دوست اور وہ کچھ لڑکیاں وہاں موجود تھی سب اپنے ہوش میں نہیں تھے ۔۔۔پارٹی فارم ہاؤس میں تھی ۔

عارب تُو بہت تیز نکلا ۔۔۔۔۔۔تُو نے اس سے اچھا بدلہ لیا ۔۔۔۔عارب کا دوست اس کے ساتھ کھڑا گلاس میں وائن پیتے ہوئے بولا ۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ہاہا عارب ہوں میں اپنی بے عزتی کا بدلہ تو لینا بنتا تھا ۔۔۔عارب ہاتھ میں پکڑے گلاس کو ایک ہی گھونٹ میں پیتے ہوئے ہنس دیا ۔

پر تھی وہ لڑکی پیاری ۔۔۔۔ مجھے بہت مزا آیا اور سعد کی تڑپ دیکھ کر تو دل کو سکون مل گیا میرے ۔۔۔۔۔ہاہاہاہا ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ عارب نے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو نیچے زمین پر پھینکتے ہوئے ہنس کر کہا ۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا چلو پارٹی انجوائے کرو پھر اب ۔۔۔

ہاں کل کو شادی ہے تیری اور پھر تُو بیوی کا غلام ۔۔۔۔عارب کا دوست ہنس ۔

میں کسی کا غلام نہیں بنو گا ۔۔۔میں اپنی مرضی کا مالک ہوں بس اپنی مرضی کا ۔۔۔. عارب اس کی طرف دیکھتے ہوئے غصے اور سرد لہجے میں بولتے ہوئے اسے پیچھے دھکا دیتے ہوئے چلایا ۔

عارب اپنی حد میں رہو تُو ہی نہیں ہم بھی عزت دار لوگ ہیں ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا تم سب لوگ میری جوتی برابر بھی نہیں ہو سنا تم لوگوں نے سنا تم سب نے عارب زور سے بولتے ہوئے ہنس دیا تھا ۔

اس کے سب دوست ان دونوں کو بس دیکھتے رہ گے تھے ۔

دیکھ لوں گا تمہیں میں آیا بڑا ۔۔۔عارب کا دوست بولتے ہوئے دوسری سائیڈ پر چلا گیا ۔۔

اَن کی باتیں سنتا سعد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔اور اندر کی طرف بڑھ گیا جہاں اسے اب سب ختم کرنا تھا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ❤️

تمہیں تو ایسی سزا ملے گی کے تم دیکھتے رہ جاؤ گے ۔۔۔سعد وہاں کے کیمرے کو ہیک کرتے ہوئے خود سے بولا تھا ۔

اسی وقت وہ عارب کے کمرے میں بیٹھا اس پر مکمل نظر رکھے ہوئے تھا ۔۔

تمہیں تو ایسی موت دوں گا کے تم میری بیوی سے زیادہ تڑپو گے ۔۔۔سعد لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے سوچ رہو تھا ۔

تیاری مکمل ہوئی ۔۔۔۔۔۔سعد بولتے ہوئے ہنس دیا اور ایک سائیڈ پر جا کر وہاں بنے سوچ بورڈ کو دبا دیا تاکہ سارے فارم ہاؤس کی لائٹس بندہو جائے ۔

اور پھر تھوڑی ہی دیر میں ایسا ہو گیا ۔۔سارا فارم ہاؤس اندھیرے میں ڈوب گیا ۔سعد کو عارب کی نشے میں جھومتی آوازیں آ رہی تھی وہ باہر سب سے لڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

اور اس کے لڑنے سے سب اسے چھوڑ کر جا رہے تھے ۔۔سعد نے مسکراتے ہوئے نیچے کی طرف قدم بڑھائے ۔۔۔اور عارب کے پاس گیا ۔۔

کون ہو تم ۔۔۔سعد کے عارب کا ہاتھ پکڑا تھا ۔۔۔نشے میں ہونے کی وجہ سے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔

سعد کچھ بھی بولے بینا اسے کمرے کی طرف لے کر آنے لگا ۔۔

مجھے عارب کو کہتا ہیں کے میں اپنی ہونے والی بیوی کی غلامی کروں گا ۔۔۔میں میں عارب ۔۔۔. نشے میں عجیب عجیب باتیں کر رہا تھا ۔

نہیں سر آپ نہیں کرے گی فکر مت کریں ۔۔۔سعد اپنی آواز بدلتے ہوئے عجیب انداز میں ہنس دیا ۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا تم صحیح وفادار ہو میرے ۔۔۔۔۔۔ہاہاہا عارب کسی کا غلام نہیں بن سکتا کسی کا نہیں ۔۔۔۔

ہاں تجھے تو میں کتے والی موت دوں گا تُو غلام نہیں کتے والی موت مرے گا ۔۔۔۔سعد اس کمرے میں لا کر بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے دل میں بولا ۔

سعد نے اس کے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے دونوں ہاتھ بیڈ سے باندھ دئے ۔

کیا کر رہے ہو یہ ۔۔۔۔۔۔عارب اس کی طرف دیکھتے ہوئے چلایا تھا ۔

کون ہو تم۔۔۔. عارب کا نشا جیسے ٹوٹنے لگا تھا ۔

تیری سزا ۔۔۔۔میں

Black Monster

ہوں ۔۔۔۔اور آج تجھ تیری ہر غلطی کی سزا ملے گی ہر غلطی کی۔۔۔۔سعد نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔

سعد نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تھا اور پھر ۔۔۔۔۔ ہاتھ میں پکڑی ایک گولی کو عارب کے منہ میں رکھ دیا ۔۔۔ اور اوپر سے منہ بند کر دیا ۔۔۔

عارب کی بہت کوشش کے باوجود بھی وہ کچھ نہ کر پایا ۔

یہ یہ یہ کیا تھا ۔۔۔۔؟؟

فکر مت کرو زہر نہیں تھا ۔۔۔تمہیں ہوش میں لے کر آنے والی گولی تھی ۔۔۔ایسے اتنی آسانی موت تو تمہیں میں دوں گا نہیں ۔۔۔۔سعد نفرت بھرے لہجے میں بولا ۔

کون ہو تم۔۔۔۔؟

بتایا تو تھا ۔۔۔۔۔

Black Monster

سب کے لیے مونسٹر ہوں میں سب کے لئے ۔۔۔۔۔۔سعد کی آنکھوں میں ارانیہ کے ساتھ ہوئے واقع کی جیسے فلم چلنے لگی تھی ۔۔۔۔سعد نے اپنی پنیٹ اوپر کرتے ہوئے اس میں سے ایک چاکو نکالا تھا ۔۔۔

پھر ہاتھ میں پکڑا ایک کپڑا عارب کے منہ میں ڈالا ۔۔۔

اس کی شرٹ کے اگلے بٹن کھولتے ہوئے اس کے سینے پر چاکو کو پھیرنے لگا ۔۔۔

عارب کے ہاتھ پاؤں بندے ہوئے تھے ۔۔۔پر پھر بھی وہ پوری کوشش کر رہا تھا خود کو ہلانے کی ۔۔۔۔۔سعد کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ۔

عارب کی بے بسی دیکھ کر ۔۔۔۔

میں نے کہا تھا میں سب کو برباد کر دوں گا اگر میری ارانیہ کو تکلیف دی تو ۔۔۔۔تم سب نے اس کے ساتھ ۔۔۔۔سعد نے عارب کی طرف دیکھتے ہوئے نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔

ارانیہ کے نام پر عارب کی پوری کی پوری آنکھیں کھل گئی تھی ۔۔۔۔

اس دل کے مقام پر وار کیا تھا ۔۔۔۔سعد نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور آہستہ آہستہ چاکو کو اندر کرنے لگا ۔۔۔

درد کی وجہ سے عارب کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا۔۔

عارب چیخنا چاہتا تھا پر وہ ایسا کر نہیں پا رہا تھا ۔۔۔

ارانیہ کو تکلیف دی تھی ۔۔۔۔سعد نے کہتے ہوئے پھر سے چاکو باہر نکالا اور پھر سے آرام آرام سے چاکو کو اندر کرنے لگا ۔۔۔

عارب ۔۔۔۔۔بینا پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا پر کر کچھ نہیں پا رہا تھا ۔۔نہ ہی چیخا پا رہا تھا ۔

عارب عارب ۔۔۔۔۔سعد نے کہتے ہوئے اس کے چہرے پر کہیں کاٹ لگائے تھے ۔

عارب۔۔نے تڑپتے ہوئے نہ میں سر ہلایا ۔

تمہیں پتہ ہے تمہارے ساتھیوں کا بھی ایسا برا حال کروں گا میں سب کو درد ناک موت دوں گا بہت درد ناک ۔۔۔۔۔۔سعد نے کہتے ہوئے اس کے گلے کی رگ کاٹ دی تھی ۔۔۔۔۔

جب سعد کو یقین ہو چلا کے اب وہ نہیں بچ پائے گا تو سعد اس سے پیچھے ہوا ۔۔۔۔۔

ہاتھ میں تھامے مرچ مصالحے کو اس کے زخموں کے ہر مقام پر لگانا شروع کر دیا ۔۔

عارب کی تڑپ اور بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔وہ تڑپ رہا تھا ۔۔۔

سعد یہ سب کرنے کے بعد سامنے رکھی چئیر پر بیٹھ گیا ۔۔۔اور چپ چاپ اسے تڑپتے ہوئے دیکھنے لگا۔۔۔۔جس کی تڑپ سعد کو سکون سے رہی تھی ۔

ارانیہ دیکھو تمہارے مجرم کو کیسی سزا دے رہا ہوں میں ۔۔۔۔. پر دل میں ابھی بھی وہ والا سکون نہیں ہے ۔۔۔۔۔سعد سامنے پڑے عارب کو دیکھتے ہوئے سوچ کر رہ گیا ۔۔

ایک بھاگی آنسو اس کی آنکھ سے بہہ نکلا تھا جس کو صاف کرتے ہوئے سعد اُٹھا تھا اور اپنے چھوڑے ہر نشان کو سمیٹ کر کھڑکی کے راستے باہر نکل گیا ۔۔

پیچھے عارب وہی تڑپتا رہ گیا ۔۔

سعد نے اپنے پیپی کو اُٹھایا تھا اور جیسے وہ آیا تھا ویسے وہاں سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

گھر جیسے کھڑکی سے گیا تھا اسی سے واپس آیا ۔۔

پہلی کامیابی مبارک ہو ۔۔۔۔۔خود سے بولتے ہو بیڈ پر ڈھ سا گیا تھا ۔

ارانیہ ایک کسک سی چھوڑ گئی ہیں آپ میرے دل میں ۔۔۔جو شاید ساری زندگی نہیں ختم ہونے والی ۔۔۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

سعد صبح اُٹھ کر نیچے آیا تھا ۔۔۔آج اتنے دن بعد وہ نیچے آیا تھا ۔۔.سب کے ساتھ ۔۔۔

مسسز مجید اور مجید چوہدری ٹی وی دیکھ رہے تھے ۔۔۔عالیان واپس دبئی چلا گیا تھا ۔

سعد دیکھو ۔۔۔۔دیکھو ہماری ارانیہ کو مارنے والے کو اللہ نے کتنی بڑی سزا دی ۔۔۔اس کے دوست نے ہی اسے اس مار دیا ۔۔۔۔۔مسسز مجید سعد کو اپنے سامنے کھڑے دیکھ کر مسکرا کر بولی ۔

میرے اللہ نے انصاف کر دیا ۔۔۔مسسز مجید رو دی ۔

سامنے نیوز میں چل رہا تھا کے عارب اور اس کے دوست کی لڑائی میں اس کے دوست نے اسے بے دردی سے مار دیا ۔۔۔سارا الزام اس کے دوست پر آیا تھا ۔

ماما ناشتہ ۔۔۔سعد سپاٹ سے انداز میں بولا ۔۔

تمہیں خوشی نہیں ہوئی سعد ۔۔۔۔۔؟؟

اس کے مرنے سے ارانیہ واپس تو نہیں آ جائے گی ۔۔۔۔۔سعد ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا لہجہ بے تاثر تھا ۔

پر اس کا مجرم مر گیا اچھا ہے نہ ۔۔۔۔مسسز مجید بولے تو دونوں نے اس کی طرف دیکھا ۔۔

جی بہت اچھا ہے بہت اچھا ۔۔۔۔سعد ان کو اپنے ساتھ لگا کر بولا تھا ۔۔۔

مسسز مجید اس کے ساتھ لگی تو دی ۔۔

بہت تڑپی ہو گی میری بچی بہت زیادہ ۔۔۔۔۔۔درندوں کو بھی اللہ ایسی ہی درد ناک موت دے ایسی ہی درد ناک ۔۔۔۔مسسز مجید روتے ہوئے بولی تھی ۔

پاس بیٹھے مجید چوہدری کی آنکھیں بھی بھر آئی تھی ۔

جی ان شاءاللہ ایسی ہی موت مارے گے ان سب کو بھی ۔۔۔۔سعد آنکھوں میں عجیب سا جنون لے کر بولا تھا ۔

ارانیہ کی موت نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔مسسز مجید اور مجید چوہدری بھی چپ سے ہو گے تھے ۔۔

آج اتنے دن بعد عارب کی درد ناک موت نے سب کو ایک خوشی دی تھی ورنہ تو پولیس تو اس کیس کو بند کر چکی تھی ۔

ماما بھوک لگی ہے کچھ کھانے کو دے دیں ۔۔۔۔سعد مسکرا کو بولا تو مسسز مجید نے بھی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے اسے کی طرف مسکرا کر دیکھا تھا ۔

ابھی بناتی ہوں اپنے بچے کے لیے ۔۔۔مسسز مجید بول کر کچن کی طرف گی ۔

بابا ۔۔۔سعد مجید چوہدری کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔

مجید چوہدری کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔

یہ تم نے کیا ہے سعد ۔۔۔۔۔؟؟

سعد ان کی بات سن کر مسکرا دیا ۔

آج میں جان گیا میرے بابا مجھے بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔۔سعد ہنس دیا ۔

اس دفع میں یہ ہی کہوں گا کہ بہت اچھا کیا تم نے ۔۔۔۔۔ان جیسے درندوں کو جان سے مار دینا چاہے اس سے بھی درد ناک موت ملنی چاہے ان سب کو ۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو سعد کے حیرت سے ان کی طرف دیکھا ۔

میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔مجید چوہدری بولے تو سعد بھی مسکرا دیا ۔

میں وعدہ کرتا ہوں ارانیہ کے ہر قاتل کو درد ناک موت دوں گا ۔۔۔سعد سامنے چلتی نیوز کو دیکھتے ہوئے خود سے بولا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

ایک سال میں سعد نے سب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بدلہ لیا تھا ۔۔۔پر اس طریقے سے کے کسی کو شک نہ ہو ۔۔

ان میں سے ایک آدمی لاپتہ تھا جس کا پتہ سعد کو ابھی ابھی معلوم ہوا ۔۔۔

پورا ایک سال ہو چکا تھا ارانیہ کو گے پر جو مین کھلاڑی تھا وہ عارب نہیں کوئی اور تھا ۔۔

عارب تو بس ایک موحرا تھا جس کو استعمال کرتے ہوئے سعد سے بدلہ لیا گیا ۔

پر سعد کو یہ نہیں معلوم تھا کے یہ بدلہ تھا کس چیز کا ۔۔۔سعد سے

Black Monster

بنے تک کے اس سفر میں سعد بالکل بدل سا گیا تھا,۔

نہ کسی سے زیادہ بات کرتا اور یونیورسٹی کمپلیٹ کرنے کے بعد اب صرف آفس اور آفس سے گھر ۔۔۔۔سیریس سا سعد بن گیا تھا ۔

جسے دنیا میں کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔۔۔بس اپنی ہی ایک دنیا تھی اس کی ۔۔۔

سعد اکثر ہی اب ایسے درندوں کو موت کے گھاٹ اتارنے لگا تھا جو ان جیسی نہاتی لڑکیوں کے ساتھ غلط کرتے تھے ۔۔۔سعد سچ میں

Black Monster

بن کر رہ گیا تھا مجرموں کے لیے درندا۔۔۔۔۔

سعد ابھی بھی آفس سے واپس آ رہا تھا کے اس کی گاڑی کے سامنے ایک لڑکی بھاگتے ہوئے آئی تھی ۔۔۔سعد نے ایک دم سے بریک لگایا ۔۔۔اور غصے سے گاڑی روکتے ہوئے باہر نکلا ۔

وہ لڑکی خوف سے نیچے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔سر نیچے جھک گیا ۔۔۔

آندھی ہیں آپ دیکھ کر نہیں چل سکتی تھی ۔۔۔۔ سعد غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے چلایا تھا جو خوفزدہ سی نیچے بیٹھی کانپ رہی تھی ۔

سعد کو ایک دم عجیب سا احساس ہوا ۔۔۔ارانیہ بھی اسی طرح خوفزدہ ہو جاتی تھی ۔۔۔۔

سعد نے دو قدم پیچھے لیے ۔۔۔۔

تب ہی اس لڑکی نے سر اُٹھایا تھا ۔۔۔۔بکھیرے بال ۔۔۔۔چہرے پر خوف ۔۔۔۔اور وہ جلدی سے سیدھا ہوتے ہوئے کھڑی ہوئی ۔۔۔

دونوں کی نظریں ملی تھی ۔۔۔سعد کی نظروں میں حیرت تھی اور سامنے کھڑی لڑکی کی نظر میں خوف کی بجائے اب نفرت تھی ۔۔۔۔

ا۔۔۔۔ا۔۔ارانیہ ۔۔۔۔۔۔سعد کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔۔۔

سامنے کھڑی لڑکی نے اس کی طرف نفرت سے دیکھا تھا ۔

سعد اس کی طرف قدم بڑھاتا ۔۔۔۔وہ لڑکی اپنے قدم پیچھے لینے لگی ۔۔۔

ارانیہ ۔۔۔۔۔سعد کہتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔پر وہ لڑکی وہاں سے بھاگتے ہوئے دوسری طرف چلی گئی سعد اس کے پیچھے بھاگا تب تک وہ لڑکی ایک گاڑی میں بیٹھی اور وہ گاڑی وہاں سے پل میں غائب ہوئی تھی ۔

سعد اپنی گاڑی میں جا کر اس گاڑی کا پیچھا کرتا تب تک وہ گاڑی بہت دور جا چکی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *