Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Monster (Episode 16)

Black Monster by Ayn Khan

سعد میں چاہتی ہوں آپ پورے گھر کی سجاوٹ کروائے شادی تو ایک ہی دفع ہو گی تو پلیز ۔۔۔۔۔۔زمل سعد کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔۔وہاں سعد اور ہادی بھی تھا ۔

ہادی آج ہی آیا تھا اور اب وہ بھی ان کے گھر ہی رہ رہا تھا ۔

جی ضرور ضرور سب سجاوٹ ہو گی سارے گھر کی ۔۔۔سعد مسکرا دیا ۔۔۔

زمل اب اپ سعد کے پاس نہیں آئے گی آپ کا اور سعد کا پردہ ہے اسی لئے ۔۔۔ہادی مسکراتے ہوئے بولا تو زمل بھی ہنس دی ۔

سعد کو اسی لمحے ارانیہ کی یاد آئی تھی جو اکیلے میں اسے کمرے میں آنے تک کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔

اور یہاں زمل کھولے عام گھوم رہی تھی ۔

جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔۔ہادی بولا تو زمل نے منہ بنایا ۔

بھائی ایسا کچھ نہیں ہوتا یہ سب پرانی رسم ہے اب تو زمانہ ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔

زمل ماما بھی یہی چاہتی ہیں اور میں بھی ۔۔۔۔سعد بولا تو زمل نے اس کی طرف دیکھا ۔

آپ کہہ رہے ہیں تو میں آپ سے پردہ کر لوں گی دو دن پر صرف دو دن ہی تو ہیں ۔۔۔۔زمل ہنس کر کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی ۔

تھینک یو سو مچ سعد ۔۔۔۔۔ہادی جاتی ہوئی زمل کو دیکھ کر بولا ۔

سعد مسکرا دیا تھا بولا کچھ نہیں۔

اج تک میں نے زمل کو اتنا خوش نہیں دیکھا جتنی وہ اب خوش ہے، ۔۔۔۔میں تمہارا احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گا، ۔۔ہادی مسکراتے ہوئے سعد کو بولا ۔

کوئی بات نہیں تُو دوست ہے میرا تیرے لئے سب کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔سعد ہنس کر بولا تھا ۔

سب تیاریاں ہو گئی ہیں شادی کی بس کل مہندی ہے اور پرسوں بارات ۔۔سب خرچہ بابا ہی کرنے والے ہیں ۔۔۔سعد بولا تھا ۔

سعد میرے پاس سیوائنگز ہے کچھ میں چاہتا ہوں تم وہ لے لو ۔۔

پیسوں کی ضرورت نہیں ہے وہ تمہارے کام آئے گے تمہاری بھی تو شادی کرنی ہے ۔۔۔سعد ہنستے ہوئے بولا تھا ۔

اور کچھ ۔۔۔سعد نے ہادی کو دیکھتے ہوئے کہا۔

کچھ نہیں بس میں ڈیکوریشن والوں کو بلا لیتا ہوں گھر سجاوا دیں گے اور روم بھی تمہارا ۔۔۔۔ہادی بولا تو سعد سر ہلا گیا ۔

میرا کمرا، ۔۔۔۔ارانیہ کیا کیا سوچا تھا پر قسمت مجھے کس موڑ پر لے آئی ہے ۔۔

آج میں اپنی ہی محبت کو دُکھ دے کر کسی اور کو زندگی دے رہا ہوں ۔۔۔کاش تم سمجھ پاؤ ۔۔۔مجھے یقین ہے کہ ایک دن تمہیں میرے فیصلے پر فحر ہو گا ۔۔۔۔۔۔سعد دل میں ارانیہ سے محاطب ہوا تھا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

ارانیہ خود کو اتنی اذیت تو مت دو، ۔۔۔۔۔مسسز مجید ارانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی جو مسسز مجید کو اپنے لائے ہوئے ڈریس دکھا رہی تھی ۔

کب کوئی آنی میں کسی اذیت میں نہیں ہوں میں تو مزے میں ۔۔۔سعد کی شادی انجوائے کروں گی پھر میری شادی ہے ۔۔۔۔۔انکل نے کہا ہے مجھے ۔۔۔. ارانیہ مسکراتے ہوئے مسسز مجید سے بولی ۔

کوئی فرق نہیں پڑتا سعد کسی اور کا ہو رہا ہے ۔۔۔؟ ؟

فرق ۔۔۔مجھے ایسے لگ رہا ہے آنی میرا دل اس دن بند ہو جائے گا ۔۔۔دعا کرئیے گا ارانیہ کا دل بند ہو جائے ۔۔۔۔۔بند ہو جائے ورنہ پل پل کی اذیت مجھے اندرہ ہی اندر ختم کر دے گی ۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ مسسز مجید کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔

آنکھیں پانیوں سے بھرئی ہوئی تھی ۔۔۔۔پر پھر بھی مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی ۔

ارانیہ بس بچے ۔۔. مسسز مجید تکلیف سے دیکھتے ہوئے اسے ساتھ لگا گئی ۔۔۔

آنی بہت تکلیف ہو رہی ہے کیوں کر رہے ہیں سعد میرے ساتھ ایسا انہیں کہے دے وہ نہ کریں اس طرح ۔۔۔۔۔نہ کریں ۔۔۔۔ارانیہ جو بہت تکلیف ہو رہی ہے وہ برداشت نہیں کر پائے گی مر جائے گی ۔۔۔۔۔۔ارانیہ سسکتے ہوئے مسسز مجید سے بولی تھی ۔

بچے بس بس ۔۔۔رو مت ایسے انسان کے لیے اپنے آنسو برباد مت کرو جیسے آپ کی پرواہ ہی نہیں ۔۔۔مسسز مجید اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی ۔

آنی ۔۔۔۔

ماما باہر سجاوٹ والے آئے ہیں پلیز کہاں کہاں کروانی ہے بتا دیں ۔۔. ویسے تو زمل بھی بتا رہی ہے پر آپ بھی اس کے ساتھ دیکھ لے ۔۔۔۔۔سعد دروازہ کھولتے ہوئے بولا تھا ۔

سعد میں آتی ہوں جاؤ تم ۔۔۔۔

ابھی اُٹھئے میں آپ کا بیٹا ہوں یہ لڑکی نہیں ۔۔۔۔۔ اس کے رونے اور ناٹک بعد میں دیکھ لے ۔۔۔پہلے میری شادی کی تیاری کر لے ۔۔۔۔سعد سرد سے اندز بولا ۔

سعد ۔۔۔۔مسسز مجید غصے سے بولی ۔

جائے آنی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ارانیہ بمشکل مسکراتے ہوئے بولی ۔

مسسز مجید نے سعد کو افسوس سے دیکھا تھا۔۔۔۔اور ارانیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر وہاں سے باہر کی طرف چلی گئی ۔

ارانیہ اُٹھی تھی اور دروازے سے ہوتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جانے لگی ۔۔۔سعد وہی کھڑا تھا سعد کو مکمل اگنور کرتے ہوئے گزرنے لگی ۔

بہت رونے رو رہی ہو تب ہی کہو میرے ماں باپ میرے خلاف کیوں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سعد اسے کلائی سے تھام کر اپنے سامنے کرتے ہوئے بولا ۔

ارانیہ نے درد بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی کہیں آنسو آنکھوں سے لڑکھڑا کر بہہ نکلے تھے ۔

فکر مت کریں مسٹر سعد آپ کی زندگی میں بہت جلد کوئی ارانیہ نام کی لڑکی نظر نہیں آئے گی ۔۔۔۔بہت دور بہت بہت دور چلی جاؤں گی اتنی دور کے آپ چاہ کر بھی وہاں سے واپس نہیں لا پائے گے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔

سوچ اچھی ہے پر یہ صرف سوچ تک رکھیں گا کیونکہ میں اپنی بیوی کو کسی اور کو تو بالکل بھی نہیں سونپنے والا ۔۔۔۔سعد بھی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی گال پر بہہ رہے آنسو کو صاف کرتے ہوئے بولا ۔

اپنا وعدہ یاد ہے نہ ۔۔. میری شادی اچھی طرح اٹینڈ کریں گی آپ اور پیارے پیارے کپڑے پہن کر خوشی خوشی اپنی سوتن کو لے کر آئے گی اس گھر میں ۔۔۔۔

جی بالکل یاد ہے اور میں لوگوں کی طرح وعدے بھول جانے والوں میں سے نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور رہی سوتن کی بات تو اسے میں نہیں آپ لے کر آئے گے اس گھر میں ۔۔۔۔بلکہ آپ تو اسے لے کر آ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔

اب چھوڑیں مجھے اور نیچے جائے آپ کی ہونے والی بیوی انتظار کر رہی ہے آپ کا جائے شاباش ۔۔۔۔۔ورنہ ابھی یہاں آ جائے گی ۔۔۔ارانیہ سعد کو طنزیہ کہتے ہوئے اس کے ہاتھ سے اپنا چڑا کر وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔

پیچھے سعد گہرا سانس لے کر وہی کھڑا رہ گیا تھا ۔

AynKhan Novel’s AynKhan Novel’s ❤️

دو دن بھی پر لگا کر گزر گے تھے ۔۔۔ارانیہ تو کمرے سے باہر بھی نہیں نکلی تھی ۔۔۔۔کھانا اسے میڈ کمرے میں دے جاتی ۔۔۔۔مسسز مجید اور مجید چوہدری نے اسے کہیں دفع کہا تھا پر وہ پھر بھی نہیں نکلی ۔

پورے گھر کو پھولوں سے سجایا گیا ۔۔۔۔کمرے تک کی ڈیکوریشن کروا دی گئی تھی ۔۔۔اور آج سعد کی اور زمل کی اکھٹی مہندی تھی ۔

سارا دن گزر گیا تھا پر ارانیہ کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کے وہ باہر جائے آنسو تھے کے روکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔۔مسسز مجید کتنی دفع آئی تھی پر ارانیہ نے دروازہ نہیں کھولا ۔

اور جو ستمگر تھا وہ تو اسے جیسے بھول ہی گیا تھا ۔۔۔۔۔۔اپنی خوشی میں اسے کسی کا ہوش نہیں تھا ۔

سعد آپ اتنے بے وفا نکلے گے میں نے سوچا نہیں تھا ۔۔۔

مہندی کا سارا انتظام لان میں رکھا گیا تھا ۔۔۔

ارانیہ کھڑکی سے کہیں دفع دیکھ چکی تھی سعد کو جو ہنستے ہوئے پورے لان کی سیٹنگ کروا رہا تھا ۔

چہرے پر کہیں رنگ تھے جو اندر ہی اندر ارانیہ کو مار رہے تھے ۔۔۔

سارا دن گزر گیا تھا اب تو مہندی شروع ہو چکی تھی ۔

ابھی ابھی مہندی کا فنکشن شروع ہوا تھا ۔۔۔۔ ہر طرف روشنیوں کا جہاں تھا ۔۔۔

اور سٹیج پر زمل کو لا کر بیٹھایا گیا تھا ۔۔۔. اور اس کے ساتھ سعد بیٹھا تھا ۔۔۔۔سفید کرتا شلوار میں ۔۔۔۔کوئی شہزاد لگ رہا تھا ۔۔

ساتھ بیٹھی زمل کے چہرے پر مسکراہٹ تھی فتح کر لینے والی مسکراہٹ ۔۔۔۔خوشیوں تھی اس کے چہرے پر ۔۔۔

ارانیہ کا حوصلہ نہیں ہو رہا تھا کے وہ نیچے جائے اور سعد کو کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھے ۔۔۔

ارانیہ بچے ۔۔۔۔ارانیہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی نیچے سعد اور زمل کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔مجید چوہدری کی آواز آئی ۔۔۔

ارانیہ نے جلدی سے پردہ ٹھیک کیا تھا اور اپنے بہتے آنسو صاف کئے ۔۔

ج۔۔۔۔جی ۔۔جی انکل ۔۔۔۔۔ارانیہ دروازہ کھولتے ہوئے مسکرا کر بولی ۔

آپ رو رہی تھی ۔۔۔؟ ؟

نہیں انکل میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ ارانیہ بمشکل مسکرائی ۔

ہم آپ کو ٹھیک بھی ہونا ہے اور سب سے لڑنے کا ہنر بھی آنا چاہے اور آنے والے کل کے لیے خود کو تیار بھی کرنا پڑے گا ۔۔۔۔۔مجید چوہدری اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے ۔۔۔۔. ارانیہ سر ہلا گئی تھی بولی کچھ نہیں ۔

چلے کپڑے پہن کر نیچے چلے اور سامنا کریں سب کا ۔۔۔۔

انکل میں نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ارانیہ رونی سی ہو کر بولی ۔

سعد کو دیکھا ہے کتنا خوش نظر آ رہا ہے ۔۔۔ایسے جیسے اس کے دل کی مرد بر آئی ہو ۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری کھڑکی کی طرف گے تھے اور وہاں سے نیچے دیکھتے ہوئے بولے ۔

نیچے خاتم آیا ہے اور میں چاہتا ہوں آپ اس سے مل لے اور سعد کو بھی معلوم ہو ارانیہ بہت سٹرانگ ہے اور اسے کسی کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

آپ کو خاتم سے ملنا ہے اور آپ کو سب کا سامنا بھی کرنا ہے ۔۔۔جلدی سے نیچے آ جائے ۔۔۔۔

ارانیہ کو کہتے ہوئے نیچے چلے گئے تھے ۔

ارانیہ روتے ہوئے واش روم میں بند ہو گئی تھی ۔۔۔

میں نہیں کر پاؤ گی سعد نہیں کر پاؤ گی آپ کو کسی اور کا ہوتے کیسے دیکھ لوں کیسے ۔۔۔۔۔روتے ہوئے بولی تھی ۔

تھوڑی دیر خود کو رونے دیا اور پھر خود کو سنبھال کر فریش ہوتے ہوئے تیار ہوئی تھی ۔۔۔اور تیار ہو کر باہر نکلی ۔۔

لان کی طرف جاتے ہوئے ارانیہ کو اپنے قدم من بھر کے لگ رہے تھے ۔

لان میں داخل ہوئی تو سامنے ہی دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی رسمیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

ارانیہ کو دیکھتے ہوئے زمل نے سعد کے ہاتھ کو پکڑ لیا ۔۔چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی ۔

سعد نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا اور زمل کہ نظروں کی طرف دیکھا جو سامنے کھڑی ارانیہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔سعد کی نظریں ارانیہ پر ٹک سی گئی تھی جو ملٹی شیڈ لہنگے میں سادہ سی تیار ہوئی حسین کی مورت لگ رہی تھی ۔

سعد کی نظریں اس پر سے ہٹنے سے قاصر تھی ۔۔۔پر ارانیہ نے نفرت سے سعد کو دیکھتے ہوئے رُخ بدل لیا ۔۔

سعد کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔۔

ارانیہ مسسز مجید کے پاس گئی ۔۔

یہ ارانیہ ہے ۔۔۔مسسز مجید نے اسے خاتم کی ماما سے ملوایا ۔۔

السلام علیکم آنٹی ۔۔۔۔

بہت پیاری بچی ہے ۔۔۔۔میرے خاتم کی طرح بہت اچھی جوڑی لگے گی ۔۔۔۔وہ بولی تو ارانیہ سے مسکرائی بھی نہیں جا رہا تھا ۔

وہ خاتم بھی آ گیا ۔۔۔۔

خاتم یہ ملو ارانیہ سے ۔۔۔. ارانیہ نے اسے بھی سلام کیا تھا ارانیہ نے نظریں جھکا رکھی تھی ہاتھوں کو مسل رہی تھی ۔

مسسز مجید نے ارانیہ کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔۔

بیٹا آپ جاؤ ارانیہ کے ساتھ فنکشن انجوائے کرو ۔۔۔۔۔۔ خاتم کی ماما بولی تو ارانیہ نے بے بسی سے مسسز مجید کی طرف دیکھا ۔

ارانیہ ۔۔۔جائے بیٹا ۔۔۔۔مسسز مجید کی بات سن کر ارانیہ چپ چاپ اس کے ساتھ چلی گئی ۔

کیسی ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔خاتم اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا تھا دونوں دوسری طرف کھڑے تھے ۔۔. سامنے مہندی کی رسمیں ہو رہی تھی ۔۔زمل کی فرئنڈ اور سب ہی وہاں موجود تھے ۔

میں ٹھیک ہوں. ۔۔۔ارانیہ ہلکا سا مسکرائی تھی ۔

میں جانتا ہوں یہ آپ کے لیے مشکل ہے پر سب ٹھیک ہو جائے گا آپ مجھے بہت پسند آئی ہیں بابا نے جب پہلی دفع آپ کی پیچرز دکھائی تو میں نے کہا بابا کو مجھے اب یہ ہی چاہے ۔۔۔۔۔خاتم ہنستے ہوئے بولا ۔

ارانیہ اس کی بات سن کر چپ سی کر گئی ۔

کیا سعد میں اتنی بری ہوں کے آپ کی پسند بھی نہ بن پائی اور بدلے کی نظر ہو گئی ۔۔۔۔ارانیہ سوچ کر رہ گئی تھی ۔

کیا سوچ رہی ہیں ۔۔۔۔چلے جو بھی ہیں آپ بہت پیاری لگ رہی ہے آج بھی ۔۔۔بالکل کوئی پری کی طرح ۔۔۔۔۔. خاتم نے ارانیہ کے چہرے پر ائے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔۔

خاتم کے ایسا کرنے سے ارانیہ جلدی سے بدک پیچھے ہٹی تھی ۔

آپ میری ہونے والی بیوی ہیں اتنا تو چلتا ہی گھبرا کیوں رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔خاتم ارانیہ کے ایسا کرنے پر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولا ۔

پلیز مسٹر خاتم ۔۔۔. ارانیہ نے اس کے ہاتھ کو پیچھے کیا تھا اور وہاں سے چلی گئی ۔۔

سامنے بیٹھے سعد کا غصے سے برا حال تھا جو ضبط کی انتہا پر تھا ۔۔۔۔غصے سے ماتھے کی رگے تن گئی تھی ۔۔

فکشن ختم ہوا تو سب ہی اپنے اپنے گھروں کی طرف نکل گے زمل کو اس کے کمرے میں چھوڑ دیا گیا ۔۔۔

AynKhan Novel’s, AynKhan Novel’s, ❤️

چھوڑیں سعد کہاں لے کر جا رہے ہیں مجھے ۔۔۔۔۔؟؟ ارانیہ راہ داری سے گزر کر اپنے روم کی بر طرف جا رہی تھی کے سعد اسے کلائی سے تھامے اپنے ساتھ کھنچتے ہوئے لے کر جانے لگا ۔

چھوڑیں مجھے سعد ۔۔۔۔۔۔چھوڑیں ۔۔۔۔۔ارانیہ چیخی تھی ۔

بکواس بند ۔۔۔ورنہ جان لے لوں گا ابھی کے ابھی آپ کی۔۔۔۔سعد اس کی طرف دیکھتے ہوئے گور کر بولا ۔

ارانیہ سعد کے تیور دیکھ کر چپ کر گئی تھی ۔سعد اسے کھنچتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف لے کر گیا تھا اور کمرے میں لے جا کر سعد نے اسے اندر دکھیلتے ہوئے دروازہ بند کر دیا ۔

کیا بدتمیزی ہے سعد ۔۔۔۔ارانیہ کو سعد سے خوف محسوس ہو رہا تھا پھر بھی ہمت کرتے ہوئے چیخی ۔

سعد غصے سے اس کی طرف بڑھا ۔۔۔۔۔ارانیہ پیچھے قدم لینے لگی اسے سعد کے تیور دیکھ کر ارانیہ کو اس سے خوف محسوس ہو رہا تھا ۔۔

سعد ۔۔۔ارانیہ پیچھے ہوتے ہوئے جا کر دیوار سے لگ گئی تھی ۔۔۔۔سعد آنکھوں میں وخشت لیے اسی کو دیکھ رہا تھا ۔

بدتمیزی یہ بدتمیزی ہے ۔۔۔میں کروں تو بدتمیزی اور آپ آپ کیا کر رہی تھی اس کے ساتھ بتائے کیا کر رہی تھی اس لڑکے کے ساتھ ۔۔۔۔۔اس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ارانیہ آپ کا ہاتھ ۔۔۔۔۔۔سعد نے غصے سے بولتے ہوئے دیوار پر ہاتھ مارا ۔

ارانیہ نے خوف سے آنکھوں کو بند کر لیا تھا ۔۔۔۔

بولیں ارانیہ کیوں آیا تھا وہ آپ کے پاس کیوں چھوا اس نے آپ کو ۔۔۔۔۔اب کیوں نہیں بول رہی آپ ۔۔۔۔۔۔سعد دیوار پر ہاتھ رکھے ارانیہ پر جھکے ہوئے چیخا۔

زمل آپ کو چھوتی ہے کون ہے وہ آپ کی آپ سے چھوتے ہیں کون ہیں آپ اس کے بتائے ۔۔۔. ارانیہ ہمت جمع کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر بولی ۔

میری ہونے والی بیوی ہے جانتی ہیں آپ ۔۔۔۔۔

ہونے والی بیوی ہے سعد ہوئی نہیں تھی ابھی جو آپ دونوں اس گھر میں کھلے عام ۔۔۔۔۔۔. ارانیہ بولتے بولتے چپ کر گئی ۔

آپ کا کیا تعلق ہے اس لڑکے کے ساتھ بولے آپ بتائے ۔۔۔۔۔سعد ارانیہ کی طرف دیکھ کر بولا جو اس وقت ملٹی شیڈ لہنگے کرتی میں کوئی پری محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔پر سعد کو اس وقت بہت غصہ تھا ۔

وہ میرے ہونے والے شوہر ہیں ۔۔۔۔۔۔بہت جلد ہی آپ سے طلاق ۔۔۔۔۔۔۔

خاموش خاموش ارانیہ ۔۔۔۔۔۔۔سعد اسے جبڑے سے دبوچے غرایا

طلاق شوہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کچھ آپ اور آپ کے انکل جی سوچ کر بیٹھے ہیں وہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا کبھی بھی نہیں ۔۔۔آپ میری ہیں اور ہمیشہ میری ہی رہو گی ۔۔۔۔۔۔سعد نے ارانیہ کا جبڑا اتنی زور سے دبوچ رکھا تھا کے ارانیہ درد سے آنکھوں کو بھیچ گئی ۔

ارانیہ کی آنکھوں سے کہیں آنسو بہہ نکلے تھے ۔۔۔سعد کو ارانیہ کے درد کا احساس ہوا تو اس نے اپنی گرفت تھوڑی ہلکی کی اور اس کے بہتے آنسو پر اپنے ہونٹوں رکھے ۔

ارانیہ نے اسے تڑپ کر دیکھا تھا ۔۔۔نفرت سے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غرائی ۔

آپ کر رہے ہیں سعد دھوم دھام سے اپنی شادی ۔۔۔اپنی محبت کے ساتھ تو میں کیوں نہ کروں ۔۔. بتائے کیوں ۔۔۔ارانیہ نے سعد کو خود سے دور جھٹکا تھا ۔۔۔

میں کروں گی سعد ضرور کروں گی آپ کو مجھے طلاق دینی ہو گی ضرور دینی پڑے گی سنا آپ نے ۔۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ روتے ہوئے چیخی تھی اور بے دردی سے آنسو صاف کرنے لگی ۔

طلاق چاہے آپ کو ۔۔۔. سعد جنونی سا ہوتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔

ہاں چاہے مجھے ۔۔۔۔۔ ارانیہ غصے سے چیخی ۔

طلاق بھی دے دوں گا پہلے آپ سے اپنا حق لے لوں ۔۔۔۔۔۔۔پہلی بیوی ہیں آپ میری اور اس کمرے میں میری زندگی پر آپ کا پہلا حق ہے آپ کا۔۔۔۔سعد کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عجیب سی مسکراہٹ لیے بولا ۔

ارانیہ سعد کی مسکراہٹ اور کمرے کی سجاوٹ کو دیکھ کر رہا گئی جو کل زمل کے لیے کی گئی تھی ۔

نہیں ہے آپ کا کوئی بھی حق مجھ پر اور نہ میرا آپ ہر نہ اس کمرے پر ۔۔۔۔ی۔۔۔یہ ۔۔۔کمرا آپ کی دوسری بیوی کے لیے سجایا گیا ہے میرے لیے نہیں اسی لئے میرے قریب آنے کی کوشش بھی مت کرنا آپ ۔۔۔۔۔ارانیہ کو سعد کی مسکراہٹ سے عجیب سا خوف محسوس ہونے لگا تھا ۔

روک سکتی ہیں مجھے ۔۔۔آپ کی ننھی سی جان روک لے گی مجھے ۔۔۔۔سعد کی مسکراہٹ عجیب سا خوف پیدا کر رہی تھی ارانیہ کے اندر ۔۔

دل تیز رفتار میں دھڑک رہا تھا ۔

سعد مجھے جانا ہے ۔۔۔۔ارانیہ بولتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تھی ۔

سعد نے جاتی ہوئی ارانیہ کو کلائی سے تھام کر بیڈ پر سجی مسہری پر پھینکا تھا ۔۔

سعد ۔۔۔۔۔ارانیہ کا رنگ خوف سے پیلا ہو گیا ماتھے پر کہیں پیسنے کی بوندے نمودار ہوئی ۔۔

آپ مجھے نہیں روک سکتی پہلے ارانیہ پھر کوئی اور ۔۔۔۔۔۔سعد بیڈ پر گری ارانیہ کے دونوں اطراف ہاتھ رکھ کر اس پر جھکا بولا ۔

مجھے آپ سے کوئی حق نہیں چاہے آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے ۔۔۔۔ سنا آپ نے جائے اپنی ہونے والی بیوی کے پاس مجھے چھونے کی کوشش بھی مت کرائیے گا سعد ۔۔۔۔ارانیہ کو حوف محسوس ہو رہا تھا پر پھر بھی ہمت سے بولی ۔

آج آپ مجھے نہیں روک سکتی ۔۔. سارے راستے بند کر دوں گا میں آپ پر آپ صرف سعد چوہدری کی ہیں ۔۔۔صرف اور صرف سعد چوہدری کی ۔۔۔۔۔سعد اس کے ماتھے سے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے وہاں اپنے ہونٹ رکھے بولا ۔

سعد پلیز جانے دیں مجھے ۔۔۔سعد کی بڑھتی جسارتو سے ارانیہ کو اپنا دم گھوٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔

یہاں میرا کوئی حق نہیں ہے سعد یہ کمرا زمل کے لیے سجایا گیا ہے ۔۔۔میرا کوئی حق نہیں ہے ۔۔۔ارانیہ سعد کو خود سے پیچھے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی تھی ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی ۔

اس کمرے پر اس دل پر اور مجھ پر صرف اور صرف ارانیہ کا حق ہے صرف ارانیہ کا ۔۔۔۔۔۔۔سعد مسکراتے ہوئے ارانیہ پر جھکا تھا ۔

ارانیہ کی لاکھ مزاہمت بھی سعد کو اس سے دور نہیں کر پائی تھی ۔

آئی لو یو ارانیہ ۔۔۔سعد کو صرف اور صرف آپ سے محبت ہے صرف آپ سے ۔۔۔۔۔ سعد اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ارانیہ نے نہ میں سر ہلایا ۔۔

سعد نے کہتے ہوئے کمرے میں جلتی لائٹ کو بند کر دیا تھا ۔۔۔۔ اور جو کمرا زمل کے لیے سجایا گیا تھا آج ارانیہ کے حق میں آیا ۔۔۔

ارانیہ کی لاکھ مزاہمت بھی سعد کو باز نہ رکھ سکی ۔۔۔۔۔۔

سعد آئی ہیٹ یو آئی ہیٹ یو ۔۔۔۔ارانیہ کے نفرت میں کہے گے لفظ بھی سعد پر اثر نہیں کر رہے تھے ۔۔

بڑتی ہوئی رات اگلے دن کوئی خوشی لے کر آنے والی تھی یا ایک نیا طوفان لے کر آنے والی تھی ۔۔۔یہ تو آنے والا وقت بتانے والا تھا ۔

پر جو بھی تھا دونوں کی لائف پر پورا پورا اثر کرنے والی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *