Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Black Monster by Ayn Khan

ارانیہ اپنے کمرے میں تھی کے اسے مسسز مجید نے نیچے بلایا ۔۔۔۔
ارانیہ جب نیچے آئی تو دیکھا کے وہاں سب تھے ۔۔۔۔۔۔عالیان مجید چوھدری ۔۔۔سعد بھی وہی تھا۔
آنی آپ نے بلایا ۔۔۔۔۔؟؟ ارانیہ ان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
جی بچے بیٹھو ۔۔۔ضروری بات کرنی ہے تم سے اور روم میں کیوں بیٹھی تھی جب ہم سب یہاں ہیں تو تم کیوں ہو روم میں ۔۔۔۔۔۔مسسز مجید اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی ۔
آنی وہ سٹیڈی کر رہی تھی اسی لئے ۔۔۔۔۔صبح ٹیسٹ ہے ۔۔۔۔ارانیہ اپنے چہرے پر آئی لیٹ کو پیچھے کرتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
سعد کی وجہ سے کل سے وہ بہت زیادہ پریشان سی تھی اسی لئے روم سے بھی نہیں نکل رہی تھی ۔
اچھی بات ہے پڑھ رہی ہو اپ ۔۔۔۔ہمیں آپ سے ضروری بات کرنی تھی ارانیہ بچے ۔۔۔۔۔مجید چوہدری اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے جس پر ارانیہ نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
جی جی انکل ۔۔۔۔۔۔۔
ارانیہ عالیان کی شادی ہے اور ہم سوچ رہے ہیں کے ہم عالیان کی شادی پر تمہارا اور سعد کا نکاح کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مجید چوہدری بولے تو ارانیہ نے ان کی طرف دیکھا ۔
پھر سعد کی طرف جو ایسے بیٹھا تھا وہاں جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں اُس کا سارا دھیان اپنے موبائل پر تھا ۔۔۔ارانیہ نے اسے حیرت سے دیکھا ۔
ہمیں صرف تمہاری رضامندی کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔اور رخصتی ہم چاہتے ہیں کہ ہم تمہاری سٹیڈی کے بعد کریں ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا بچے ۔۔۔۔ارانیہ پریشان سی سعد کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔جس کا دھیان موبائل میں تھا ۔
انکل ۔۔۔۔و۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔وہ
کیا ہوا بچے کوئی پریشانی ہے ۔۔۔۔اسے اس طرح گھبرائے ہوئے دیکھ کر مسسز مجید بولی ۔
آنی ۔۔۔۔۔آنی میں سعد سے نکاح نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارانیہ ایک ہی سانس میں بولی ۔۔۔۔اس کا ایسا بولنا تھا کے سب نے اس کی طرف دیکھا ۔
سعد نے بھی نظروں کو اُٹھا کر غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔
ایم سوری آنی انکل آپ لوگوں کے مجھ پر بہت احسان ہیں پر ۔۔۔میں سعد سے نہیں کرنا چاہتی باقی آپ جس سے چاہے میرا نکاح کروا دیں ۔۔۔۔ارانیہ بول کر وہاں روکی نہیں تھی دورتے ہوئے وہاں سے چلی گئی ۔
. وہاں بیٹھ ہر شخص کے چہرے پر عجیب سا تاثر تھا ۔
ماما آپ پریشان مت ہوں ۔۔۔میں بات کرتا ہوں کل لڑائی ہوئی تھی ہماری اسی لیے ناراض ہو کر کہا ہو گا اس نے ۔۔۔آپ تیاریاں کریں نکاح کی بھی ۔۔۔. سعد اپنے غصّے کو کنٹرول کرتے ہوئے تحمل سے اپنی ماں سے بولا ۔
پر بچے اتنا بھی غصہ نہیں کرتی ارانیہ ۔۔۔تم نے کچھ کہا ہے ضرور ورنہ وہ تو بہت فرمانبردار بچی ہے آج تک مجھے نہ نہیں کہا اور وہ جانتی بھی ہے کے تم دونوں کی انگجمنٹ ہو چکی ہے ۔۔۔مسسز مجید بولی تو سعد نے لب بھیچ لیے ۔
ریلکس ماما آپ صبر کریں وہ آپ سے خود آ کر شادی کے لئے ہاں کرے گی ۔۔۔۔
سعد اسے کچھ مت کہنا اب دوبارہ ۔۔۔۔۔
ماما آپ دونوں ریلکس رہیں میں نہیں کہتا اسے کچھ بھی ۔۔. سعد اپنے ماں باپ کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا ۔
ورنہ تو اس کا دل کر رہا تھا کے ارانیہ کا حشر کر دے ۔
تمہیں تو میں سیدھا کروں گا بڑی آئی میرے والدین کو انکار کرنے والی ۔۔۔۔سعد غصے سے دل میں سوچ کر رہ گیا ۔
ماما آپ تیاریاں شروع کریں بھائی بنے گئے دولہا ۔۔۔۔۔سعد ہنستے ہوئے بولا تو سب ہی مسکرا دئے ۔
کاش ارانیہ کے ماں باپ بھی ہوتے تو یہ سب ہوتا ہی نہ ۔۔۔۔۔
ماں تو زندہ ہے پر اسے کیا خبر اس کی ایک بیٹی بھی ہے کس حال میں ہے زندہ بھی ہے کیسے رہتی ہے کوئی خبر نہیں اس عورت کو ۔۔۔۔۔مجید چوہدری غصے بھرے لہجے میں بولے ۔
ارانیہ کی ماں میں ہوں اور تم سن لو پہلے اس کی ماں پھر تمہاری ماں ہوں میں ۔۔۔۔۔مسز مجید سعد کا کان پکڑ کر بولی ۔
جی ساسو ماں ۔۔۔۔۔۔سعد ہنستے ہوئے بولا ۔

گوڈ بوائے ۔۔۔۔۔۔بس اب میری بیٹی کے ساتھ جو بھی ناراضگی ہے ختم کر لو اور اسے منا لو ۔۔۔پھر میں تم دونوں کو ایک سٹرانگ بندن میں باندھ دوں اور میری کوئی بھی زمیدای نہیں رہے گی ۔۔۔۔۔مسسز میجد بولی تو سب مسکرائے ۔

COMPLETE DOWNLOAD LINK AVAILABLE 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *