No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
راج اظہر اور جمی کے بلکل سامنے بیٹھا تھا…
اور اپنا مدعا بیان کیا…
بہت بڑی ایمرجنسی ہو گئی ہے انکل… خاندانی بزنس میں سو طرح کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں اسی لیے مجھے فوراً واشنگٹن شفٹ ہونا ہو گا.. اور میں چاہتا ہوں آپ وشہ کو بھی میرے ساتھ رخصت کر دیں..
مگر اتنی جلدی بیٹا.. ابھی تو اس کی ایجوکیشن……
انکل آپ اس کی فکر مت کریں.. میں اس پر کوئی زمہ داری نہیں ڈالنے والا.. بلکہ وہ ایجوکیشن بھی کمپلیٹ کرے گی.. آپ اس چیز کی فکر مت کریں….. راج نے سفید جھوٹ بولا.
مگر اس کی مدر…
پلیز انکل میرا آپ لوگوں اور وشہ کے علاوہ دنیا پر کوئی نہیں.. آپ مجھے سمجھنے کی کوشش کریں.. میں آپ لوگوں کے ساتھ رہ کر اب اکیلا نہیں رہ پاؤں گا…سرونٹس کی فوج ہے مگر مجھے کسی اپنے کی ضرورت ہے…آپ جب چاہیں ہم سے ملنے آ سکتے ہیں…..
ڈیڈ جانے دیں ناں وش کو راج کے ساتھ… ہزبینڈ ہے اس کا.. پلیز. ڈیڈ….
اوکے…. تم ہزبینڈ ہو اس کے جیسا مناسب سمجھو.. میں ماریہ کو خود منع لوں گا…
راج نے سکون کا سانس لیا ایک معرکہ تو سر ہوا..
وہ وہاں سے اپنے روم میں آیا…
Servants jabeer and dabeer attend…..
اس نے اپنے دماغ میں اپنے خاص غلاموں کو یاد کیا…
دو سفید سائے راج کے سامنے سر جھکائے ہاتھ باندھے کھڑے تھے..
وہ اپنی زبان میں بات کر رہے تھے.. جب راج نے انھیں آبزرو کیا…
What is the command of my master.
میں ڈریگن لینڈ لوٹ رہا ہوں… رات کو پرنسز کو بلا لوں گا..
تم دونوں ہمارا روپ دھار کر بلکل ایسا ہی کرنا جیسا کہ میں حکم دیتا رہوں…. تم لوگوں کو بلکل ہماری طرح ایئرپورٹ پر جا کر سفر کرنا ہو گا…
جو حکم ڈریگن کنگ……
ٹھیک ہے.. یہ کہتا راج مرر میں سے ڈریگن لینڈ لوٹ چکا تھا…..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وشہ ڈھیلی سی پنک ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں بیڈ پر کروٹیں بدل رہی تھی..
آہٹ محسوس ہوئی.. فوراً اٹھ کر بیٹھی مگر روم میں کوئی نہیں تھا….
وہ جھنجھلا کر پھر لیٹ گئی اور زور سے آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کی
پھر آخر نیند کی دیوی مہربان ہو ہی گئی….
آدھی رات کا وقت تھا…..
چہرے پر ہلکی سی گدگدی ہونے سے گہری نیند سے اس کی آنکھ کھلی تھی..
وشہ نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں تو حیرت ہوئی
اس کے چہرے پر ایک انتہائی خوبصورت رنگ برنگی تتلی بیٹھی تھی
وہ بوکھلا کر اٹھی..
پورا کمرے میں بٹر فلائیز تھیں مختلف کلر سائز کی… اور وہ سب سامنے والے ڈریسنگ مرر سے نکل کر باہر آ جا رہی تھیں..
وہ ٹھٹھک کر اٹھی…
مرر میں سے روشنی مسحور کن خوشبو اور ٹھنڈی ہوا بھی آ رہی تھی..ایک تجسس کے مارے اٹھی..
اس کے روم کے ڈریسنگ مرر میں یہ کیسا رستہ تھا.. پھولوں پودوں سے اٹا کیسی راہ گزر تھی..وشہ نے ادھر ادھر دیکھا.. راج نہیں تھا..
راج نے اس کے بارے میں تو نہیں بتایا تھا…
ابھی کل ہی تو وہ اس کے روم میں تھا… وہ جو ٹیڈی بئیر گود میں تھا اسے لئے ہی آہستگی سے آگے بڑھی..
مرر میں سے گزر کر آگے بڑھی..
مرر میں سے نکلی پیچھے مڑ کر احتیاطاً دیکھا تو صرف ایک دروازہ پر نظر پڑی جو دیکھتے دیکھتے بند ہو گیا..
وہ گھبرائی..
اپنے لباس پر نظر پڑی تو وہ بھی بدل چکا تھا… اسے حیرت ہوئی..
تھوڑی آگے بڑھی تو خوفزدہ ہوئی کیونکہ اس کے آگے ہر طرف دھواں دھواں تھا..
ایسے اجاڑ تھا جیسے پیٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئی ہو..
کالے پودے، ٹوٹے کالے گھر، ہر طرف تباہی…
مگر وشہ چونکی تو تب جب اسے محسوس ہوا کہ وہ جہاں جہاں سے گزر رہی ہے وہاں وہاں سے خوبصورت چڑیاں اس کے ڈریس سے ستارے سے چن کر جس جس چیز کو چھو رہیں تھیں وہاں وہاں پھول اگ رہی تھے ہر طرف سبزہ زار بنتے جا رہے تھے….
طویل و عریض راہ گزر تھیں جن پر وہ چل رہی تھی..
جہاں جہاں سے گزر رہی تھی….بہار آتی جا
پیچھے بھی مڑ کر دیکھ لیتی..
دروازہ ہنوز وہیں تھا مگر بند تھا…
وہ چلدی رہی.. حسیں وادیاں، کھلا آسمان اس کے ساتھ ساتھ اڑتی تتلیاں اور وہ خوبصورت چڑیاں…
کھلتے پھول
Welcome to the Dragan Land my princess…
ایک پراسرار سی سرگوشی کانوں میں گونجی..
وہ گھبرائی……
راج… پلیز سامنے آؤ……
Just don’t just go.
راج کے کہنے پر وہ چلتی رہی..
راج محل میں اپنے روم میں مسکراتا اپنی پرنسز کو ڈریگن لینڈ میں گھومتے دیکھ رہا تھا…
وہ قدم بڑھا رہی تھی جب ایک چڑیا نے چونچ میں اس کے بال بھرے
آہہہہہ… اس نے سسکی بھری.. وہ چڑیا اس کے قدموں میں آئی..
وشہ نے سہم کر بڑھتا قدم پیچھے ہٹایا…
نیچے حدِنظر کھائی تھی…
صد شکر کے اس نے قدم روک لیا سہمی تو وہ اس پہاڑ جتنے وجود کو دیکھ کر تھی جو اس کھائی میں پڑا سو رہا تھا..
وہ دیو جیکل تھا….
وشہ تو اس کے ہاتھ کے چھوٹی انگلی سے بھی آدھی تھی.. وہ دیو ہلا اور کروٹ بدلی
ایک زلزلہ سا آیا تھا… درو دیوار ہل کر رہ گئے…
وشہ نے بے حد سہم کر چیخنے کے لیے منہ کھولا..
مگر مہربان سے ہاتھوں کا لمس پہلے ہونٹوں اور پھر پیٹ کے گرد لپٹتا سا محسوس ہوا…
ایسی بے وقوفی مت کرنا پرنسز یہ صرف تمھاری چیخ سن کر جاگ سکتا ہے… ہمارے ایک ہونے سے پہلے جاگا تو ہمیں ہی کھا جائے… ہمارے کنگ اور کوئین بننے کے بعد جاگا تو ہمارا غلام ہوگا…..
راج نے نرمی سے اس کے کان میں کہا… اور وشہ کو چھوڑ دیا…
راج نے وشہ کو چھوا تو ان کے ڈریگن کے ٹیٹو میں سے روشنی سی بکھری تھی جو ایک مرتبہ پھر آس پاس حد نظر بہاریں بکھیر گئی….
راج ہم کہاں ہیں…
کہا تو ہے پرنسز ہم ڈریگن لینڈ میں ہیں….
مگر ڈیڈ مما… بھیا..
سب بھول جاؤ پرنسز.. اظہر اور جمی کو بتا دیا تھا… آؤ تمھیں اپنے لوگوں سے ملواؤں…
راج اس کی کمر میں آہستگی سے ہاتھ ڈالے آگے بڑھا….
کچھ آگے جا کر محل کی حدود شروع ہو چکی تھیں…
بہت بڑی تعداد میں لوگ حد نظر سر خوشی کے عالم میں اپنے ہونے والے کنگ اور کوئین کو تعظیماً سر جھکائے پھولوں کی برسات کیے ان کا استقبال کر رہے تھے…
مگر وہ لٹے پھٹے تھے.. جنھوں نے اپنے کھوئے تھے.. مگر وشہ اس سب سے ان کے دکھ درد اور تکلیفوں سے ابھی انجان تھی…
وہ بے تحاشا محبت اور عقیدت سے اپنے ہونے والے کنگ اور کوئین کے کبھی ہاتھ چوم رہے تھے.. کبھی پیروں میں گر رہے تھے…
راج اسے لئے محل میں داخل ہوا.. راج کے چہرے پر مہربان سی مسکان تھی اپنے لوگوں کے لئے…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
یار وشہ جلدی سے ریڈی ہو جاؤ فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے..
جمی نے مصروف سے انداز میں وشہ کا ڈور ناک کیا…
اوکے بھیا آئی…میں ریڈی ہوں بلکل… راج آ گئے کیا..
بہروپی وشہ نے مسکرا کر جمی سے پوچھا….
لو وہ بھی آ گیا … پیچھے راج لگیج گھسیٹتا آیا..
ماریہ بہت چیخی چلائی تھی.. مگر اظہر کے وارن کرنے پر چپ کر کے احتجاجاً اپنے کمرے میں بند ہو گئی…
اسے لگا وشہ اسے ملے بغیر نہیں جائے گی یہ جانے بغیر کے وہ تو رات ہی جا چکی تھی..
اور اب جو گھر میں تھی وہ تو چھلاوا تھی.. جو کہ حکم کی پابند تھی اور اسے ماریہ کی زرا برابر پرواہ نہیں تھی…
وشہ چلیں… سب تیار تھے وہ ائیر پورٹ کے لیے نکلنے لگے.. جب وشہ نے کہا..
ڈیڈ وہ مما.. وشہ نے مصنوعی پریشانی سے پوچھا..
چھوڑو اسے جب غصہ اترے گا تو خود ہی مان جائے گی پھر میں ملانے لے آؤں گا.. تم فکر مت کرو..
اوکے ڈیڈ…… وہ گھر سے نکلے.
اظہر اورجمی انھیں ایئرپورٹ تک چھوڑنے ائے…..
وہ ہنسی خوشی اندر فلائٹ کے لیے روانہ ہوئے….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ محل میں تخت پر بیٹھے تھے…. راج وشہ کے قریب بیٹھا تھا.
دونوں کے لباس سرخ وسفید رنگ کے کنگ اور کوئین کے شایان شان تھے.
وشہ کے پیروں تک کو چھوتی فراک میں جیسے ستارے کاڑھ دئیے گئے تھے.
سر پر نفیس سا گولڈن کراؤن… سرخ آبشار کی طرح بال
ڈریگن لینڈ کے لوگ دلچسپی سے اپنی ہونے والی ملکہ کو دیکھ رہے تھے.
کم تو ان کا کنگ بھی نہیں مگ رہا تھا بے حد طاقتور ترین پرنس…….. جس سے بلیک وچ کو اب اس کی جان کو خطرہ تھا….
محل بےحد خوبصورتی، افسانوی اور جادوئی تھا
ہر طرف خوبصورت چاندی اور ستاروں کی طرح چمکتے پھول اور پھولوں کی راہ گزر تھیں..فرش پر یا تو نرم مخمل کی طرح سرخ گھاس تھا یا جامنی پھول…
ایک بہت بڑا دیو ہیکل درخت محل پر جھکا ہوا تھا.. جس سے مختلف رنگوں کے پھول ہر وقت محل پر برس رہے تھے
راج محسوس کر رہا تھا وشہ بار بار پہلو بدل رہی تھی.
راج سے کچھ کہنا چاہتی تھی شاید.
مگر راج اپنے لوگوں میں بزی رہا جو بڑی عقیدت اور احترام سے اپنے غم دکھ اور تکلیفیں اپنے ہونے والے کنگ کو بتا رہے تھے.
جس نے ان کے دکھوں کا مداوا کرنا تھا..
راج نے محسوس کیا…. کہ وشہ تھک چکی ہے کیونکہ آدھی رات کو راج نے اسے جگا کر بلایا تھا.
اس کی نیند بھی پوری نہیں ہو پائی تھی…
ہر طرف سفید رنگ لباس میں غلام اور پنک فراکس میں خوبصورت کنیزیں ہاتھ باندھے ان کے آگے پیچھے کھڑے تھے..
راج نے کنیزوں کو اشارہ کیا…
وہ فوراً قریب آئیں……
حکم میرے آقا… ایک کنیز جھک کر بولی…
جو میں نے حکم دیا تھا وہ انتظامات مکمل ہیں ناں….
جی میرے آقا.. مکمل کر دئیے گئے ہیں
ٹھیک ہے پرنسز تھک چکی ہیں انھیں میرے کمرے میں حفاظت سے لے جاؤ… میں ابھی آتا ہوں
راج کے حکم پر کنیز نے وشہ کی جانب ہاتھ بڑھایا جو کہ وشہ نے تھام لیا…
وہ خوبصورت راہ گزر سے چلتی ایک بہت بڑے گنبد نما کمرے کے باہر کھڑی تھیں…
پھر وہ وشہ کو لئے اندر داخل ہوئیں.. وشہ کی حیرت سے گنگ ہو گئی کیا کوئی نظارہ اس بھی خوبصورت ہوگا.
وہ کمرہ نہیں جیتے جاگتے باغ کا کوئی حصہ لگ رہا تھا…
چھتوں سے لٹکتے وہ بیل جیسے بڑء بڑے پھول سے ہلکی سی روشنی چھن کر باہر آ رہی تھی…
وشہ کی نظر جالی دار پردے کے پیچھے بڑے سے مخملیں نرم و گداز بیڈ پر پڑی تو جسم ٹوٹا…
مجھے اکیلا چھوڑ دو… میں نے آرام کرنا ہے…
جو حکم پرنسز… ہم پرنس کے آنے تک یہاں باہر ہی ہیں… کسی چیزکی ضرورت ہوئی تو
(راج کے آنے کی بات پر وہ چونکی..
کیا مطلب.. یعنی راج اس روم میں… وہ گھبرائی)
نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں….
کنیزوں کے جانے کے بعد وہ تھکی سی بیڈ پر ڈھے گئی…
اففف کتنی تھکن ہو رہی ہے جیسے مرر میں سے دروازہ تو میں نے ہی کھودا تھا..
وہ اپنی بات پر ہنستی چلی گئ اس کی ہنسی کی آواز سے پھولوں میں روشنی تیز ہو گئی..
ابھی تکیے پر نرمی سے لیٹ کر میٹھی نیند لینے کے مقصد سے آنکھیں موندی تھیں کہ دروازہ کھل کر بند ہونے اور راج کی آہٹ پر وہ گڑبڑا کر اٹھ بیٹھی….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
