Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

رات کے اندھیرے میں جب سب لوگ سو رہے تو دو کالے ہیولے محل کی حدود میں شامل ہوئے

مگر یہ دیکھ کر ٹھٹھک کر رکے کے محل کے گرد ایک حفاظتی حصار کھینچا گیا ہے جو یقیناً پرنس کا کام تھا..

جتنا مرضی ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو پرنس… پرنسز کو نہیں بچا پاؤ گے ہم سے….
ایک مکروہ سرگوشی سنائی دی..

ملکہ مجھے پرنسز چاہیے…. ساحر (کالا سایہ) مچلا

ایک موقع بس ایک موقع چاہیے.. ان دونوں کے محل سے باہر نکل کر الگ ہونے کا …. پھر دیکھنا کیسے الگ کرتی ہوں دونوں کو..

پر کیسے بلیک وچ..؟

ایسے…. بلیک وچ نے اپنے کالے سے تھیلے میں سے ایک سنہری پھول نکالا….

یہ ڈیو ڈراپ گولڈن فلاور ہے جو کہ میں نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر چرایا ہے اب دیکھو اس کا کمال

بلیک وچ نے وہ پھول اپنے اور ساحر کے سر پر الٹایا تو اس میں سے نکلنے والا سنہری سیال مادہ ان کالے وجود کو سنہری اور سفید کر گیا…

یہ حصار پرنس نے کالے جادو اور کالے سائے کے لیے باندھا ہے جوکہ اب ہم نہیں رہے..
آؤ……. وہ دونوں با آسانی اس حصار کے اندر جا چکے تھے…

ابھی ہمیں خدمتگاروں کا روپ دھارنا ہوگا اور محل سے باہر ہی چھپنا ہوگا…

جیسے پرنس اور پرنسز محل سے نکلیں گے… ہمیں نظر رکھمی ہوگی… جہاں بھی وہ الگ ہوئے تو تم راج بن کر پرنسز کو بہلا کر اسی ٹھکانے لے جانا

جو میں نے تمھیں بنا کر دیا ہے… اور میں پرنسز بن کر راج کے ساتھ محل چلی جاؤں گی..ٹھیک ہے.. سمجھ گئے ناں

جی ملکہ سمجھ گیا.. ہمیں بس موقع نہیں گنوانا… مگر
ساحر نے مکروہ ملکہ کی طرف دیکھ کر کہا.

کیا مگر؟…… اب کیا ہوا… بلیک وچ نے خونخوار نظروں سے ساحر کو دیکھا..

آج رات اگر پرنسز اور پرنس ایک ہو چکے ہوئے تو پھر….. ساحر نے پہلو بدلا.

چپ کرو بے وقوف….. بلیک وچ پھنکاری
ایسا کچھ نہیں ہوا ہے… اگر ہوتا تو ڈریگن لینڈ میں اتنا اندھیرا نہیں ہوتا…. گولڈن کراؤن کے ہیرے کی چمک سے ہر طرف روشنہ ہوتی…

اب خاموشی سے اپنا کام کرو…..

جو حکم ملکہ……… ساحر نے اطمینان سے کہا اور دونوں آگے بڑھنے لگے

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

راج ساری رات ڈریگن بنا محل کے اوپر اڑتا رہا..

پرنسز کی حفاظت بہت ضروری تھی. جو وہ ہر طرح سے کر رہا تھا

پرنسز نے اسے قبول نہیں کیا تھا خود سے دور کر دیا تھا.. یہ بات اس کے غصے کو ہوا دینے کے لیے کافی تھی…

صبح کے اجالے افق پر پھوٹنے لگے تو وہ محل کی چھت پر اترا….
اور انسانی روپ میں آیا

قدم خود بخود اس دشمن جان کی طرف بڑھنے لگے….. جس نے ایک ڈریگن پرنس کی جان عذاب میں جھونک رکھی تھی….

وہ اندر روم میں آیا… کشادہ سے مخملیں جالی دار بیڈ پر وہ بہت گہری نیند میں تھی..

اسے دیکھ کر اندر تک سکون اترا..
بیڈ کے قریب گیا…
غور سے اس کا خوبصورت چہرہ دیکھا…
بیڈ پر اس کے قریب نیم دراز ہوا…

بائیں طرف سر زرا سا جھکا کر دیکھا…

اس کی نرم گرم نگاہوں کی تپش کا اعجاز تھا کہ بہت جلد وشہ نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں تھیں..

نگاہیں ملیں… راج کی بے قرار نگاہوں کی پیام نے وشہ کے دل کی دھڑکن بے ترتیب کی…
مگر اب وہ مزید اسے ہرٹ نہیں کر سکتی تھی

راج…. آپ ناراض ہیں مجھ سے… معصومیت سے پوچھا گیا.

نو… مائی لائف….. ہر گز نہیں… راج نے نرمی سے کہا..

وشہ قریب کھسک آئی….ماتھے پر نرم سرخ لب رکھے.. راج نے سکون سے آنکھیں موندیں
راج آپ بہت اچھے ہیں….

راج نے آنکھیں کھول کر غور سے اسے دیکھا جو اس کے کندھوں پر دونوں ہاتھ ٹکائے اس کے بہت قریب آ کر شاید اس کی ناراضگی دور کرنا چاہتی تھی..

وش… مائی پرنسز… اپنا رات کا رویہ ڈیفائن کرو… گریز کی وجہ جاننی ہے مجھے….. راج نے نرمی سے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر کے اس سے پوچھا.

وشہ کی نظریں جھک گئیں…. راج وہ مم…میں ڈر گئی تھی.. مجھے لگا میرا سانس بند ہو جائے گا میں مر…..

پرنسز… راج غصے سے غرایا.. سبز آنکھوں میں شعلے بھڑکے
Don’t you dare to say like that…..

راج میں تو…. وشہ نے دونوں ہاتھوں کے پیالوں میں اس کا چہرہ بھر کر اسے شانت کرنا چاہا…

Take as much time as you want, princess, but don’t take these words out of your mouth now.

راج. پلیز…. ….. وشہ جانتی تھی اپنے پرنس کا غصہ کیسے شانت کرنا ہے اسی لیے جھکی اور اس کی غصیلی آنکھوں پر نرمی سے باری باری اپنے لب رکھے..

راج نے کروٹ لی…. وشہ بیڈ پر گری… وہ اس پر قابض ہوا..

مگر وہ مزید بول کر راج کو دور کر کے اس کے غصے کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتی تھی.. اسی لئے دم سادھ گئی

راج اس کے نرم و گداز لبوں پر جھکا تھا… جن سے وہ کافی دیر سے گستاخیاں کر کے راج کو خود کو پیار کرنے کے لیے اکسا رہی تھی…

وشہ نے زور سے آنکھیں بند کر لیں.. راج نے چاہا یہ فسوں خیز اس کی رگوں میں سکون اتارتے پل کبھی ختم ناں ہوں.

مگر وشہ کی بند ہوتی سانس کا اندازہ ہونے پر راج نے نرمی سے اس کے لبوں کو آزادی بخشی…
راج ان کچھ پلوں میں ہی اسے نڈھال کر چکا تھا اس کا اندازہ اسے وشہ کی اکھڑتی سانس سے ہو گیا..

پرنسز اٹھو.. ریڈی ہو جاؤ تمھیں ڈریگن لینڈ دکھانا ہے…
راج نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر اٹھایا اور دونوں بیڈ سے نیچے اترے…

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

راج وشہ کا ہاتھ تھامے مختلف راہوں سے گزر رہا تھا.

بہت دلکش نظارے تھے.. ہر طرح کے رنگوں کے پھول… اور بٹرفلائیز ان کے اوپر اڑ رہیں تھیں..
وادیوں میں قوس وقزع کے رنگ بکھرے ہوئے تھے..

مگر اس کے باوجود راج نے وشہ کو اپنے لوگوں سے ملوایا تو وہ اداس تھے
ان کے اپنے بچھڑ چکے تھے.. جو کہ بلیک وچ کے قبضے میں تھے.

ان کے گھر اجڑ چکے تھے…
وادیوں کے حسن سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا جب تک ان کے لوگ خوش نا ہوتے

وشہ کو ان لوگوں کی تکلیف نے بہت اداس کیا تھا.
راج اس کا ہر تاثر آبزرو کر رہا تھا یہی تو وہ چاہتا تھا …
کہ وشہ اپنے لوگوں کی تکلیفیں سمجھے..

وہ محل سے کافی دور نکل آئے تھے.. یہ ایک بہت خوبصورت پہاڑ تھا..

جہاں چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی ہمنگ برڈز کی طرح چڑیاں اڑ رہی تھی…
اچانک چڑیاں وشہ کے سر پر اڑنے لگیں..

اسے خوشگوار حیرت ہوئی جب ان چڑیوں نے ایک پھولوں کا تاج اس کے سر پر رکھا

وشہ کھلکھلا کر ہنس پڑا…
اور راج سے ہاتھ چھڑا کر ان کے پیچھے بھاگی…
راج مسکراتا اس کے پیچھے گیا.

چڑیا ایک کنارے جا کر اچانک بکھر گئیں…
وشہ نے دیکھا..

پہاڑ کے کنارے ایک چھوٹی سی بچی گہری کھائی میں پاؤں لٹکائے بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی….
وشہ اور راج کی طرح اس کی پیٹھ تھی.
وہ ہاتھوں سے چہرہ چھپائے ہوئے تھی

وشہ اسے دیکھ کر ٹھٹھک گئی… اود اس کی جانب بڑھی.

نو پرنسز…. رک جاؤ… اس کے قریب مت جاؤ… راج نے وارن کیا.

مگر وشہ تو اس بچی کی باتوں میں کھوئی ہوئی تھی
… میٹھی سریلی باریک آواز…..

مجھ سے کوئی پیار نہیں کرتا… میرا کوئی نہیں ہے کوئی مجھے دوست نہیں بناتا…. سسکیاں گونجی.

وشہ اس کے بہت قریب گئی.

پرنسز نو… دور رہو اس سے ..راج نے پھر کہا..

مگر وشہ نے اس کے چھوٹے سے کندھے پر ہاتھ رکھا..
اے لٹل گرل میں بنوں گی تمھاری دوست….. اور

آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ.. وشہ کی دلخراش چیخ فضا میں بلند ہوئی.. فوراً قدم پیچھے لیے
کیونکہ جب اس بچی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کا چہرہ انتہائی بھیانک حد تک ڈراؤنا تھا…

وشہ بھاگ کر آ کر پہرے داروں کے سامنے ہی راج سے بری طرح لپٹ گئی… اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی.

وہ بچی شرارتی سی ہنسی ہنس کر فضا میں غائب ہو گئی جیسے پرنسز کو ڈرا کر خوب لطف اٹھایا ہو.

راج نے وشہ کی پیٹھ سہلائی..
میں نے تمھیں وارن کیا تھا پرنسز یہ جمیرا تھی… اسی وادی میں رہتی ہے بہت شرارتی ہے اکثر مسافروں کو ایسے ہی ڈراتی ہے…

وشہ روئے جا رہی تھی… پرنسز چپ کرو… بریو بنو ….
وشہ نے اس کے سینے میں منہ دئیے زور سے نفی میں سر ہلایا.
وہیں پاس موجود ایک پہرہ دار نے خونخوار نظروں سے یہ سین دیکھا…

پرنسز تم صرف میری ہے دور ہٹو اس سے..وہیں موجود ساحر جبڑے بھینچ کر دل میں پھنکارا…

اوکے پھر یہیں پہرے داروں کے پاس رکو.. میں ابھی کچھ دیر میں آیا.. تمھارے لئے ایسی چیز لاؤں گا کہ تم ہر چیز بھول جاؤ گی.

راج نے وشہ کو خود سے الگ کیا اور اس کی آنکھوں میں جھانکا.. وشہ کچھ حد تک سنبھل چکی تھی..
اثبات میں سر ہلایا…

اوکے آنکھیں بند کرو.. میں ڈریگن بنوں گا.. نہیں چاہتا تم مزید ڈرو…. وشہ نے فورا ہاتھوں میں چہرہ چھپایا.

راج مسکراتا دور ہٹا کچھ دیر بعد ہی فضا ڈریگن کی دھاڑ سے گونجی.. وہ وادی کی دوسری جانب اڑا یہ جانے بغیر کے اپنی زندگی کی فاش ترین غلطی کر چکا ہے..

یہ سمجھے بغیر کہ یہ اس کی غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ دن کے اجالے میں پہرے داروں کے بیچ ان پر اٹیک نہیں ہو سکتا..
پرنسز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا…

وشہ ایک پتھر پر بیٹھ گئی…
جلد ہی وہاں موجود بلیک وچ اور ساحر نے پہرے داروں کو اپنے بس میں کر لیا..

وشہ اپنے ہی خیالات میں کھوئی ہوئی تھی جب پیچھے سے آہٹ محسوس ہوئی.. مڑ کر دیکھا تو راج تھا…
چہرے پر غیر معمولی سی عجیب مسکراہٹ تھی..

آؤ پرنسز… راج نے قریب آ کر اس کی جانب ہاتھ بڑھایا..
وشہ نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا.

محل واپس چلیں…

راج آپ نے تو کہا تھا کہ آپ میرے لئے کچھ لائیں گے..

ہاں لایا ناں… چلو چلتے چلتے دوں….
راج کو جانے کس چیز کی جلدی تھی ہاتھ کھینچ کر اسے ایک سنسان سے رستے پر لے جانے لگا..

یہ دیکھو میں تمھارے لیے بیریز لایا… راج نے ہاتھ آگے بڑھایا تو ایک ٹہنی تھی جس پر ڈھیر ساری چیری شیپ بیریز تھیں..

راج ان کا کلر بلیک کیوں ہے…

ٹیسٹ کر کے دیکھو پھر پتہ چلے گا… راج نے کہا تو اسے تین چار بیریز توڑ کر کھانا شروع کی..

او راج اب میں سمجھی ان کا ٹیسٹ تو بلکل چاکلیٹ کی طرح ہے اسی لئے یہ بلیک ہیں.. وشہ آکسائیڈ ہوئی اور کافی ساری بیریز کھا لیں…

پرنسز…. بہت محبت کرتا ہوں تم سے… بہت انتظار کیا ہے ان پلوں کا… اب ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی… میں تمھیں یہاں سے بہت دور لے جاؤں گا…

وشہ کو چکراتے سر اور آنکھوں کے سامنے گھومتی دنیا کے بیچ راج کی عجیب باتیں بلکل سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں…..

کچھ ہی پلوں میں وشہ سامنے والے کے بازوؤں میں جھول گئی تھی
ساحر اپنی اصل شکل میں واپس آیا.
اور مسرور سا پرنسز کو بانہوں میں بھرا….
اس کے بازوؤں میں آتے ہی وشہ کا بھی لباس سیاہ پڑ چکا تھا…

ساحر اسے لئے بلیک فوریسٹ کے بیچ و بیچ چل پڑا….

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺