No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
آج پرنسز کا خوبصورت لباس نے راج کو چونکایا تھا..
پاؤں تک سیاہ پرنسز فراک میں چمکتا اس کا چاندی جیسا جسم..
وہ ہاتھ تھامے محل کی طویل و عریض چھت پر چہل قدمی کر رہے تھے…..
وہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی پہرہ دار موجود نہیں تھا..
پرنسز یہاں آ کر کیسا لگا تمہیں؟ راج نے اچانک سوال پوچھا
بہت اچھا لگا پرنس…… میں تو ہمیشہ سے یہی آنا چاہتی تھی….
بلیک وچ نے اپنے دل کی بات بتائی
آہاں…… پیرنٹس اور جمی یاد نہیں آتے…. ؟
نن…. میرا مطلب ہے ہاں وہ بھی یاد آتے ہیں. مگر سب سے زیادہ اچھا آپ کے ساتھ رہنا لگتا ہے… وہ نظریں گرا اٹھا کر ایک ادا سے بولی..
رئیلی… کہیں میری پرنسز کو مجھ سے محبت تو نہیں ہو گئی… اگر ایسا ہے تو اظہار کرو…. راج گہری مسکان لئے بولا
پرنسز راج سے ہاتھ چھڑا کر تھوڑی دور ہوئی… پرنس وہ.. میں واقعی تم محبت کرنے لگی ہوں.. وہ سرخ چہرہ لئے شرماتی سی بولی..
راج اس قریب آیا…. اس کی پیٹھ کو غور سے دیکھا
اسے بازوؤں سے تھاما
پھر تو آج میرے قریب آنے پر تمھیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے پرنسز…
راج کی اس بات پر وہ سر مزید جھکا گئی….
او…… تو یہ بات ہے… راج کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی…
اس کے بالوں میں منہ دیا
You know how many years I’ve waited for this time…………………
(اب یہ پرنس کیا بول رہا ہے.. شاید انسانی زبان ہے.. مگر مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی… اب کیا کروں
بلیک وچ دل میں سخت جھنجھنائی)
مگر مکار تو وہ تھی..
کھلکھلاتی راج کی بانہیں سے نکلی اور دور ہوئی…
کچھ بھی کہو … مجھے پکڑ کے دکھاؤ تو مانوں
… پرنس
راج اس کی جانب بڑھا… وہ پھر بھاگی…
راج ایک دم سے غائب ہو گیا… وہ گھبرائی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی.
راج کی آہٹ پر وہ پھر بھاگی…
مگر بھاگتے ہوئے ایک چوڑے چٹانی سینے سے بری طرح ٹکرائی…
افففففففف…. راج ہنسنے لگا
وہ لڑکھڑائی…
مگر راج نے اسے بازؤؤں میں تھام لیا…
وہ اتنے قریب تھی کہ راج کی گرم سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھیں..
راج نے اس کی آنکھوں میں جھانکا
(اففف.. کمبخت کتنا خوبصورت ہے.. کہیں مارنے کی بجائے میں ساحر کی طرح پاگل ہوتے ہوئے عاشق ہی ناں ہو جاؤں.. بلیک وچ راج پر فدا ہوئی… اور اسے غور سے دیکھا…)
راج نے اس کے بائیں کندھے سے فراک بہت نیچے تک کھسکائی….
وہ گھبرائی…..
اور مچل کر دور ہوئی… پرنس یہ کیا کر رہے ہو… وہ خوابگاہ میں چلتے ہیں.. وہ نگاہیں جھکائے شرما کر بولی
نہیں پرنسز آج تو جو بھی ہوگا یہیں ہو گا… کوئی نہیں ہے یہاں…
ناں میری مرضی کے بغیر کسی میں یہاں آنے کی جرات ہے
Get away from me… Bloody bich
راج نے اس کی جانب دونوں ہاتھ بڑھائے…….
(افف یہ انسانی زبان.. وہ دل میں تلملائی… دونوں ہاتھ میری جانب بڑھا رہا ہے اس کا مطلب مجھے اپنے پاس بلا رہا ہے.. تو چلو بلیک وچ کوئین بننے کا وقت آن پہنچا ہے…)
بلیک وچ نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھوں میں تھمائے.. وہ گہرا سا مسکرایا..
مگر اچانک
بہت اچانک
راج کے تاثرات بدلے تھے… غصے کی انتہا سے آنکھوں اور پورے جسم سے شعلے سے کوندے
راج نے اس کی کلائیوں کو جھٹکے سے مروڑ کر چٹخا دیا.. اس کی دلدوز چیخیں فضا میں بلند ہوئیں
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی.
پرنس یہ کیا کر رہے ہو اپنی پرنسز کے ساتھ… چھوڑ دو مجھے…..
میں یہ اپنی پرنسز کے ساتھ نہیں بلیک وچ کے ساتھ کر رہا ہوں…. یو بچ… تمھیں کیا لگا میں نے تمھیں پہچانا نہیں… شروع دن سے پہچان گیا تھا.. کیونکہ سب سے پہلے تو میری پرنسز مجھے پرنس نہیں راج کہہ کر بلاتی ہے.. دوسری اور سب سے اہم بات تمھیں چھونے پر ہمارا ڈریگن ٹیٹو نہیں چمکتا..تیسری وہ رگ رگ میں بسی ہے اس ڈریگن پرنس کے تو تم نے کیسے سوچ لیا اسے نہیں پہچانوں گا…
چھوڑو مجھے. پرنس…… ورنہ پرنسز اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گی…. میرے قبضے میں ہے وہ… وہ اپنی مکروہ شکل میں واپس آ کر چلائی……
راج نے اس کے ہاتھ توڑ دئے تھے مگر چھوڑے نہیں تھے اسی لئے وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی…
ایسا ہی ہے کیا…. تمھیں کیا لگا میں اتنے وقت سے کیوں خاموش تھا… کیوں تمھارا خبیث اور گندا وجود اپنے کیسل میں برداشت کر رہا تھا..
تاکہ پرنسز کو ڈھونڈ سکوں…تاکہ تم اسے کوئی نقصان نا پہنچا سکو… کہیں اور ناں بھیج سکو
نہیں ڈھونڈ پاؤ گے پرنس میں ایسا ہونے نہیں دوں گی.. مرے گی وہ تمھاری ماں کی طرح .. وہ چلائی…
راج نے اس کے بازو مزید مروڑے..
دنیا کی کسی طاقت میں اتنی ہمت نہیں کہ اسے مجھ سے دور کر پائے.. ڈھونڈ لیا ہے اسے میرے محافظوں نے..قابو کر لیا ہے اس جن کو.. ابھی تمھیں جہنم رسید کر کے اسے ہی واپس لینے جاؤں گا….
راج کی اس بات پر بلیک وچ اب سچ میں گھبرائی تھی…
راج شدید طیش میں ڈریگن میں بدل گیا اور اس پر آگ اگلی…
اس کا مکروہ چہرہ جھلس کر مزید بھدا اور بھیانک ہو چکا تھا…
اس سے پہلے کہ راج اسے جلا کر راکھ کا ڈھیر بناتا وہ بھاگی… اور آخری حربے کے طور پر خود پر سیاہ راکھ جھاڑ لی….
اس راکھ سے اس کی تمام طاقتیں تو چلی جاتیں مگر وہ راج کے عتاب سے بچ سکتی تھی…. جل کر راکھ کے ڈھیر میں بدلنے والی درد ناک موت سے بچ سکتی تھی…
وہ سیکنڈوں میں اس راکھ کی وجہ سے وہاں سے غائب ہو چکی تھی.
راج غصے سے مزید دھاڑا….. کیونکہ وہ بچ نکلی تھی.. وہ کنگ نہیں تھا سو اسے نہیں روک پایا تھا
اگر ہوتا تو آج بلیک وچ کا بچ کر نکلنا ناممکن تھا تب تو وہ راکھ بھی اس کے کام نا آتی اور وہ اس کی گردن میں پھندا ڈال کر اسے روک لیتا…
اور جہنم رسید کر دیتا….
وہ یونہی بھسم کر دینے والے انداز میں بلیک فوریسٹ کی جانب اڑا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وشہ وہیں فرش پر بے ہوش پڑی تھی….
ساحر اس پر جھکا ہوا تھا
کوئی بات نہیں پرنس میں تمھیں نہیں چھو سکتا یہ میرے جادوئی رسیاں تو تمھیں چھو سکتی ہیں ناں
اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو اس کے ہاتھ سے نکلنے والی سیاہ رسیاں وشہ کے گرد لپٹیں اور اسے لا کر بستر پر لٹا دیا
ساحر پانی لے کر آیا…….. اور پرنسز کے منہ پر چھینٹے مارے
وہ کسمسائی اور آنکھیں کھولیں….
راج کو خود پر جھکے دیکھ کر فورا اٹھ کر بیٹھی…
مگر پھر ماتھے پر بل پڑے… تمھیں لگتا ہے ساحر تم مجھے بےوقوف بنا سکتے ہو؟
پلیز پرنسز مان جاؤ… آخر اس میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں….. وہ جھنجھلایا
میں راج سے بہت محبت کرتی ہوں…. ساحر.. اس کا اندازہ مجھے اب ہوا….. عادی ہو چکی ہوں اس کی…. اس کے بغیر ایک پل نھی نہیں رہ سکتی اور
مرو گی میرے ہاتھوں پرنسز… ابھی جو جھٹکا دیا وہ کیا کم تھا کہ پھر شروع ہو گئیں… ساحر پھنکارا
میں تو سچ ہی بتا رہی تھی.. اب اگر تمھیں کروا لگا تو میں کیا کر سکتی ہوں… وہ اطمینان سے بولتی اب سچ مچ اسے جلا رہی تھی..
پرنسز تم…….. ابھی وہ کچھ اور کہتا کہ ساحر بری طرح چونکا…
چھونپڑی سے باہر غیر معمولی آہٹیں سنائی دے رہیں تھیں
ابھی وہ اٹھ کر دیکھتا کہ باہر فضا میں ایک غصیلے ڈریگن کی دلدوز دھاڑ سنائی دی…
جو کہ ساحر کہ رونگٹے کھڑے کر گئی…
راج بلیک فوریسٹ پہنچا تھا… اس کے منہ سے نکلنے والی آگ بلیک فوریسٹ کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا رہی تھی
اور ہر طرف روشنی بکھیر رہی تھی..
وشہ کا دل زور سے دھڑکا… راج… منہ سے سسکی نکلی.. وہ بری طرح مچلی…
اب جھونپڑی کے باہر بلکل قریب ڈریگن کی دھاڑیں سنائی دے رہی تھیں…..
آگ کے شعلے چھونپڑی کو باہر سے جلا رہے تھے..
پرنسز میری نہیں ہوئیں تو تمھیں اس کی بھی نہیں ہونے دوں گا..
میں مرون گا تو تم بھی مرو گی
ساحر کا سرسراتا لہجہ وہ وشہ کی جانب لپکا
ساحر چھوڑ دو مجھے… اس وقت وشہ کے دل میں خود سے زیادہ راج اور اپنے لوگوں کی فکر تھی کہ اسے کچھ ہو گیا تو راج اور اس کے لوگوں کا کیا بنے گا…
ساحر نے قریب آ کر وشہ پر وار کرنا چاہا…. مگر اس سے پہلے جھونپڑی کی چھت پھاڑ کر ڈریگن نے اسے منہ میں دبوچ کر اوپر کھینچا تھا..
وشہ کی یہ دلخراش منظر دیکھ کر چیخیں نکلیں تھیں…
محافظ اندر آئے اور وشہ کو ان رسیوں سے آزاد کیا..
وشہ بھاگ کر جھونپڑی سے باہر آئی..
ہر سو آگ تھی.. راج کا عتاب اور غصہ پورے جنگل کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا رہا تھا…
وشہ نے وہ دیو ہیکل ڈریگن دیکھا تو اس کی روح فنا ہو گئی
جس کے سامنے اب ساحر زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا اور وہ اس کے گرد غصے سے گول گول چکر کاٹ رہا تھا….
وشہ بے حد خوفزدہ ہوئی تھی…
راج نے آگ اگل کر ساحر کو جلانا چاہا….
مگر اس کے تڑپتے وجود میں سے آگ کے شعلے بلند ہوئے اور وہ مکروہ قہقہے لگانے لگا…
بے وقوف پرنس اسے آگ سے جلانے کی کوشش کر رہے ہو جو خود آگ سے بنا ہے…. نہیں جلا پاؤ گے…
راج رک جائیں… وشہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپایا…..اور اس سب سے پریشان ہو کر تڑپ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
راج انسانی شکل میں واپس آیا مگر غصے کی انتہا سے اب بھی آنکھوں اور جسم سے شعلے سے لپک رہے تھے…
جلا نہیں سکتا ختم تو کر سکتا ہوں ناں….. راج نے دانت پیسے
ساحر اٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا..
اور اب وہ دونوں بلکل آمنے سامنے تھے..
کچھ نہیں بگاڑ پاؤ گے میرا.. بلکہ اچھا ہوا یہاں مرنے آ گئے تمھیں مار کر پرنس میری ہو جائے گی…
وی پھر مکروہ قہقہہ لگانے لگا.
راج نے فضا میں ہاتھ بلند کیا تو اس کے ہاتھ میں طلسماتی تلوار آئی….
پرنسز کو اٹھا کر پہلے ہی دردناک موت کو آواز دے چکے ہو اور اب تو تمھیں وہ موت ملے گی کہ مرنے کے بعد بھی چیخو گے.
راج اس کی جانب لپکا…
اس نے ہاتھوں سے وار کیا.. جو راج نے بآسانی روک دیا…..
سب سے پہلے راج کے وار نے اس کے بازو ہی دھڑ سے الگ کیا تھے…
پھر گردن اڑی
وشہ اس منظر کی تاب نہیں لا پائی تھی اسی لئے زمین بوس ہو چکی تھی…..
راج نے ساحر کے ٹکڑے جابجا اچھالے تھے.. مگر اس کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو پا رہا تھا….
مگر جب زمین پر گرے وشہ کے بے ہوش وجود پر نظر پڑی تو وشہ کی جانب آیا..
مائی پرنسز… آنکھیں کھولو پلیز…..
راج نے وشہ کو بانہوں میں اٹھایا….
محل کی جانب چلو… محافظوں کو حکم دیا..
اور اسے لیے محل کی جانب اڑا……
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
