Black Monster by Ayn Khan NovelR50620 Black Monster (Episode 11)
Rate this Novel
Black Monster (Episode 11)
Black Monster by Ayn Khan
بھائی میری ہمت نہیں ہو رہی اندر جانے کی ۔۔۔۔۔. سعد گاڑی کے اندر بیٹھا ہی بولا ۔
سعد وہ ارانیہ نہیں ہو گی ۔۔۔۔
بھائی اگر وہ ارانیہ ہی ہوئی تو ۔۔۔۔بھائی میں جی نہیں پاؤں گا بھائی میں سچ میں خود کو بھی ختم کر لوں گا ۔۔۔۔۔۔سعد اپنا سر ہاتھوں میں دے گیا ۔
سعد ہمت پکڑو اور اُٹھو چلو میرے ساتھ جلدی ۔۔۔عالیان بول کر باہر نکل گیا ۔
سعد نے بھی ہمت کی تھی اور عالیان کے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔۔۔۔قدم بھاری ہو رہے تھے ایک خوف سا تھا ۔۔
کاش کاش ارانیہ یہ تم نہ ہو یہ تم نہ ہو ارانیہ ۔۔۔۔۔سعد دل میں دعا کر رہا تھا ۔
ہاسپٹل کے کارڈار سے نکلتے ہوئے وہ وہاں پہنچے تھے ۔
کہاں ہے ڈیڈبادی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ عالیان بولا تو سعد جیسے ہوش میں آیا ۔
اندر ہے چلے دیکھ لے یہ۔۔۔۔ایک پولیس اہلکار ان کے ساتھ اندر کی طرف گیا تھا ۔
بھائی ۔۔۔
ریلکس سعد سب کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا تمہیں ۔۔۔۔۔عالیان کا انداز سرد تھا ۔
عالیان نے سامنے پڑی باڈی کو دیکھا ابھی اس کے چہرے سے کپڑا اتارتا عالیان کے خود کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ تھی ۔
اللہ تیرا شکر ہے ۔۔۔۔عالیان کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا تب ہی سعد نے اس طرف دیکھا جہاں ارانیہ نہیں کوئی اور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی ۔۔۔سعد روتے ہوئے عالیان سے گلے لگ گیا، ۔۔۔
مجھے پتہ تھا ہماری ارانیہ جہاں بھی ہو گی ٹھیک ہو گی ۔۔عالیان خوشی کے تاثر سے بولا ۔
جی بالکل ۔۔سعد کہتے ہوئے عالیان سے پیچھے ہٹا تھا اور وہاں سے جلدی سے باہر نکل گیا ۔
پیچھے عالیان نے ہی وہاں کھڑے پولیس اہلکار سے بات کی ۔
سعد باہر آ کر آنکھوں کو بند کئے بس اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا ۔
ارانیہ آ جاؤ ایک دفع صرف ایک دفع ۔۔۔پھر کبھی دُکھ نہیں دوں گا ۔۔۔۔سعد کا لہجہ بھگا ہوا تھا ۔
چلو چلتے ہیں ۔۔۔پیچھے سے عالیان آ کر بولا تو سعد نے سر ہلا دیا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
آج دو ہفتے گزر چکے تھے پر ارانیہ کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا ۔۔۔
سعد یونیورسٹی آیا تھا ۔۔۔۔کیوں کہ اسے ضروری کام تھا وہاں ۔۔
سعد کیسا ہے تُو ۔۔۔؟ ہادی اور وہ دونوں اپنا کام کر کے باہر نکلے تو ہادی اس سے بولا ۔
کیسا ہو سکتا ہوں یار ۔۔۔۔۔؟؟ سعد تلخ سا مسکرا دیا ۔
مل جائے گی ارانیہ ۔۔۔۔
ہممم مل جائے گی ۔۔۔۔۔سعد نے ٹھنڈی آہ بھری ۔
سعد اور ہادی بیٹھے دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ زمل وہاں آئی ۔
السلام علیکم ۔۔۔زمل جو ہادی کے پاس آئی تھی سعد کو دیکھ کر خوش ہوتے ہوئے بولی ۔
سعد نے سر اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا اور سر ہلا کر جواب دیا ۔
زمل تم ایسا کرو آج تم اکیلی چلی جانا مجھے کوئی کام ہے تو میں لیٹ گھر جاؤں گا ۔۔۔. ہادی بولا تو زمل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تھا جو سعد کو ہی دیکھ رہی تھی ۔
بھائی میں اکیلے کیسے جاؤں ۔۔۔۔۔آپ جانتے ہیں ۔۔۔زمل منہ بنا کر ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی تھی ۔
سعد کو کہہ دیں۔۔۔آپ مجھے چھوڑ دیں گے ۔۔۔زمل دل میں سعد سے محاطب تھی ۔
پھر میں تمہیں چھوڑ کر پھر چلا جاؤں گا ۔۔۔ہادی بولا تو زمل کا منہ بن گیا ۔
سیڈ آپ مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔زمل خود ہی بول پڑی ۔۔
سعد جو اپنے ہی حیال میں تھا چونک گیا ۔
میں اوکے چھوڑ دوں گا کوئی پرابلم نہیں ۔۔ویسے بھی میں گھر ہی جا رہا تھا بس یونیورسٹی کے ضروری کام سے آیا تھا ۔۔۔۔
ہادی زمل کو گھور کر رہا گیا تھا پر بولا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
میں چھوڑ دوں گا زمل کو ۔۔۔ہادی ہی غصے سے زمل کو گھورتے ہوئے بولا ۔
نہیں بھائی آپ پریشان مت ہوں سیڈ ہے نہ وہ چھوڑ دیں گے ۔۔۔زمل سعد کی طرف دیکھتے ہوئے ہی بول رہی تھی ۔
ہادی کو اس کے انداز سے عجیب سا محسوس ہو رہا تھا ۔
چلو میں چلتا ہوں ساتھ زمل کو چھوڑ کر گھر جاؤں گا ۔۔۔سعد ہادی سے مل کر زمل کے ساتھ وہاں سے چلا گیا ۔۔
ہادی زمل کو بس دیکھ کر رہ گیا تھا ۔
آپ یہاں کھڑی ہوں میں گاڑی لے کر آیا ۔۔۔۔سعد کہہ کر پارکنگ کی طرف چلا گیا ۔۔زمل نے مسکرا کر سر ہلایا تھا ۔
سعد آپ میرے ہے صرف میرے آپ کو سب سے چھین لوں گی سب سے ۔۔۔۔۔زمل کا انداز جنونیت لیے ہوئے تھا ۔
تھوڑی دیر میں سعد گاڑی لے کر آ گیا تھا ۔۔
زمل جلدی سے اپنی سائیڈ والا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی ۔
کیسی جا رہی ہے سٹیڈی آپ کی ۔۔۔؟؟ سعد گاڑی چلاتے ہوئے زمل سے بولا ۔
بہت اچھی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔زمل سعد کی طرف چہرے کئے پیارے بھرے لہجے میں بولی ۔
سعد اپنی ہی ٹینشن میں تھا اسی لئے زمل کی طرف زیادہ دھیان نہیں دیا ۔
آپ اتنے دن یونیورسٹی کیوں نہیں آئے ۔۔۔۔۔؟؟
کیوں آپ میرا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔سعد ہلکے سے مسکرایا تھا ۔
جی بالکل مجھے روزانہ آپ کا انتظار ہوتا ہے ۔۔۔ آج سعد نے محسوس کیا تھا کے زمل کا انداز بےباکی لیے ہوئے ہے ۔
میری بیوی ارانیہ نہیں مل رہی دعا کرنا وہ مل جائے جلدی ہی ۔۔۔۔۔۔
ارانیہ کا نام سن کر زمل کے چہرے کے تاثر عجیب سے ہوئے تھے ۔
اللہ ہی ہے مر جائے کبھی نہ ملے اور آپ میرے ہو جائے ۔۔۔۔زمل دل میں بڑبڑائی ۔
اس کے بعد سعد کچھ نہیں بولا تھا ۔۔زمل کا سارا دھیان سعد کی طرف تھا ۔۔۔پر وہ محسوس کر سکتا تھا زمل کا یو دیکھنا ۔
چلے آپ کا گھر آ گیا ۔۔
ج۔۔۔جی ۔۔۔زمل کے باہر دیکھا تو مسکرائی ۔
ایک بات کہوں ۔۔۔؟ ؟
جی ضرور ۔۔
آپ بہت اچھے ہیں بہت زیادہ ۔۔۔۔زمل مسکرا کر بولتے ہوئے باہر نکل گئی ۔
تم کیا جانو میں کتنا برا ہوں ۔۔۔میری زندگی میری ارانیہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے ۔۔۔۔اچھا ہوتا تو یہ سب نہ کرتا اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔سعد دل میں خود سے ہی لڑ رہا تھا ۔
ارانیہ کہاں ہو تم آ جاؤ پلیز ۔۔۔۔سعد گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگا کر دل میں ارانیہ کو پکار رہا تھا ۔
پھر گاڑی لے کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
خالی سڑکوں پر سارا سارا دن اور رات وہ ارانیہ کو ڈھونڈتا رہتا ۔۔۔۔ پر ارانیہ کا کچھ معلوم نہیں ہو رہا تھا ۔
پولیس کو بھی اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا ۔
سعد تھکا سا دیر رات کو گھر آیا تو ۔۔۔۔مجید چوہدری اور مسسز مجید دونوں لاؤنچ کے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔
کھانا کھاؤ گے سعد ۔۔۔۔مسسز مجید سعد کو بولی جو اب تھک کر صوفے پر بیٹھا تھا ۔
ماما وہ نہیں مل رہی بہت ڈھونڈا رہا ہوں پر نہیں مل رہی ۔۔۔
میں نے اس سے کہا تھا چلی جائے گی میری زندگی سے تو مجھے سکون ملے گا ۔۔۔اب وہ چلی گئی ہے تو سکون نہیں مل رہا کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں میں اسے کہاں سے ۔۔۔۔۔۔سعد کا لہجہ نم تھا ۔
کھانا کھا لو سعد ۔۔۔میں کھانا لگاتی ہوں ۔۔۔مسسز مجید سعد کو بول کر اُٹھی تھی ۔
مما پلیز ۔۔۔آپ تو ایسے بہیو مت کریں ۔۔۔۔۔ سعد جاتی ہوئی مسسز مجید کے ہاتھوں کو تھام کر رو دینے کو تھا ۔
سعد تم بیٹے ہو میرے تو وہ بیٹی ہے میری اور آج اتنے دن سے پتہ نہیں وہ کہاں ہے کیا ہوا اس کے ساتھ زندہ بھی ہے یا۔۔۔۔۔۔
ماما پلیز ایسا مت کہے ۔۔۔۔۔۔اسے کچھ نہیں ہو سکتا کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔سعد چیخا تھا ۔
چیخوں مت سعد ۔۔۔۔۔مجید چوہدری سعد پر دھاڑے تھے ۔
آئندہ کے بعد اس گھر میں ارانیہ کا کوئی ذکر نہیں ہو گا سنا ۔۔۔چھوڑنا چاہتے تھے نہ اسے سمجھو مر گئی تمہارے لیے مر گئی ۔۔۔۔ مجید چوہدری غصے سے بول کر وہاں سے چلے گئے ۔
ماما آپ تو ایسا مت کریں بابا کو کہیے ایسا مت کہے ۔۔۔۔
سب ٹھیک ہو جائے گا سب ٹھیک ہو گا ۔۔مسسز مجید آنسو بھرے لہجے میں بولی
کھانا کھا لو ۔۔۔۔۔۔ہمم طاقت ہو گی تو ارانیہ کو ڈھونڈ پاؤ گے ۔۔۔مسسز مجید پیار بھرے لہجے میں سعد سے بولی تھی جس پر وہ ان کے ساتھ لگ کر رو دیا تھا ۔۔
بالکل بچوں کی طرح رو رہا تھا سعد ۔پر اب وقت ہاتھ سے نکل گیا تھا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
تین ماہ ۔۔۔تین ماہ گزر چکے تھے پر ارانیہ کو کوئی بھی سُراغ نہیں ملا سعد بھی اب بس چپ سا کر گیا تھا ۔۔۔مسسز مجید بھی اب سیریس سی رہنے لگی تھی ۔
سب اپنی اپنی روٹین میں آ چکے تھے مجید چوہدری نے تو سعد سے بات کرنا بند کر دیا تھا ۔
عالیان اور صالحہ دونوں دبئی شفٹ ہو چکے تھے کیونکہ مجید چوہدری نے ان کو وہاں کی برانچ میں بھیج دیا تھا اسی لئے اب گھر بالکل خالی سا ہو گیا تھا ۔
سعد بھی وقت بے وقت گھر آتا اور کبھی کبھی تو بالکل بھی نہیں آتا تھا ۔
آج بھی سعد سیدھا ہادی کے گھر گیا ۔۔۔
سعد یار بھول جا اسے نئی زندگی شروع کر اگر اسے انا ہوا تو آ جائے گی ۔۔۔۔ہادی بولا تو سعد بس چپ رہا بولا کچھ نہیں ۔
سعد یہ دیکھیں یہ کھائے میں نے آپ کے لیے بنایا ہے ۔۔۔زمل سعد کے آگے کیک کرتے ہوئے بولی ۔
بہت کچھ بنا لیتی ہے آج کل آپ ۔۔. سعد ہنستے ہوئے بولا تھا زمل کے ساتھ کافی اچھی دوستی ہو چکی تھی سعد کی ۔
ہاہاہاہا جی بس آپ کے لیے بنایا ہے ۔۔۔.زمل آگے پلیٹ اور چمچ رکھتے ہوئے بولی جس پر سعد مسکرا دیا ۔
یعنی ہادی کو نہیں دینا ۔۔۔
آپ کی مرضی ہے نہیں دینا چاہتے آپ بھائی کو تو نہ دیں ۔۔۔میں نے تو بس آپ کے لیے بنایا ہے ۔۔۔۔۔زمل بولی تو ہادی نے اسے گھورا تھا ۔
بھائی گھورئے مت ۔۔۔۔
جاؤ چائے بنا لاؤ ۔۔۔۔
بھائی دودھ نہیں ہے ورنہ میں پہلے ہی بنا لیتی ۔۔۔پلیز آپ لے آئے تب تک میں ساتھ کباب بھی فرائی کرتی ہوں ۔۔۔زمل بول کر کچن میں چلی گئی ۔
یار سعد تُو کھا میں آتا ہوں ۔۔۔ہادی بول کر باہر چلا گیا ۔
سعد سامنے چلتے ٹی وی کو دیکھتے ہوئے کیک کھا رہا تھا ۔
کافی ٹیسٹی ہے ۔۔۔۔۔۔سعد نے کھاتے ہوئے کہا تب ہی کچن سے زمل کے چیخنے کی آواز آئی ۔
آ آ آ بھائی، سعد ۔۔۔۔ سعد سب چھوڑ کر اندر کی طرف بھاگا ۔
کیا ہوا ۔۔۔؟؟ سعد پریشانی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
زمل کی آنکھوں میں موٹے موٹے انسو تھے ۔
ہاتھ جل گیا میرا ۔۔۔۔زمل ہاتھ کو آگے کرتے ہوئے بولی جو کافی جلا ہوا تھا ۔
یہ تو کافی جل گیا ہے پاگل لڑکی ایسے کون کرتا ہے دھیان کہاں ہے تمہارا ۔۔۔۔۔سعد اسے ڈانٹتے ہوئے بولا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر دیکھنے لگا ۔
ٹویب کہاں ہے میں لگاتا ہوں ۔۔سعد کے پوچھنے پر زمل نے جگہ بتائی جہاں سے سعد ٹویب لے کر آیا ۔
دھیان سے کام کیا کرو ۔۔۔۔۔سعد اس سے باتیں کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر ٹیوب لگا رہا تھا زمل کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔
زمل کو جیسے اپنا درد بھول گیا تھا یاد تھا تو بس اتنا کے اس کا ہاتھ سعد کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔
دھیان رکھنا اب اسے پانی سے مت بھگانا ۔۔۔سعد ٹیوب کا کور بند کرتے ہوئے زمل کو ہدایت دے رہا تھا ۔
ویسے کیک بہت اچھا بنا ہےا ب چائے نہیں پینی میں نے آ جاؤ بیٹھو آرام سے باہر سعد نے کہا تو زمل چپ چاپ باہر آ گئی ۔
سعد آپ بہت اچھے ہیں ۔۔۔زمل بولی تو سعد مسکرا دیا ۔
یہ بات آپ مجھے بہت دفع بول چکی ہیں ۔۔۔ سعد اس کی بات سن کر مسکرا دیا اور اسے ارانیہ کی یاد آئی ۔
جب بھی آپ یہ بات کہتی ہیں مجھے ارانیہ یاد آتی ہے ۔۔۔۔بتاتے ہوئے سعد کیا آنکھیں نم ہوئی تھی ۔
ارانیہ کے نام پر زمل کے ماتھے پر لکیریں پڑھی تھی اور چہرا غصے اور ضبط سے لال ہونے لگا ۔
میں چلتا ہوں کام ہے مجھے آپ آرام کریں اور ہادی کو بتا دینا مجھے کام یاد آ گیا تھا ۔۔۔. سعد زمل کو بولا جو غصے سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ لب بھیچے چپ سی ہو گئی ۔
دھیان رکھنا اپنا آپ ۔۔۔سعد بولا اور باہر کی طرف چلا گیا ۔
زمل اُٹھی تھی اور وہاں پڑی ہر چیز کو اُٹھا اُٹھا کر پھینکنے لگی ۔۔۔۔
سعد میرے ہیں آپ صرف میرے ۔۔۔۔۔ ارانیہ مر جائے مر جائے ۔۔نہ مری تو میں مار دوں گی اسے آپ کو کسی کا ہونے نہیں دوں گی کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔زمل رو رہی تھی ساتھ گھر کی ہر چیز اُٹھا اُٹھا کر پھینک رہی تھی ۔
تھوڑی دیر بعد ہادی آیا تو گھر کی یہ حالت اور زمین پر روتی بلکتی زمل کو دیکھ کر اس کی طرف بھاگا ۔
کیا ہوا ہے زمل کیا ہوا ہے ۔۔۔؟ ؟
بھائی سعد بھائی سعد میرے ہیں صرف میرے پلیز بھائی مجھے سعد چاہے ۔۔۔۔زمل روتے ہوئے ہادی سے بولی جو اس کی بات سن کر چپ سا ہو گیا ۔
بھائی جب جب وہ ارانیہ کا ذکر کرتا ہے میرا دل کرتا ہے اسے جان سے مار دوں ۔۔۔میرے اور سعد کے بھیچ کوئی نہیں آ سکتا کوئی بھی نہیں ۔۔۔۔
ہادی کو اپنی بہن کوئی جنونی پاگل محسوس ہو رہی تھی اس وقت ۔۔
زمل ارانیہ سعد کی بیوی ہے ۔۔۔
بھائی مار دیں ارانیہ کو مار دیں پر سعد صرف میرے ہیں صرف میرے اور اگر وہ میرے نہیں ہوئے تو میں مر جاؤں گی مر جاؤں گی ۔۔۔۔۔ زمل پاگلوں کی طرح بولی ۔
تمہیں کچھ نہیں ہو گا کچھ نہیں ۔۔۔ایک اکیلا خونی رشتہ ہو تم میرا تمہیں کچھ نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔چاہے جو بھی کروں اب سعد کو منا لوں گا ضرور منا لوں گا تم فکر مت کرو ۔۔۔. ہادی اسے اپنے ساتھ لگائے بولا ۔
بھائی سعد میرے ہو جائے گئے ۔۔۔
بالکل میری جان سعد ہو جائے گے تمہارے ۔۔۔تم فکر ہی مت کرو ۔۔. ہادی اس کے آنسو پونچھتے ہوئے مسکرانے کی زبردستی کوشش کر رہا تھا ۔
تھینک یو بھائی ۔۔۔زمل ہادی کے ساتھ لگ گئی ۔
جی میرا بچہ ۔۔۔ہادی اس کے ماتھے پر پیار دے کر بولا ۔
AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ![]()
آپ کہاں لے کر جا رہے ہیں مجھے ۔۔۔؟, مسسز مجید کی طبیعت دن با دن بہت بگھڑ رہی تھی اسی لیے مجید چوہدری ان کے لیے بہت پریشان تھے ۔
آپ کی بگڑتی طبیعت کا علاج کرنے کے لیے ۔۔۔مجید چوہدری مسکراتے ہوئے بولے ۔
پر ہاسپٹل تو دوسری طرف ہے ۔۔۔۔
پر آپ کا علاج یہاں اس طرف ہے ۔۔۔۔مجید چوہدری مسکراتے ہوئے بولے ۔۔۔. مسز مجید چپ کر گئی ان کو لگا شاید کوئی دوسرا ڈاکٹر ہے ۔
مجید چوہدری نے گاڑی ایک بلڈنگ کے نیچے روکی تھی اور پارکنگ میں کھڑی کرتے ہوئے مسسز مجید کو اپنے ساتھ لے کر جانے لگے ۔
ہم کہاں جا رہے ۔۔۔۔؟؟
سپرائز ہے آپ کے لیے ۔۔. بہت پہلے بتانا چاہتا تھا پر نہیں بتایا ۔۔مجید چوہدری ان کو لے کر تھریڈ فلور پر گئے اور ایک فلیٹ کے سامنے جا کر بیل دی ۔
جس نے سامنے دروازہ کھولا اسے دیکھ کر مسسز مجید کبھی سامنے کھڑی ارانیہ کو دیکھتی کبھی مجید چوہدری کو ۔۔۔
آنی ۔۔۔۔ارانیہ مسسز مجید کے گلےلگ گی ۔۔مسسز مجید بھی اس کے گلے لگی رونے لگی تھی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لگی رو رہی تھی ۔
مسسز مجید بار بار ارانیہ کا چہرا چوم رہی تھی ۔۔
بس بس اندر جا کر دونوں ایک دوسرے سے پیار کر لینا ابھی دونوں اندر چلو شاباش۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو ارانیہ ان کو ساتھ لگائے اندر کی طرف بڑھ گئی ۔
