Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Monster (Episode 22)

Black Monster by Ayn Khan

سر یہ کچھ پیچرز ہے جسٹس اطہر عباس کی اور شازم خان کی ۔۔۔۔اور جو دوسرا شخص ہے اس کا شاید کل کو فنکشن وغیرہ تھا اور جسٹس اطہر عباس تو زیادہ اپنے گھر ہی رہا ۔۔۔۔۔سعد کو اس کے پی اے نے ایک انولپ دیتے ہوئے کہا ۔

ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو۔۔۔۔۔۔سعد نے کہتے ہوئے جلدی سے انولپ کھولا تھا ۔

جیسے جیسے وہ پیچرز دیکھتا جا رہا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کے وہ خوش ہو یا پھر کچھ غلط کر جائے ۔۔۔۔

یہ یہ میری ارانیہ ہے ۔۔میری ارانیہ ۔۔سعد نے کانپتے ہاتھوں سے اس پیچرر پر ہاتھ پھیرا ۔

یہ کون ہے ۔۔۔اس نے کیسے چھوا ارانیہ کو کیسے ۔۔۔۔۔سعد کو غصہ آیا تھا جہاں پر ارانیہ کا ہاتھ شازم کے ہاتھ میں تھا ۔

میں اپنی ارانیہ کو لے کر آؤں گا یہاں سے وہ میری ہے ۔۔۔

ماما کو بتاؤ گا میں ۔۔. سعد بے چینی سے اُٹھا تھا اپنی گاڑی کی کیز لے کر باہر کی طرف نکلا ۔۔۔۔۔تھا اور گاڑی لے کر سیدھا گھر آیا ۔

ماما ماما ۔۔۔۔گھر آ کر مسسز مجید کو آواز دی تھی ۔

ماما کہاں ہیں آپ ۔۔۔سعد بولا تو مسسز مجید مسکراتے ہوئے واپس آئی تھی ۔۔۔۔

کیا بات ہے سعد ۔۔۔؟؟ اور تمہارے لیے خوشحبری بھی ہے ۔۔۔مسسز مجید خوشی سے بولی تھی ۔

ماما آپ کے لیے بھی خوشحبری ہے ۔۔۔سعد مسکراتے ہوئے بولا ۔

پر پہلے آپ بتائے ۔۔۔۔

عالیان اور صالحہ آ رہے ہیں پاکستان شارب کے ساتھ ۔۔۔۔۔مسسز مجید خوشی لیے بولی ۔

ماما یہ دیکھیں ۔۔۔سعد نے ارانیہ اور شازم کی پیچرز مسسز مجید کے سامنے کی تھی ۔۔۔۔مسسز مجید نے جب وہ پیچر دیکھی تو خود حیرت زدہ سی رہ گئی ۔

میں نے آپ کو کہا تھا کے وہ زندہ ہے ۔۔. یہ میری ارانیہ ہے میری ۔۔۔سعد خوشی لیے بولا ۔

سعد وہ میت ارانیہ کی تھی ۔۔۔۔۔

ماما یہ دیکھیں یہ ارانیہ ہے ۔۔۔۔اتنی سیملر کیسے ہو سکتی ہے یہ ارانیہ ہے وہ اس دن مجھے محسوس ہوا تھا وہ ارانیہ ہے ۔۔۔۔۔سعد بولا تو مسسز مجید خود پریشان سے بیٹھ گئی ۔

سعد ۔۔۔۔

ماما ارانیہ کو لے کر آتے ہیں ۔۔۔۔

کیا بات ہے ۔۔۔مجید چوہدری بھی وہی آ چکے تھے ۔

یہ دیکھیں ۔۔۔۔مسسز مجید نے ان کو پیچرز دی تو وہ خود پریشان سے کبھی سعد کے خوشی لیے چہرے کو تو کبھی پیچرز کو دیکھتے ۔

یہ ارانیہ نہیں ہو سکتی شاید کوئی ہم شکل بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔مجید چوہدری تحمل سے خود کو سنبھال کر بولے تھے ۔

نہیں بابا یہ ارانیہ ہی ہے ۔۔۔۔وہ ہی ہے میں جانتا ہوں میں اسے لے کر آؤں گا وہ میری بیوی ہے ۔۔۔۔۔سعد اس دفع بولا تو اس کا لہجہ جنون لیے ہوئے تھا ۔

سعد ۔۔۔۔مجید چوہدری چیخے تھے ۔

وہ ارانیہ ہے وہ ارانیہ ہی ہے سنا آپ نے ۔۔۔۔سعد بولتے ہوئے وہاں سے غصے سے چلا گیا تھا ۔

مجید چوہدری اور مسسز مجید ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گے تھے ۔

آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔۔، ؟مسسز مجید بولی ۔

ارانیہ مر چکی ہے خود اس کو قبر میں دفن کر آئے تھے ہم یہ بچوں والی باتیں اب آپ تو مت کریں ۔۔۔۔۔۔حقیقت کو تسلیم کریں ۔۔. مجید چوہدری غصے بھر لہجے میں بولے ۔

پر سعد ۔۔۔۔

اس لڑکے کے سب کام ہی الٹے ہیں اس کو دیکھنا پڑے گا پتہ نہیں آگے کیا کرتا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو مسسز مجید چپ سی کر گئی تھی ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ❤️

ہادی آپ پاکستان مت جائے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے اربعہ ۔۔۔۔۔ ضروری کام ہے مجھے جانا تو ہو گا ۔۔۔اور کچھ دن کا کام ہے ایک ماہ کے اندر اندر واپس آ جاؤ گا ۔۔۔۔۔ ہادی اپنی وائف سے بولا تھا ۔

آپ جانتے ہیں نہ ان دونوں کو سنبھالنا کتنا مشکل ہے آپ کے بغیر اور میں بھی آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔۔

کوئی بات نہیں بس کچھ دن کا کام ہے رہ لے گی آپ بھی ۔۔اور میری بیٹیاں میری جان ہیں ۔۔۔. وہ اپنی جڑوا بیٹیوں کو دیکھتے ہوئے بولا جو صرف کچھ دن کی تھیں ۔

ہادی ۔۔۔۔۔مت جائے ۔۔۔مجھے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔

اربعہ کیا بات ہے ضروری نہ ہوتا تو میں کبھی بھی نہ جاتا ۔۔۔تم اپنا دھیان رکھنا اوکے ۔۔۔۔ اور ابھی تو دس دن ہیں میرے جانے میں پریشان مت ہو ۔۔۔۔ہادی اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا تھا ۔

جی جانتی ہوں ۔۔۔۔اربعہ مسکرا دی تھی ۔۔ہادی نے اسے اپنے ساتھ لگ لیا ۔

ہادی یہاں باہر کے مالک آ چکا تھا اور یہاں اس نے اپنی کلاس فلو سے شادی کر لی تھی اور کچھ دن پہلے ہی اللہ نے اسے دو جڑوا بیٹیوں سے نوازا تھا ۔

ہادی کی جان بستی تھی اُن میں ۔۔۔۔۔ان تینوں میں ہادی کی جان تھی ۔۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ❤️

شرمین نے شازم اور ارسہ کی شادی کی تیاریاں شروع کر دی تھی ۔۔۔

ارسہ تو شازم سے بس چپھ کر کمرے میں ہی بند رہنے لگی تھی ۔۔۔ایک شرم سی تھی دونوں میں ۔۔۔

ارسہ بیٹا یہ دیکھو میں آپ کے لیے کپڑے لے کر آئی تھی اور میں چاہ رہی تھی کے اب آپ دونوں جائے اور شادی کے ڈریسز دے آئے ۔۔۔۔۔ شرمین ارسہ کو ڈریس دکھاتے ہوئے بولی ۔

آنٹی آپ کو جو اچھا لگے وہ ٹھیک ہے مجھے تو کچھ نہیں معلوم ۔۔۔

آپ کے ساتھ شازم جائے گا وہ پسند کر لے گا آپ مت کرنا ۔۔۔شرمین اسے کے آگے ایک ڈریس کرتے ہوئے بولی ۔

نہیں نہیں آنٹی آپ جائے میں آپ کے ساتھ جاؤں گی ۔۔۔ارسہ جلدی سے گھبراہٹ بھرے لہجے میں بولی ۔

شازم جو باہر ابھی آفس سے ا رہا تھا اس کی بات سن کر مسکرا دیا ۔

کیوں میرے ساتھ کیوں نہیں جا سکتی ڈریس تو میں اپنی پسند کا ہی لے کر آؤں گا وہ بھی آپ کے ساتھ جا کر۔۔۔۔۔۔۔ شازم اسے چھرتے ہوئے بولا ۔

ارسہ گھبرا کر چپ سی کر گئی تھی ۔

چلو اچھا ہوا تم بھی آ گے یہ دیکھو ڈریس میں تمہاری وائف کے لیے لے کر آئی تھی ۔۔۔۔شرمین ہنستے ہوئے اس ارسہ کو دیکھ کر بولی ۔

ارسہ بس نظروں کو جھکائے ہاتھوں کو مسلا رہی تھی ۔

شازم مسکراتے ہوئے اس کے پاس بیٹھ گیا ۔

ارسہ گھبرا کر اسے بس دیکھ کر رہ گئی ۔

گھبرائے مت کھا نہیں جاؤں گا آپ کو ۔۔۔ شازم اس کے قریب سرگوشی نما بولا تھا شرمین اپنے ہی کپڑوں کے دھیان میں تھی اسی لئے اُن کا دھیان نہیں تھا وہاں ۔

ارسہ لب کاٹتے ہوئے بس شرمین کی طرف دیکھنے لگی شازم کو مکمل اگنور کر رہی تھی ۔

اپنا سارا دھیان شرمین کی باتوں میں لگانے لگی جو وہ سب چیزیں دکھانے کے ساتھ ساتھ کر رہی تھی ۔

ویسے مجھ پر بھی دھیان دے لیا کریں ۔۔۔آپ کا ہی ہوں ۔۔۔ شازم ارسہ کہ طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔

ارسہ گھبرا رہی تھی پر شاَزم کو نہ جواب دے رہی تھی اور نہ ہی اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

شازم کو اسے تنگ کرنے میں مزا آ رہا تھا ۔

آنٹی میں چائے بنا کر لے کر آؤں ۔۔۔؟ ؟آپ پئے گی ۔۔۔؟

ہاں بیٹا میں پیوں گی اور تمہارے ہاتھ کی تو ویسے بھی بہت مزے کی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔شرمین بولی تو ارسہ جلدی سے بھاگ گئی تھی۔

نہ تنگ کیا کرو شازم بچی گھبرا جاتی ہے ۔۔۔شرمین مسکراتے ہوئے بولی ۔

ہاہاہاہاہاہا کیا کروں ماما مجھے مزا آتا ہے ۔۔۔۔۔شازم ہنستے ہوئے بولا ۔

بدتمیز گھبرا گئی وہ ۔۔۔شرمین ہنستے ہوئے بولی ۔

کل تم اور ارسہ جانا اور شاپنگ کر لینا تھوڑا ضروری ضروری چیزیں تو دے انا اگے ہی وقت نہیں ہے ۔۔۔۔۔شرمین کپڑے رکھتے ہوئے بولی ۔

جی ماما میری ضروری میٹنگ ہے وہ ایٹنڈ کرنے کے بعد لے جاؤں گا ارسہ کو یا ایسا کریں گے وہ ڈرائیور کے ساتھ مال آ جائے گی اور پھر ہم دونوں چلے جائے گے ۔۔۔۔

ہاں ٹھیک ہے جیسا تمہیں بہتر لگے ۔۔۔۔میں یہ کپڑے رکھوا لوں ۔۔۔شرمین بولتے ہوئے میڈ کو ساتھ لے کر کپڑے رکھنے چلی گئی ۔

میں دیکھ لوں میری ہونے والی بیوی کہیں گھبراہٹ میں بے ہوش ہی نہ ہو گئی ہو ۔۔۔۔۔ شازم خود سے بولتے ہوئے کچن کی طرف گیا ۔

جہاں ارسہ چولہے کے آگے کھڑی کچھ سوچنے میں مصروف تھی ۔

ہائے ۔۔۔۔شازم اس کے کان کے قریب جا کر بولا ارسہ ۔۔۔ڈر سے اک دم اچھلی تھی ۔

ہاہاہاہاہاہا ریلکس ارسہ میں ہی ہوں اور وہی شازم ہوں جس کے ساتھ آپ لڑائی تک کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔۔. شازم ہنستے ہوئے بولا تو ارسہ نے اسے گھور کر دیکھا ۔

ایم سوری ۔۔۔پر یہ بتائے گھبرا کیوں رہیں ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔شازم اس کے پاس ہاتھ باندھے کھڑا ہو چکا تھا ۔

میں تو نہیں گھبرا رہی ۔۔ارسہ جلدی جلدی چائے کپس میں ڈالنے لگی ۔

آپ چائے لے گے ۔۔۔۔۔۔؟؟ارسہ بنا مڑے بولی ۔

یس افکوارس لوں گا ۔۔۔۔. اگر آپ پیلا دے گی تو ۔۔۔۔۔شازم اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا جو ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی ۔

پاگل لڑکی ہے پوری ۔۔۔۔

شازم نے اس کی طر دیکھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر ایک چائے کا کپ لے لیا ۔

ریلکس رہیں ۔۔۔۔۔شازم کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا ۔

ارسہ نے گہرا سانس لیا تھا ۔

آف مجھے کیا ہو رہا ہے میں کیوں خوفزدہ ہوں اتنا شازم سے ۔۔۔۔ارسہ سر ہلاتے ہوئے سوچ کر رہ گئی اور پھر جلدی سے چائے ڈال کر ٹرے میں رکھتے ہوئے شرمین کے پاس لے گئی ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

میں ارانیہ کے لیے کچھ لے لیتا ہوں ۔۔۔۔جب اسے گھر لے کر آؤ گا تو اسے گفٹ دوں گا ۔۔۔۔سعد سوچتے ہوئے آفس سے سیدھا مال کی طرف گیا ۔

مال میں اس کے لیے اچھی حاضی شاپنگ کرنے کے بعد سارا سامان گاڑی میں رکھا ۔۔اور پھر گھوم کر دوسری سائیڈ پر بیٹھنے ہی لگا تھا کے سامنے گاڑی سے نکلتی ہوئی ارسہ پر سعد کی نظر پڑی تھی ۔

ارانیہ ۔۔۔۔سعد کے چہرے پر خوشی سی پھیلا گئی ۔

میری ارانیہ ۔۔۔سعد کہتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تھا ۔

ارسہ جو گاڑی سے نکل کر شازم کے آنے کا انتظار کر رہی تھی سعد کے پاس آ جانے سے اک دم چونک گئی ۔

ارانیہ ۔۔۔۔۔

ک۔۔۔۔کیا کیا پرابلم ہے آپ کو ۔۔۔ارسہ نے ڈرتے ڈرتے سعد کو دیکھ کر کہا تھا جو مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

چلو گھر چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔سعد نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا تھا ۔

پیچھے رہے ۔۔۔۔ہاتھ مت لگانا ۔۔۔۔ارسہ چیخی تھی ۔

ارانیہ میں ہوں سعد تمہارا سعد ۔۔۔۔۔ایسے کیسے پیچھے رہو ۔۔۔۔

کیا بکواس کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔میں کوئی ارانیہ نہیں ہوں سنا آپ نے ۔۔۔۔میں ارسہ ہوں ارسہ ۔۔۔۔وہ خوفزدہ سے گھبراہٹ بھرے لہجے میں بولی ۔

آپ ارانیہ ہیں میری ارانیہ صرف میری ہیں آپ سنا آپ نے ۔۔۔۔سعد نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی سے ڈرائیور بھی باہر نکلا آیا تھا ۔

چھوڑیں بی بی جی کو ۔۔۔. ڈرائیور چلایا ۔۔

بکواس بند ۔۔۔سعد ارسہ کو کھنچتے ہوئے اپنے ساتھ لے کر جانے لگا ۔

ڈرائیور نے آگے بڑھ کر ارسہ کو اس سے چڑانا چاہا تھا ۔۔۔۔سعد نے اس کے منہ پر مکا مارا اور ارسہ کو کھنچتے ہوئے وہاں سے لے گیا ۔

چھوڑیں مجھے کتنے بدتمیز ہیں آپ چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔ارسہ روتے ہوئے چیخ رہی تھی ۔

پلیز میں نہیں ہوں آپ کی ارانیہ پلیز مجھے جانے دیں چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔آرسہ روتے ہوئے چیخ رہی تھی پر سعد نے بینا کوئی پرواہ کئے اسے گاڑی میں دھکیل دیا ۔

چھوڑیں مجھے جانے دیں کہاں لے کر جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ارسہ رو رہی تھی ۔

پرسعد اسے لے کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔

پیچھے ڈرائیور نے بہت لوگوں سے مدد لینے کی کوشش کی پر کسی نے اُس کی کوئی مدد نہیں کی ۔

تھوڑی دیر بعد شازم آیا تھا ۔

کیا ہوا تمہیں ۔۔۔۔۔

سر سر وہ ارسہ بی بی ۔۔۔

کیا ہوا ارسہ کو کہاں ہے وہ ۔۔۔۔. شازم پریشانی لیے بولا ۔

سر ایک لڑکا مجھے مار کر اُن کو اپنے ساتھ لے گیا ۔۔۔۔میں نے بہت کوشش کی پر اس انسان نے نہیں سنی میری ۔۔۔۔۔۔

کون تھا وہ بتاؤ جانتے ہو اسے ۔۔۔ کیسے لے گیا وہ اسے ۔۔۔۔۔۔۔ شازم پریشانی لیے چیخا تھا ۔

پولیس کو کال کرنی پڑے گی ۔۔۔۔۔سی سی ٹی وی ۔۔۔۔شازم جلدی سے اندر کی طرف بڑھا تھا اور انفارمیشن نکالنے لگا ۔۔تاکہ جلد از جلد ارسہ تک پہنچا سکے ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔سعد ارسہ کو کھنچتے ہوئے اندر لے کر جانے لگا ۔

ارسہ خوفزدہ سے بس روئی جا رہی تھی ۔

پلیز چھوڑیں مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔ارسہ بمشکل آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تھی سعد کے ہاتھ میں سے اپنا ہاتھ کھنچتے ہوئے رو بھی رہی تھی ۔

چپ بالکل چپ جانتا ہوں میں بہت برا ہوں ناراض ہو آپ مجھ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔سعد اسے ڈانٹتے ہوئے چیخا تھا ارسہ خوفزدہ سی سوں سوں کرنے لگی ۔

سعد اسے کلائی سے تھام کر اندر کی طرف لے گیا ۔

ماما یہ دیکھیں ارانیہ میں نے کہا تھا نہ یہ ارانیہ ہےاب خود غور سے دیکھ لے ۔۔۔۔۔. سعد ارسہ کو مسسز مجید کے پاس لا کر بولا جو صوفے پر بیٹھی تھی دونوں میاں بیوی ٹی وی پر نیوز دیکھنے میں مصروف تھے ۔

مسسز مجید سامنے روتی ہوئی ارسہ اور سعد کو دیکھ کر بس حیرت زدہ سی کھڑی تھی ۔

ارسہ کو دیکھ کر مسسز مجید کا چہرا عجیب سا ہو چکا تھا ۔ایک پل کو انہیں بھی لگا تھا کہ وہ ارانیہ ہی ہے ۔۔

ارسہ خوفزدہ سی بس سب کو دیکھ رہی تھی ۔

ماما دیکھیں سنبھالے اپنی بہیو کو ۔۔۔. سمجھا دیں اسے کے یہ میری بیوی ہے صرف میری ارانیہ ۔۔۔۔سعد اسے مسسز مجید کے آگے کرتے ہوئے بولا تھا ارسہ خوفزدہ سی تھی ۔

مسسز مجید نے اسے اپنے ساتھ لگ لیا ۔

آنٹی میں نہیں ہوں وہ ۔۔۔جو یہ کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔میں ارسہ ہوں ارسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ارسہ روتے ہوئے مسسز مجید کو بولی ۔

چپ آپ ارانیہ ہیں بس ارانیہ سنا آپ نے ۔۔۔۔۔۔ سعد ارسہ پر چیخا تھا ۔

ارسہ ڈر سے بالکل مسسز مجید کے ساتھ جڑ گئی تھی ۔

نہیں ہوں میں نہیں ۔۔۔۔۔ارسہ روتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں بولی ۔

ارانیہ ہیں آپ ۔۔۔۔ سعد نے اس کندھے سے تھام کر اپنے سامنے کیا ۔۔

سعد ہاتھ مت لگاؤ اسے سنا آپ نے ورنہ ۔۔۔.

بابا آپ سب دیکھیں تو وہ ارانیہ ہے ۔۔۔۔۔سعد مجید چوہدری کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔

مجید چوہدری اور مسسز مجید بھی سمجھ نہیں پا رہے تھے کے ہو کیا رہا تھا کیونکہ وہ لڑکی بالکل ہی ارانیہ کی طرح دکھائی دے رہی تھی اور بول بھی اسی کی طرح رہی تھی ۔

جاؤ یہاں سے سعد ۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا میں ارانیہ کو لے کر جاؤں گا ۔۔۔۔سعد ارانیہ کا ہاتھ تھامنے لگا ۔

نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔ارسہ پیچھے ہٹی تھی ۔

سعد چھوڑ دو اسے میرے پاس آپ جاؤ میں اسے سمجھاتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔مسسز مجید نے سعد کو سمجھنا چاہا ۔

ماما اسے سمجھا دیں ۔۔۔۔۔یہ میری ارانیہ ہے اور اب ناراضگی چھوڑ دے یہ ۔۔۔۔۔سعد عجیب سے جنونی پن سے بولا ۔

جی جی بچے آپ جاؤ ۔۔۔ مسسز مجید ارسہ کو ساتھ لگائے بولی ۔۔سعد سر ہلا کر وہاں سے چلا گیا ۔

مجید چوہدری اور مسسز مجید ایک دوسرے کو دیکھ کر ر گے تھے اور پھر ارسہ کو دیکھا جو خوفزدہ سی رونے میں مصروف تھی ۔

بیٹا آپ بیٹھے یہاں اور یہ پانی پیئے ۔۔۔. مسسز مجید نے پاس پڑے جگ میں سے پانی ڈال کر ارسہ کو دیا جو اس نے ہچکیوں کے ساتھ پی لیا ۔

آنٹی مجھے گھر جانا ہے ۔۔۔۔۔۔ارسہ روتے ہوئے گلاس اُن کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔

ریلکس رہے آپ ۔۔۔۔ ہم کال کرتے ہیں آپ کے گھر والوں کو ۔۔۔. مجید چوہدری بولے تو ارسہ پھر سے رونے لگی ۔

آپ کے پاس کوئی نمبر وغیرہ تو ہو گا ۔۔۔. مجید چوہدری بولے تو آرسہ نے سر ہلایا ۔

جی جی انکل میں میں آنٹی کا نمبر دیتی ہوں ۔۔۔۔ارسہ نے کہتے ہوئے اَن کو شرمین کا نمبر دیا ۔

مجید چوہدری نے شرمین کو کال کی تھی اور ارسہ کے بارے میں بتایا ۔

بیٹا وہ آ رہیں ہیں تھوڑی دیر میں ۔۔۔آپ یہاں کس کے پاس ہو آپ کی ماما بابا ۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو ارسہ نے نم ہوتی آنکھوں سے اُن کی طرف دیکھا ۔

انکل وہ تو نہیں ہیں ۔۔۔ارسہ سوں سوں کرتے ہوئے بولی ۔

مسسز مجید اسے اپنے ساتھ لگئے ہوئے تھی ۔۔۔اُنہیں تو اس میں ارانیہ ہی نظر آ رہی تھی ۔

آپ کے بابا کا نام ۔۔۔؟ ؟مجید چوہدری بولے ۔

میرے بابا نہیں دیکھے میں نے بہت چھوٹی تھی تو تب ماما بابا الگ ہو چکے تھے ۔۔ اب ماما کہتی تھی کے وہ نہیں رہے اس دنیا میں ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔

ماما بھی چلی گئی اب ۔۔۔آرسہ کہتے ہوئے رو دی ۔

کوئی بات نہیں بیٹا آپ ریلکس رہے ۔۔۔۔مسسز مجید نے اسے ساتھ لگ لیا ۔۔

آرسہ بس چپ سی تھی مسسز مجید اور مجید چوہدری کی وجہ سے اسے کچھ حوصلہ ہوا ۔۔۔ورنہ سعد کے پاگل پن کی وجہ سے وہ بہت خوفزدہ ہو چکی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *