Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

راج محل میں پہنچا تو وشہ کہیں نہیں تھی

شاید جان کر ناراض ہو کر چھپ گئی تھی اس سے… وہ پھر مسکرایا اور دربار میں چلا گیا…

وہ وہیں تھے.. کچھ عورتوں کے بیچ بیٹھی.. ان سے باتیں کر رہی تھی..
راج نے اس کی جانب دیکھا.

مگر وہ لاتعلق سی بنی رہی.. راج جانتا تھا یہ کسے بل کیسے نکالنے ہیں…

اسی لئے بھری محفل میں لوگوں سے مخاطب ہوا…
میرے پیارے لوگو… آج آپ کا کنگ بے حد اداس ہے…. وہ اداسی سے بولا

وشہ نے پہلو بدلا

کیوں مائی لارڈ… ہم قربان جائیں اپ کے کیوں اداس ہیں آپ…. وزراء بولے….

کیونکہ آپ کی کوئین ناراض ہے مجھ سے… وہ اطمینان سے بولا… وشہ کا چہرہ خفت سے سرخ ہوا..

افففف راج کتنے بدتمیز ہیں…. دل کیا پاس بیٹھے کنگ کے سینے پہ مکے برسا دے
مگر ہائے رے حسرت

کیوں مائی لارڈ… کوئین کیوں ناراض ہیں آپ سے.. لوگوں نے پھر استفسار کیا.. وشہ نے پھر پہلو بدلہ کیونکہ
آج جو یہ کنگ بدتمیزیوں پر اتر آیا تھا کچھ بعید نہیں تھی کہ بتا بھی دیتا کہ وہ کیوں ناراض ہے..

یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ… کیونکہ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا جس سے کوئین ناراض ہو گئیں… وہ خود پر معصومیت طاری کرتے بولا

وشہ نے دل میں دانت کچکچایے…. اور وہ جو پیٹ پر ابھی بھی سرخ نشان تھا..جو کہ دکھا بھی نہیں سکتی تھی… نا بتا سکتی تھی اور جو اسے اتنا ستایا…وہ الگ
راااااااج..
دھیمے لہجے میں غرائی…

وہ دھیمی سی مسکان لیے یونہی مسکین سی شکل بنائے بیٹھا رہا…

کوئین مان جائیں ناں… ناراض مت ہوں ہمارے کنگ سے.. عوام بھی اسی کی تھی….. وشہ نے جبڑے بھینچے..

میں ناراض نہیں ہوں… آپ کے کنگ کو غلط فہمی ہوئی ہے… آرام کرنا چاہتی ہوں..وہ بظاہر نارمل سی کہتی… مگر دانت پیس رہی تھی..

راج نے چپکے سے ہاتھ تھامنا چاہا… مگر اس نے بھی ناخن کھبو دئیے.. جن کا اس ڈریگن پر رتی برابر بھی اثر نہیں ہونے والا تھا….

یہ کہہ کر اٹھی.. اور اپنی خوابگاہ میں آ گئی…
اور اب شدید غصے میں کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھ رہی تھی…

اتنا غصہ تھا کہ نیند بھی نہیں آنے والی تھی…
اتنے میں ہی پیچھے مخصوص آہٹ سنائی دی…وہ یوں بن گئی جیسے کچھ سنا ہی نہیں..

راج مسکراتا اس کے قریب آیا…
وش…… بھاری گھمبیر جزباتوں سے بھرپور لہجہ بولا

وشہ کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی.. مگر ڈھیٹ بنی رہی
تبھی راج نے پیچھے سے اس کے گرد بازو حمائل کیے….

کوئین ناراض ہے.. بالوں میں منہ دیا…. خوشبو رگ رگ میں سمائی…

راج لیو می… وہ جھنجھنلا کر بولی… اور وہ بازوؤں کا گھیرا توڑنا چاہا.
مگر اس کے چاہنے سے کچھ نہیں ہونے والا تھا…

راج نے گھما کر اس کا رخ اپنی جانب کیا…
پلیز وش مجھ سے بات کرو.. تمھاری یہ ناراضگی میری جان لے لے گی…. وہ بھی اب سنجیدہ ہو چکا تھا…

راج آپ کو اندازہ ہے آج آپ نے مجھے کتنی تکلیف پہنچائی.وشہ کا لہجہ بھیگ گیا.

کیا سچ میں وش…. پلیز آئم سوری.. میں تو مزاق کر رہا تھا.. راج تڑپا.. اچھا مجھے دکھاؤ زیادہ تکلیف ہوئی تو میں وید کو بلاتا ہوں..

راج کا ہاتھ اس کی کمر کی جانب بڑھا .. وہ بری طرح بوکھلائی..

نہیں راج… اٹس اوکے میں آرام کروں گی… وشہ نے ٹالنا چاہا.. مگر سامنے راج تھا..

اسے بازوؤں میں اٹھا کر بستر پر لٹایا.
راج جانے دیں نا.. وہ مچلی.. مگر راج سنجیدہ تھا.. اشارہ کیا تو اس کی کمر سے لباس اوپر سرک گیا تھا..

دائیں پہلو میں نیلا پڑتا نشان…. راج جی بھر کر شرمندہ ہوا.. آئم سوری وش…. میرا مقصد تمھیں ہرٹ کرنا نہیں تھا.. مجھے نہیں پتہ تھا تمھیں اتنا لگے گا….

راج پریشان ہوا… وشہ نے اٹھ کر اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں لیا..
نو راج…. میں ٹھیک ہوں… پریشان نہیں ہوں..

راج نے اسے سینے میں بھینچا… وشہ کو لگا اس کی ہڈیاں ہی کڑک جائیں گی..
اس کا کنگ اس کے لئے اتنا شدت پسند کیوں تھا.. یہ تو وہ بھی نہیں جان پائی تھی آج تک.
وہ بھی راج سے بے تحاشا محبت کرتی تھی.

مگر اکثر راج کی محبت کے آگے اسے پنی محبت تو کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی…

راج اسے لئے نرمی سے بیڈ پر نیم دراز ہوا… اور گردن پر دہکتے لب رکھے…
راج پھر سے ہوش کھونے لگا تھا. وشہ کے بازو بستر سے لگائے… وشہ گھبرائی

راج….. مم.. میں آرام کروں گی… راج کی شدتیں لٹاتے لبوں سے نڈھال وہ اٹکتی بولی…

مگر میں نے جو تکلیف دی ہے اپنی کوئین کو اس کا ازالہ کروں گا.. بھاری لہجے میں وہ اس کے کانوں میں بولا.. اور پھر اس کے لبوں پر جھکتا چلا گیا..

وشہ کو اندازہ ہو گیا آج پھر اسے ساری رات اپنے گنگ کا پاگل پن جھیلنا ہے سو خاموشی سے اپنے وجود کو راج کے سپرد کر دیا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

سامر مسرور سا پاتال میں آیا تھا
جہاں بلیک وچ بے صبری سے اس کا انتظار کر رہی تھی…

وہ آیا اور اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا…

بلیک وچ بے چین ہوئی…. کیا ہوا بھائی… کچھ مجھے بھی تو بتاؤ..

تمھیں کیا بتاؤں… پاگل کر دیا ہے کوئین کے حسن نے… مگر اسے پانا ناممکن ہے..

تو اب کیا…؟ اب کیا کریں گے ہم….بلیک وچ پھنکاری…

بہت کچھ… بہت کچھ کر سکتے ہیں..میرے پاس ایک منصوبہ ہے…

مثلاً… وہ کیسے بھائی زرا تفصیل سے بتاؤ…. بلیک وچ نے بے چینی سے کہا…

سب سے پہلے تو عمل کر کے تمھاری طاقتیں بحال کرواؤں گا…. ہمیں طاقتور بننا پڑے گا….
پھر ہمیں انتظار کرنا ہے
.. وو مکروہ سے ہنسی ہنس کر بولا

کس چیز کا انتظار بھائی…

پرنس سے ہارنے کے بعد لگتا ہے تمھاری عقل بھی جل گئی ہے بلیک وچ… سامر پھنکارا….
دیکھو ابھی وہ دونوں کنگ اور کوئین ہیں.. اگر ہم نے حملے کی کوشش کی تو بےدردی سے قتل کر دئیے جائیں گے.
اسی لئے ہمیں سہی وقت کا انتظار کرنا ہوگا.
خاص کر وہ وقت جب کوئین کے ہاں بچے کی پیدائش کا وقت قریب ہوتا ہے… وہ کمزور اور بیمار ہوتی ہے
مگر ہمیں ان کو قتل نہیں کرنا.. اس سے بھی بڑا درد دینا ہے ان کو…

وہ کیسے میرے بھائی.. تم بہت اچھے ہو… بلیک وچ اب دلچسپی سے اس کی باتیں سن رہی تھی اور واقعی اس نے تو اس سب کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا…..

ہم ان کا بچہ جو بھی ہوا وہ اٹھا لائے گے.. ہم اپنی طاقتوں سے کبھی بوڑھے نہیں ہونے والے.. پرنس ہوا تو تمھارا اور اگر پرنسز ہوئی تو وہ میری…… اور اس طرح ان کا تخت بھی وہ بھی ہمارا….سمجھیں بات

ارے واہ… میں نے تو اس بارے میں سوچا ہی نہیں…یہ بلکل ٹھیک ہے.. ہمیں صحیح وقت کا انتظار کرنا ہوگا…

پہلے بھی تو میں نے ایسا ہی کیا تھا اس کی ماں کو تب قتل کیا تھا جب یہ پرنس پیدا ہوا تھا…..
ہاہاہا ہاہاہا ہاہاہا… اب بھی ایسا ہی ہوگا..

بلیک وچ میری خواہش ہے کہ کوئین کے ہاں پرنسز پیدا ہو…کوئی ایسا جادو نہیں جو کیا جوئے اور میری خواہش پوری ہو جائے…… سامر بلکل پاگل ہو چکا تھا…

نہیں ایسا کوئی جادو نہیں سامر….. اب تو بس انتظار ہی کیا جا سکتا ہے…

اوہ… چلو آؤ میں اپنے عمل سے تمھاری طاقتیں بحال کرنا شروع کرتا ہوں…

بلیک وچ اس کی گندی بدبو دار اور کالی جگہ سامر کے سامنے آلتی پالتی مارے بیٹھ گئی..

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

اگلی صبح وشہ کی آنکھ کھلی تو راج کی بانہوں میں اس کے مضبوط حصار میں قید تھی….

راج… اٹھیں ناں…
راج جو کہ کافی دیر سے اٹھا ہوا تھا… مگر وش کے آرام کے احساس سے یونہی لیٹا رہا اب اس کے پکارنے پر اس دیکھا.

یس مائی لو مائی کوئین.. حکم کرو..

راج میں نے خواب میں دیکھا کہ اظہر ڈیڈ کی طبیعت خراج ہے مجھے ان سے ملنا ہے.. آپ مجھے لے کر چلیں ناں
وہ صبح صبح پریشان تھی..

جو آرڈر میری کوئین کا….. وہ دھیمے سے بولا مگر ماریہ کا سوچ کر ماتھے پر بل آۂے
افف اس عورت کی منحوس شکل پھر دیکھنی اور جھیلنی پڑے گی…. رئیلی… خود سے مخاطب ہوا…

اوکے ادھر آؤ وش تمھیں اس بارے میں ڈیٹیلز بتاؤں
اور پھر راج نے اسے بتایا کہ ان کی شکلوں میں بہروپ دھار کر کیسے اس کے غلام واشنگٹن میں رہتے ہوئے آظہر جمی اور ماریہ سے مسلسل ٹچ میں ہیں..

اسی لئے اس کی کوئین کو انھیں اب بھی اپنی حقیقت اور اصلیت بتانے کی ضرورت نہیں ہے..

ہمم تو گنگ بہت چالاک ہیں… وشہ نے چھیڑا.

اور بہت بڑا عاشق بھی ہوں.. وہ کہہ کر دوبارہ اس پر جھکنے لگا..
وشہ بوکھلائی…
راج پلیز… اس کے سینے میں منہ دیا…..

راج نے بے ساختہ قہقہہ لگایا… یہ اچھی بات ہے کوئین… یعنی مجھ سے چھپ کر مجھ میں ہی پناہ لینا… وااااہ

راج نے اس کی کمر کے گرد بازو حائل کر کے نرمی سے کہا.

اچھا کب جانا ہے راج……

کچھ دیر تک چلتے ہیں… جمی کو واشنگٹن سے فون کروا دوں کے ہم لوگ آ رہے ہیں.. پھر چلتے ہیں

ٹھیک ہے.. وہ دبے دبے جوش میں بولی……

راج نے اس کی چن سے پکڑ کر چہرہ اوپر کیا.اور چن پر لب رکھے. سنو کوئین اس چپکو عورت ماریہ سے دور رہنا..مجھے وہ زرا بھی……….

راج……. وشہ نے وارننگ دی…

اب اگر اس نے تمھیں مجھ سے دور کرنے کی کو کوشش کی تو……..

تو کچھ بھی نہیں راج
.. وشہ نے راج کی بات بیچ میں ہی اچکی…. آپ کچھ نہیں کریں گے راج.. وہ اپنی عادت سے مجبور ہیں… پلیز

کوشش کروں گا وش اسے برداشت کرنے کی مگر وعدہ نہیں……. اب اگر

کچھ نہیں ہوگا راج.. اور آپ تو ان سے بھی زیادہ پوزیسو ہیں… وہ کیوٹ سا منہ بنا کر بولی..

اتنے قریب وہ کیوٹ سے منہ بناتی پھر اسے پاگل کر گئی..

تو کوئی اتنا پیارا اور حسین ہی کیوں لگتا ہے کہ بندہ پاگل ہو جائے… راج نے گھمبیر آواز میں کہتے ماتھے پر پرحدت سا لمس چھوڑا…….

راج چلیں تیار بھی ہونا ہے.. وشہ نے اسے جھنجھوڑ کر ہوش دلانے کی کوشش کی.
راج اس کی اس حرکت پر کھل کر مسکرایا.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺