Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Monster (Episode 07)

Black Monster by Ayn Khan

وہ اپنی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی ہوا کے ٹھنڈے جھونکے سے اس کے کھلے بال بار بار اس کے چہرے کو چھو رہے تھے ۔۔۔

ایک سادہ سی طبیعت کی لڑکی تھی اور آج پہلی بار اس کے دل میں کیسی حاض انسان کے لیے کچھ فیلنگز پیدا ہونے لگی تھی۔

میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کے وہ اتنی جلدی میرے لیے اتنا حاض بن جائے گا ۔۔۔۔آج تک میرے دل پر کسی نے دستک نہیں دی پر آپ کی ایک جھلک دیکھ کر مجھے آپ سے محبت ہو گی ہے ۔۔۔. وہ آنکھوں کو بند کئے اس سے محاطب تھی ۔۔۔

محبت بہت انوکھا احساس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے باہر بالکنی کی طرف نکل آئی تھی ۔

سیڈ ۔۔۔۔۔۔۔

سننے یہ آپ کی بک ہے ۔۔۔۔ وہ آنکھوں کو بند کئے کل کا منظر سوچ کر مسکرانے لگی وہ منظر اس کی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح چلنے لگا ۔

تھینک یو ۔۔۔زمل مسکرائی تھی آج پھر سے دل نے ایک بیٹ مس کی اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر پھر سے آج اس کا دل کر رہا تھا کے اسے چھو کر محسوس کرے ۔

دھیان رکھا کریں اپنی چیزوں کا ایک دفع گم جائے تو واپس یہاں کچھ نہیں ملتا ۔۔۔آپ بہت معصوم لگتی ہیں مجھے ۔۔۔۔سیڈ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا ۔

زمل جو اس کے چہرے میں کہیں کھو گئی تھی جلدی سے اس کی بات سن کر اپنی نظروں کو جھکا گئی ۔

ج ۔۔۔۔ج۔۔۔۔جی ۔۔۔۔۔میں معصوم تو نہیں ہوں ۔۔۔۔زمل خود کو سنبھال کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔

ہاہاہاہاہاہا نائس ورنہ آپ کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس بات سے خوش ہو جاتی ۔۔۔سیڈ اس کی طرف دیکھتے ہوئے ہنس کر بولا ۔

ج۔۔۔جی ۔۔پر ۔۔۔۔۔۔ زمل کو آ سکے سامنے بولنے میں مشکل ہو رہی تھی ۔

چلیں دھیان رکھیں ۔۔ورنہ یونیورسٹی میں معصوم لوگوں کا سروائیو کرنا بھی مشکل ہے اور آپ سچ میں بہت معصوم ہیں ۔۔۔۔سیڈ بولا تو زمل نے اس کی طرف دیکھا تھا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

بائے دا وے یور گوڈ نیم پلیز ۔۔۔۔؟؟

ز۔۔۔ز۔۔زمل ۔۔۔۔۔اینڈ یور ۔۔۔۔زمل نے حوصلہ کرتے ہوئے اس کا نام بھی پوچھ لیا ۔

سیڈ۔۔۔آپ مجھے سیڈ کہہ سکتی ہیں ۔۔۔۔

چلے میں چلتا ہوں میرے فرئنڈ میرا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ ٹیکئیر ۔۔۔بائے ۔۔سیڈ بول کر وہاں سے چلا گیا ۔

سیڈ ۔۔۔۔وہ زیرے لب دھراتے مسکرا دی ۔۔۔۔

کتنا اچھا ہے نہ وہ ۔۔۔بالکل میرے سپنوں کے شہزادے جیسا ۔۔۔۔کئیر کرنے والا ۔۔۔. زمل گول گول گھومتے ہوئے مسکرا دی ۔

یہ جانے بغیر کے زندگی اس کے لیے کیا تہہ کئے ہوئے ہے ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

عالیان اور صالحہ کی شادی ہو چکی تھی اور وہ دونوں ہی ہنی مون کے لیے گھومنے چلے گئے تھے گھر میں سب واپس اپنی روٹین میں آ چکا تھا ۔

سعد اور ارانیہ کی یونیورسٹی شروع ہو چکی تھی ۔۔اب۔۔۔۔سعد ارانیہ کو اپنے ساتھ لے کر یونیورسٹی جاتا تھا ۔

دن اپنی رفتا سے گزر رہے تھے ۔۔۔۔ سب اپنی اپنی لائف خوش تھے سعد دن بہ دن ارانیہ کے لیے پوزیسو ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔

یار میں ارانیہ کو کلاس سے لے کر آیا پھر ہم چلتے ہیں دیر ہو رہی ہے ابھی تک آئی نہیں وہ۔۔۔سعد ہادی سے کہہ کر وہاں سے ارانیہ کی کلاس کی طرف گیا ۔

سعد جب کلاس میں گیا تو ارانیہ مسکرا کر سامنے کھڑے لڑکے سے بات کر رہی تھی ۔۔۔ سعد نے غصے سے ائبرو اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا جو اپنے ہی دھیان سے اس سے کچھ بات کر رہی تھی ۔

آ ہممممم ہممم ۔۔۔۔۔سعد نے گلے کو کھنکار کر ارانیہ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی جو ہو بھی گئی ۔

ارانیہ نے سعد کی طرف دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی پر سعد کے چہرے پر غصے کو دیکھ کر اپنا حلق تر کیا ۔

چلے ۔۔۔۔؟؟ اگر باتیں ہو چکی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔سعد نے تو کو کھنچتے ہوئے سرد سے لہجے میں کہا ۔

ج۔۔۔ج۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔۔ ارانیہ بمشکل مسکرا کر بولی تھی اور سعد کے پیچھے بھاگی جو غصے سے آگے کی طرف بڑھ گیا ۔

سعد آہستہ چلے کیا ہو گیا ہے، ۔۔۔۔ارانیہ بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے ہی چل رہی تھی کیونکہ سعد اتنی تیز چل رہا تھا کے ارانیہ کو اس کے مقابلے بھاگنا پڑھ رہا تھا ۔

دونوں گاڑی کی پاس پھنچے تھے ۔۔

سعد ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔۔۔

سعد کیا۔۔۔۔۔۔۔

ایک لفظ نہیں ۔۔۔چپ چاپ بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔سعد بولتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔

ارانیہ نے اسے گھور کر گاڑی کو دیکھا تھا ۔۔۔اور چپ چاپ گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی ۔

سعد آپ ایسے کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔، ؟ارانیہ سے چپ نہ ہو پایا تو پھر سے بولی ۔

سعد پاگل ہو گئے ہیں اتنی تیز کیوں چلا رہے ہیں گاڑی اتنی چھوٹی سی بات پر اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔. ارانیہ خوف سے آنکھوں کو بند کئے بولی تھی کیونکہ سعد نے گاڑی کی رفتار بہت تیز رکھی ہوئی تھی ۔

چھوٹی بات ۔۔۔۔سعد کو اس کی بات سن کر اور بھی غصہ آیا ۔

سعد میں بات کر رہی تھی صرف اس سے ۔۔۔کام کے سلسلے میں صرف ۔۔ ارانیہ کا لہجہ نم ہو چکا تھا ۔

ارانیہ کے لہجے میں نمی محسوس کرتے ہوئے سعد تھوڑا نرم پڑا تھا ۔

ایم سوری ۔۔۔۔۔سعد نے کہتے ہوئے گاڑی کی رفتار کم کر دی ۔

سعد ایم سوری میں آئندہ نہیں کروں گی بات کسی سے بھی ۔۔۔۔ ارانیہ ہاتھوں کو مسلاتے نظروں کو جھکائے ہوئے ہی کہہ رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کے سعد کی نظر اس پر ہیں ۔

کئی آنسو بھی اس کی گال پر بہہ نکلے ۔

ارانیہ ۔۔۔سوری تو مجھے کہنا چاہے کیوں کہ میں زیادہ پوزیسو ہو رہا ہوں ۔۔۔۔۔ سعد نے کہتے ہوئے اس کے گود میں پڑے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا ۔

سعد وہ بس ۔۔. اسائنمنٹ کے لیے ۔۔۔۔

ریلکس ایم سوری ٹو مجھے ایسے ریکٹ نہیں کرنا چاہے تھا ۔۔۔۔سعد نے خود کے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے ضبط سے مسکرا کر کہا ۔۔

آپ ناراض تو نہیں ہیں ۔۔۔، ؟

نہیں بالکل نہیں ہوں ۔۔۔۔سعد مسکرایا تھا ۔

ارانیہ کو پھر بھی سعد کا راوئیہ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا کیونکہ آج وہ پہلے کی طرح بالکل بھی برتاؤ نہیں کر رہا تھا ۔

ارانیہ مجھے کام ہے آپ گھر جاؤ ۔۔۔۔سعد گاڑی گھر کے سامنے روکتے ہوئے ۔۔۔۔بولا ۔

سعد ۔۔۔

ارانیہ جاؤ ضروری کام ہے ماما کو بتا دینا تھوڑا لیٹ ہو جائے گا ۔. ۔۔سعد نے مسکرا کر کہا تو ارانیہ سر ہلا کر وہاں سے چپ چاپ اندر چلی گئی ۔۔

سعد نے جاتی ہوئی ارانیہ کو دیکھ کر گہرا سانس لیا تھا اور گاڑی کو وہاں سے لے کر چلا گیا ۔

ارانیہ کی آنکھوں میں کئی آنسو جمع ہو گئے تھے وہ جانتی تھی سعد کو اس کا اس طرح کسی سے بات کرنا برا لگا ہے ۔

ارانیہ کیا بات ہے بچے اتنی کھوئی کیوں ہو سب ٹھیک ہے اور سعد کہاں ہے ۔۔۔۔؟ ارانیہ جب اندر آئی تو مسسز مجید اسے اس طرح کھویا ہوا دیکھ کر پریشان ہو گئی ۔

نہیں آنی ایسا تو نہیں ہے بس اگزمز ہیں تو اسی لیے ۔۔۔۔۔تھوڑی پریشان ہوں ۔۔۔۔اور سعد کو کوئی کام تھا تو اسی لیے وہ چلے گئے تھے ۔۔۔۔ارانیہ بمشکل مسکرائی ۔

اوکے چلو آپ فریش ہو جاؤ پھر کھانا لگاتی ہوں مل کر کھاتے ہیں دونوں ۔۔۔۔۔مسسز مجید اس کے سر پر ہاتھ رکھ کو بولی تو ارانیہ سر ہلا کر وہاں سے اوپر کی طرف اپنے روم میں چلی گئی ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ❤️

میں اسے برباد کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔اس سے اس کی ہر خوشی چھین لوں گا اُس سے اُس کی محبت اس کو دور کر دوں گا۔۔۔۔

ایسا حال کروں گا اس کا وہ تڑپے گا روئے گا پر اسے واپس کبھی بھی حاصل نہیں کر پائے گا ۔۔۔۔۔۔

یہ طوفان سے پہلے آنے والی خاموشی ہے ہو لو جتنا خوش ہونا ہے ۔۔۔۔بہت جلد سب کچھ برباد ہونے والا ہے میں اپنی بے عزتی کا بدلہ تم سب لوگوں کو برباد کر دوں گا ۔

تم نے عارب پر ہاتھ اُٹھایا تھا اب تم دیکھتے جاؤ سعد کیسے تم سے اب سے حاضر چیز چھین لیتا میں ۔۔۔ہاہاہاہاہاہا عارب ہنستے ہوئے خود سے بولا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

ہیلو کون ہے ۔۔۔ہیلو ۔۔۔۔۔ارانیہ روم میں سعد کا انتظار کر رہی تھی کے اس کے فون کی رنگ ہوئی جس پر جب اس کے کال اُٹھائی تھی پر آگے سے کوئی کچھ نہیں بولا ۔

آپ سوئی نہیں ابھی تک ۔۔۔۔ارانیہ نے فون کان سے لگا رکھا تھا کے سعد اندر روم میں داخل ہوا ۔۔۔۔

ارانیہ نے جلدی سے فون سائیڈ پر رکھا تھا اور سعد کو دیکھتے ہوئے مسکرا دی ۔

میں آپ کا انتظار کر رہی تھی آپ ابھی اتنی لیٹ آئے ہیں ۔۔۔۔۔ارانیہ سعد کی طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولی ۔

جس ویسے ہی دوستوں کے ساتھ ۔۔۔۔

آپ نے کھانا کھایا سعد ۔۔۔؟؟ ارانیہ جانتی تھی وہ غصے میں اکیلا ہی سڑک ناپ رہا ہو اسی لیے پوچھا لیا ۔

نہیں مجھے بھوک نہیں ۔۔۔۔۔

سعد آپ فریش ہو کر نچے آ جائے میں دس منٹ میں آپ کا کھانا لگاتی ہوں جلد ہی آ جائے ۔۔۔۔ارانیہ اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے سعد کو کہہ کر باہر کی طرف نکل گئی ۔

اتنی دیر بعد سعد کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ گئی تھی ۔۔۔اور وہ فریش ہونے کے لیے روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔

سعد جب فریش ہو کر نچے آیا تو ارانیہ نے کھانا لگا دیا تھا اور اب سعد کے لیا تازہ روٹی بنا رہی تھی ۔

مجھے معلوم ہے آپ تازہ روٹی کھائے گئے اسی لئے ۔۔۔ارانیہ سعد کو اپنے پاس کھڑے دیکھ کر بولی جو اسے گھور رہا تھا ۔

میں کھا لیتا اتنی رات ہو گئی ہے اور آپ ابھی تک سوئی بھی نہیں ۔۔۔۔سعد پاس پڑی چئیر پر بیٹھ کر بولا ۔۔۔جو شلف کے ساتھ تھی جہاں اس کے لیے ارانیہ نے کھانا لگایا تھا ۔

چاہے رخصتی نہیں ہوئی پر آپ کی بیوی ہوں اتنا تو کر سکتی ہوں ۔۔۔ ارانیہ مسکراتے ہوئے اس کے سامنے گرم گرم روٹی رکھتے ہوئے بول کر وہاں سے ساری چیزیں اُٹھا کر جگہ پر رکھنے لگی ۔۔۔ سعد بھی اس کی بات سن کر مسکرا دیا ۔

آپ کھانا کھا لے پھر میں آپ کے لیے کافی بناتی ہوں ۔۔۔۔ارانیہ بول کر چیزیں سمیٹنے لگی ۔۔۔

سعد کی ساری نظر ارانیہ کی طرف تھی جو مصروف سے اندازہ میں کام کر رہی تھی ۔۔۔اور کچن میں پڑی ہر چیز سمیٹ رہی تھی ۔

ارانیہ رہنے دیں بس میں نے کھانا کھا لیا ہے ۔۔۔۔سعد کھانا کھا کر اُٹھا تھا کے ارانیہ اس کے لیے کافی بنانے لگی ۔

پی لے آپ پیتے ہیں آگے تو ۔۔۔۔

میرا موڈ نہیں ہے ۔۔۔سعد اس کے بالکل قریب کھڑا بولا ۔

ج۔۔۔ج۔۔۔۔جی سعد پر قریب کیوں آ رہے ہیں اتنا ۔۔۔۔ارانیہ سعد کو خود کے اتنا قریب دیکھ کر نروس ہوتے ہوئے بولی ۔

دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ۔۔۔ماتھے پر ٹھنڈے پیسنے آ رہے تھے ۔

کیا ہوا ہے ارانیہ پیسنے کیوں آ رہے ہیں آپ کو ۔۔۔سعد تھوڑا سا جھک کر اس کے ماتھے پر آئے پیسنے کو صاف کرتے ہوئے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اسے تنگ کر رہا تھا ۔

سعد پلیز ۔۔۔

کیا پلیز ۔۔۔۔ سعد ارانیہ کے چہرے کو تھوڑی سے تھام کر اوپر کرتے ہوئے بولا ۔۔سعد کے ایسا کرنے سے ارانیہ نے آنکھوں کو بند کر لیا ۔

س۔۔۔۔. سع۔۔۔. سعع. ۔۔۔سعد ۔۔۔۔مجھے سونا ہے کافی دیر ہو چکی ہے ۔۔۔ارانیہ کانپتے ہوئے ہونٹوں سے بمشکل بولی ۔

مجھے بھی سونا ہے ارانیہ پر آج کافی نہیں چاہے ۔۔۔۔۔۔سعد آرام سے سرگوشی نما ارانیہ کے کان کے قریب جا کر بولا ۔۔اور آہستہ سے اپنے ہونٹوں سے اس کے کان کی لو کو چھوا ۔۔

سعد پلیز ۔۔۔ارانیہ نے بند آنکھوں سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے بھیچ لیا ۔

ارانیہ آنکھوں کو کھولے ۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔۔ارانیہ نے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔

آپ نے میری بات نہ مانی تو آپ کو سزا ملے گی مسسز سعد چوہدری ۔۔۔۔۔۔۔ سعد اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرا کئے بولا ۔

سعد اس کے چہرے پر ہاتھ رکھ کر انگوٹھے سے اس کے گال کر رب کر رہا تھا ۔

س۔۔۔. سع۔۔۔۔سعد پلیز جانے دیں مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔

کس سے ۔۔۔

آپ سے ۔۔۔ارانیہ ممنائی

اوکے چلے جائے پر ۔۔۔۔

پر کیا ۔۔۔

ابھی ارانیہ نے آنکھوں کو کھول کر اس کی طرف دیکھا ہی تھا کے سعد اس پر جھک گیا ۔۔۔۔ارانیہ زور سے آنکھوں کو میچے سعد کو کندھے سے تھام گئی ۔۔

سعد پیچھے ہٹا تو ارانیہ کی طرف دیکھا جو گہرے سانس لیتے ہوئے جلدی سے اپنا منہ اس کے سینے میں چھپا گئی ۔۔سعد کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ آ گئی ۔

ارانیہ کا وجود ابھی بھی لرز رہا تھا ۔۔۔۔اور سعد کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی ۔

ارانیہ ۔۔۔۔کیا ہوا ۔۔؟ ؟

سعد پلیز ۔۔۔۔

ہاہاہاہا اوکے ۔۔۔۔چلے آرام کر لے میری تو ساری تھکن اتر گئی ہے ۔۔۔سعد. ے کہتے ہوئے ارانیہ کو خود میں بھیچ رکھا تھا ۔

سعد میں جاؤں ۔۔۔ارانیہ بمشکل بولی ۔

جی بالکل آرام کرو اب جا کر ۔۔۔سعد کہتے ہوئے اس سے پیچھے ہٹا ۔۔

ارانیہ جلدی سے پیچھے ہوتے ہی وہاں سے بھاگ گئی ۔۔. سعد اس کی پھرتی پر مسکرا دیا ۔

پاگل لڑکی ۔۔۔۔سعد کہتے ہوئے بالوں پر ہاتھ پھیر کر اپنے روم کی طرف چلا گیا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

ان دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنی ہے تم تینوں نے ۔۔اگر تم تینوں سے یہ کام نہ ہوا تو تم تینوں کا وہ حال ہو گا تم تینوں کو اپنا نام تک بھول جائے گا سنا تم تینوں نے ۔۔۔۔سامنے بیٹھا عارب ان سے بولا ۔

یسس سر بس کچھ دن اور آپ دیکھنا سر کیسے ان دونوں کو ایک دوسرے سے نفرت ہو جائے گی ۔۔۔۔ان میں سے ایک لڑکا ہنس کر بولا ۔

جو بھی کرو بس مجھے رزلٹ چاہے رزلٹ ۔۔۔۔زہر گھول دو ان کی زندگی میں ۔۔۔دونوں ایک دوسرے کی شکل بھی نہ دیکھے اور ۔۔۔۔

اور کیا باس۔۔۔۔؟

پھر کرو گا میں اپنا وار ۔۔۔۔اور جو آخری وار ہو گا وہ ہو خطرناک ۔۔۔سب کچھ مٹا کر رکھ دے گا یہ سب سب کچھ ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا جی باس جیسا آپ کا حکم ۔۔۔۔وہ ہنساتے ہوئے بول کر وہاں سے چلے گئے

تمہیں بھی بہت تکلیف دوں گا جتنی میں نے برداشت کی ہے ۔۔۔ہاہاہاہاہاہا زندگی ۔۔۔سے نفرت ہو جائے گی تمہیں نفرت ۔۔۔

تم ہمشہ اپنا گناہگار پاؤ گئے اس کے ۔۔۔۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

بھائی سیڈ آپ کا دوست ہے نہ ۔۔۔۔۔۔؟؟ ہادی کی بہن سامنے بیٹھے اپنے بھائی سے بولی ۔

ہاں بالکل ۔۔۔۔دوست ہے وہ میرا بہت اچھا، ۔۔۔۔بہت اچھا انسان ہے وہ ۔۔۔ہادی مسکرا کر سامنے چلتے ٹی وی پر چینل بدلتے ہوئے اپنی بہن سے بولا ۔

جی سچ میں وہ بہت اچھا انسان ہے انہوں نے میری مدد کی تھی یونی میں اور بالکل ویسے ہی ہیں جیسا میں چاہتی تھی وہ بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔۔۔زمل بولتے ہوئے باقی کے الفاظ اپنے منہ میں بڑھ بڑھائی ۔

میں سوچ رہا تھا اب تم ہوسٹل نہ جاؤ گھر ہی رہو میرے ساتھ یونیورسٹی جائے کرو ۔۔۔.۔ہادی اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔

جی بھائی بس اپنا سامان وغیرہ پیک کر کے واپس لے آؤ پھر نہیں جانا واپس میں نے ۔۔۔۔زمل مسکرائی ۔

اچھی بات ہے تم ارانیہ سے دوستی کر لینا اسے بھی اچھی دوست مل جائے گی ۔۔۔۔۔۔ ہادی بولا تو زمل نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا ۔

وہ کون ہے بھائی ۔۔۔؟ ؟

وہ سیڈ کی ہونے والی بیوی ہے ۔۔۔ تم ہوسٹل میں تھی ورنہ تمہیں بھی اس کے نکاح میں ساتھ لے جاتا ۔۔۔۔۔ہادی عام سے اندازہ میں بولا تھا پر وہ نہیں جانتا تھا وہ زمل کی پوری دنیا کو ہلا گیا ہے ۔

زمل چپ چاپ وہاں سے اُٹھی تھی اور اوپر اپنے روم میں آ گئی ۔

سیڈ میرے نہیں ہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔وہ میرے ہیں ۔۔۔نہیں نہیں ۔۔۔زمل پاگلوں کی طرح روتے ہوئے وہی دروازے کے ساتھ لگی نیچے بیٹھی چلی گئی ۔

ساری رات روتی رہی اور پھر آگلے دن صبح ہادی کو بتائے بغیر ہوسٹل واپس چلی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *