Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

وہ ایک الگ ہی اور بہت خوبصورت سا جہان تھا جسے ڈریگن لینڈ کہتے تھے..
ہر طرف شاداب کھلتے خوبصورت پھول اور قدرتی نظارے
بہتے چشمے
بڑے درخت…

بڑے سے محل میں کنگ ایزلان اداس سا بیٹھا تھا… اس کی کوئین کو قتل کر دیا گیا تھا… جنت نما ڈریگن لینڈ میں اب ہر طرف دھوئیں سے اٹھ رہے تھے، جب ایک پری نما خادمہ نے پرنس راج کو ان کی گود میں دیا..

وہ سبز آنکھوں والا بچہ ڈریگن لینڈ کا اگلا جانشین تھا..
اب ساری امیدیں اپنے بھائی جمار پر تھیں…اگر اس کی بیوی کے ہاں پرنسز پیدا ہوتی تو ڈریگن لینڈ کو بچایا جا سکتا تھا..

جب وہی خادمہ بھاگ کر ان کے پاس آئی.. کنگ ایزلان … کوئین کی طبعیت خراب ہے شاید پیدائش کا وقت قریب ہے
کنگ پھولوں کی راہ گزر سے ہوتے ہوئے جمار کے قریب آئے
وہ بے چینی سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا

اپنے بھائی کو دیکھ کر ان کے تسلی دینے سے پر سکون سا ہوا… اندر سے بے چین سی چیخوں کی آوازیں سنائیں دے رہیں تھیں..
جس سے راج ان کی گود میں رونے لگا.
جمار نے اسے گود میں لئے…

اندر سے خادمہ آئی… اور ان کو سب سے بڑی خوشخبری سنائی.
بہت مبارک کنگ…. ہمارے راج پرنس کی پرنسز آ گئی ہے.
مگر کوئین کی طبیعت ٹھیک نہیں.

محل میں جشن کا سا سمان تھا…
کیونکہ ڈریگن لینڈ کی رسموں کے مطابق کچھ ہی دیر میں پرنسز اور پرنس راج کی شادی کی رسم ادا کر دی گئی تھی.

ڈریگن لینڈ میں پیدائش کے بعد ہی ایک خاص رسم جس میں جادو سے آنے والے جوڑے کے دل پر ڈریگن کا ٹیٹو بنا کر اور خاص رسمیں ادا کر کے شادی کر دی جاتی تھی اور جوڑے کی روحوں کو آپس میں جوڑ دیا جاتا تھا.

ان رسموں سے ان کی طاقتیں، روحیں جسم و جاں ایک دوسرے سے جڑ جایا کرتے تھے اور وہ جوڑا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ایک دوسرے کا ہو جایا کرتا تھا ..

اس طرح کہ ایک نہیں تو دوسرا بھی نہیں….
ابھی جشن کا سماں تھا…

جب محل پر چاروں اور سے حملہ ہوا…. کوئین کے مارے جانے سے کنگ ازلان کی طاقت آدھی ہو چکی تھی..

جمار کی کوئین بھی بیمار تھی وہ بھر پور مقابلہ نہیں کر سکتے تھے.
مگر راج اور اس کی پرنسز کو بچانا بے حد ضروری تھا..

جمار فوراً بلیک مررز کی طرف بڑھو..ایزلان نے بھائی سے کہا…

بلیک وچ کا حملہ ہوا تھا.. بہت طاقتور جادوگرنی تھی جس کا مکروہ چہرہ انسان اور دھڑ شیطانی سانپ کا تھا..
ڈریگن لینڈ پر قبضہ کرنا چاہتی تھی
مگر یہ تبھی ممکن تھا جب ڈریگن لینڈ کا کوئی جانشین زندہ نہیں بچتا.

اس سے پہلے وہ اگر کنگ کے تخت پر بیٹھنے کی کوشش کرتی ہے تو جل کر خاک ہو جائے گی

.. پہلے سے طے کیے گئے پلان کے مطابق وہ دونوں بھائی بلیک مررز کی جانب آئے..

بلیک مررز میں بڑا سا ہول ہوا

وہ دونوں بھائی اس ہول میں داخل ہو گئے…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

نیو یارک میں بڑے سی محل نما عمارت براؤن سٹون پیلس میں عجیب سی اداسی تھی..

پلیز ماریہ مت رو چپ کر جاؤ.. جمی ہے ناں ہماری اولاد تو تمھیں کس چیزکی کمی ہے.. اظہر نے بے بسی سے اپنی پاگل بیوی کو دیکھا.

اظہر مجھے بیٹی کی کمی ہے.. مجھے بیٹی چاہیے تھی اور جمی کی پیدائش کے سات سال بعد تم مجھے یہ خبر سنا رہے ہو کہ جمی کی پیدائش کے بعد ہی ڈاکٹر نے بول دیا تھا کہ میں دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتی.. اتنا بڑا سچ مجھ سے کیوں چھپایا….

تو تم کیا کر لیتی؟ ہاں…. اظہر کو غصہ آیا

میں تمھاری دوسری شادی کروا دیتی. اور اس سے بیٹی پیدا کروا کر اپنے پاس رکھتی…جمی کو بھی کتنا شوق ہے کہ اس کی کوئی بہن ہوتی.. … وہ اطمینان سے بولی

ماریہ تم پاگل ہو چکی ہو صدمے میں.. تمھارے خاندان میں بیٹیاں کم پیدا ہوتی ہیں.. اکثر بیٹے پیدا ہوتے ہیں اس بات نے تمھیں پاگل کر…………….

ابھی وہ کچھ اور کہتا… کہ کچھ غیر معمولی سا احساس ہوا… باہر طوفانی بارش میں عجیب سی بے سکونی پیدا ہوئی…بہت عجیب آوازیں سنائیں دیں

پھر جیسے وائٹ پیلس کا داخلی دروازا دھڑدھڑایا گیا تھا…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

کنگ ایزلان اور جمار بلیک مرر سے انسانی دنیا میں آئے….

وہ واشنگٹن کا ایک محل نما سا گھر تھا.. جہاں کنگ کا ایک خادم اور خادمہ انسانی شکل میں اس محل میں رہتے تھے.

اس پیلس کو مسٹیرئس پیلس بھی کہتے تھے.. کیونکہ یہ یہاں کوئی عام انسان آتا جاتا نہیں تھا

ایزلان کی گود میں راج اور جمار کی گود میں پرنسز تھی..
راج پانچ سال کا تھا اور ہمک ہمک کر باپ کی گود میں میٹھی نیند سوئی پرنسز کو چھونے کی کوشش کر رہا تھا.

ایزلان ایک آخری مرتبہ راج کو پرنسز کے پاس لے کر گیا… راج نے اس نوزائیدہ کا ہاتھ پڑ لیا…
راج اور پرنسز کے ٹیٹو چمکے… اور پورے پیلس میں روشنی بکھر گئی.

جمار ہمیں اسی لئے انھیں الگ کرنا ہوگا..کیونکہ یہ اکٹھے رہے تو ان کی طاقتیں دنیا پر ظاہر نا ہوں… جمار سمجھ گیا..اور سر ہلایا
ایزلان اپنے خادم کی طرف مڑا…

انسانی دنیا میں کوئی ایسا گھر جہاں بیٹی کی شدید طلب ہو جو اس کا بے تحاشا خیال بھی رکھ سکیں..

جی ہے……. یہ….. خادم عکاس نے ہاتھ لہرایا روشنی پیدا ہوئی اور روشنی میں جہاں ایک عوت بہت بری طرح رو رہی تھی…
ٹھیک ہے جمار جاؤ… ہمیں واپس جانا ہے پرنسز کو چھوڑ آؤ..
جمار جانے لگا..
راج نے پرنسز کا ہاتھ زور سے جکڑ لیا.
ایزلان نے بے بسی سے بیٹے کو دیکھا اور اس کا ہاتھ کھینچ لیا.
جمار ہوا میں تحلیل ہوا…

جس سے راج بہت جلد غصہ ہو کر چھوٹے سے ڈریگن میں بدل گیا.. اور ننھے سی منہ سے آگ کے شعلے نکالنے لگا….
ایزلان زخمی سا مسکرایا اور بیٹے کا غصہ دیکھتے عکاس سے بولا.

عکاس تمھیں پتہ ہے ناں تمھیں اور تمھاری بیوی زمرد کو کیا کرنا ہے..

جی کنگ.. ہمیں پرنس کی حفاظت کرنی ہے جب تک وہ اپنی حفاظت خود کرنے کے لائق نہیں ہو جاتے.. اٹھارہ کے بعد تو انھیں کسی کی ضرورت نہیں پڑے گی.. اور تب تک ہمیں ان کے لئے اپنی جانوں کی قربانی کیوں ناں دینی پڑے ہم دیں گے…

ٹھیک ہے… میں اپنے فادر سے بات کر کے آیا….

جمار براؤن سٹون پیلس کے باہر کھڑا تھا اپنی چھوٹی سی پری کو ایک گولڈن باکس میں ڈالے..

آنکھوں میں نمی تھی… سر پر سفید سائے کبوتروں کی صورت اڑتے طوفانی بارش میں پھڑپھڑا رہے تھے.
ان کی پھڑپھڑاہٹ کی آوازیں اندھیرے سناٹے میں دور دور تک گونج رہیں تھیں…جمار نے انھیں دیکھ کر سر اٹھا کر کہا…
میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ میری پرنسز اور اپنی ہونے والی کوئین کی ہمیشہ حفاظت کرنا
جب تک پرنس راج اس تک نا پہنچے…..

تبھی جمار نے بند دروازے پر اشارہ کیا….. دروازہ زور سے کھڑکا..
اندر سے اظہر اور ماریہ بے چین سے دروازے تک آئے.. جمار نے آخری غمگین نگاہیں اپنی نازک پری پر ڈالیں…

اور ہوا میں تحلیل ہو گیا…

وہ دونوں باہر نکلے تو سامنے ایک گولڈن باکس تھا.. نہایت خوبصورت…
اظہر نے جلدی سے اٹھایا اور اسے اندر لے آئے
ماریہ حیرت سے اس گولڈن باکس کو دیکھ رہی تھی..

جب اچانک وہ ہلنے لگا. وہ خوفزدہ سے ہوئے.. اظہر نے آہستہ سے باکس کھولا تو آنکھیں چندھیا سی گئیں

دودھیا رنگت گلاب کی پنکھڑیوں کی طرح لب.. مخملی سفید کپڑے میں لپٹا وہ نوزائیدہ گداز روئی جیسا وجود
ماریہ بے اختیار اس کی جانب لپکی..

اور گود میں اٹھا کر سب سے پہلے کپڑا ہٹا کر دیکھا..
ننھی پری تھی.

ماریہ نے جوش و جزبات میں اسے سینے میں بھینچ لیا..
اظہر تذبذب کا شکار تھا کہ جانے یہ کون رکھ کر گیا.

ماریہ.

نہیں اظہر کچھ نہیں سنوں گی میں.. یہ میری بیٹی ہے میری Wish….. میری وشہ.. میں کبھی کبھی اسے خود سے الگ نہیں ہونے دوں گی.. کبھی نہیں.

ادھر کنگ اور جمار پرنس راج کو عکاس کی گود میں ڈال کر واپس لوٹ گئے
یہ جانے بغیر کہ وہ اپنے بچے اور بچی کو آخری مرتبہ دیکھ کر آ رہے تھے.

ڈریگن لینڈ لوٹے تو بلیک وچ کا مقابلہ نہیں کر سکے اور اس نے بے دردی سے انھیں قتل کر دیا.

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺