Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 08)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 08)
Black Monster by Ayn Khan
آپ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔. لگی تو نہیں ۔۔. ،؟ ارانیہ لائبریری سے باہر نکل رہی تھی کے وہ گرنے لگی تھی اس سے پہلے کے وہ گرتی ساتھ ساتھ گزرتے لڑکے نے اسے تھام کر گرنے سے بچا لیا ۔۔۔
ج ۔۔ج ۔۔ جی میں ٹھیک ہوں تھینک یو ۔۔۔۔ارانیہ جلدی سے اس سے دور ہوئی اور مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے جلدی سے چلی گئی کے کہیں سعد نہ دیکھ لے اس لڑکے سے بات کرتے ہوئے ۔۔
ارانیہ سیدھا کلاس میں آئی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے تمام لیکچر لینے کے بعد باہر گراؤنڈ کی طرف آئی تھی جہاں اسے سعد ملتا تھا ۔۔۔پر آج وہ کہی بھی نہیں تھا ۔۔
سعد کہاں رہے گئے ۔۔۔. کافی دیر انتظار کے بعد بھی جب سعد نہ آیا تو ارانیہ سعد کو کال کرنے لگی ۔
سعد کال کیوں نہیں اُٹھا رہے ۔۔۔۔۔ میری کال کیوں کاٹ کر رہے ہیں ۔۔۔ارانیہ نے بہت دفع کال کی پر سعد نے اس کی کال بند کر دی تھی اور دوبارہ کرنے پر اُٹھا بھی نہیں رہا تھا ۔
سعد پلیز کال اُٹھائے آپ کہاں ہیں میں یہاں کھڑی آپ کا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔۔ارانیہ نے پھر اسے مسیج کیا تھا پر سعد کا کوئی ریپلائی نہیں آیا ۔
ارانیہ کو وہاں کھڑے کافی دیر ہو چکی تھی پر سعد آنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔ اسی لیے جب یونیورسٹی کی آخری پوائنٹ جانے لگی تو ارانیہ اس کی طرف بڑھ گئی ۔
پر اسے سعد کے لیے پریشانی بھی ہو رہی تھی ۔
ارانیہ پریشان سی جب گھر آئی تو سعد کو سامنے صوفے پر بیٹھے دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا ۔
سعد ۔۔۔آپ یہاں ہیں اور میں وہاں یونیورسٹی میں آپ کے لیے پریشان ہو رہی تھی اور آپ ۔۔۔ارانیہ جلدی سے اس کی طرف بڑھ کر غصے سے بولی ۔
کیوں کوئی لڑکا نہیں ملا جو میرا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔آ جاتی اسی کے ساتھ جس کی باہو میں کھڑی مسکرا مسکرا کر آپ باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔. سعد اس کی طرف دیکھتے ہوئے غصے اور ضبط سے بولا ۔۔
سعد ۔۔۔۔۔ارانیہ چیخی ۔۔
آواز نیچے زبان کھنچ لوں گا میں تمہاری ۔۔۔سعد کھڑے ہوتے ہوئے اس کی طرف بڑھا ۔
میں گر گئی تھی سعد وہ تو بس اس نے میری مدد کی میں تو اسے جانتی بھی نہیں ۔۔۔
اسی لئے ہنس کر بات کر رہی تھی ۔۔۔
میں تو تھینک یو کہا تھا اسے ۔۔۔۔۔۔
ارانیہ آپ گر جاتی نیچے پر کسی کا سہارا نہ لیتی مجھے زار سا بھی گوار نہیں ہے کے کوئی آپ کو چھوئے بھی ۔۔۔۔سعد اس کے پاس جاتے ہوئے اسے بازوں سے تھام کر سحت پر سرد لہجے میں بولا ۔
آپ نے سچ جانے بغیر میرے کردار پر ایسے بات کی ہے سعد آپ کے ساتھ رہی ہوں ہمشہ کب دیکھا آپ نے میرے کردار میں ۔۔۔۔ارانیہ بولتے ہوئے رو دینے کو تھی ۔
ارانیہ ۔۔۔۔میرے اندر برداشت نہیں ہے میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں ارانیہ سعد کی ہے اور اسی کی رہے گی ۔۔۔کسی کا آپ کو چھونا لیا دیکھنا بھی میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔اور آپ اس کی باہو میں تھی ۔۔۔۔۔
میرا دل کر رہا تھا سے جان سے مار دوں جس نے آپ کو چھوا ۔۔۔۔سعد کی آنکھیں غصے سے لال انگارا ہو رہی تھی ۔
سعد میں گر ۔۔۔۔۔
میں نے کہا نہ مجھے برداشت نہیں ہے ۔۔۔. سعد آنتی زور سے بولا تھا کے پیچھے سے آتے مسسز مجید اور مجید چوہدری بھی سعد کو اتنے غصے سے دیکھ کر پریشان ہو چکے تھے ۔
تو آپ مجھے اکیلے چھوڑ آئے وہاں سعد آپ نے ایک دفع بھی نہیں سوچا کے ارانیہ وہاں میرا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔
شکر کریں ارانیہ وہاں چھوڑ کر آیا تھا اس رشتے سے آپ کو آزاد نہیں کر دیا ۔
سعد ۔۔۔۔. ارانیہ دُکھ اور حیرت سے بس اسے دیکھتی رہ گئی ۔
پیچھے وہ دونوں میاں بیوی بھی سعد کی بات سن کر پریشان ہو چکے تھے ۔
سعد کیا بکواس ہے یہ ۔۔۔پیچھے کھڑے مجید چوہدری غرائے تھے ۔۔دونوں مجید چوہدری کے دوست کی عیادت کو گئے ہوئے تھے اسی لئے دونوں ابھی گھر واپس آئے تھے ۔
سعد نے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے ارانیہ کے بازو کو ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا ۔
میں تم سے پوچھ رہا ہوں سعد ۔۔۔۔
بابا ماما مجھے رخصتی چاہے ۔۔۔۔سعد بینا کوئی جواب دئے بس اپنی بات بول کر وہاں سے جانے لگا تھا ۔
پر مجھے نہیں ۔۔۔۔۔ارانیہ جو حیرت اور دُکھ سے سعد کی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش میں تھی غصے سے بولی ۔
سعد کے جاتے قدم وہی رک گئے تھے اور وہ واپس مڑا ۔
ماما مجھے اسی ماہ کے لاسٹ میں رخصتی چاہے ورنہ سمجھ دیں اپنی لاڈلی کو دوسرا آپشن بھی ہے میرے پاس ۔۔اور وہ ہے اس رشتے سے آزادی ۔۔۔۔۔سعد ارانیہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بول کر وہاں رکا نہیں تھا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا ۔
پیچھے مسسز مجید مجید چوہدری ارانیہ تینوں ہی حیرت زدہ سے کھڑے رہ گئے تھے ۔
یہ کیا بکواس کر کے گیا ہے ۔۔۔رشتے مزاق ہیں اس کے لیے ۔۔۔۔مجید چوہدری چیخے تھے ۔
ارانیہ بچے کیا ہوا ہے ۔۔۔؟ مسسز مجید روتی ہوئی ارانیہ کے پاس آئی تھی جو مسسز مجید کے گلے لگی گئی ۔
پتہ نہیں آنی عجیب ہو گئے ہیں سعد اتنے پوزیسو بات بات پر غصہ ۔۔۔اور لائبریری میں ہوا سارا واقع مسس مجید کو بتا دیا ۔
اتنی سے بات پر سعد ایسا کیوں کر رہا ہے ۔۔۔مسسز مجید اور مجید چوہدری بھی دونوں پریشان ہو چکے تھے ۔
میں بات کرتا ہوں ۔۔۔۔۔
آنی میرا کوئی قصور نہیں تھا آنی سچ میں ۔۔۔۔ارانیہ مسسز مجید کے ساتھ لگی روتی ہوئی بولی ۔
ہممم بات کرتے ہیں سعد ۔۔۔۔مسز مجید ارانیہ کے چہرے سے آنسو صاف کرتے ہوئے بول کر اسے اپنے ساتھ لگ گئی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
سعد کے ذہن میں عجیب عجیب سی آوازیں گھونج رہی تھی ۔۔۔۔
یہ دیکھو آج اس لڑکے کی باہو میں ہے کل کسی اور کی باہو میں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔سعد نے جب ارانیہ کو گرتے ہوئے دیکھا تو اس کی طرف بڑنے ہی لگا تھا کے اس کے کانوں میں پاس کھڑے لڑکے کی آواز ائی ۔
ہاں کل کلاس میں کسی اور لڑکے سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ اور آج اس کی باہوں میں ۔۔ہاہاہاہا دونوں ہنستے ہوئے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے وہاں سے چلے گئے ۔
سعد کی نظر ارانیہ پر پڑی جو مسکرا کر اس لڑکے سے کچھ کہہ رہی تھی ۔
وہی سعد کا میٹر گھوما تھا اور اسے کچھ کہے بینا وہاں سے چلا آیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اور کچھ زیادہ غلط نہ کہہ دے ۔
اس رات بھی سعد نے ارانیہ کو آدھی رات کو کال پر کسی سے بات کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
کیا ارانیہ ۔۔۔
نہیں نہیں ارانیہ صرف میری ہے بہت جلد میں اسے یہاں اپنے پاس لے آؤ گا بہت جلد ۔۔۔ سعد خود سے بولتے ہوئے جلدی سے پاس درز میں پڑے سگریٹ کو لے کر سلگانے لگا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔؟؟
سکون کے لیے ۔۔۔تمہیں سکون چاہے ۔۔۔اور آج میں تمہیں وہ دوں گی جو تمہیں سکون دے گا ۔۔۔وہ ہنستے ہوئے اسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایک کونے کی طرف لے گئی ۔
دونوں وہاں پاس پڑے صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔چارو اطراف دیکھتے ہوئے زمل کو بہت گھٹن محسوس ہو رہی تھی ۔۔
ہائے بےبی ۔۔یہ کون ہے ۔۔۔، ؟ وہ دونوں ابھی وہاں جا کر بیٹھی ہی تھی کے ایک لڑکا آ کر اس سے بولا ۔
یہ دوست ہے میری سمجھ لو بہن ہے ۔۔. وہ اسے آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔
نائسس ۔۔۔اور پھر اپنی جیب سے ایک پیکٹ نکال کر اسے کو دے کر وہاں سے دوسری جانب چلا گیا ۔
یہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟
تمہیں سکون چاہے نہ ۔۔۔؟
جی ۔۔
تو اس چیز میں بہت سکون ہے ۔۔۔وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی نما بولی ۔۔
اس میں سکون ملے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟ اس کا انداز سوالیہ تھا ۔
اسے اس طرح یوز کرتے ہیں ۔۔۔وہ ہاتھ میں پکڑے پاؤڈر کو ٹیبل پر ایک لکئیر کر طرح کرتے ہوئے ۔۔ ایک کاپ لے کر اسے ناک کے ذریعے سانسوں میں منتقل کرنے لگی ۔۔۔زمل اسے بس حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔
اس میں بہت سکون ہے بہت زیادہ ۔۔۔وہ سانس کو اندر کھنچتے ہوئے مسکرا کر بولی ۔۔۔انداز بہت عجیب سا تھا ۔
اس میں سکون ہے ۔۔۔۔؟اس نے اپنا سوال پھر سے دوہرایا ۔۔
بالکل سوئٹی ۔۔۔۔ جسٹ ڈو اٹ ۔۔۔وہ اسے ایک آنکھ دباکر کہتے ہوئے وہاں سے ڈانس فلور کی طرف چلی گئی ۔۔۔
وہ کلب میں ایک سائیڈ پر بیٹھی اپنے سامنے پڑے ٹیبل پر سفید سی چیز کو دیکھ رہی تھی جو اس کو اس کی دوست نے ابھی ابھی پکڑائی تھی ۔۔۔
سیڈ آپ میرے نہیں ہیں اور یہ چیز مجھے اندر ہی اندر ختم کر رہی ہے ۔۔۔۔ بہتے آنسو کے ساتھ سامنے پڑی ڈرگَز کو گھورتے ہوئے کوئی دیوانی لگ رہی تھی ۔۔
آپ کو بھول جانے کے لئے میں ہر حد پار کر جاؤں گی ۔۔۔۔عجیب سی درد بھری ہنسی اس کے چہرے پر آئی تھی اور اپنی دوست کے بتائے ہوئے طریقے سے وہ سامنے پڑے سفید پاؤڈر نما چیز کو اپنی سانسوں کے ذریعے خود میں منتقل کرنے لگی ۔۔۔
اسے لگ رہا تھا اس کا سر گھوم رہا ہو ۔.. سانسس کے ذریعے خون میں گرمی سے پیدا ہونے لگی تھی ۔۔۔۔اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے ابھی جان ہاتھوں پاؤں سے باہر جا رہی ہو ۔
سیڈ میں برباد کر لوں گی خود کو برباد کر لوں گی ۔۔۔۔ آپ میرے نہیں ہو سکتے آپ ترس جائے گیے ۔۔میرا چہرا دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔۔ وہ ہنستے ہوئے دل میں اس سے محاطب تھی ۔۔
گھومتے سر کے ساتھ اس نے اپنا سر صوفے کی بیک سے ٹکا دیا ۔
سیڈ ۔۔۔۔ہواش کھونے سے پہلے اس کی زبان پر جو آخری لفظ تھا وہ اسی کا نام تھا ۔
یہ تو ایک ہی وار میں گئی ۔۔۔۔ردا اور اس کا دوست دونوں زمل کے پاس آئے تھے ۔
ہاہاہاہاہاہا بچی ہے ابھی شروعات میں ایسا ہی ہو گا ۔۔۔بہت کام آنے والی ہے یہ ہمارے ۔۔۔۔ بہت کام کی بندی ہے ۔۔۔۔ بہت مہنگا مال ہے پیسے ہی پیسے آئے گئے اب۔۔۔۔ردا ہنستے ہوئے زمل کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔اور دونوں ہنس دئے۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
ارانیہ بچے سعد کو آ لینے دو ۔۔۔۔پھر اس کے ساتھ جانا آپ ۔۔
آنی میں اکیلی چلی جاؤں گی مجھے سعد کے ساتھ نہیں جانا ۔۔۔۔۔ارانیہ سر کو جھکائے ہوئے ہی مسسز مجید سے بولی ۔
ارانیہ کہیں نہیں جا رہی ۔۔۔یونیورسٹی نہیں جائے گی آپ آج سے ۔۔۔۔۔سعد لاؤنچ میں آتے ہوئے بولا ۔
ارانیہ نے سعد کی طرف دیکھا تھا آنکھوں میں حیرت اور دُکھ تھا ۔
میں نہیں چاہتا اب ارانیہ یونیورسٹی جائے ۔۔۔میں ریکوار کروا دوں گا سب ۔۔۔سعد ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے مسسز مجید سے بول کر ڈائنگ ہال کی طرف جانے لگا ۔
پر سعد یہ کیا بات ہوئی ابھی ارانیہ کا پہلا سال ہے اور اس طرح کیسے چلے گا ۔۔۔تم تو ایسے تو نہیں تھے کیوں کر رہے ہو یہ سب ۔۔۔۔۔کیا پاگل پن ہے یہ۔۔۔۔؟؟ مسسز مجید اس کی طرف دیکھتے ہوئے غصے بھرے انداز میں بولی ۔
مجھے نہیں پسند ارانیہ کا یونیورسٹی جانا اور میرا کہنا مانا اس پر فرض ہے ۔۔۔۔۔اتنی سی بات اسے سمجھنی چاہے ۔۔۔۔۔۔
آپ میرے ساتھ اتنا برا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔ارانیہ رونی سی ہو چکی تھی ۔
میں نے کچھ برا نہیں کیا ۔۔۔۔آپ گھر رہ کر اپنی سٹیڈی کمپلیٹ کر سکتی ہیں ۔۔۔مجھے نہیں پسند مطلب آپ نہیں جا سکتی ۔۔۔۔سعد مڑے بغیر سرد سے لہجے میں بولا ۔
سعد آپ یہ سب کر کے مجھے اور میرے کردار کو بے یقینی کی نظر کر رہے ہیں اس رشتے کو بے یقین کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔سعد نے اس کی طرف دیکھا ارانیہ کی آنکھیں پانی سے بھر گئی ۔
ایسا ہی ہے سعد ۔۔۔۔۔۔یہ رشتہ اعتبار کے قابل نہیں ہے اور اپ نے مجھے بے اعتبار کر دیا ہے اور آنی میں نہیں چاہتی کے جس رشتے میں اعتبار نہ وہ رشتہ آگے جائے ۔۔۔۔. ارانیہ بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے وہاں سے روم کی طرف چلی گئی ۔
ارانیہ ۔۔۔۔سوچنا بھی مت کے میں ایسا کچھ کروں گا ۔۔۔۔۔۔ تیاری کریں آپ رخصتی کی ۔۔۔سعد جاتی ہوئی ارانیہ کو دیکھ کر غصے سے چیخا تھا ۔
مسسز مجید بس دونوں کو دیکھ کر رہ گئی تھی کے یہ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔۔وہ سر پکڑ کر وہی صوفے پر بیٹھ گئی ۔
ماما اسے سمجھا دیں جو یہ سوچ رہی ہے ایسا کچھ نہیں ہو گا وہ میرے نکاح میں ہے اور میں اسے کسی اور کا نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔سعد مسسز مجید کو دیکھتے ہوئے بول کر وہاں سے غصے سے باہر کی طرف چلا گیا ۔
کیا ہو گیا ہے سعد کو ۔۔۔ایسے ایک دم سے کیوں کر رہا ہے وہ ۔۔۔۔پہلے تو ایسا نہیں تھا پھر کیوں کر رہا ہے ایسا ۔۔۔۔۔مسسز مجید بس سوچ کر رہ گئی ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
کبھی کبھی ہمارے اپنے ہی ہم پر ہماری سانسوں کو بند کر دینا چاہتے ہیں ۔۔۔اور ہم دلو جان سے اُن کی اس خواہش کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ارانیہ بیڈ پر بے سدھ سی پڑی سعد کے صبحِ والے اور کل والے روئے کو سوچ سوچ کر رو رہی تھی ۔
سعد آپ نے میرے ساتھ اسی طرح ہی کرنا تھا تو کیوں لائے مجھے اپنے نکاح میں کیوں ۔۔۔۔۔۔
آپ کی بے اعتباری کیسے برداشت کر پاؤ گی ۔۔۔۔۔ارانیہ کو رو رو کر برا حال ہو رہا تھا سارا دن کی وہ کمرے باہر نہیں نکلی تھی ۔
مسسز مجید روم میں آئی تھی پر ارانیہ نے باہر آنے سے انکار کر دیا تھا مسسز مجید بھی چپ سی کر چکی تھی ۔
ارانیہ بچے میں آ جاؤں ۔۔۔۔؟؟مسسز مجید نے پھر سے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر دستک دی ۔
ج۔۔۔ج۔۔۔جی آنی ۔۔۔۔ارانیہ نم لہجے میں بولی تھی ۔۔لہجہ نم سا ہو ہوچکا تھا اسے پھر سے رونا آ رہا تھا ۔
مسسز مجید روم میں داخل ہوئی تو سارا کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔انہوں نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ اون کی اور ارانیہ کو دیکھا جو ان کے آنے سے اُٹھا کر بیٹھ گئی تھی ۔
آنکھیں سوجی ہوئی تھی ۔۔۔۔اور ابھی بھی کہیں آنسو قطرہ قطرہ بہہ رہے تھے ۔
ان کو ارانیہ کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا ۔۔۔۔وہ چلتے ہوئے اس کے پاس آئی ۔
بچے کچھ بھی نہیں کھایا آپ نے اور نہ ہی صبح سے باہر آئی ہو آپ ۔۔۔۔۔۔مسسز مجید اس کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی تھی ۔
آنی دل نہیں ہے مجھے اکیلے رہنا ہے ۔۔۔۔ارانیہ نظروں کو جھکائے لب کاٹتے ہوئے بولی ۔
بچے میں سعد کی طرف سے معذرت کرتی ہوں ۔۔۔۔۔وہ زیادہ پوزیسو ہو رہا ہے ۔۔۔۔مسسز مجید ارانیہ کا ہاتھ تھام کر پیار بھرے لہجے میں بولی ۔.
آنی پلیز ۔۔آپ کا کیا قصور اس سب میں ۔۔۔۔۔۔۔
پوزیسو نہیں ہو رہے آنی وہ وہ میرے کردار کو سوالیہ نشان بنا رہے ہیں ۔۔۔۔ارانیہ پھر سے رو دینے کو تھی ۔
بہت پیار کرتا ہے ارانیہ وہ تم سے ۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں کر رہا ہے ایسا کچھ سمجھ نہیں پا رہے نہ میں اور نہ تمہارے انکل ۔۔۔۔مسسز مجید اس وقت سچ میں پریشان تھی ۔
کوئی بات نہیں انی۔۔میری قسمت ہے ۔۔۔۔ارانیہ سر کو جھکائے ہوئے ہی تھی ۔
بچے چلو نیچے ۔۔۔۔کل عالیان اور صالحہ بھی آنے والے ہیں ۔۔۔۔پھر ان شا اللہ ہم شادی کی تیاری کریں گے اور دیکھنا آپ سعد بالکل ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔مسز مجید نے اس کے گال تھپتھپائے تھے ۔
ج۔۔۔ج۔۔جی آنی ۔۔۔۔۔۔میں فریش ہو کر آئی ارانیہ بمشکل مسکرائی ۔
گوڈ گرل جلد آ جانا ۔۔۔۔۔۔مسسز مجید اسے پیار بھرے لہجے میں کہہ کر وہاں سے چلی گئی ۔
سعد آنی انکل کے اتنے احسان نہ ہوتے مجھ پر تو کبھی بھی آپ مجھے حاصل نہ کر پاتے میں کبھی بھی یہ شادی نہ کرتی ۔۔۔۔. ارانیہ نے آنسو صاف کیے تھے اور وہاں سے فریش ہونے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔
