No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
ساحر اسے بازؤؤں میں اٹھائے بلیک فوریسٹ کے بیچ و بیچ بنی چھونپڑی میں آیا تھا…
وہ جانتا تھا پرنس میں ابھی اتنی طاقت نہیں کہ وہ یہاں کا پتا آسانی سے لگایے جس کا رستہ بلیک وچ نے لوگوں کی نظروں سے اوجھل کر رکھا تھا…
سامنے بنی چھونپڑی میں وہ داخل ہوا…
وہ باہر سے ایک جھونپڑی دکھتی تھی.. مگر اندر سے بے حد کشادہ ایک گھر بنا ہوا تھا.. جس میں بلیک وچ کی انتہائی ڈراؤنی اور بھیانک کالے جادو کی چیزیں تھیں
جنھیں ساحر کو پرنسز کے اٹھنے سے پہلے ہٹانا تھا..
اسی لئے جلدی سے پرنسز کو لا کر اسے ایک بستر پر لٹا دیا….
اور خود وہ جن جلدی سے وہاں سے ہر چیز غائب کرنے لگا
کچھ ہی دیر میں ہر کالی بھیانک چیز غائب تھی اور اب وہ ایک انتہائی خوبصورت گھر تھا…
وشہ بے چینی سے کسمسائی…
تو وہ پرنسز کے پاس اس بیڈ کے قریب چلا آیا..
وشہ نے دھیرےدھیرے بوجھل سے ہوتے دماغ اور بھاری پڑتی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھنے کی کوشش کی..
ساحر نے فوراً روپ بدلا…
وشہ نے مندی مندی آنکھیں کھولیں…. راج…. میرا سر..
کیا ہوا مائی پرنسز تم ٹھیک تو ہو…وہ قریب آیا..
وشہ اٹھ کر بیٹھ گئی…اور اب زرا ہوش و حواس واپس آئے تو ارد گرد کا بغور جائزہ لیا…
اسے حیرت ہوئی…
راج ہم کہاں ہیں…. وشہ نے حیرانی سے اس خوبصورت سے گھر کو دیکھا..
پرنسز ہم یہاں گھومنے آئے تھے… تم تھک گئیں اور رات ہو گئ تو ہمیں یہیں رکنا پڑا…
یہ کس کا گھر ہے..؟ راج.. ؟…. وشہ نے راج کو غور سے مسکراتے دیکھا..
پرنسز تم سوال بہت کرتی ہو … لیکن اب بس آرام کرو.. وہ اس کے قریب بیٹھا..
وشہ بے تحاشا چونکی… بغور ارد گرد دیکھا..
راج…. مجھے معاف کر دیں… وشہ نرمی سے بولی….
کس لئے پرنسز…. ساحر نرمی سے بولا
کل رات کے لیے…. مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا حالانکہ انسانی دنیا میں، میں آپ کو منع نہیں کر پائی.. مگر یہاں جہاں آپ کو میری سب سے زیادہ ضرورت تھی میں نے منع کر دیا… آپ چاہیں تو آج اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں
ساحر کو وشہ کی بات سن کر آگ تو بہت لگی مگر وہ تو اپنے آج کو جینا چاہتا تھا اسی لیے گہرا مسکرایا..
ہاں.. پرنسز ہم ایک ہو چکے تھے تو تمھیں اتنا نہیں گھبرانا چاہیے تھا.. مگر کوئی بات نہیں آج پھر ہم بہت قریب آ جائیں گے کہ کوئی ہمیں الگ نا کر پائے….
.. اتنی جلدی پرنسز کو پانے کی خواہش پوری ہو جائے گی سوچا نہیں تھا…
وہ پیچھے مڑا اور پرنسز کے چہرے پر جھکنے لگا….
جب ایک بجلی سی کوندی تھی.. وہ بل کھاتا پیچھے ہٹا پرنسز کے ہاتھوں سے نکلنے والی اس بجلی نے بڑی شدت سے اسے دور دیوار کے ساتھ پٹخا تھا..
وشہ فوراً بیڈ سے اتری…
راج نہیں ہو تم… کوئی اور ہو… جلدی بولو کون ہو؟ نہیں تو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دوں گی…
وشہ غرائی….
ساحر کے اس کے قریب بیٹھنے سے اسے راج کی خوشبو کی بجائے عجیب سی سمیل محسوس ہوئی تھی
تبھی پاس بیٹھے شخص سے سچ جاننے کے لیے ہوا میں تیر چلایا جو کہ سیدھا نشانے پر لگا..
وہ جانتی تھی
بہت اچھی طرح کہ راج اسے محل کے علاوہ کہیں لے کر جانے کی غلطی نہیں کرے گا
اسی لئے اب جو سامنے تھا وہ یقیناً راج نہیں تھا
انسانی دنیا میں قریب آنے کا جھوٹ بولا جو کہ سامنے والا نہیں جانتا تھا اسی لئے بےوقوفوں کی طرح اعتراف کر گیا…
ساحر لڑکھڑاتا اٹھا.. مگر چہرے پر مکروہ مسکراہٹ تھی…
یہ سمجھ کر بہت اچھا لگا پرنسز کہ میری حقیقت جاننے کے لئے تم نے مجھ سے جھوٹ کہا.. تم بلکل ان چھوئی ہو.. میرے لئے…….. کیونکہ آج میں تمھیں ہمیشہ کے لئے اپنا بنانے والا ہوں…
شٹ اپ یو……. وہ غصے میں انسانوں کی طرح اسے گالی دے بیٹھی…
پہلے راج کے بھیس سے باہر تو آؤ بزدل…. پھر مجھ سے بات کرنا..
او تو میری پرنسز کو راج کی شکل پسند نہیں اسی لئے مجھے اپنی اصل شکل میں دیکھنا چاہتی ہے.. آپ کی خواہش سر آنکھوں پر پرنسز.. وہ کہتا اپنی اصل شکل میں واپس آیا..
وہ مسلسل اپنی باتوں سے وشہ کو طیش دلا رہا تھا..
وشہ ساحر کو دیکھ کر حیران ہوئی…
تم.. تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے یہاں لانے کی..
راج تمھیں چھوڑے گا نہیں.. وشہ نے دانت پیسے..
وہ یہاں تک پہنچے گا تو تب… پرنسز… پہنچ بھی گیا تو تمھیں نہیں لے جا پائے گا.. کیونکہ میں تمھیں اپنا بنا چکا ہوں گا..
خبردار آگے ایک لفظ بھی بولا یا کوئی بکواس کی تمھیں تو میں….. . وشہ اس کی باتوں سے غصے سے پاگل ہو گئی… اور اس کی جانب ہاتھ لہرائے
اس سے پہلے وشہ کے ہاتھوں سے نکلنے والی بجلی پھر ساحر پر گرتی..
اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا.. پانچوں انگلیوں میں سے نکلنے والی سیاہ رسیاں وشہ کے گرد اور کلائیوں سے لپٹیں اور اسے بیڈ پر پٹخ گئیں…
آں. آں.آں.. پرنسز کوشش بھی مت کرنا……… پرنسز ہو……. کوئین نہیں…. جو مجھ سے مقابلہ کر سکتی ہو… بھول جاؤ اس راج کو بس میرے بارے میں سوچو.
آج میں تمھیں حاصل کر کے ہی چھوڑوں گا پرنسز..
وشہ بری طرح تڑپی… اپنی کلائیاں اور خود کو ان کالی رسیوں سے چھڑانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا مگر سب بے سود..
وہ بے بسی کے احساس سے بے تحاشا رو دی
اس بھیانک اور مکروہ چہرے والے جن کو خود کی طرف بڑھتے دیکھ…………. اپنے مر جانے کی دعا کی..
راج..وشہ بے بسی سے حلق کے بل چلا اٹھی…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
راج واپس آیا تو وشہ بڑے سے پتھر پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی…
وہ مسکراتا قریب آیا….
پرنسز اب کیا فیل کر رہی ہو…..
بہتر… وہ مسکرا کر بولی تو راج کو سکون آیا..
یہ دیکھو میں تمھارے لئے کیا لایا… راج نے ایک پیالا آگے بڑھایا…
بلیک وچ کی آنکھیں چمکیں.. یہ تو اسے
بہت پسند تھا.. ڈریگن لینڈ کے جادوئی چشمے کا شفاف پانی تھا جو کہ بہت لزیز ہوتا تھا…وشہ کی آنکھوں کی چمک راج سے چھپی نا رہ سکی جو بہت عجیب لگی اسے…
یہ کیا ہے پرنس……
راج چونکا…… جادوئی چشمے کا پانی ہے یہ لو..
وشہ نے پیالہ لے کر لبوں کو لگایا… بہت اچھا ہے پرنس…
ہممم.. گڈ… چلو محل چلتے ہیں.. رات ڈھلنے والی ہے..
چلیں.. راج نے وشہ کی جانب ہاتھ بڑھایا.. وشہ نے اپنا ہاتھ راج کے ہاتھ میں دیا….
وہ دونوں محل واپس آ گئے…
محل کے بڑے دربار میں داخل ہوئے تو بلیک وچ ٹھٹھکی
سامنے ہی بڑا سا آئینہ تھا…
مجھے کسی بھی صورت یہاں کہ کسی آئینے کے سامنے نہیں جانا ہے. نہیں تو وہ مرا ہوا بڈھا مجھے پہچان لے گا
جلد ہی کچھ کرنا ہوگا…. اس نے تیزی سے اپنا دماغ چلایا
بلیک وچ لڑکھڑائی…… راج اور اس کے لوگوں کی جان پر بن گئی….
کیا ہوا پرنسز…….. راج پریشان سا اس کے قریب آیا….
کچھ نہیں. پرنس بس بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے…. میں آرام کرنا چاہتی ہوں
اوکے آؤ میں تمھیں کمرے تک چھوڑ دوں….. راج نے اسے بانہوں میں اٹھایا…
فاتحانہ سی مسکراہٹ لبوں پر رینگی جسے وہ مکار جادوگرنی آسانی سے چھپا گئی…
راج اسے اپنی خوابگاہ میں لایا….. اور بستر پر لٹا دیا…
پرنسز آرام کرو… میں دربار میں ہو کر آتا ہوں لوگ انتظار کر رہے ہیں.. اپنا خیال رکھنا اوکے
اس نے آہستگی سے اثبات میں سر ہلایا….
راج نے جھک کر اس کے ماتھ پر اپنے لب رکھنے چاہے مگر کچھ عجیب سا لگا تو مڑ کر خوابگاہ سے باہر چلا گیا..
پیچھے وہ اٹھی.. اور بھیانک قہقہے لگانے لگی… جلد ہی میں کوئین بن جاؤں گی اور مجھے کوئی نہیں روک پائے گا….. تم بھی نہیں پرنس… وہ چبا چبا کر بولی
تم تو میرے خاص غلام بنو گے یا پھر مرو گے….
ہاں مگر مجھے ایک کام کرنا ہوگا.. ابھی اتنی جلدی اسے قریب نہیں آنے دینا.. بہت چالاک ہے اسے شک نا ہو جائے… کہ میں اس کی پرنسز نہیں ہوں…
حقارت سے کہتی وہ بستر پر ڈھے گئی اور دماغ میں اگلا لائحہ عمل ترتیب دینے لگی….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ کافی دیر دربار میں بیٹھا لوگوں کے مسئلے مسائل سنتا رہا اور انھیں حل کرنے کی کوشش کرتا رہا…
سب کی ایک ہی ڈیمانڈ تھی…..
پرنس جلد ہی بلیک وچ کا خاتمہ کر دیں.. اس سے پہلے وہ کوئی نئی چال چلے
یا کسی اور طریقے سے ہم پر یا محل پر حملہ کرے
وہ سنتا رہا.
لوگوں کے دلوں میں اپنی پرنسز کو لے کر بھی ایک خوف تھا ایک دھڑکا..
کہ کہیں بلیک وچ اسے نقصان نا پہنچا دے….
وہ اپنی پرنسز سے بہت محبت کرتے تھے….. راج نے سرد سی آہ بھری….
اور دربار برخواست کر دیا……
سب جا چکے تھے.. بس اس کے بہت خاص خدمتگار اس کے آس پاس تھے.. .. اس نے تخت کے کراؤن سے سر ٹکا کر آنکھیں موندیں….
گرینڈ فادر کیا بات ہے جب سے ہم لوٹیں ہیں مجھے ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے آپ کافی اداس ہیں….
راج نے آئینے کی طرف دیکھ کر بولا…
گرینڈ فادر کو پتہ تھا کیا ہوا ہے…. کیا ہو چکا ہے.. محل میں کون بہروپی ہے…وشہ کدھر ہے……….. مگر بتا نہیں سکتے تھے…. اتنی بھی طاقت نہیں تھی. اگر بتاتے تو اپنے اصل کی طرف لوٹنا پڑتا ہمیشہ کے لئے
راج سے بات نا کر پاتے… اسے گائیڈ نا کر پاتے.
کچھ نہیں راج…… بس ایک سوال ہے…
کیا گرینڈ فادر؟ راج چونکا…
اس وقت تمھارے اور ڈریگن لینڈ کے لئے سب سے زیادہ کیا ضروری ہے؟
پرنسز کی خفاظت… گرینڈ فادر…. راج نے بغیر سوچے جواب دیا……… مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟
نہیں یونہی… خوشی ہوئی جان کر کہ تمھارے نزدیک سب سے زیادہ اہم چیز پرنسز کی حفاظت ہے…جس میں کبھی کوتاہی مت کرنا… کبھی غفلت نہیں برتنا
(جو کہ وہ کر چکا تھا)
ہمارے لوگوں کی بہت امیدیں وابستہ ہیں تم سے… توڑو گے تو پچھتاؤگے…… کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤ گے… گرینڈ فادر نے اداسی سے کہا….
آپ ایک بات بھول گئے گرینڈ فادر.. یہاں کے لوگوں سے زیادہ مجھے اس کی ضرورت ہے.. اگر آپ اسے میری خود غرضی کہیں گے تو غلط نہیں ہوگا.. میری محبت اس کے معاملے میں بہت شدت پسند اور خود غرض ہے…. اسی لئے بے فکر ہو جائیں کہ میں اس پر ایک آنچ بھی نہیں آنے دوں گا…
کاش ایسا ہی ہو….. گرینڈ فادر نے کہا اور غائب ہو گئے.. راج کو عجیب لگا….
مگر پھر ہر خیال کو جھٹک کر اپنی خواب گاہ کی طرف آیا…
خوابگاہ میں داخل ہوا تو پرنسز گہری نیند میں تھی
وہ مسکرایا…..
اور قریب گیا….. بیڈ پر بیٹھ کر اس کے چہرے پر آتے نال پیچھے ہٹائے…
نیم دراز ہو کر سکون سے آنکھیں موند لیں….
گرینڈ فادر نے یہ باتیں کیوں کہیں مجھ سے وہ الجھا
اور زرا سا سر جھکا کر قریب سوئی پرنسز کو دیکھا…
شام سے ایک عجیب سا احساس عجیب سی بےچینی عجیب سی بے کلی تھی جو جان کا ازار بن گئی تھی…. مگر نہیں جانتا تھا کہ کیا ہے یہ؟
ادھر بلیک وچ جاگ رہی تھی مگر سوتی بنی رہی.. ساحر کا پیغام بار بار مل رہا تھا..
وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا..
اس کا دل کیا جا کر سب سے پہلے ساحر کا خون پی جائے.. آخر اب کیا تکلیف تھی اسے…..
اففففف….ایک کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا یہ خبیث… ہونہوں……….. ایک چیونٹی جتنی پرنسز کو قابو نہیں کر پا رہا ہوگا اتنا بڑا جن
لعنت ہے تمھاری زندگی پر ساحر…
اس نے سوتے بنے دل میں دانت کچکچائے اور راج کے یا تو سونے کا یا خواب گاہ سے باہر جانے کا انتظار کرنے لگی.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
