Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 12,13)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 12,13)
Black Monster by Ayn Khan
میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔کیسی ہو آپ ۔۔۔مسز مجید اسے گلے سے لگائے ہوئے بولی تھی ارانیہ ابھی بھی اُن کے ساتھ لگی رو رہی تھی ۔
آنی ایم سوری آپ کو میری وجہ سے پریشانی اُٹھانی پڑی ۔۔۔۔ارانیہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے مسسز مجید کی طرف دیکھ کر بولی ۔
کہاں تھی تم اور آپ کو سب معلوم تھا پھر بھی آپ نے کسی کو نہیں بتایا ارانیہ کے بارے میں ۔۔۔۔۔مسسز مجید نے مجید چوہدری سے شکاہ کیا ۔
میں نے جان بوجھ کر کسی کو نہیں بتایا ۔۔۔۔۔مجید چوہدری دونوں کو اس طرح دیکھتے ہوئے بولے ۔
آپ کو مجھے تو بتانا چاہے تھا ۔۔۔۔میری بیٹی ہے ارانیہ ۔۔۔۔۔ مسسز مجید اس کا ماتھا چومتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں بولی اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے ۔
کوئی بات نہیں اب آپ نے ملا لیا ہے ۔۔یہ ہی بہت ہے میں نہیں چاہتا تھا کے سعد اب دوبارہ کبھی بھی ارانیہ سے ملے گا ۔۔۔ارانیہ سعد سے نہیں ملنا چاہتی اور بس ارانیہ کا ویزہ کا پروسس پورا ہونے والا ہے جلدی ہی ارانیہ یہاں سے چلی جائے گی ۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو مسسز مجید چپ سی کر گئی ۔
پر سعد ۔۔۔۔۔
جانتا ہوں دو دن گرز جانے دیں سعد بالکل ٹھیک ہو جائے گا اب وہ ارانیہ کو ڈیزرو نہیں کرتا میں نہیں چاہتا کے ارانیہ کبھی بھی دوبارہ اس سے ملے کس طرح اس نے ارانیہ سے بہیو کیا اس کے بعد تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔مجید چوہدری کا لہجہ سرد تھا ۔
آپ سے بھی اسی لیے ملنے دیا ہے کیونکہ آپ کی طبعیت دن با دن بھر خراب ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔
میں چلتا ہوں شام تک آپ کو لے جاؤں گا ۔۔۔۔مجید چوہدری اپنی مسسز سے بولے ۔
اور بچے آپ اہنا دھیان رکھنا کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو بتا دینا مجھے ۔۔۔۔مجید چوہدری ارانیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر مسکرائے اور پھر وہاں سے چلے گئے ۔
آنی میں آپ کے لیے کچھ لے کر آتی ہوں ۔۔. ارانیہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے بول کر جانے لگی تھی ۔
بیٹھ جاؤ ارانیہ ۔۔۔مجھ سے بات کرو بس ۔۔۔مسسز مجید اسے ساتھ لگائے ہوئے بولی تھی۔
ارانیہ سعد سے دور جانا چاہتی ہو۔۔۔۔؟؟ مسسز مجید اس سے باتیں کر رہی تھی کے اُنہوں نے ایک پل میں سعد کا ذکر کیا ۔
آنی ۔۔۔۔انکل نے بتایا آپ کو میں جا رہی ہوں یہاں سے بہت جلد سعد سے بہت دور ۔۔. ہیمشہ ان کے نام سے زندہ رہوں گی ۔۔۔پر اُن سے ملوں گی نہیں ۔۔۔۔
ارانیہ وہ تو اُنہوں نے کہا تم کیا چاہتی ہو. ۔۔؟ ؟
میرے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا آنی سعد نفرت کرتے ہیں مجھ سے ۔۔۔۔آپ جانتی ہیں انہوں نے کہا تھا کے میں چلی جاؤں گی تو اُن کو بہت خوشی ہو گی بہت خوش رہے گیے سکون ملے گا اَن کو ۔۔۔۔اور میرے لیے سعد کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ۔۔۔. ارانیہ اپنی بھگی پلکوں کو صاف کرتے ہوئے مسکرا کر بولی ۔
وہ تمہیں بہت ڈھونڈا رہا ہے ارانیہ پاگلوں کی طرح تمہاری ہر جگہ تلاش کر رہا ہے ۔۔۔۔
آنی… ٹھیک ہو جائے گے بہت جلد کوئی اور آ جائے گی اُن کی زندگی میں تو اَن کو سکون مل جائے گا اور وہ خوش رہنے لگے گے ۔۔۔ارانیہ بہت تحمل سے بولی تھی ورنہ اس کا دل بند ہونے کو تھا ۔
تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔۔۔۔
ان چھ ماہ میں بہت کچھ سکھ لیا ہے آپ کی بیٹی نے اکیلے جینا بھی ۔۔۔۔۔آپ کو معلوم ہے میں تو اب کھانا بھی بنا لیتی ہوں ۔۔۔۔ارانیہ ہنستے ہوئے بولی ۔
مسسز مجید اس کی طرف دیکھ رہی تھی جیسے آنکھوں کو پڑھنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔
کیا دیکھ رہی ہیں ایسے ۔۔۔۔۔
یہ ہی کے میری بیٹی نے بہت کچھ سکھ لیا ہے پر درد چھپنا نہیں سکھ پائی ۔۔۔مسسز مجید پھیکا سا مسکرائی ۔
بہت جلد وہ بھی سکھ لوں گی ۔۔۔ارانیہ مسکراتے ہوئے دل میں سوچ کر رہ گئی تھی پر بولی نہیں۔
آنی ایسا کچھ نہیں ہے آپ بھی نہ بیٹھ آپ میں آپ کے لیے رائس لے کر آئی میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہیں ۔۔۔ارانیہ مسسز مجید کی طرف دیکھتے ہوئے جلدی سے کچن کی طرف چلی گئی ۔
پاگل ہے پیدا نہیں کیا پر پالا تو اپنے ہاتھوں سے ہے میں نے اسے ۔۔۔۔۔۔ رگ رگ سے واقف ہوں میں ۔۔۔۔۔مسسز مجید سوچ کر رہ گئی تھی بولی کچھ نہیں ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
زمل کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور ابھی ابھی گھر ڈاکٹر اسے چیک کر کے گیا تھا ۔
پتہ نہیں کیا پاگل پن ہے زمل تمہارا یہ ۔۔۔۔ہادی زمل کے پاس بیٹھا تھا جس کو ڈاکٹر نے کہا تھا کے اسے کئیر کی ضرورت ہے اور اس کو کوئی بھی ٹینشن مت دیں ورنہ جان کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے ۔
ماما باپ کے بعد میرا واحد رشتہ ہو تم ۔۔ہر خواہش پوری کی ہے میں نے تمہاری ۔۔۔کاش یہ بھی پوری کر سکتا ۔۔۔سعد ۔۔۔
کہاں سے لا دوں تمہیں سعد ۔۔۔۔ہادی بیڈ کراؤں سے ٹیک لگا کر سوچ میں پڑ گیا تھا ۔
میں سعد سے بات کروں گا ضرور مان جائے گا کسی کی زندگی کے لیے تو ضرور مان جائے گا۔۔۔۔. ہادی خود سے ہی باتیں کر رہا تھا ۔
زمل کو ڈاکٹر نے نیند کا انجکشن دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ان سو رہی تھی ۔
ہادی نے اپنا فون سائیڈ ٹیبل سے اُٹھایا ۔
ہیلو سعد ۔۔۔۔؟؟
کیسا ہے تُو ۔۔۔؟ ؟ ہادی نے سعد کو کال کی ۔۔۔
سب ٹھیک ہے اتنا پریشان کیوں ہے ۔۔۔؟ ؟ ہادی سعد کو پریشان سا دیکھ کر بولا ۔
انٹی نہیں ہیں گھر تو انکل کے آفس چلا جا ۔۔. وہاں پتہ کر لے کہاں ہے ۔۔۔پریشان مت ہوں یہی کہی ہوں گی آفس جا کر معلوم کر کے ۔۔۔مل جائے گی ۔۔. ہادی سعد کو پریشان سا محسوس کرتے ہوئے بولا ۔
چلو ٹھیک ہے پھر بات ہو گی ۔۔۔۔سعد کو پریشان دیکھ کر ہادی نے بات نہیں کی ۔
مل کر کروں گا کیا کہتا ہے ۔۔۔ٹھیک ہو جائے گا سب ۔۔۔زمل کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا ۔
میں سب ٹھیک کر دوں گا سب ٹھیک کر دوں گا ۔۔۔۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
بابا کہاں ہیں ۔۔۔۔.سعد کو مسسز مجید گھر نہیں ملی تو وہ اُن کا پوچھنے کے لیے آفس آیا تھا ۔۔کیوں کہ ان کا فون بھی نہیں لگ رہا تھا ۔
سر کی میٹنگ ہیں وہ اندر ہیں، ۔۔۔وہاں کو سکٹری بولا تو سعد چپ چاپ اندر آفس کی طرف بڑھ گیا ۔
بابا بابا ۔۔۔۔ سعد مجید چوہدری کو آواز دیتے ہوئے اندر آیا پر وہاں مجید چوہدری نہیں تھے ۔
بابا کہاں گئے. ۔۔۔۔۔۔؟
شاید مٹنگ ہال میں ۔۔۔سعد ابھی بولتے ہوئے باہر جانے لگا تھا کے مجید چوہدری کا سیل فون رنگ ہوا ۔۔
سعد نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے فون کو ڈھونڈ کر دیکھ رہا تھا جس کی کال ہے ۔
یہ کون ہے۔۔؟, شاید کو لازمی ہو ۔۔۔۔۔۔سعد ان نو نمبر دیکھتے ہوئے کال اُٹھائی ۔
ہیلو انکل ۔۔۔۔اپ آج کھانا ہمارے ساتھ کھائے گیے میں نے اور آنی نے مل کر بنایا ہے ۔۔۔۔دوسری طرف سے آرانیہ کی مسکراتی آواز سن کر سعد کے دل کو سکون ملا ۔۔۔
ارانیہ ۔۔۔۔۔سعد بولا کچھ نہیں ۔۔بس اسے چپ چاپ سن رہا تھا جو اور بھی کچھ بول رہی تھی سعد کی آنکھیں سکون سے اور تشکر سے بند ہو چکی تھی ۔۔۔۔
سعد کو باہر قدموں کی آواز سنائی دی تو سعد نے جلدی سے فون کو دیکھتے ہوئے اس میں موجود نمبر کو یاد کیا تھا اور سیل فون کو جلدی سے واپس رکھ دیا اور خود دوسری طرف جا کر کھڑا ہو گیا ۔
مجید چوہدری اندر آئے تو ۔۔سعد کو دیکھ کر آئبر اوپر اُٹھا کر اسے دیکھا ۔
یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔؟ ؟
ماما کا پوچھنے آیا تھا بابا وہ گھر نہیں ہیں ۔۔۔۔آپ کو کال بھی کی ماما کو بھی کال کی ان کا سیل گھر میں تھا اور آپ کال اُٹھا نہیں رہے تھے ۔۔۔سعد اُن کی طرف دیکھتے ہوئے سیریس سا بولا ۔
ہممم تمہاری ماما کسی دوست کے گھر گئی ہے ان کی طبیعت نہیں ٹھیک اسی لیے ۔۔۔
کون سی دوست بتائے مجھے میں اُن کو پک کر لیتا ہوں ۔۔۔سعد ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
ن۔۔۔نہ۔۔۔نہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔میں خود لے آؤں گا اپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں جاؤ جا کر اوارا گردی کرو ۔۔۔. مجید چوہدری بول رہے تھے کے اُن کا سیل رنگ ہوا ۔
ہیلو ۔۔۔۔مجید چوہدری کو دیکھتے ہوئے سعد کو یقین ہو گیا تھا کے دوسری طرف اور کوئی نہیں ارانیہ ہی ہے ۔۔۔۔سعد کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ آئی ۔
آج تو تمہیں میں پوچھ لوں گا مس ارانیہ میرے ساتھ چیٹنگ کی آپ دونوں نے ۔۔۔سعد مجید چوہدری کو گھورتے ہوئے باہر نکل گیا ۔
ارانیہ بابا کے پاس ہے ۔۔۔۔ہممم ۔۔سعد سوچتے ہوئے شکر کر سانس لیا تھا ۔
کافی دیر وہی گاڑی میں بیٹھا رہا اور مجید چوہدری کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
دو گھنٹے بعد مجید چوہدری باہر آئے تھے ۔۔۔اور اپنی گاڑی لے کر وہاں سے نکلے سود نے بہت اختیات سے اپنی گاڑی ان کی گاڑی کے پیچھے لگائی ۔۔۔
فلیٹ کے پاس پہنچا کر سعد نے بلڈنگ سے دور اپنی گاڑی کھڑی کی. ۔۔اور مجید چوہدری کے پیچھے گیا ۔۔۔۔مجید چوہدری تو لیفٹ میں بیٹھ گئے ۔
تھریڈ فلور ۔۔۔سعد مسکرایا اور سیڑھیوں کے ذریعے جلدی جلدی اوپر کی طرف بھاگا ۔۔۔
فلیٹ کی ساری انفارمیشن لینے کے بعد وہ واپس آیا تھا ۔
بہت تڑپا لیا آپ نے مسس ارانیہ اب میری بھاری ہے ۔۔۔۔تو بابا نے اسے اس فلیٹ میں رکھا ہے یعنی مقیت انکل کے فلیٹ میں اور اس کی چابی مجھے اُنہی سے ملے گی ۔
سعد کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔آنکھوں میں پہلے جیسی خوشی بھی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
آپ اتنے لیٹ کیوں ہو گے تھے ۔۔۔مسسز مجید مجید چوہدری سے بولی جو کافی لیٹ آئے تھے ۔
آپ کے سپوت کو شک ہو رہا تھا مجھ پر اسی لیے آفس سے لیٹ نکلا ہوں ۔۔۔میرے افس پیچھ گیا تھا اپ کا پوچھتے ہوئے ۔۔۔۔
میری دعا ہے سعد ارانیہ تک پہنچ جاۂے ۔۔۔مسسز مجید مسکرا کر بولی ۔
آپ کو ابھی بھی بیٹے کی پرواہ ہے ۔۔۔
نہیں بالکل بھی نہیں مجھے دونوں کی پرواہ ہے ارانیہ کو میں نے بیٹیوں کی طرح پالا ہے اور میں جانتی ہوں ۔۔اسے سعد کی ضرورت ہے اس کے پیار کی ضرورت ہے ناراض ہے وہ سعد سے پر اسے سعد سے محبت ہے ۔۔۔مسسز مجید بولی تو مجید چوہدری چپ کر گے ۔
آپ کو پتہ ہے اس دن اگر مجھے ارانیہ نہ ملتی تو کیا ہوتا ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔مسسز مجید ان کے چہرے پر درد کی تحریر پڑھ سکتی تھی ۔
ارانیہ کو وہ درندے زندہ نوچ لیتے ۔۔۔۔وہ تو وقت پر میں وہاں سے گزر رہا تھا اپنی گاڑی میں اور ارانیہ کو دیکھ لیا ۔۔تو ارانیہ کو ہاسپٹل لے کر گیا ۔۔ارانیہ ایک ماہ ہاسپٹل رہی تھی ڈپریشن کی وجہ سے اس کے دماغ پر اثر ہوا تھا ۔۔۔مجید چوہدری نے تلخی ہنسی ہنستے ہوئے کہا ۔
آپ جانتی ہیں سعد نے کہا تھا وہ گھر چھوڑ کر چلی جائے، ۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کے ایک وہ ہی تو اس کا اپنا سب سے خاص ہے، ۔۔پھر آپ کیسے کہہ سکتی ہیں میں اپنی بیٹی اس کو دے دوں ۔۔۔. مجید چوہدری کی بات مسسز مجید کے دل کو لگی ہے ۔
اگر سعد کو ارانیہ مل گئی تو ۔۔
نہیں ملے گی کبھی بھی نہیں ملے گی اور نہ آپ بتائے گی اسے ۔۔۔
میں نہیں بتاؤ گی پر اگر پھر بھی اسے مل گئی تو کیا آپ اسے روکے گے یا ارانیہ کو روکے گے ۔۔۔۔
نہیں جیسا ارانیہ چاہے گی ویسا ہو گا ۔۔اور سعد میرا بیٹا ہے اس کی خوشی اور ارانیہ کی خوشی مجھے العزیز ہے ۔۔۔۔
چلے اللہ بہتر کرے گا چل کر کھانا کھا لے ہماری بیٹی نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ۔۔۔مسسز مجید بولی تو مجید چوہدری مسکرا دئے ۔
تینوں نے مل کر کھانا کھایا تھا آج اتنے دن بعد مسسز مجید کے چہرے پر خوشی تھی ۔۔پر مسسز مجید کو رہ رہ کر سعد کی یاد آ رہی تھی ۔۔۔ارانیہ کا اکیلا پن کھٹک رہا تھا ۔
ارانیہ آج دجی نہیں آئی ۔۔۔کھانا کھاتے ہوئے مجید چوہدری بولے۔۔دجی ارانیہ کے ساتھ رہتی تھی رات کو ۔
نہیں انکل وہ ان کی بیٹی کی طبیعت خراب ہے تو دو دن نہیں آنے والی وہ ۔۔پر آپ فکر مت کریں اکثر ہو نہیں آتی ۔۔ارانیہ ہلکے پھیلکے انداز میں بولی ۔
اوکے کچھ بھی پریشانی ہوئی تو مجھے کال کر لینا اور اپنا دھیان رکھنا اکیلی ہو تو آپ ۔۔۔مجید چوہدری بولے تو ارانیہ سر ہلا کر کھانا کھانے لگی ۔
دونوں کھانا کھا کر وہاں سے چلے گئے ۔
گھر پہنچے تو سعد سامنے ہی لاؤنچ میں بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔
کہاں تھے آپ دونوں یہ کوئی آنے کا ٹائم ہے ۔۔۔سعد ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
بیٹا میں تمہارا باپ ہوں تم میرے باپ نہ بنو ۔۔۔۔مجید چوہدری اسے گھور کر بولے ۔۔۔
ماما ۔۔۔. میں دوست کے گھر تھی پھر ہم دونوں باہر کھانا کھانے چلے گے تھے آگے بھی تم گھر نہیں ہوتے اسی لئے نہیں بتا سکے ۔۔۔مسسز مجید سعد کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
آج اَن کو سعد کچھ بدلہ اور فریش سا لگ رہا تھا ۔
چلے آپ آرام کریں میں باہر جا رہا ہوں ۔۔۔دوست کی طرف ۔۔. سعد کہتے ہوئے سامنے پڑی کیز اُٹھا کر جانے لگا ۔
کہیں برے دوستوں میں بیٹھ کر شراب تو نہیں پینا شروع کر دی ۔۔۔۔مجید چوہدری نے جاتے جاتے طنز کیا ۔
ابھی تو نہیں کیا ایسا کام پر اگر آپ کی بیٹی نہ ملی تو انقریب ایسا کام بھی شروع کر دوں گا ۔۔۔۔سعد مڑے بینا بولا ۔
سعد ۔۔۔مسسز مجید نے تڑپ کا اس کی طرف دیکھا ۔
ہاہاہاہا ماما آپ کی بیٹی نے مجھے بہت سزا دی ہے اب اگر وہ نہ ملی تو میں خود کو بہت بری سزا دوں گا بہت بری ختم کر لوں گا خود کو ۔۔۔۔سعد بول کر روکا نہیں تھا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
مسسز مجید اور مجید چوہدری پیچھے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گے ۔۔۔دونوں کے چہرے پر فکر اور پریشانی آ گئی تھی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
ارانیہ کے ساتھ آگے دجی ہوتی تھی اور آج ارانیہ بالکل اکیلی تھی فلیٹ میں ۔۔۔
ڈرتے ڈرتے جا کر کمرے کی لائٹ بند کرتے ہوئے جلدی سے اپنے بلکیٹ میں گھس گئی ۔
اللہ پلیز مجھے ڈر نہ لگے ۔۔۔۔خوفزدہ سی آنکھوں کو بند کئے ۔۔۔کلمہ پڑتے ہوئے سونے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
کیا مصبیت ہے اکیلے نیند بھی نہیں آتی ۔۔۔ارانیہ انہی سوچو میں تھی کے اسے محسوس ہوا کے کوئی فلیٹ کے اندر داخل ہوا ہے ۔۔۔ارانیہ خوفزدہ سی دروازے کو بس دیکھ کر رہ گئی ۔
اللہ جی یہ میرا وہم ہے نہ بس ۔۔۔۔۔۔ارانیہ دل میں بڑبڑاتے ہوئے بستر سے اُٹھی تھی ۔۔۔۔
اندھیرے میں لائٹ کو جلائے بغیر روم کا دروازہ کھولا اور باہر کی طرف دیکھا لاونچ میں ہر طرف پر کوئی نہیں تھا ڈرتے ڈرتے کچن میں بھی دیکھ کر آئی پر کوئی نہیں تھا باہر کا دروازہ بھی بالکل بند تھا ۔
یہ میرا وہم ہی ہو گا ۔۔۔ارانیہ خود کے دل کو تسلی دیتے ہوئے جلدی سے اندر روم میں داخل ہو کر دروازے کو لاک لگا کر بستر کی طرف جاتی کسی نے اسے پیچھے سے پکڑ لیا ۔
شششششش آواز نہیں ۔۔۔۔ارانیہ کی کمر کو اپنے سینے سے لگائے اس کے کان میں بولتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا ہوا تھا ۔۔
ارانیہ جو خوف کے زیر اثر بالکل ہی گونگی ہو چکی تھی ۔
ک۔۔۔کو۔۔۔کون ہو تم ۔۔۔. ارانیہ خوف زدہ سی ممنائی ۔
میں جن ہوں ۔۔۔۔سعد جو فلیٹ میں داخل ہوا تھا ۔۔اس کے روم میں داخل ہو کر اب اسے خود کے سینے کے ساتھ لگائے کھڑا ۔۔۔اس کی خوشبو کو اتنے دن بعد محسوس کر رہا تھا ۔۔
پلیز مجھے کچھ مت کرنا ۔۔۔ ارانیہ خوفزدہ ہو چکی تھی ۔۔
سعد کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیری تھی ۔
سعد ۔۔۔۔. ارانیہ ایک دم سے سعد سے پیچھے ہوتے ہوئے چلائی ۔
لائٹ کے اندھیرے میں وہ سعد کا چہرا بھی نہیں دیکھ پا رہی تھی ۔
کون سعد ۔۔۔سعد نے اپنی آواز بدلی تھی ۔۔
آپ سعد ہیں ۔۔۔۔۔آپ سعد ہیں ۔۔۔میں آپ کی خوشبو تک محسوس کر سکتی ہوں ۔۔۔ارانیہ کا خوف پل میں ہوا ہوا ۔
میں نے تو خوشبو چینج کی تھی ۔۔۔سعد کے لہجے میں مسکراہٹ تھی ۔
کیوں آئے ہیں یہاں بتائے کیوں آئے ہیں ۔۔۔ارانیہ کو اندھیرے میں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا اسی لیے چلائی ۔۔
سعد نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا۔۔۔۔۔
ششش محسوس کرنے آیا ہوں آپ کو ۔۔۔محسوس کرنے ۔۔۔میرا سکون برباد کر دیا آپ نے ارانیہ سکون لینے آیا ہوں آپ کے پاس سکون لینے ۔۔۔۔۔سعد اسے کمر سے تھامے اپنے ساتھ لگا کر اس کے بالوں میں منہ چھپائے کہہ رہا تھا ۔
کوئی حق نہیں رکھتے آپ مجھ پر کوئی حق نہیں ہے آپ کا نفرت ہے آپ کو مجھ سے مر گئی ہے ارانیہ مر گئی تھی جائے یہاں سے ۔۔۔ارانیہ اس کی باہو میں پڑپڑا رہی تھی اسے سے اپنا آپ چڑانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
آج کہہ دیا آئندہ مت کہنا ۔۔۔بہت ترپا ہوں میں پل پل پر لمحہ سنا آپ نے آئندہ مرنے کی بات کی تو میں بھی مر جاؤ گا سچ میں ۔۔۔۔سعد اسے خود میں بھچے بولا ۔۔
ارانیہ نے محسوس کیا تھا سعد کا لہجہ نم ہے ۔
آپ بہت برے ہیں سعد بہت برے جائے یہاں سے ۔۔۔ارانیہ اسے خود سے دور کرتے ہوئے چیخی ۔
آپ کو خوش ہونا چاہے سعد خوش ہو جائے جائے بس یہاں سے کچھ سب بس کچھ دن بہت دور چلی جاؤں گی میں آپ سے اتنی دور چاہ کر بھی آپ مجھے ڈھونڈ نہیں پائے گے ۔۔۔۔ارانیہ پیچھے ہوتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔۔
کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ارانیہ پیچھے ہوتے ہوئے بیڈ پر جا کر گری ۔
آپ کی بھول ہے ارانیہ آپ مجھ سے دور جا سکتی ہیں ۔۔۔۔اب آپ مجھے مل چکی ہیں اب آپ مجھ سے دور نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔سعد ارانیہ پر جھکا سرد سے لہجے میں بولا تھا ۔۔
ارانیہ کو سعد کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی ۔۔سعد کو خود کے اتنا قریب محسوس کرتے ہوئے ارانیہ خوف سے آنکھوں کو بند کر گئی ۔
مجھے طلاق چاہے سعد ۔۔۔۔ارانیہ بڑبڑائی ۔
کیا بکواس کی آپ نے ۔۔۔۔؟؟
طلاق چاہے ۔۔۔سعد اس کے چہرے مٹھیوں میں دوچے اس کے چہرے پر پھینکا ۔
شکر کریں اس وقت میں غلطی پر ہوں ورنہ یہ بات کہنے پر میں آپ کو جان سے مار دیتا ۔۔،
ہاہاہاہا کیسے دوغلے انسان ہیں سعد آپ ۔۔۔کل آپ بھری محفل میں مجھے طلاق دے رہے تھے ۔۔۔۔۔
غصے میں تھا ارانیہ میں ۔۔۔سعد بیڈ کی طرف ہوتے ہوئے ارانیہ کو اپنی طرف کھینچا کر اپنے حصارِ میں کر گیا ۔
اور اگر اس دن آپ مجھے طلاق دے دیتے تو ۔۔۔۔
نہیں دیتا کبھی بھی نہیں دیتا ایسا نہیں ہوسکتا ارانیہ صرف اور صرف سعد چوہدری کی ہے ۔۔۔۔سعد اسے خود میں بھیچے کان میں سرگوشی نما بول رہا تھا ۔
نہیں ہوں نہیں ہوں آپ نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے سعد بہت زیادہ ۔۔۔۔۔۔ارانیہ روتے ہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اس سے دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی پر ہو نہیں پا رہی تھی ۔
کب روتے روتے شکائتیں کرتے سعد کے حصار میں سو گئی ۔۔۔۔سعد اس کے بالوں میں ہاتھ چلا رہا تھا ۔۔۔۔ارانیہ نیند میں بھی سسکی لے رہی تھی ۔
ایم سوری میری جان بہت برا ہوں بہت برا ۔۔۔سعد اسے خود میں بھیچے اس کے بالوں پر لب رکھے بولا ۔
Episode 13
ارانیہ جب صبح اُٹھی تو ۔۔۔۔۔ اس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔
رات کو سب میرا حیال تھا. ۔۔۔۔۔تھکے سے اندازہ میں سر کو تھامے خود سے ہی بولی ۔
پاگل ہو رہی ہوں شاید میں اکیلے رہ رہ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ آنکھوں کو موندے پھر سے لیٹ گئی ۔
وہ سعد نہیں تھے کوئی نہیں تھا میرے پاس ۔۔۔سعد کیسے آ سکتے ہیں یہاں جب اُن کو تو مجھ سے نفرت ہے ۔۔۔ارانیہ تلخ ہنستے ہوئے بولی ۔
کیوں آ رہے ہیں میرے حیالوں میں بھی آپ کیوں ۔۔۔۔ارانیہ سوچتے ہوئے اُٹھی تھی اور فریش ہو کر باہر نکلی ۔۔۔
سر گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔کچن کی طرف گئی تو وہاں ناشتہ پہلے سے ہی بنا پڑا تھا اور اوپر اسے کورا کیا ہوا تھا ۔۔۔۔
سوری لیٹ ہو رہا تھا ورنہ ساتھ بریک فاسٹ کرتے ۔۔۔رات کو تیار رہنا واپس گھر جانا ہے ۔۔۔ارانیہ نے ساتھ پڑی چٹ کو اُٹھا کر دیکھا جو سعد رکھ کرگیا تھا ۔
اور جب کور پیچھے کیا تو اس کے پسندیدہ سینڈوچ اور توس تھے وہاں ۔۔۔اور چائے بھی بنا کر کور کر دی تھی سعد نے۔
تو وہ سب سچ تھا سعد سچ میں ساری رات میرے پاس تھے ۔۔۔. ارانیہ سامنے پڑے ناشتے اور ہاتھ میں پڑی چٹ کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی ۔
کیا چاہتے ہیں اب سعد ۔۔۔۔ارانیہ تھکی سی وہی سامنے چئیر پر بیٹھ کر ناشتے کو گھور کر دیکھ رہی تھی ۔
انکل کو بتاؤں ۔۔۔۔آنی کو ۔۔۔۔۔اب سب کے پیچھے کیا مقصد ہو سکتا ہے سعد کا یا وہ ٹھیک ہو چکے ہیں، ۔۔۔۔۔۔ارانیہ سر کو ہاتھوں میں گرائے بے زار سا خود سے بولی ۔
ارانیہ نے ناشتہ کئے بغیر ہی سیدھا پہلے مسسز مجید کو کال کی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کے مجید چوہدری بھی گھر ہوں گے اس وقت ۔۔
السلام علیکم آنی ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں بس آپ کو ایک بات بتانی تھی ۔۔۔۔ارانیہ اُٹھا کر باہر آتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی ۔
جی بچے بولو سب ٹھیک ہے ۔۔۔؟ ؟ مسسز مجید کو تھوڑی پریشانی ہوئی ۔
سب ٹھیک ہے آنی ۔۔۔۔۔پر ۔۔
پر کیا ۔۔؟؟
آنی سعد رات کو آئے تھے یہاں ۔۔ان کو معلوم ہو چکا ہے کے میں یہاں ہوں ۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں معلوم انہوں نے فلیٹ کی کیز کہاں سے لی پر ۔۔۔۔۔پر وہ یہاں آئے تھے۔۔۔صبح میرے اُٹھنے سے پہلے چلے گئے تھے اور چیٹ رکھ کر گئے ہیں کے رات کو لینے آئے گے ۔۔۔۔۔۔
آپ کیا چاہتی ہیں ارانیہ ۔۔۔۔؟
آنی م۔۔۔م۔۔۔۔میں ۔۔۔۔ارانیہ ان کی بات سن کر اٹک سی سی گئی ۔
سعد منائے گا تو مان جانا ارانیہ ۔۔۔۔باقی جو آپ کو بہتر لگے ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔۔۔ جیسا بھی آپ چاہو گی ویسا ہی ہو گا ۔۔۔۔۔مسسز مجید بولی ۔
جی بہتر ۔۔۔۔
چلو ریسٹ کرو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔اپنا حیال رکھنا ۔۔۔مسسز مجید کہہ کر فون رکھ گئی ۔
کیا میں سعد کا ساتھ چاہتی ہوں ۔۔۔مجھے اَن سے محبت ہے کیسے رہ پاؤ گی میں سعد کے بغیر ۔۔۔۔۔ارانیہ رو دینے کو تھی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
کیا بات ہے ۔۔۔؟ ؟ مجید چوہدری جو کیسی فائل ہر کام کر رہے تھے اپنی بیوی سے بولے ۔
سعد کو ارانیہ کا پتہ چل چکا ہے،، ۔۔مسسز مجید بولی تو مجید چوہدری بالکل بھی نہیں چونکے تھے، ۔۔
ہمم جانتا ہوں ۔۔۔۔۔مجید چوہدری نے کام کرتے ہوئے ان کو بتایا ۔
آپ کو کیسے معلوم ہوا ۔۔۔؟مسسز مجید چونکی ۔
معقیت کی کال آئی تھی کے سعد اس سے فلیٹ کی کیز لینے آیا ہے رات کو ہی بتایا اس نے ورنہ ۔۔، تو میں پہلے ہی جان جاتا ۔
کیا مطلب ۔۔
ارانیہ میرے دوست معقیت کے فلیٹ میں ہے اور سعد اس کے پاس فلیٹ کی کیز لینے گیا تھا ۔۔۔۔
تو اب آپ کیا چاہتے ہیں ۔۔۔۔؟؟
میں تو وہی چاہتا ہوں جس میں سعد اور ارانیہ کی خوشی ہو اور اگر ارانیہ سعد کو معاف کر دیتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔ مجید چوہدری بولے تو مسسز مجید مسکرا دی ۔
یہ بہت اچھا ہے ۔۔۔۔۔ارانیہ ضرور مان جائے گی میری بیٹی بہت محبت کرتی ہے سعد سے ۔۔۔۔مسسز مجید خوش ہوتے ہوئے بولی ۔
چلے اچھا ہے کے وہ مان جائے ۔۔۔۔
سعد کی عقل تو ٹھکانے آئی ۔۔۔مسسز مجید بولی ۔
معلوم نہیں آئی ہے کے نہیں ۔۔۔۔۔مجید چوہدری کام کرتے ہوئے بولے ۔
سب ٹھیک ہو جائے گا اب اللہ ہی ہے سعد کچھ غلط نہ کرے ۔۔۔۔مسسز مجید گہرا سانس لیتے ہوئے سوچ کر رہ گئی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
بھائی میں نے بریانی بنائی ہے آج سعد آنے والے ہیں نہ ۔۔۔زمل ہادی کو دیکھتے ہوئے بولی اپنی ہی سوچ میں گم تھا ۔
ہممم پتہ نہیں آتا ہے کہ نہیں مجھے نہیں معلوم ۔۔۔۔۔ہادی کا لہجہ بے زاریت لیے ہوئے تھا ۔۔زمل کی بدلتی حالت اور سعد کے لیے اتنا ہوزیسس ہونا اسے اندر ہی اندر پریشان کر رہا تھا ۔
تو سعد کو کال کریں اور کہے آ جائے زمل نے ان کے لیے سارا ڈنر تیار کر لیا ہے ۔۔۔۔زمل بول کر کچن کی طرف گئی ۔
بھائی میں کچھ میٹھے کے لیے بھی بنا لوں آپ ان کو کال کر کے بولے کے جلدی آ جائے ۔۔۔زمل کچن میں سے آواز دے کر بولی تھی ۔
ہادی نے ضبط سے لب بھیچ لیے ۔
کیا مصیبت ہے کیا کروں ایسا کے سعد مان جائے ۔۔۔۔ہادی سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔
سعد کو کال کرتا ہوں ابھی تو آ جائے ۔۔۔۔ہادی نے سعد کو کال کی تھی جو تین چار رنگ کے بعد اُٹھا لی گئی تھی ۔
ہیلو ہیلو کیسے ہو سعد ۔۔۔۔میں بھی ٹھیک ہوں تم سناؤ ۔۔۔۔
ہاں سب ٹھیک ہے بس تُو گھر آ جا زمل نے تمہارے لئے کھانا بنایا ہے اور وہ تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔۔ہادی بول تھا ۔
یار میں ضرور آ جاتا ابھی مجھے میری جان کو منانے جانا ہے ۔۔۔۔سعد بولا تو ہادی نے حیرت سے فون کو دیکھا جیسے وہ سعد ہو ۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔؟
یار تم سب کی دعاؤں سے ارانیہ مل چکی ہے اور الحمد للہ وہ بالکل سیف ہے۔۔۔۔۔۔۔.. سعد کے لہجے میں جوش اور خوشی تھی ۔۔
کیا ۔۔۔۔مل گئی ۔۔۔۔ہادی کا لہجہ دھمیا ہوا.
ہاں دعا کرنا اب جلدی ہی مان بھی جائے ۔۔۔۔اچھا چل میں اسی کے پاس جا رہا ہوں پھر کسی دن چکر لگاؤ گا ۔۔۔سعد کے نے کہتے ہوئے کال بند کر دی ۔
بھائی سعد سے بات کر رہے تھے کیا کہتے ہیں وہ ۔۔۔؟؟ زمل باہر آ کر بولی ۔
کہہ رہا تھا نہیں ا سکتا ضروری کام ہے ۔۔۔۔ہادی نے زمل کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا تھا جس کے چہرے کے تاثرات پل میں بدلے تھے ۔
کیوں نہیں آ سکتے وہ کون سا ضروری کام ہے ۔۔۔۔۔زمل کا لہجہ جنون لیے ہوئے تھا ۔
زمل ریلکس بچے ۔۔۔۔ضروری کام ہے آپ کھانا لگاؤ ہم دونوں مل کر کھائے گے پھر آپ میڈیسن بھی لو گی ۔۔۔۔
نہیں کھانا مجھے کھانا اور نہ کوئی میڈیسن لینی ہے سنا آپ نے ۔۔۔۔زمل غصے سے بولتے ہوئے روم کی طرف چلی گئی ۔
زمل بچے سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔. ہادی اس کے پیچھے جا کر کمرے کے باہر کھڑا پریشانی سے بولا۔
نہیں بھائی مجھے سعد چاہے چاہے چاہے ۔ان کے لیے مجھ سے اہم کوئی بھی چیز یا شخص نہیں ہونا چاہے ورنہ آپ کی زمل مر جائے گی سن آپ نے بھائی سمجھ لے اور سن لے مجھے سعد چاہے ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔۔. زمل کی روتی ہوئی آواز باہر سنائی دی تھی ۔
ہادی بے بسی سے بس دروازے کو دیکھ کر رہ گیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سعد سیدھا ارانیہ کے پاس فلیٹ میں آیا تھا ۔۔۔۔
جب اندر آیا تو دیکھا کچن میں صبح کا ناشتہ جو وہ رکھ کر گیا تھا ویسے کا ویسے ہی پڑھا ہوا تھا ۔۔۔۔
ارانیہ ۔۔۔۔سعد کی آواز سن کر جب ارانیہ باہر آئی تو سعد باہر لاؤنچ کے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا ۔
یہ آپ کے لیے لے کر آیا ہوں ۔۔۔۔سعد نے ایک چھوٹا سا سفید کالر کا ہیپی آرانیہ کے سامنے ٹیبل پر رکھا تھا جیسے دیکھ کر اس کے زرد چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی ۔۔پر اس نے جلدی ہی اسے چھپا لیا اور یہ سب سعد نے دیکھا تھا ۔
سعد مسکرا دیا بولا کچھ نہیں ۔۔
ارانیہ نے آگے بڑھ کر پیپی کو گود میں اُٹھا لیا ۔
چلے گھر ۔۔۔راستے میں کھانا بھی کھائے گیے اور ناشتہ کیوں نہیں کیا آپ نے ۔۔۔۔سعد اسے کی طرف دیکھتے ہوئے گھور کر بولا ۔
سعد ایسے بہیو کر رہا تھا کہ جیسے ان کے درمیان کچھ ہوا ہی نہیں تھا ۔
میری مرضی نہیں تھا میرا دل تو نہیں کھایا۔۔۔۔۔۔ ۔ارانیہ نے اسے تڑ کر جواب دیا اور پیپی سے پیار کر رہی تھی جیسے اس کے علاوہ کوئی اہم نہ ہو ۔
بات سننے یہ میں نے آپ سے چھن لینا ہے اگر مجھے اس کے لیے اگنور کرنے کی کوشش کی تو ۔۔۔۔۔سعد ارانیہ کو پیپی کے ساتھ مصروف دیکھ کر بولا ۔
ارانیہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا بولی کچھ نہیں ۔
چلو کھانا کھانے جاتے ہیں، ۔۔سعد نے خود کو غصہ کرنے سے باز رکھا تھا ۔
مجھے بھوک نہیں ہے میں کھا چکی ہوں ۔۔۔
کیا کھایا ہے ۔۔۔گھر میں تو کچھ بھی نہیں بنا ۔۔۔
کل کی بریانی پڑی تھی وہی کھا لی میں نے ۔۔۔۔۔اور اب آپ جائے یہاں سے میں آپ کے کسی بھی سوال کی جواب دے نہیں ہوں ۔۔۔۔ارانیہ غصے سے بول کر وہاں سے جانے لگی تھی ۔
مجھے پورا پورا حق ہے آپ ہر ارانیہ ۔۔۔۔۔سعد جو اس کے سراپے میں کھو رہا تھا آج اتنے دن بعد وہ اس کے روبرو تھی ۔۔۔رنگ پیلا زرد ہو رہا تھا اور آنکھوں کے نیچے خلقے واضع کہیں راتوں کو نہ سونے کی چغلی کر رہے تھے ۔۔۔
آپ کا کوئی حق نہیں ہے آپ اس دن ہی مجھ پر ہر حق کھو چکے تھے سعد جس دن آپ نے مجھے بھری محفل میں صرف اپنی انا اور بے اعتباری کی وجہ سے طلاق دینی چاہی تھی ۔۔۔۔
آپ نے ایک دفع بھی نہیں سوچا کے ارانیہ کا کیا ہو گا وہ جیتے جی مر جائے گی ۔۔۔نہیں سعد آپ کو اپنی انا کی پرواہ تھی بس اپنی انا ۔۔۔۔ارانیہ جاتے ہوئے مڑ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے چیخی تھی ۔
ارانیہ نے پیپی کو نیچے رکھا دیا ۔
ارانیہ پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔۔ارانیہ کو تھام کر اپنے قریب کر چکا تھا ۔
سعد ۔۔مجھے کچھ بھی نہیں سمجھنا سنا آپ نے کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔۔ ارانیہ اس کا حصار توڑنے کی کوشش میں تھی پر سعد کی گرفت سخت تھی ۔
ارانیہ میں کیا کرتا سب ہی میرے خلاف ہو چکے تھے آپ بھی میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی میرا مائنڈ بالکل بھی کام نہیں کر رہا تھا اور یہ سب ہو گیا مجھ سے پلیز میں آپ سے معافی مانگتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔سعد اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکا کر نم لہجے میں بولا ۔
ارانیہ نے لب بھیچ لیے تھے ۔
کہیں آنسو سعد کی آنکھوں سے بہہ کر ارانیہ کے چہرے پر گرے تھے ۔۔۔
ارانیہ نے بند آنکھوں کو کھول کر اس کی طرف دیکھا ۔
سعد ۔۔۔۔
ارانیہ میں بہت شرمندہ ہوں ان چھ ماہ میں پل پل ہر لمحہ میں تڑپا ہوں آپ کے لیے ۔۔۔۔۔۔ کوئی ایسا لمحہ نہیں تھا جب میں نے خود کو کوسا نہ ہو ۔۔۔۔ سعد کہتے ہوئے نیچے زمین پر ارانیہ کے قدموں میں بیٹھ گیا ۔
سعد کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔ارانیہ سعد کے جڑے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی ۔
ارانیہ ۔۔۔مجھے معاف کر دو ۔۔۔سعد اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑا ہو گیا تھا ۔
پلیز سعد ۔۔۔۔میں نے آپ کو معاف کیا ۔
ارانیہ آنکھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے سعد کو بولی ۔
گھر چلے ۔۔۔؟؟ سعد کا لہجہ التجائیہ ہوا ۔
مجھے نہیں جانا سعد ۔۔۔۔میں آپ کی خوشی چاہتی ہوں ۔۔۔اور میں جانتی ہوں مجھ سے دوری ہی آپ کی خوشی ہے ۔۔۔ارانیہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پیچھے قدم لیتے ہوئے بولی ۔
آپ میرے ساتھ چل رہی ۔۔۔۔آپ رخصتی نہیں چاہتی نہیں ہو گی رخصتی ۔۔۔۔جیسا آپ چاہے گی ویسا ہی ہو گا ۔۔۔۔سعد اس کو قریب کھنچ کر اسے کے دونوں گالوں پر ہاتھ رکھ کر پیار بھرے لہجے میں بولا ۔
سعد ۔۔۔۔
چلیں پہلے مجھے اپنے ہاتھ کی بریانی کھلا دیں ۔۔۔آپ نے بنائی ہے میں جانتا ہوں ۔۔۔سعد اس کی طرف کہتے ہوئے نرم پڑا تھا ۔
پھر گھر چلے گئے ۔۔۔۔سعد کہتے ہوئے ارانیہ کا ہاتھ تھام کر اسے کچن کی طرف لے گیا ۔
فریج سے بریانی نکالتے ہوئے ارانیہ سے باتیں کر رہا تھا ۔
خوشبو تو بہت مزے کی ہے ۔۔۔سعد ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو چپ سی وہاں کھڑی تھی ۔
ارانیہ ۔۔۔۔
ج جی ۔۔۔۔
گھر چلے ۔۔۔۔؟
سعد آپ مجھے دوبارہ مجھ پر شک تو نہیں کریں گے ۔۔۔۔؟ ارانیہ کا لہجہ بھگا ہوا تھا ۔
نہیں بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔مر جاؤ گا پر شک نہیں کروں گا ۔۔۔۔ سعد اس کو ساتھ لگا گیا ۔
میں تیار ہوں رخصتی کے لیے پر سعد اب کی دفع کچھ ایسا مت کیجئے گا کے آپ کی ارانیہ اندر سے ٹوٹ جائے ۔۔۔۔ارانیہ سعد کے ساتھ لگی روتے ہوئے ہوئے بولی ۔
جی میری جان کچھ بھی ایسا نہیں کروں گا کچھ نہیں ۔۔۔سعد اسے ساتھ لگائے پیار بھرے انداز میں بولا ۔
پھر دونوں نے کھانا کھایا اور گھر کے لیے نکل گے تھے ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سعد ارانیہ نہیں آئی سعد اندر اکیلا داخل ہوا تو مسسز مجید اس کی طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولی۔
نہیں ماما وہ نہیں رہنا چاہتی میرے ساتھ ۔۔۔۔سعد ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔
کیا مطلب ۔۔۔مسسز مجید پریشان ہو چکی تھی ۔۔۔
کچھ نہیں ماما ۔۔۔
پریشان تو مجید چوہدری بھی ہو چکے تھے اُن کو لگا تھا اب سب ٹھیک ہو جائے گا پر یہ سب ۔
سعد وہاں اکیلی ہے ارانیہ ۔۔۔۔۔
سعد ابھی کچھ کہتا ارانیہ ایک چھوٹے سے پیپی کے ساتھ اندر داخل ہوئی ۔
جو آگے آگے اور ارانیہ پیچھے پیچھے تھی ۔
یار ارانیہ ابھی تو ایموشنل سین شروع ہوا تھا ۔۔۔۔آپ انتی جلدی آ گئی ۔۔۔سعد بولا تو مسسز مجید اور مجید چوہدری نے سعد کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔
سوری وہ یہ اندر بھاگ آیا ۔۔۔ارانیہ اسے ہاتھوں میں تھام کر پیار کرتے ہوئے بولی ۔
میرا بچہ آ گیا ہے ۔۔۔مسسز مجید آگے بڑھ کر ارانیہ کو اپنے ساتھ لگا کر بولی ۔
آنی ۔۔۔یہ بھی میرا ساتھ آیا ہے سعد نے مجھے گفٹ لے کر دیا ہے ۔۔۔۔۔ ارانیہ بچوں سی خوشی لیے بولی ۔
جی بیگم ۔۔۔یہ میں نے چھ ماہ پہلے آڈر دے رکھا تھا ہر آپ گم گئی تھی ورنہ بہت پہلے دے دیتا میں ۔۔۔۔سعد پیپی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جس پر ارانیہ مسکرا دی ۔
جو بھی ہے کیوٹ ہے نہ آنی ۔۔۔
جی بالکل ۔۔۔میں تو ڈر ہی گئی تھی ۔۔۔مسسز مجید ارانیہ کو ساتھ لگائے خوش ہوتے ہوئے بولی ۔
مجید چوہدری کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی ۔
اب رخصتی کی تیاری کریں آپ کی بیٹی مان گئی ہے ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔
سعد ۔۔۔۔مجید چوہدری غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولے ۔
ارانیہ چاہتی ہے ایسا، پھر ہم دونوں یونیورسٹی سٹارٹ کریں گے ۔۔۔سعد ہنستے ہوئے بولا تو سب ہی مسکرا دئے ۔
ہمم ارانیہ کی مرضی ہے تو پھر اور تو اور ارانیہ یونیورسٹی بھی جائے گی ۔۔۔
جی بابا جائے گی ۔۔۔۔سعد ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو سر کو جھکائے شرما رہی تھی ۔
تب ہی سعد کا فون رنگ ہوا ۔۔۔۔
کیا بات ہے ہادی سب ٹھیک ہے ۔۔۔کیا۔۔؟ میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔سعد دوسری طرف کی بات سن کر بولا ۔
کیا بات ہے سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔مجید چوہدری پریشانی سے بولے ۔
جی بابا ہادی کی بہن کی طبیعت نہیں ٹھیک میں ہاسپٹل جا رہا ہوں ہادی کے پاس ۔۔۔سعد بولا ۔
اوکے دھیان سے جاؤ اگر کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو ہمیں بتا دینا ۔۔۔
جی ضرور اب میں چلتا ہوں ۔۔۔سعد ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے سمائل پاس کرتے ہوئے ایک آنکھ دبا کر بولا کر وہاں سے نکل گیا ۔
ارانیہ پیچھے سے مسکرا دی ۔
اچھا لڑکا ہے ہادی اس دن ہادی نہ ہوتا تو سعد میرا ۔۔۔مسسز مجید بولتے ہوئے چپ کر گئی ۔
اللہ ہمارے بچے کو اپنی. حفاظت میں رکھے ۔۔۔مجید چوہدری بولے تو سب نے دل سے دعا کی تھی ۔
ارانیہ آپ آرام کر لو روم میں جا کر ۔۔۔۔۔ اسے بھی لے جاؤ ۔۔۔۔۔ مسسز مجید بولی تو ارانیہ سر ہلا کر وہاں سے چلی گئی ۔
اللہ کا شکر ہے سب ٹھیک ہو گیا ۔مسسز مجید کہتے ہوئے مسکرا دی ۔
یہ جانے بغیر کے وقت کیا فیصلہ کر کے بیٹھا ہے ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s, ![]()
کیا ہوا ہے زمل کو ۔۔۔۔۔؟؟ سعد ہاسپٹل بھاگتے ہوئے آیا تھا جہاں پہلے ہادی کھڑا تھا ۔
پتہ نہیں یار گر گئی تھی تو میں اسے یہاں لے آیا ۔۔ابھی ڈاکٹر چیک کر رہے ہیں اسے اس نے ٹینشن لی ہے ۔۔۔۔ہادی پاس ہی بیچ پر پریشان سا بیٹھے ہوئے بولا ۔۔۔
میڈیسن نہیں لی ہو گی اس نے کہا بھی نہ میڈیسن مت چھوڑنا ۔۔پر یہ لڑکی مجھے تنگ کرتی ہے ضد میں آ کر کرتی ہے سب۔۔۔۔ہادی پریشانی سے بولا ۔
کس چیز کی میڈیسن ۔۔۔؟؟ سعد بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
زمل کو ہارٹ کا پرابلم ہے اور روزانہ زیادہ بڑتا جا رہا ہے پر یہ لڑکی بالکل بھی اختیایت نہیں کر رہی،، ۔ہادی پریشان سا دیوار کے ساتھ سر ٹکا گیا ۔
سو سیڈ یار اللہ اسے سخت دے ۔۔۔۔۔۔
سعد ۔۔۔۔۔۔تجھ سے کچھ مانگو ۔۔۔؟
ضرور یار دوست نہیں بھائی ہے تَو میرا ۔۔۔۔۔۔سعد اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ۔
جی آپ پیشنٹ کے ساتھ ہیں ۔۔۔؟ تب ہی ڈاکٹر باہر آیا تھا ۔
جی ہم ہی ہیں. ۔۔۔ہادی بولا ۔
آپ کیا لگتے ہیں اس کے ۔۔۔۔؟؟
جی میں بھائی ہوں اس کا سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔؟ ؟ ہادی کے لہجے میں پریشانی تھی ۔
جی سب ٹھیک ہے پر ۔۔۔اب آپ کو اختیایت کی ضرورت ہے ان کی طبیعت بھگڑ رہی ہے ان کو ایسا کوئی دُکھ نہ دیں جس سے ان کی حالت اور بھی خراب ہو ۔۔۔۔ڈاکٹر ان کی طرف دیکھتے ہوئے بول کر وہاں سے چلا گیا ۔
کیا بہت سیریس ہے زمل ۔۔۔۔سعد کو سب سن کر افسوس ہوا ۔
ہاں بہت زیادہ ۔۔۔دل میں لے لی ہے اس نے ایک بات۔۔۔۔ہادی دوبارہ وہی بیٹھ گیا ۔
کیا مطلب کون سی بات ۔۔۔؟
اسے کسی سے محبت ہو گئی ہے ۔۔۔۔ہادی کے لہجے میں بے بسی تھی ۔
میں اس کی آنکھوں کو پڑھنے لگا ہوں ۔۔۔۔۔وہ پاگل ہو رہی ہے سعد ۔۔۔وہ مر جائے گی اگر ایسے ہی رہی تو ۔۔۔۔
آج تجھے اسی سلسلے میں بلایا ہے میں نے ۔۔۔
کیا بات ہے کون ہے وہ بتاو تو ہم بات کرتے ہیں اسے سے کیا پتہ وہ مان جائے ۔۔۔۔سعد نے ہادی کو بے بس دیکھ کر کہا ۔
نہیں مانے گا ۔۔۔۔ہادی تلخ مسکرایا ۔
کیوں ۔۔؟ہم بات کریں گے مان جائے گا۔۔۔۔۔زمل کی زندگی کا سوال ہے اور اگر ایسا ہوا تو وہ ضرور مان جائے گا کسی کی زندگی بچانے کے لیے مان ہی سکتا ہے ۔۔۔۔۔سعد کے لہجے میں امید تھی ۔
سعد وہ تم سے پیار کرتی ہے اور وہ تمہیں پانا چاہتی ہے تم مان جاؤ گے نکاح میں ہو تم ارانیہ کے ۔۔۔۔۔۔ہادی سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا ۔
سعد وہی سن سا رہ گیا ۔۔۔بار بار زمل کا کئیر کرنا اور اسے عزت دینا یاد آنے لگا ۔۔۔۔ اس کی نظریں بولتی تھی پر سعد نے کبھی دھیان نہیں دیا اپنا وہم جان کر اگنور کر دیتا تھا ۔
ہے کوئی جواب تمہارے پاس دو گے میری بہن کو نئی زندگی ۔۔۔؟ ہادی اس کی طرف دیکھ کر طنزیہ بولا ۔
سعد کو چپ سی لگ گئی دل میں صرف اور صرف ارانیہ کی محبت تھی پر محبت پر آنا بھاری ہونے لگی تھی ۔
کرو گے میری بہن سے شادی بناؤ گے اسے دوسری بیوی دو گے اسے ہر حق بتاو سعد ۔۔۔بچا لو گے میری بہن کی زندگی ۔۔۔۔۔بتاؤ سعد بتاؤ ۔۔۔
ایک بھائی ہونے کے ناطے میں بھیک مانگنے کو تیار ہوں تم سے میری بہن کی زندگی بچا لو سعد ۔۔۔میری بہن کو اپنا لو ۔۔۔ہادی بچوں کی طرح رو رہا تھا ۔
ہادی میں کیسے میں ارانیہ سے ۔۔۔۔
نہیں ہو گا تم سے سعد ۔۔۔۔۔نہیں ہو گا مجھے پتہ تھا میری بہن کی شاید زندگی ہی اتنی تھی مرنے دو اسے ۔۔۔۔۔۔ہادی اسے کہتے ہوئے وہاں سے اُٹھا کر روم کی طرف بڑھ گیا جہاں زمل تھی ۔
سعد چپ سا وہی بیٹھ رہ گیا ۔۔۔کہیں سوچیں تھی جو زہن میں ڈھیرا کئے ہوئے تھی ۔
کسی کی زندگی کا سوال ہے ۔۔۔وہ مر جائے گی سعد ۔۔۔ہادی کی بہن ہے وہ تیرا سب سے اچھا دوست ہے اس نے تجھ تب بچایا تھا جب تُو مر جاتا ۔۔۔۔
آج ہادی نہ ہوتا تو میں بھی نہ ہوتا اور آج اس کے احسان کا بدلہ ۔۔۔سعد وہی سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔
سعد کا بہت زبردست ایکسیڈنٹ ہوا تھا تو ہادی نے اس کی جان بچا لی تھی ورنہ وہ بائک کے ساتھ کھائی میں گر جاتا ۔۔
سعد اَٹھا تھا اور اندر گیا ۔۔۔
سعد وہ مر رہی ہے ۔۔۔۔ہادی بولا تو سعد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
میں تیار ہوں ۔۔۔سعد نے یہ بات بہت ضبط سے کی تھی ۔۔۔پر وہ نہیں جانتا تھا آگے کیا ہونے والا ہے ۔
کیا سچ میں تم زمل سے نکاح کرو گے ۔۔۔۔ہادی اس کی طرف دیکھتے ہوئے خوشی سے بولا ۔
ہاں بالکل میں زمل سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔۔سعد بمشکل مسکرا کر بولا ۔
تھینک یو سو مچ سعد تھینک یو سو مچ ۔۔۔۔ہادی نے اسے گلے لگا لیا ۔
