Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Monster (Episode 05,06)

Black Monster by Ayn Khan

آج گھر پر عالیان کی مہندی اور سعد اور ارانیہ کا نکاح تھا۔۔۔صبح سے پورے گھر میں تیاریاں ہو رہی تھی ۔

مہندی دونوں گھروں میں ایک ساتھ ہی تھی ۔۔۔صالحہ اور عالیان دونوں کی مہندی اکھٹی تھی ۔

ماما میرے کپڑے کہاں ہیں تھوڑی دیر بعد ہال کے لیے نکلنا ہے ۔۔۔۔۔سعد برا سا منہ بنائے مسسز مجید کے پاس آیا ۔۔۔

سعد تم اپنا کوئی بھی کام خود نہیں کر سکتے ۔۔تمہاری کبرڈ میں رکھا ہے تمہارا ڈریس جلدی سے تیار ہو کر آؤ عالیان صالحہ اور ارانیہ کو پالر سے پک کر کے ہال پہچانے والا ہے اور تم ہو کے ابھی تک تیار نہیں ہوئے ۔

ماما بس دس منٹ میں تیار ہو جاؤں گا۔۔۔سعد بول. کر جلدی سے جانے لگا ۔

ہم نکلنے والے ہیں ۔۔۔۔سعد تم بھی جلدی سے ا جانا ۔۔۔۔مسسز مجید اپنی تیاری مکمل کرتے ہوئے بولی تھی سعد نے مسکرا کر سر ہلایا۔

سعد مسکراتے ہوئے کمرے میں آیا تھا اور کبرڈ کھول کر دیکھا تو سامنے ہی اس کا ڈریس تھا سفید رنگ کی شلوار قمیض تھی سعد کچھ سوچتے ہوئے مسکرا دیا ۔

فائنلی ۔۔۔۔۔آج تم ہمیشہ کے لیے میری ہو جاؤ گی ۔۔۔۔۔۔سعد مسکرا کر خود سے کہتے ہوئے ڈریس لے کر واش روم میں چلا گیا ۔

❤️
😍
😍
😍
😍
😍
❤️

سب ہی حال میں پہنچ گئے تھے ۔۔۔۔ارانیہ اور صالحہ دونوں برائڈل روم میں تھی عالیان بھی سب کے درمیان موجود تھا سعد تو بس ارانیہ کے آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔

مسسز مجید نے پہلے عالیان اور صالحہ کو آنے کا کہا ۔۔۔۔لائٹنگ کے درمیان اور سائیڈ پر جلتی چھوٹی چھوٹی انارو کے درمیان دونوں چلتے ہوئے آئے تھے ۔۔۔۔. سب نے ان پر پھول پھینکے ۔۔۔۔۔پر سعد کا دھیان ابھی بھی باہر کی طرف تھا جہاں سے ارانیہ نے آنا تھا ۔

دونوں کے سٹیج پر بیٹھنے کے بعد ہال کے درمیان میں نکاح کا انتظام کیا گیا ۔

دونوں سائیڈ کے درمیان پردہ لگا کر ایک سائیڈ پر سعد کو بیٹھایا گیا اور دوسری سائیڈ پر ارانیہ کو بیٹھانا تھا ۔۔۔

کچھ دیر بعد مسسز مجید اور سعد کی کزنز ارانیہ کو لے کر وہاں آئی تھی ارانیہ کے چہرے پر جالی دار ڈوپٹہ دیا گیا ۔

سفید اور سکین شرار شرٹ جس پر پنک کالر کا کے پھول تھے اور سلور کام تھا ۔

سعد کی بے چین نظریں ارانیہ کا دیدار کرنا چاہتی تھی پر سر پر دئے ڈوپٹے کی وجہ سے وہ اسے دیکھ نہیں پا رہا تھا ۔

ارانیہ کو دوسری سائیڈ پر بیٹھایا گیا ۔۔۔۔درمیان میں موجود جالی دار پردے کے پار ارانیہ تھی سعد کی مکمل نظر اس پر ہی تھی ۔

تھوڑی دیر بعد نکاح شروع کیا گیا ۔۔۔۔۔اور ارانیہ سعد کے نام ہو چکی تھی ۔۔۔سائن کرتے ہوئے ارانیہ کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔

مجید صاحب آئے اور انہوں نے ارانیہ کے سر پر ہاتھ رکھا ۔

ارانیہ کے گال پر کہیں آنسو بہہ نکلے تھے ۔

میری بچی ہمیشہ خوش رہو مسسز مجید ارانیہ کو اپنے ساتھ لگا کر بولی تو ارانیہ ان کے ساتھ لگی رو دی تھی ۔

دوسری طرف سعد کے اجابو قبول کے بعد سب نے سعد کو بھی مبارک باد دی ۔

. سعد سامنے پردے کو پیچھے کرتے ہوئے ارانیہ کی طرف آیا ۔

مبارک ہو ارانیہ ۔۔۔۔۔اور بولتے ہوئے اس کے چہرے سے ڈوپٹہ پیچھے کرتے اس کی پیشانی پر لب رکھے تھے ۔

تب ہی ارانیہ نے اس کی طرف دیکھا دونوں کی نظریں ملی تھی سعد کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔ارانیہ جلدی سے اپنی نظریں جھکا گئی ۔

سعد مسکراتے ہوئے پیچھے ہٹ کر مجید چوہدری کے گلے لگ گیا ۔

مبارک ہو بچے ۔۔۔۔بولتے ہوئے وہ اسےگلے لگا گئے ۔۔۔پھر سعد عالیان اور اپنے دوستوں سے ملا تھا ۔

پر سعد کی نظریں بھٹک کر بار بار ارانیہ کی طرف جا رہی تھی جس کو اب سب نے اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا اور اس سے بھی سب مل رہے تھے ۔

نکاح کے بعد ارانیہ کو مسسز مجید سائیڈ پر لے گئی ۔۔۔اور اب مہندی کی رسمیں شروع ہو چکی تھی ۔

سعد ارانیہ سے ملنا چاہتا تھا پر سعد ہادی اسے اس طرف جانے نہیں دے رہا تھا اور اوپر سے ارانیہ کے گرد بھی لڑکیاں اکھٹی تھی ۔

جو سب اس کو مبارکباد اور چڑ رہی تھیں ۔

اب ٹریٹ کب دے گا کمینے ۔۔۔۔۔۔ہادی اس کے ساتھ کھڑا کب سے اسے تنگ کر رہا تھا ۔

کبھی بھی نہیں کیونکہ تُو مجھے ارانیہ سے ملنے نہیں دے رہا ۔۔۔۔سعد ارانیہ کو دور سے دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔ارانیہ سعد کی کزنز کی کسی بات پر ہنس رہی تھی اور چہرہ پر مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ خوشی کے بہت سے رنگ بھی تھے ۔

بس کر دے تیری ہی نظر نہ لگ جائے ۔۔۔۔۔ہادی بولا تو سعد نے اسے گھور کر دیکھا۔

میں نے اسے دیکھتے ہی پہلے ماشاءاللہ کہا تھا۔۔۔۔۔سعد نے کہا تو ہادی بھی اس کی بات سن کر ہنس دیا ۔

چل رسمیں کرتے ہیں بھابھی کو لے جانا ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ ہادی نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تو سعد خوش ہوتے ہوئے ارانیہ کی طرف بڑھا ۔

یہ ہی تو اچھا موقع ہے ۔۔۔۔۔سعد سوچتے ہوئے ارانیہ کے پاس آیا ۔

ہادی نے اس کی جلدبازی پر سر ہلایا۔۔۔

آپ لوگوں کا ہو گیا ہو تو مجھے میری بیوی مل سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ سعد اپنی کزنز سے کہتے ہوئے ارانیہ کے پاس پڑھی چئیر پر بیٹھا گیا ۔

نہیں بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔سب ہی ہنستے ہوئے بولی ۔

ایسے کیسے نہیں چلو جاؤ اپنے اپنے کام کرو ہمیں رسم کرنی ہے افٹرال کپل ہیں ہم ۔۔۔۔سعد ارانیہ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بول کر اُٹھا۔

ہاہاہاہاہاہا سعد بھائی آپ کو زیادہ جلدی ہے رسم کرنے کی ارانیہ بھابھی تو ہمارے ساتھ ہی رسم کریں گی ۔۔۔۔سعد کی ایک کزن اس کے آگے کھڑی ہو گئی ۔

ارانیہ نے سعد کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔اور اب مسکراتے ہوئے سب کی طرف دیکھ رہی تھی ۔

ایسے کیسے میری بیوی ہے اور آج ہم کپل بن کر رسم کریں گے تم سب جلو ۔۔۔۔سنگل لوگ ۔۔۔۔سعد کہتے ہوئے جلدی سے ارانیہ کو اپنی طرف کھینچتے ہوئے لے گیا ۔

ارانیہ بس حیران پریشان اسے کے ساتھ چلتی جا رہی تھی ۔

بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔بالکل کوئی پری ۔۔۔۔۔ سعد اس کا ہاتھ تھامے چل رہا تھا ۔۔۔۔ارانیہ جو اس کے ساتھ چل رہی تھی اس نے جھکی نظروں کو اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا جس کا دھیان سامنے تھا ۔

آپ بھی ۔۔۔۔۔تب ہی ارانیہ آہستہ آواز میں کہتے ہوئے نظروں کو جھکا گئی ۔

سعد نے مڑ کی اس کی طرف دیکھا ۔

پھر دونوں نے سٹیج پر جا کر رسم کی ۔۔۔۔۔۔۔ تھی اور سعد ارانیہ کو مسسز مجید کے پاس چھوڑ کر چلا گیا ۔

تمام رسموں کے بعد ۔۔۔مہندی ختم ہوئی تو سب ہی اپنے اپنے گھر کی طرف نکل گئے ۔۔

ارانیہ اور مسسز مجید ۔۔مجید چوہدری تینوں ہی سعد کے ساتھ آئے تھے ۔۔۔۔عالیان صالحہ اور اس کے والدین کو گھر چھوڑنے گیا تھا۔

مسسز مجید اور مجید چوہدری دونوں پہلے اترے تھے ۔۔۔ارانیہ مشکل سے اپنا شرار اُٹھا کر باہر نکل رہی تھی کے سعد نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کی ۔

تھینک یو ۔۔۔۔ ارانیہ کہہ کر اندر جانے لگی ۔

میرا انتظار کرنا ۔۔۔۔ڈریس بالکل بھی چینج مت کرنا ۔۔۔۔سعد بولا تو ارانیہ گھبرا گئی ۔

پر سعد ۔۔۔

میرا انتظار کرنا ارانیہ ۔۔۔۔۔سعد ابھی اور کچھ کہتا اس کا فون رنگ ہوا ۔

وہ اپنا فون لے کر دوسری سائیڈ کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔

ارانیہ لب کاٹتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی اور پھر سر جھٹکتے ہوئے اندر چلی گئی ۔

ارانیہ بچے آپ روم میں اب آرام کرو کل پھر سے اتنا مشکل دن ہے تم تھک گئی ہو ۔۔۔اوکے اب آرام کرو جا کر ۔۔۔۔ارانیہ آئی تو مسسز مجید اسے پیار سے بولی جس پر ہو سر ہلا کر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی ۔

ارانیہ کمرے میں آئی تو آئینہ کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو دیکھ کر مسکرا دی ۔۔سعد کی محبت اور محرم ہونے کی وجہ سے خوش تھی ۔

رات کا کوئی تیسرا پہرا تھا جب ارانیہ سعد کا انتظار کرتے کرتے وہی بیڈ پر پی سو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

😍
😍
😍
😍
😍

شٹ ہادی نے اتنا لیٹ کر دیا ۔۔. وہ میرا انتظار کرتے کرتے شاید چینج بھی کر چکی ہو گی ۔۔۔۔۔سعد سیڑھیاں چڑتے ہوئے بڑبڑا رہا تھا ۔

ارانیہ کے کمرے کے باہر پہنچ کر ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے اس کے کمرے میں گھس کر جلدی سے ڈور لاک کر دیا ۔

سامنے بیڈ پر آنکھوں کو بند کئے ارانیہ کو دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔۔۔۔جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر لیٹی سو چکی تھی ۔

ایم سوری ۔۔۔۔۔۔۔مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑا تھا۔۔۔۔۔چہرے پر بکھیری کہیں لیٹے ۔۔۔۔ڈوپٹہ ڈھلک کر کندھوں پر ا چکا تھا ۔۔۔۔پر سعد کو ابھی بھی وہ پاک معصوم حسن لگ رہی تھی ۔

ارانیہ ارانیہ ۔۔۔۔۔۔۔سعد نے آہستہ آواز میں اسے اُٹھانے کی کوشش کی پر شاید تھکن کی وجہ سے ارانیہ کی آنکھیں نہیں کھل رہی تھی ۔

پاگل لڑکی تھک چکی ہے شاید ۔۔۔۔سعد بولتے ہوئے آرام سے اسے تھوڑا سیدھا کیا اور اس کے کی طرف دیکھتے ہوئے آرام آرام سے اس کے کانوں سے پھولوں آویزے نکالے ۔۔۔۔۔۔۔پھر ڈوپٹہ جو کام سے بھرا ہوا تھا اسے اتار کر سائیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔۔

سکون سے سو جاؤ ۔۔۔ملاقات کل ہو گی ۔۔۔۔۔سعد کہتے ہوئے اس کے پاؤں کی طرف گیا تھا جہاں ابھی بھی اس کے پاؤں نیچے تھے جس کو آرام سے اوپر بیڈ پر رکھ کر مسکرایا، ۔

اور اپنے جیب سے ایک ڈبہ نکالا ۔۔۔۔

تمہیں تمہارے ہوش میں دینا چاہتا تھا پر ۔۔۔ابھی صبح اسے تم نے پاؤں میں نہ دیکھا تو جان کو آؤ گی میری ۔۔۔۔سعد نے مسکراتے ہوئے اس کے پاؤں میں ایک پازیب پہنائی ۔۔۔۔۔۔

نکاح کا پہلا تحفہ ۔۔۔۔۔۔۔بہت بہت مبارک ہو مسسز سعد ۔۔۔۔۔ سعد اس پر بلایکیٹ ڈال کر اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا ۔

ایم سوری ایگین ۔۔۔۔۔سعد ابھی اور کچھ اس کے کان میں کہتا ارانیہ نے کڑوٹ بدلی ۔۔۔۔

اوپسسس یہ تو رہ گیا ۔۔۔۔سعد اس کے گلے میں نیکلس دیکھ کر مسکرایا ۔

مسسز چاہتی ہیں کے میں یہ بھی اتار دوں ۔۔۔۔. سعد نے بہت ہی پیار سے اس کی ہک کھولی اور اتار کر سائیڈ پر رکھا دیا ۔

ایم سوری اگین ۔۔۔۔۔اس کی طرف دیکھتے ہوئے پیچھے کی طرف قدم لیتے ہوئے دل میں ارانیہ سے محاطب تھا ۔

سعد ارانیہ کی طرف آخری نگاہ ڈالتے ہوئے آہستہ سے ڈور کھول کر باہر نکل گیا ۔۔۔

ہادی کے بچے تجھ تو میں چھوڑو گا نہیں ۔۔۔ایک دفع تیری شادی ہو جائے تجھ بھی اسی طرح تنگ کروں گا ۔۔۔کیمنہ اسی کی وجہ سے آج میں لیٹ ہو گیا ۔۔۔۔۔

سعد بڑبڑاتے ہوئے اپنے روم کی طرف چلا گیا ۔

😍
😍
😍
😍
😍
😍

ارانیہ کی صبح آنکھ کھلی تو سامنے گھڑی پر ٹائم دیکھا تو ۔۔۔۔۔۔صبح کے دس بج رہے تھے ۔

اتنی دیر ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ اُٹھ کر بیٹھی تو اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا ۔۔۔سعد پر غصہ آیا ۔۔۔

مجھے کہہ کر خود آئے نہیں اور اگر میں انتظار نہ کرتی تو پھر میرے ساتھ بہت برا سلوک کرتے ۔۔۔۔۔ارانیہ منہ بنا کر بولتے ہوئے اُٹھی تھی ۔

ایسے ہی بے دھیانی میں جب بیڈ کے سامنے پڑھے آئینہ میں خود کی طرف دیکھا تو ۔۔۔۔۔۔ایک دم سے پیچھے پڑھے سائیڈ ٹیبل پر دیکھا جہاں اس کے پھولوں کا زیور اور اس کے گلے میں پہنا نکلس پڑھا تھا ۔

اس کا ڈوپٹہ بھی وہاں نہیں تھا ۔۔۔۔۔کیا سعد آئے تھے ۔۔۔۔؟ کیا یہ سب سعد نے ۔۔۔۔اور میں تو بیٹھ کو سوئی تھی کہیں سعد نے تو نہیں سب ۔۔۔۔سعد کا حیال اتے ہی ۔۔۔۔ارانیہ کا چہرا شرم سے لال ہوا ۔

سعد میرے سونے کے بعد آئے ۔۔۔۔ایک دم سے ارانیہ کے غصے سے بھرے چہرے پر ایک پرسکون سی مسکراہٹ آ گئی ۔

اف میں کیسے سو رہی تھی ۔۔۔. پاگل ہوں میں بھی ۔۔۔ارانیہ شرمندہ سی خود سے باتیں کرتے ہوئے واشروم میں گئی اور جب فریش ہو کر باہر نکلی ۔۔۔اور اپنا ڈریس چین کیا۔۔۔۔۔

ڈریس چیج کرتے ہوئے ارنیہ کی نظر اپنے پاؤں میں پہنی پازیب پر گئی ۔

سعد نے یہ میرے لئے لائی ۔۔۔۔ ارانیہ بیڈ پر بیٹھ کر پاؤں اوپر کرتے ہوئے پازیب کو چھوتے ہوئے خوشی سے خود سے ہی بولی ۔

سعد یہ دینا چاہتے تھے مجھے ۔۔۔۔۔۔ارانیہ کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔دل سو کی سپیڈ سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔

سعد ۔۔۔۔ سب سوچتے ہوئے ارانیہ کے چہرے پر محبت کے رنگ کھل گئے ۔۔۔۔۔شرم سے چہرا لال ہو رہا تھا ۔۔۔ اب ارانیہ کو باہر جانا بہت مشکل لگ رہا تھا سعد کا سامنہ بہت مشکل لگ رہا تھا۔

ارانیہ سب سوچتے ہوئے اپنے کمرے سے باہر کی طرف نکلی ۔

سعد جو اپنے روم کی طرف بڑھ رہا تھا ارانیہ کو خود میں ہی کھوئے ہوئے دیکھ کر مسکرا کر اس کی طرف بڑا۔۔۔

ارانیہ کی نظریں ابھی بھی نیچے تھی جہاں پازیب اس کے پاؤں میں تھی ۔۔۔۔۔۔ارانیہ بے دھانی میں چلتے ہوئے سامنے آتے سعد سے ٹکرائی ۔۔۔۔سعد جان بوجھ کر اس سے ٹکرا گیا ۔

مسسز ۔۔۔آرام سے ۔۔۔۔سعد نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے سنبھالا ۔۔

ارانیہ سعد کو خود کے آتنا قریب دیکھ کر گھبرا گئی ۔۔۔

اتنا پسند آیا ہے گفٹ کے نظریں نہیں ہٹ رہی اُس سے ۔۔۔۔۔سعد ارانیہ کے گھبرائے ہوئے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ کر اس کے چہرے سے بالوں کو پیچھے کرنے لگا جو سعد کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے اس کے چہرے پر بکھیر گئے تھے ۔

سع۔۔۔۔۔سعد و۔۔۔وہ وہ ،۔۔۔چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔ارانیہ گھبرائی ہوئی سی تھوڑا غصہ کرتے ہوئے بولی ۔

ایسے کیسے ۔۔۔۔ رات کو بھی تم سو گئی تھی اور میں ۔۔۔۔

آپ آپ کا انتظار کیا تھا میں نے ۔۔۔۔۔۔آپ آپ لیٹ اۂے تھے ۔۔۔۔۔تو میں کیا کرتی ۔۔۔۔۔ارانیہ نے اس کے سخت لہجے کو محسوس کرتے ہوئے کہا ۔

میں ناراض ہوں ۔۔۔۔سعد نے کہتے ہوئے ایک دم سے اس کی کمر سے ہاتھ پیچھے کر لیا اور تھوڑا سا اس سے پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔

ارانیہ جو اس سے ناراض ہونے کا سوچ رہی تھی سعد کی بات سن کر اس کا منہ کھل گیا ۔۔۔

سعد ۔۔۔۔۔

ناراض ہوں میں ۔۔۔۔اب سوچو مجھے کیسے منانا ہے ۔۔۔۔۔سعد اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے بول کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا ۔

ارانیہ اس کی طرف دیکھ کر رہ گئی جو غلطی میں ہونے کے باوجود بھی ناراض ہو کر چلا گیا تھا ۔

میں کیوں مناؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ مناؤ گئے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ پیر پھٹکتے ہوئے نیچے چلی گئی ۔

Episode 6

آج عالیان کی بارات تھی ۔۔۔سب ہی ریڈی ہو کر جانے کے لیے تیار تھے ۔

ارانیہ تیار ہو کر نیچے اتر رہی تھی کے مسسز مجید نے اس کی طرف دیکھ کر ماشاءاللہ کہا تھا ۔

میری بچی بہت پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔۔مسسز مجید اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ماتھے پر پیار کر کے بولی ۔

تھینک یو آنی ۔۔۔۔ارانیہ اُن کے ساتھ لگی پیار بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔

چلے ہم ان اب چلتے ہیں ۔۔۔سب ہی تیار ہو کر باہر کی طرف نکلے تھے ۔۔۔مسسز مجید مجید چوہدری اور ارانیہ عالیان کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھے تھے ۔

سعد جب باہر نکلا تب تک ارانیہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔

سعد نے گاڑی کی شیشے کی طرف گھورا تھا ۔۔

ماما میں اکیلا جاؤں ۔۔۔۔سعد گاڑی کا دروازہ ناک کرتے ہوئے بولا۔۔۔سعد کے اس طرح کرنے سے ارانیہ نے جلدی سے اپنا رُخ دوسری طرف کر لیا تھا ۔۔۔۔سعد اسے بس گھور کر رہ گیا ۔

جی بچے اب ہم تو یہاں بیٹھ گئے ہیں تم اکیلے کیوں آؤ گئے ۔۔ایسا کرو کچھ گیسٹ آ رہے ہیں ان کو ساتھ لے آؤ ۔۔۔ مسسز مجید اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ کر اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے کہہ کر گاڑی کا ونڈ اوپر کر لیا ۔

سعد اُن کی طرف دیکھ کر رہ گیا تھا ۔۔۔

تمہیں تو آج میں پوچھ لوں گا ۔۔۔سعد دانت پیستے ہوئے بول کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔

بارات کا بہترین استقبال کیا گیا تھا ۔۔۔سعد کی پوری کوشش تھی کے وہ ارانیہ سے ملے پر پوری دن ارانیہ اس کو دیکھنے کو بھی نہیں ملی تھی ۔

رسموں کے دوران بھی ارانیہ اسے کہیں نہیں دکھائی دی ۔

ماما ارانیہ کدھر ہے ۔۔۔۔۔. سعد نے اکتا کر مسسز مجید سے بولا جو اس کی بات سن کر مسکرا دی ۔

پتہ نہیں بچے ادھر ہی ہو گی تم دیکھ لو میں دیکھ آؤ رخصتی کا وقت ہو رہا ہے ۔۔۔مسسز مجید بول کر جانے لگی تھی ۔

مما بات سننے جاتے وقت ارانیہ میرے ساتھ جائے گی میں تھوڑی دیر کے لیے اسے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔سعد بولا تو مسسز مجیدی نے اس کی طرف ائبرو اُٹھا کر دیکھا ۔

پلیز ماما ۔۔۔۔

ہمم ایک گھنٹہ ہو گا بس زیادہ نہیں ۔۔۔۔۔کیوں کہ گھر میں سب موجود ہیں ۔۔۔۔۔مسسز مجید بولی تو سعد مسکرا دیا ۔

تھینک یو ماما ۔۔۔۔۔ سعد کے ان کو پیار کرتے ہوئے کہا اور وہاں سے باہر کی طرف چلا گیا ۔

😍
😍
😍
😍
😍

انی میں بھائی کی گاڑی بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔ ارانیہ مسسز مجید کے پاس کھڑی ہوتے ہوئے بولی ۔

نہیں بالکل نہیں ۔۔۔وہ سعد کے پاس جاؤ تمہارا انتظار کر رہا ہے ۔۔۔مسسز مجید بولی تو ارانیہ نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا ۔

پر آنی ۔۔۔۔

جاؤ اس نے مجھ سے اجازت لی ہے ۔۔۔چلو جاؤ شاباش ۔۔۔۔مسسز مجید اسے اس طرف بھیجتے ہوئے بولی جس پر وہ لب چھباتے ہوئے سعد کو گھوری سے نواز رہی تھی ۔

سعد نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئے ۔۔۔سعد کی نظر اس پر تھی جو شارٹ پینک فراک میں نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔سعد کو اس پر سے نظریں ہٹانا مشکل لگ رہا ۔

مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا ۔۔۔۔مجھے آنی کے ساتھ جانا ہے ۔۔۔ارانیہ اسے دیکھتے ہوئے غصے بھرے انداز میں منہ بناتے ہوئے بولی ۔

تمہارے تو اچھے بھی جائے گئے چپ کر کے چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔ماما تو چلی گئی ۔۔۔۔سعد نے پیچھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جہاں سے اب ان کی گاڑی جا رہی تھی ۔

سعد یہ چیٹنگ ہے ۔۔۔۔ آپ سے ناراض ہوں میں ۔۔۔ارانیہ پیچھے جاتی ہوئی گاڑی دیکھ کر بولی تھی ۔

چلو بعد میں ناراض ہو جانا پہلے چلتے ہیں کیونکہ ماما نے بس ایک گھنٹہ دیا ہے ۔۔۔۔۔سعد نے کہتے ہوئے جلدی سے گاڑی کا ڈور کھولا تھا ۔

ارانیہ منہ بناتے ہوئے جلدی سے اس میں بیٹھ گئی ۔

سعد ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔ارانیہ سعد کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جو سیدھا سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا ۔

ابھی پہنچ جائے گئے ۔۔۔۔

سعد نے تھوڑی دیر بعد گاڑی ۔۔۔ایک گراؤنڈز کے سامنے بنے احاطے میں روکی تھی ۔۔۔۔ وہ ایک بہت بڑے ہوٹل کا احاطہ تھا ۔۔۔۔اور باہر نکل کر ارانیہ کی طرف آیا جہاں اس نے ائبر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔

چلیں ۔۔۔۔۔۔سعد اس کے سامنے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا ۔

ارانیہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔

سعد نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اس کے ساتھ چلتے ہوئے دوسری جانب آیا جہاں چاروں اطراف اندھیرا تھا ۔

سعد یہ یہاں ۔۔۔۔۔۔۔. ابھی ارانیہ اتنا بولی ہی تھی کے چارو اطراف روشنی ہو گئی ۔۔۔ احاطے کے چاروں اطراف روشنیوں اور زمین کو پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔

ارانیہ نے جب سامنے دیکھا تو ۔۔۔۔۔ حیرت اور خوشی سے اس کا منہ کھل گیا ۔۔.

سعد ۔۔۔ یہ سب کتنا پیارا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

ارانیہ کے چہرے پر پھوٹتی ہوئی خوشی کو دیکھ کر سعد کے لب مسکرائے ۔۔۔

تمہارے لیے میری پری کے لیے ۔۔۔۔۔۔. ارانیہ کے کان کے قریب اپنے لب کرتے ہوئے آہستہ سے اس کی کان کی لو کو چھوتے ہوئے بولا ۔

سعد کے چھونے سے ارانیہ ایک دفع کانپی تھی ۔۔۔

کیا ہوا ۔۔۔ سعد جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا ۔

سعد پلیز ۔۔۔

کیا پلیز ۔۔نکاح کا سیلبریشن ہے ۔۔۔۔سعد اس کو اپنے حصار میں کرتے ہوئے اپنے قریب کر چکا تھا ۔

سعد اسے حصار میں لے کر ۔۔۔۔سامنے ٹیبل کی طرف لے گیا ۔۔۔جہاں کیک تھا ۔۔۔

میں نے زندگی میں صرف ایک لڑکی سے بے انتہا محبت کی ہے ۔۔۔اور وہ صرف ارانیہ ہے ۔۔۔۔سعد ارانیہ کے پیچھے کھڑا اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کیک کاٹتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی نما بول رہا تھا ۔

ارانیہ کو اپنی سانس تیز ہوتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔

کہیں آنسو اس کی رحصار سے بہہ نکلے تھے ۔۔۔۔اور ارانیہ نے بہتے آنسو اور مسکراتے لبوں کے ساتھ کیک کاٹا تھا ۔

تھینک یو سو مچ سعد ۔۔۔۔ارانیہ کہتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی تھی ۔۔۔سعد ارانیہ کے اس عمل سے مسکرا دیا ۔۔اور پھر زور سے اسے ہگ کر لیا ۔

سعد نے مسکراتے ہوئے اپنے لب اس کے بالوں پر رکھ دئے ۔

تھینک یو سو مچ ارانیہ ۔۔۔۔تم میری زندگی ہو ۔۔۔سعد اس کا چہرا اپنے سامنے کرتے ہوئے اس کے ماتھے پر لب رکھ کر بولا ۔۔۔

آپ اتنی دور صرف یہ کیک کاٹنے کے لیے لے کر آئے تھے ۔۔۔۔۔ ارانیہ تھوڑی پَزل ہو رہی تھی اسی لئے خود کو نارمل کرتے ہوئے بولی ۔

ہاہاہاہا یس مائے لو ۔۔۔۔۔میں چاہتا تھا چارو اطراف روشنیاں ہوں ۔۔۔۔میں ہوں اور بس میری ارانیہ ہو ۔۔۔۔سعد نے مسکراتے ہوئے کہہ کر اس کے ناک پر اپنے لب رکھے تھے ۔

سعد اب چلتے ہیں کیک کاٹ لیا ۔۔۔۔ارانیہ اس کی نظروں سے پزل ہوتے ہوئے بولی تو سعد مسکرایا ۔

چلیں ۔۔۔۔سعد بھی ہنس دیا ۔

اور موبائل پر کسی کو ٹیکس کیا تھا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے تھے دونوں ۔۔۔۔

چلو کوئی کام تو ہادی کے بچے تُو نے اچھا کیا ۔۔۔میری بیوی تو خوش ہو گئی ۔۔۔سعد نے ہادی کو ٹیکسٹ کیا ۔

ہم نکل آئے ہیں تھینک یو۔۔۔ہادی نے میسج کرنے کے بعد فون کو رکھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی ۔

😍
😍
😍
😍
😍

چھوڑو اس لڑکی کو کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔۔حد ہوتی ہے سر نے کہا تھا نہ کہ ریگنگ نہیں کرنی پھر بھی تم لوگ منا نہیں ہو رہے ۔۔۔۔۔ وہ غصے سے سامنے کھڑے لڑکوں کو دیکھتے ہوئے بولا تھا جو ایک لڑکی کو تنگ کر رہے تھے کلاس روم میں جانے نہیں دے رہے تھے ۔

سوری یار جگر بس ویسے ہی سر کو مت بتانا ۔۔۔ وہ لڑکے اسے بولتے ہوئے کان پکڑ کر سوری کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے ۔

آپ جائے اس ڈیپارٹمنٹ کی طرف وہاں کلاس ہو گی آپ کی وہی سائیڈ پر بورڈ لگا ہوا ہے ۔۔ سیڈ اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا۔

تھینک یو سو مچ ۔۔۔سامنے کھڑی لڑکی رونی صورت سے مسکراتے ہوئے بول کر وہاں سے چلی گئی ۔

آف کیا پاگل ہیں سب لڑکی کو روتے ہوئے دیکھ کر بھی ان کے دل نہیں پگھلتے ۔۔۔۔وہ خود سے بولتے ہوئے دوسری جانب چلا گیا تھا جہاں اس نے باقی سٹوڈنٹس کو بھی ورن کرنا تھا ۔

زمل نے پیچھے مڑ کر سیڈ کو دیکھا تھا جو بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جارہا تھا ۔۔۔زمل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی ۔۔

معصوم سے دل میں ایک بیٹ مس ہوئی تھی ۔۔۔ اور وہ لب چھباتے ہوئے نظروں کو پھیر کر وہاں سے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گئی ۔

😍
😍
😍
😍
😍
😍

مسسز مجید نے تمام رسمیں کر لی تھی اور اب دلہن کمر میں جا چکی تھی پر ابھی تک سعد اور ارانیہ گھر واپس نہیں آئے تھے ۔

یہ دونوں کہاں رہ گئے ہیں ۔۔؟ ؟ مسسز مجید گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے خود سے بولی ۔

کیا بات ہے باہر کھڑکی سے کیا دیکھ رہی ہیں ۔۔۔؟ ؟ مجید چوہدری اپنی بیگم کو باہر دیکھتے ہوئے دیکھ کر بولے ۔

آپ کا بیٹا ابھی تک نہیں آیا ۔۔۔مسسز مجید پریشانی سے بولی ۔

کوئی بات نہیں آ جائے گا ۔۔۔

اس کی تو حیر ہے ساتھ ارانیہ بھی تھی مجھے بچی کی فکر ہو رہی ہے ۔۔۔کافی دیر ہو چکی ہے ابھی تک نہیں آئے دونوں ایک گھنٹے کا کہہ کر گیا تھا اب دو سے بھی اوپر ہو چکے ہیں اور میسج بھی ابھی تھوڑی دیر پہلے آیا تھا پر اب تو میسج کو آئے ہوئے بھی کافی وقت ہو گیا ہے کال بھی نہیں لگ رہی ۔

آپ پریشان مت ہو ارانیہ کے ساتھ سعد ہے اس کا محرم اور آپ فکر مت کریں شاید موبائل کا نیٹ ورک نہ ہو یا بیٹری بند ہو گئی ہو آ جائے گئے وہ دونوں آپ ریلکس کریں ۔۔۔۔مسسز مجید کو پریشان دیکھ کر مجید چوہدری اپنی بیوی کے پاس جا کر پیار بھری لہجے میں بولے ۔

اللہ کی ایمان میں ۔۔۔مسسز مجید نے سر ہلا دیا تھا ۔

چلے آ جائے آرام کر لے میں کرتا ہوں میسج سعد کو انفارم کر دے گا ابھی پہنچ کر ۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو مسسز مجید تھوڑی ریلکس ہو کر بیٹھ گئی ۔

چلے اب ٹینشن مت لے ہماری خوشیوں کا دن ہیں ہمارے تینوں بچے اپنی اپنی زندگی میں سیٹ ہو چکے ہیں ۔۔۔

جی بالکل ۔۔

سب سے زیادہ تو مجھے ارانیہ کی فکر تھی اور اللہ کے کرم سے آج وہ بھی اپنے گھر کی ہو گی میری بہو بن کر اور بیٹی بن کر ۔۔۔۔مسسز مجید مسکراتے ہوئے بولی ۔

بالکل ۔۔۔مجید چوہدری نے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔

بس ان کے لیے دعا کریں اللہ سب کو بہت خوش رکھے ۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو مسسز مجید بھی مسکرا دی ۔

😍
😍
😍
😍
😍

س۔۔۔س۔۔سعد پلیز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ نے سعد کے بازو کو زور سے پکڑ لیا تھا ۔۔

ارانیہ ۔۔۔۔ریلکس ۔۔۔ سعد نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جس کا ہاتھ اس کے بازو کو زور سے تھامے ہوئے تھا ۔

سعد چلے یہاں سے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ارانیہ سامنے کھڑی گاڑی کو دیکھتے ہوئے بولی جو ان کی گاڑی کے بالکل سامنے کھڑی تھی اور اس گاڑی میں جلتی ہوئی روشنی سے معلوم ہو رہا تھا کے اندر کچھ اباش لڑکے موجود ہیں، ۔۔۔جن میں سے ایک کا ہاتھ باہر لہرا رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں چاکو تھا ۔

سعد نے ایک دفع سامنے دیکھا اور ایک دفع ساتھ بیٹھی خوفزدہ ارانیہ کو جو خوف سے کانپتے ہوئے بالکل سعد کے ساتھ لگی ہوئی تھی ۔

دونوں واپس جا رہے تھے کے ایک دم سے ان کے سامنے یہ گاڑی آ کر روکی تھی اور سعد نے بروقت ہی گاڑی کو بریک لگایا تھا ورنہ تو ایکسیڈنٹ بھی ہو سکتا تھا ۔

سعد انکل کو کال کریں ۔۔۔۔۔۔

سعد پلیز ۔۔۔۔

ریلکس ارانیہ۔۔۔۔

ارانیہ نے جب دیکھا کے سامنے کھڑی گاڑی میں سے وہ لوگ نکل کر باہر آ رہے تھے اور ان کی گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔دونوں کے ہاتھ میں چاکو تھے اور ایک اپنے ہاتھ میں بڑی سی چین کو گھوما رہا تھا ۔

ارانیہ نے سعد کا بازوں زور سے پکڑ کر آنکھوں کو بالکل بند کر لیا تھا اور سعد کے ساتھ لگ گئی تھی ۔

جب وہ لوگ ان کی گاڑی کے قریب پہنچے تو تب ہی سعد نے گاڑی سٹارٹ کی تھی اور اتنی تیزی سے اس گاڑی کو ان کی گاڑی کے سائیڈ سے گزارتے ہوئے ۔۔۔۔ موڑ دیا تھا کے ان لوگوں کو موقع نہ مل سکے ۔

پیچھے وہ چیختے ہی رہ گئے تھے سعد گاڑی کو فل تیز رفتار میں وہاں سے لے گیا ۔

ارانیہ خوفزدہ سی سعد کے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی آنکھوں کو زور سے بند کر رکھا تھا ۔

سعد نے گاڑی کو روکا نہیں بلکہ اس کی رفتار کو اور بھی تیز کرتے ہوئے بالکل اپنے بنگلے کے سامنے روکا تھا ۔۔۔گارڈ نے سعد کی گاڑی دیکھتے ہوئے گیٹ کھول دیا ۔

سعد نے گاڑی اندر پارک کی تھی ارانیہ ابھی بھی خوف کے عالم میں سعد کے ساتھ لگی ہوئی تھی ۔

ارانیہ ریلکس ہم ٹھیک ہیں گھر پہنچ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سعد کا اتنا کہنا تھا کے ارانیہ نے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا ۔

ارانیہ وہی بیٹھی اپنا سر ہاتھوں میں دے کر رونے لگ گئی ۔۔۔

ارانیہ ارانیہ ۔۔۔۔سب ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔سعد نے اس کی طرف رُخ موڑتے ہوئے اسے خود میں بھیچے ہوئے کہا تھا ۔

سعد میں بہت ڈر گئی تھی ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ مجھے آپ سے چھین لے گئے ۔۔۔دور کر دیں گے مجھے آپ سے بہت دور ۔۔۔۔ارانیہ روتے ہوئے اپنا سر ہاتھوں میں لے کر بولی ۔

شٹ آپ ارانیہ ۔۔۔کوئی تمہیں مجھ سے دور نہیں کرسکتا کوئی بھی نہیں ۔۔. سنا تم نے ۔۔چلو اب اندر چلے ۔۔۔ریلکس ہو جاؤ ۔۔۔۔۔سعد اسے ساتھ لگا کر بولا ۔

پھر اسے آہستہ سے تھامے اپنے ساتھ اندر کی طرف لے گیا ۔

ارانیہ کو ریلکس کرتے ہوئے اس کے کمر میں چھوڑا تھا ۔

سعد ۔۔۔ وہ جانے لگا تھا کے ارانیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔

ارانیہ میں تمہاری حفاظت خود سے بھی زیادہ کروں گا ۔۔ تمہیں میرے ہوتے ہوئے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔۔۔۔۔۔ سعد اس کے پاس اس کے قدموں میں بیٹھ تسلی آمیز لہجے میں بولا ۔

میں بہت ڈر گئی تھی ۔۔.وہ نم لہجے میں بولی ۔

میں بھی ۔۔۔۔۔اب ریلکس ہو جاؤ چلو چینج کر کے آرام کرو ۔۔۔. سعد بولا تو ارانیہ سر ہلاتے ہوئے ڈریسنگ روم میں گئی ۔

میں آ جاؤ ۔۔۔۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی کے مسسز مجید کی روم کے باہر سے آواز آئی ۔

جی ماما آ جائے ۔۔۔۔

اتنی لیٹ سعد ۔۔سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔مسسز مجید سعد کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔

جی ماما سب ٹھیک ہے بس تھوڑی دیر ہو گئی تھی آتے آتے ۔۔۔سعد نے مسکر آکر بات سنبھالی ۔۔ مسسز مجید ابھی سعد سے بات کر رہی تھی کے ارانیہ باہر نکلی ۔

آنی ۔۔۔۔۔ ارانیہ دوڑتے ہوئے ان کے گلے لگ گئی ۔

آف یہ لڑکیاں بھی نہ ۔۔۔. سعد منہ بنا کر بولتے ہوئے پاس پڑھے صوفے پر بیٹھ گیا ۔

کیا بات ہے بچے ۔۔۔. مسسز مجید اسے روتے ہوئے دیکھ کر گھبرا گئی ۔

کچھ نہیں ماما ۔۔۔بس ویسے ہی اسے رونے کی عادت ہے بات بات پر ۔۔۔. سعد بولا تو مسسز مجید اور ارانیہ دونوں نے اسے گھور کر دیکھا ۔

آپ بتاؤ کیا ہوا ہے ۔۔۔؟؟ مسسز مجید ارانیہ کو پیار بھرے لہجے میں بولی ۔

کچھ نہیں آنی بس میں ڈر گئی تھی ۔۔. ارانیہ بولی تو مسسز مجید نے سعد کو گھورا ۔

ماما مجھے کیوں گھور رہی ہیں میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔سو گئی تھی گاڑی میں تو اُٹھایا ہے تو ڈر گئی ۔۔۔. سعد نے خود سے ہی بات بنائی ۔

ایسا ہی ہے نہ ۔۔۔

ج۔۔۔۔جی ۔۔۔جی آنی ۔۔۔۔۔ ارانیہ رونی صورت بنا کر اٹک اٹک کر بولی ۔

آرام سے اُٹھا دیتے بچی کو خوفزدہ کر دیا ۔۔۔مسسز مجید اسے بیڈ کی طرف لے کر آئی تھی ۔

چلو بچے آپ آرام کرو ۔۔۔۔ اب اور اگر خوفزدہ ہو تو آپ کے پاس سو جاؤں گی ۔۔۔

نہیں آنی بس میں ٹھیک ہوں تھینک یو ۔۔۔ارانیہ مسکرائی ۔

ہمم شاباش ۔۔۔۔ اور تم چلو جاؤ اب تم بھی آرام کرو ۔۔۔مسسز مجید بولی تو سعد سر ہلا کر ان کے ساتھ باہر کی طرف چلا گیا ۔

ہر جاتے جاتے ارانیہ کو سکون سے رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔

ارانیہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *