No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
ساحر وشہ کی جانب بڑھ رہا تھا…
وہ بے تحاشا تڑپی… وہیں قدم روک لو ساحر…..مجھے چھونے کی جرات بھی نا کرنا ورنہ راج تمھیں جلا کر راکھ کر دے گا… وشہ دھاڑی…
بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی پرنسز تمھیں پانے کے لیے مجھے اپنی جان کی بھی بلی دینی پڑے.. میں دے دوں گا.
اس کے لہجے میں عجیب سا جنون اور پاگل پن تھا….
بہت محبت کرتا ہوں تم سے پرنسز… پہلی نظر میں ہی عاشق ہو گیا تھا تم پر…اور تم جانتی ہو کہ جب ایک جن عاشق ہو جائے تو وہ آخری سانس تک پیچھا نہیں چھوڑتا………
وہ کہتا بستر کے قریب آیا… اور نظر وشہ کی دودھیا گداز پنڈلیوں پر ٹھہر گئی.ساحر نے جھک کر انھیں چھونا چاہا
نن.. نو… ساحر دور ہٹو مجھ سے.. چھونا مت.. آنکھوں میں آنسو لئے وہ چلائی..
ساحر نے اسے چھونا چاہا. مگر پھر اس سفید سی بجلی نے اسے کئی فٹ دور اچھال دیا…
وہ غصے سے پاگل ہوتا ایک مرتبہ پھر اٹھا اور پرنسز پر جھکنے لگا مگر ایک بار پھر اچھل کر کئی فٹ دور اچھال دیا گیا..
اب وہ شدید طیش اور اشتعال میں پرنسز کی جانب بڑھا مگر پھر ناکام ہو گیا…
اور ہر مرتبہ ناکام ہی ہوا
وہ پاگل ہو چکا تھا مگر پرنسز کو چھو نہیں پا رہا تھا…
وہ طیش کے عالم میں چنگھاڑنے لگا
اس کی دلدوز آواز بلیک فوریسٹ کا سینا چیرتی چہار سو پھیل رہی تھی..
اب وشہ نے مزاحمت بند کر دی اور زرا سا کھسک کر تکیے پر نیم دراز ہوئی اور بے حد حقارت اور طنزیہ مسکان سے اس خبیث جن کو بے بسی سے چنگھاڑتے دیکھتی رہی..
چھوڑ دو مجھے…. ساحر…… اپنی اسی ناکامی سے اندازہ لگا لو کہ میں صرف اور صرف راج کی ہوں…. اس کے علاوہ مجھے کوئی نہیں چھو سکتا… چھوڑ دو مجھے… وشہ دھاڑی
تمھاری خام خیالی ہے پرنسز….. اس کا بھی توڑ نکال کر ابھی آتا ہوں تمھارے پاس… انتظار کرو میرا
وہ کہتا بھسم کرنے والے انداز میں باہر نکل آیا…..
اور بار بار بلیک وچ کو مخاطب کرنے کی کوشش کرنے لگا..
مگر وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہی تھی…
اس سے ساحر کو اور غصہ آیا… اور اس کی بھیانک آنکھوں میں سے شعلے نکلنے لگے…
ادھر بلیک وچ سوتی بنی رہی.. اس نے اپنی تمام طاقتیں اس روپ کو دھارنے میں جھونک دیں تھیں… حتی کہ ڈریگن پرنس اس کی خوشبو سے بھی نہیں پہچان سکتا تھا
کیونکہ بلیک وچ نے اس بات کا بھی دھیان رکھا تھا کہ اس کی خوشبو بھی بلکل پرنسز جیسی ہو
راج کافی دیر پرنسز کے پاس بیٹھا رہا…
بے تحاشا چونکا اس وقت جب اسے اپنے کانوں میں کسی کے چنگھاڑنے کی آوازیں سنائی دیں
وہ فورا اٹھا… محل میں پرنسز محفوظ تھی
وہ محل کی چھت پر آیا…
اور ڈریگن بن کر محل کی حدود میں اڑنے لگا……
بلیک وچ… غصے سے پاگل ہوتی پھنکارتی اٹھی… اور منتر پھونک کر زور سے ہوا میں ہاتھ لہرایا
کالا سا دھواں بنا جس میں ساحر کی غصیلی منحوس شکل دکھائی دی….
تمھیں تکلیف کیا ہے آخر خبیث جن.. سکون نہیں ہے… کیوں چنگھاڑ رہے ہو اگر پرنس کو زرا سی بھی بھنک لگ گئی تو جلا کر بھسم کر دوں گی……
بلیک وچ دھیمے لہجے میں چلائی…
میں پرنسز کو چھو نہیں پا رہا… اس کے قریب نہیں جا پا رہا اور تم کہتی ہو مجھے کیا تکلیف ہے….
ساحر نے بھی دانت پیسے…
تھوڑی سی عقل استعمال کر لینی تھی گندی شکل کے خبیث جن… اپنی جن والی بدبو تو دور کر لیتے وہ پہچان گئی…. تمھیں
مگر پہلے تو میں اسے چھو پا رہا تھا اب کیا ہوا؟ ساحر کا دل کیا بلیک وچ کی منحوس گردن مروڑ دے
پہلے وہ تمھیں راج سمجھ رہی تھی اور اس کی مرضی تھی کہ تم اس کے قریب چلے گئے..
بہت بڑی غلطی کر دی تم نے اپنا. اصل روپ دکھا کر.
. وہ ڈریگن پرنس کی بیوی ہے اوپر سے انسانی رسم ہوئی ہے شادی کی….. جس سے ان کا رشتہ اور مضبوط ہو گیا..
اب تم اس کی مرضی کے بغیر اس کے پاس نہیں جا سکتے.. اور یہ سب تمھاری کم عقلی کا نتیجہ ہے…
بلیک وچ غرائی…
میری عقل پہ ماتم بعد میں کرنا مجھے اس کا توڑ چاہیے.. مجھے ہر حال میں پرنسز چاہیے….
توڑ کچھ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ڈریگن پرنس مر جائے… یا وہ خود تمھیں اپنی مرضی سے اپنے قریب آنے دے
مار ڈالو ڈریگن پرنس کو.. ساحر پھنکارا…
تم پرنسز کی وجہ سے پاگل ہو چکے ہو… ایسے کیسے مار ڈالوں…
انتظار کرو کل تک کا… میں ایسا جال بچھاؤں گی کہ ڈریگن پرنس مجھے اپنا لے گا پھر میں کوئین بنوں گی اور مار ڈالوں گی اسے… پھر پرنسز کے ساتھ جو چاہے مرضی کرنا
ابھی اپنا منہ بند کرو… اور انتطار کرو….
نہیں کر سکتا… نہیں کر سکتا انتظار…. ساحر نے اپنے بال نوچے….
تو مرو پھر کہیں جا کر… مگر کوئی گڑبڑ مت کرنا اب… وہ غرائی..
ہاتھ نیچے کیا… دھواں ہوا میں تحلیل ہو گیا وہ چپکے سے آ کر پھر بستر پر لیٹ گئی…..
اور سوتی بن گئ…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ساحر غصے سے بل کھاتا واپس اس کمرے میں آیا
جہاں پرنسز خود کو ان رسیوں سے آزاد کرانے کی تگ و دو میں بری طرح مچل رہی تھی..
ساحر نے پینترا بدلا…
اشارہ کیا… تو پرنسز پر سے وہ رسیاں ہٹ گئیں.. وہ فورا اٹھ کر بیٹھی..
پرنسز… میں تمھارے ساتھ کچھ برا نہیں کروں گا… اب کی بار لہجہ بہت نرم تھا…
تم برا کر بھی نہیں سکتے ساحر… میں صرف راج کی ہوں… وشہ نے طنزیہ کہا..
اور دروازے کی جانب لپکی…
وشہ کی بات اور اس کے عمل نے ساحر کو پھر انگاروں پر گھسیٹا..
مگر ضبط کر گیا..
پرنسز کوشش بے کار ہے میری مرضی کے بغیر یہ دروازہ نہیں کھلے گا..
ساحر جانے دو مجھے.. پرنسز بے بسی سے چلائی..
پرنسز میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے…وعدہ کرتا ہوں راج سے زیادہ خوش رکھوں گا تمھیں.. میرے ساتھ رہو….
ساحر نے محبت بھرے لہجے میں کہا
بند کرو اپنی بکواس ساحر… میں بیوی ہوں راج کی… تمھیں اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آ رہی
اب ساحر کا ضبط جواب دے چکا تھا..
تو پھر سڑو یہیں ساری زندگی کے لیے پرنسز.. میری نہیں ہوئیں تو اس راج کے لئے تو بلکل نہیں چھوڑوں گا تمھیں میں
یہیں رہو گی ہمیشہ میرے ساتھ.. راج کے مرنے کے بعد تو تمھیں میرا ہونا ہوگا ناں
ساحر اس کے قریب چلا آیا
ساحر نے وشہ کے پیروں نیچے سے زمین کھینچی..
ساحر بکواس بند کرو ورنہ منہ نوچ لوں گی میں تمھارا..
پرنسز تم مرو گی میرے ہاتھوں سے… ساحر غرایا.. اور ہاتھ لہرا کر وشہ پر وار کیا..
وہ تو پہلے ہی اس زہنی ٹارچر سے نڈھال ہو چکی تھی.. تیورا کر زمین پر گری..
پرنسز…… مجھے معاف کردو… آنکھیں کھولو… ساحر تڑپ کر پرنسز پر جھکا..
مگر اسے چھو نا سکا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
اگلی صبح بلیک وچ کی آنکھ کھلی تو راج سامنے بیٹھا اسے بغور دیکھ رہا تھا
وہ گڑبڑائی… مگر ظاہر نا ہونے دیا…. اور آرام سے اٹھ کر بیٹھ گئی…
اب طبیعت کیسی ہے پرنسز….
میں بلکل ٹھیک ہوں پرنس….. راج پھر چونکا…. اور بغور اسے دیکھا
کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہیں پرنس… وہ نظریں جھکا کر ایک ادا سے بولی
کچھ خاص نہیں……. چلو باہر آج دن میں ہمارے لوگوں نے ہمارے لئے خاص دعوت کا اہتمام کیا ہے جو کہ ہمیں اٹینڈ کرنی ہے
میں تیار ہو جاؤں اپ چلیں.. وہ نظریں جھکائے ہی بولی
اونہہ یہ لوگ…… کون منہ لگائے اب اس پاگل کی وجہ سے انھیں سر پر سوار کرنا پڑے گا…..
بلیک وچ دل میں تلملائی….
راج باہر چلا گیا…
وہ اچھے سے تیار ہوئی
اور ایک خاص لباس پہنا…
اج نہیں بچ پاؤ گے ڈریگن پرنس میری اداؤں سے…. وہ دل میں خباثت سے ہنستی اچھے سے تیا ر ہوئی.
باہر آئی. تو دربار لگا ہوا تھا… کافی سارے لوگ اکٹھے تھے…
دربار میں بہت بڑے دسترخوان کو سجایا گیا تھا……
وہ تخت پر راج کے ساتھ بیٹھی تھی….
وہ بیٹھ پائی تھی کیونکہ راج نے اسے ہاتھ تھام کر خود اپنے پاس بٹھایا تھا.
مکار اور چالاک تو وہ تھی ہی….
ایک خاص غلام سے اس نے دربار میں موجود وہ آئینہ ہٹوا دیا تھا.
دعوتِ عام تھی….
بلیک وچ دل میں خوب کوفت کا شکار تھی
مگر جبری مسکان سجائے بیٹھی رہی……
کیا ہوا پرنسز ٹھیک تو ہو….
نہیں کچھ نہیں پرنس میں ٹھیک ہوں…….
یونہی راج نے اپنے لوگوں کے نیچ دن گزارا
شام کے سائے گہرے ہویے تو
پرنسز تھک گئی ہو گی چلو محل کی چھت پر چلیں… چہل قدمی بھی ہو جائے گی اور تازہ ہوا سے فریش بھی ہو جاؤ گی…..
ٹھیک ہے چلتے ہیں… تم تو گئے پرنس… وہ مسکان سجائے اس کا ہاتھ تھامے سیڑھیاں چڑھنے لگی……
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
