No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
راج اسے بانہوں میں اٹھائے محل میں داخل ہوا تھا….
وہ اپنے لوگوں کے چہرے پر پرنسز کو لے کر صاف گھبراہٹ اور خوف دیکھ سکتا تھا..
بعض لوگ تو اسے بے ہوشی کے عالم میں دیکھ کر رونے بھی لگے تھے.
اور اس کی جانب لپکے
وہ وشہ کو لئے ان کے بیچ آیا..
گھبرانے کی بات نہیں ہے.. آپ لوگ فکر مت کریں پرنسز بلکل ٹھیک ہے اور محفوظ بھی..
راج نے انھیں تسلی دی انھیں کچھ سکون آیا.
بہت سے بچے ہاتھوں میں پھولوں کے گلدستے لئے اپنی پرنسز کی طرف بڑھے تھے..
راج کے اشارہ کرنے پر خدمتگار بچوں سے وہ پھول لیتے رہے..
پرنسز کو آرام کی ضرورت ہے میں پرنسز کو خوابگاہ میں چھوڑ کر آتا ہوں..
راج اسے لیے خواب گاہ میں آیا…
نرمی سے اسے بستر پر لٹایا….خدمتگاروں کو حکم دیا گیا کہ وید کو بلایا جائے….
وید کو بلایا گیا… جس نے پرنسز کا معائنہ کیا..
کنگ…. پرنسز بلکل ٹھیک ہیں… کالے جادو کا وار ہوا ہے ان پر جس سے یہ کمزور پڑ گئی ہیں.. مگر ٹھیک ہیں…
وید نے ایک کاڑھے کا پیالہ راج کی جانب بڑھایا…
ہوش میں آتے ہی یہ ان کو پلا دیجئے گا.. یہ طاقت محسوس کریں گی…
راج نے اثبات میں سر ہلایا.. اور وید کو جانے کی اجازت دی…
خود باہر آیا…اور لوگوں سے مخاطب ہوا
وید نے معائنہ کے بعد یہ بتایا ہے کہ پرنسز بلکل ٹھیک ہیں.. اسی لئے آپ لوگ آرام کریں….اور بے فکر ہو جائیں.. میں پرنسز اور آپ لوگوں کو کچھ نہیں ہونے دوں گا…
لوگ مطمئن ہو کر واپس چلے گئے…
کچھ دیر میں ہی وہ مرر کے پاس سر جھکائے کھڑا تھا…
مجھے تم پر ناز ہے پرنس… میں بھی بہت ڈر گیا تھا پرنسز کو لے کر… لیکن تم نے بہت سمجھداری سے کام لیا
آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا گرینڈ فادر… راج نے شکوہ کیا….
گرینڈ فادر دھیمے سے مسکرا دئیے… تم شروع سے جانتے تھے.. میں چاہتا تھا اب جو ضروری قدم اٹھانے ہیں وہ ڈریگن لینڈ کا کنگ اٹھائے.. میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ایک کنگ اپنی کوئین کی کیسے حفاظت کرتا ہے….
لیکن تم نے اپنا ہر فرض بخوبی نبھایا میں بہت خوش ہوں تم سے پرنس
وہ بہت ڈر گئی ہے گرینڈ فادر…..
انسانوں میں رہ کر ابھی اس سے یہ توقع مت رکھو پرنس کہ وہ ڈریگن لینڈ کی کوئین جتنی مضبوط ہو…. آہستہ آہستہ سنبھل جائے گی
بلیک وچ بھاگ گئی گرینڈ فادر…. اب کیا ہوگا….
کوئی بات نہیں… اس کی طاقتیں ختم ہو چکی ہیں.. ابھی وہ جلد ہی کچھ نہیں کر پائے گی.. تم پرنسز کی طرف توجہ دو…. اسے تمھاری ضرورت ہے… اس کی صحت کا خیال رکھو…
جی گرینڈ فادر….. اس نے آنکھیں جھکا کر کہا…
مرر میں سے ہیولا غائب ہو گیا….
وہ دوبارہ خواب گاہ میں آیا….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
راج آ کر کھڑکی میں کھڑا ہوا… اور آج کی ساری کار گزاری سوچنے لگا.
وہ واپس آیا تو شک تو اسے اسی وقت ہو گیا تھا. مگر پرنسز کی سلامتی کی وجہ سے خاموش رہا اور اس بلیک وچ کا وجود اپنے آس پاس برداشت کرتا رہا
اس وقت میں اس نے اپنے غم و غصے پر کس طرح قابو پایا یہ تو وہی جانتا تھا….
اور اگر پرنسز کو کچھ ہو جاتا تو..
یہ سوچ کر ہی اسے جھر جھری آئی.. پیچھے کچھ غیر معمولی محسوس ہوا تو وہ فوراً پلٹا….
پرنسز نے بری طرح کمفرٹر مٹھیوں میں جکڑا ہوا تھا اور بے ہوشی میں کچھ بڑبڑا رہی تھی…
راج بھاگ کر اس کے قریب آیا اور پاس بیٹھ کر غور سے پرنسز کو دیکھا…
ساحر چھوڑو… مم..مجھے…..دور رہو مجھ سے….. قریب مت آؤ…. راج….. بچائیں مجھے…… وہ چلائی
پرنسز… راج نے اسے جھنجھوڑا…… وہ ہڑبڑا کر اٹھی… اور خوفزدہ نظروں سے آس پاس دیکھنے لگی…
پرنسز ڈرو نہیں.. میں تمھارے پاس ہوں… بہت قریب… کوئی نہیں آئے گا..
مگر راج کو اپنے بہت قریب دیکھ کر محسوس کر کے وشہ اس سے بری طرح لپٹی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی…..
راج نے بمشکل اس کے رونے کے دوران اسے وہ کاڑھا پلایا جو وید دے کر گیا تھا..مگر وشہ کا خوف کسی طور کم نہیں ہو پا رہا تھا…
وشہ راج کی بانہوں میں موم کی طرح پگھل رہی تھی…
کب سے روئے جا رہی تھی.. اور اب راج کا ضبط آزما رہی تھی…
اشششش.. ادھر میری طرف دیکھو پرنسز… راج نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا.
میں کبھی تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا… تم صرف میری ہو… کوئی تمھیں نقصان نہیں پہنچا پائے گا.. آئی پرامس…….
راج…….. وہ…… ساحر…. وہ پھر سسکی
مار دیا ہے اسے میں نے… تمھیں چھو کر گستاخی کی اس نے جس کا خمیازہ اپنی جان دے کر بھگتنا پڑا اسے.. میرے علاوہ کوئی نہیں چھو سکتا تمھیں…
راج نے وہ آنسو اپنے لبوں سے چنے….
بھیگی لرزتی پلکوں پر اپنے لب رکھے….
اسے نرمی سے بیڈ پر لٹایا…
خود اس پر حاوی ہوا…راج اسے کھونے کے ڈر سے اس وقت بلکل پاگل ہو چکا تھا… پورے چہرے اور گردن پر راج کے لب سفر کر رہے تھے..
جب راج نے وشہ کی سانسوں کی خوشبو اپنے سینے میں اتاری….
کافی پل محبت کا جام پیتے گزر گئے
وشہ کی غیر ہوتی حالت محسوس کر کے راج نے اس کے لبوں کو آزادی بخشی..
راج اس کے بے حد قریب تھا… اور اس کے اور اپنے بیچ حائل ہوتے تمام پردے گرا چکا تھا…
راج….. پلیز…. وشہ کی پھر سانس اٹکی…
کیا ہوا پرنسز….. ڈر لگ رہا ہے.. دھیمی بھاری گھمبیر آواز میں راج نے پوچھا..
اس نے اثبات میں سر ہلایا…
مجھے تم سے ہمدردی ہے پرنسز پر میں تمھیں اور ڈریگن لینڈ کو اب تمھارے ڈر کی نذر نہیں کر سکتا…
آج وہ اس کی سننے کے موڈ میں ہر گز نہیں تھا..
اسی لئے یہ کہہ کر دوبارہ اس کے وجود میں کھونے لگا…
راج مکمل طور پر اس پر قابض ہو چکا تھا…
ملگجے اندھیرے میں بس ان کے ٹیٹو روشن تھے.. راج نے اپنے سلگتے لب اسکے ٹیٹو پر رکھے…
وشہ خود میں سمٹ سی گئی….
ریلیکس ہو جاؤ پرنسز…… راج نے پھر اسے تسلی دی…
کچھ ہی دیر میں وشہ کو اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی…
مگر راج نے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ کر اس کی آواز کا گلا گھونٹ دیا….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
صبح دربار اور محل میں جشن کا سا سماں تھا..
وہ دونوں ہاتھ میں ہاتھ دئے تخت پر بیٹھے تھے..
راج کے گولڈن کراؤن سے نکلنے والی روشنی پورے ڈریگن لینڈ میں پھیلی ہوئی تھی…
خاص رسمیں ادا کی جا رہی تھیں جشن کی……
اس جشن میں ایک پراسرار سا بوڑھا ہاتھوں میں چھڑی لئے گھوم رہا تھا..
اور کوئین کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا.
جو مسکرا مسکرا کر اپنے لوگوں سے پھولوں کے گلدستے اور تحائف وصول کر رہی تھی..
کنگ راج بھی بیٹھا مسکرا رہا تھا…
خاص سپہ سالار اور سپاہیوں کو حکم دے دیا گیا تھا… بلیک وچ کے ٹھکانے میں گھس کر حملے کی تیاری کا…..
اور اپنے لوگوں کو آزادی دے کر اس کے کالے سائے سے ڈریگن لینڈ کو چھٹکارا دلانے کا…..
اتنے میں وہ بوڑھا وشہ کے پاس آیا……آنکھوں میں عجیب سی چمک اور پر اسرارئیت تھی اسی لئے وہ اپنی آنکھیں کسی سے ملانے میں پرہیز ہی برت رہا تھا…
کیا بات ہے بابا کچھ چاہیے…
نہیں کوئین… کچھ نہیں چاہیے…. مگر میری خواہش ہے کہ جلد تمھارے ہاں پرنسز پیدا ہو……
یہ کہہ کر وہ پراسرار سا مسکراتا وہاں سے چلا گیا….
وشہ اس کی بات سے بلش کر گئی… راج نے دھیمی سی مسکراہٹ سے اسے دیکھا..
پھر سنجیدہ سا بولا
ہمیں نکلنا ہو گا کوئین… اپنا خیال رکھنا
وہ دھیمے سے اس کے ماتھے پہ لب رکھ کر بولا
کوئین ہو تم اب…… کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا تمھیں…. اپنا خیال رکھ سکتی ہو….. راج دھیمے سے اسے سمجھا کہ روانہ ہوا.
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ بلیک فوریسٹ کے پار کالے پہاڑوں میں میں بنی ایک جگہ تھی جہاں راج ڈریگن بنا اڑ رہا تھا
کالے سائے سے بنی آسیبی چیزوں کو اور طاقتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ختم کر دیا گیا تھا..
راج انسانی روپ میں زمین پر اترا.
اور بلیک وچ کے کالے محل میں اندر تک گیا..
آج اس کت عتاب سے کوئی نہیں بچ پایا تھا.. وہ جگہ تباہ برباد کر دی گئی تھی
راج نے اپنی پاورز کا استعمال کر کے پھر اس جگہ کو زندہ کر دیا تھا
کولے پہاڑ اب سر سبز و شاداب پہاڑوں میں بدل چکے تھے
پھول اگ چکے تھے
چشمے پھر سے بہنے لگے
کنگ….. بلیک وچ کہیں نہیں ہے سب جگہ ڈھونڈ لیا اسے
ہاں میں بھی دیکھ چکا ہوں کہیں نہیں ہے… کوئی بات نہیں کب تک چھپے گی.. جلد ہی میں ڈھونڈ کر اس کو ختم کر دوں گا
اب چلو واپس
بلیک وچ کی راجدھانی ختم کر کے راج کامیاب محل میں لوٹ آیا تھا…..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ خواب گاہ میں داخل ہوا تو وشہ آرام کر رہی تھی..
وہ دھیمے سے چلتا بیڈ تک آیا……
کیا ہوا کوئین طبیعت تو ٹھیک ہے ناں….
وشہ کسلمندی سے انگڑائی لیتی اٹھ کر بیٹھ گئی..
راج تھک گئی میں تو…. اس نے برا سا منہ بنایا تو وہ ہنس پڑا..
تو حکم کریں کوئین کہ آپ کی تھکاوٹ کس طرح اتاری جائے…یہ غلام حاضر ہے………. راج معنی خیز سا بولا
اور اس کے گرد اپنے بازو حمائل کیے…
راااااااااج….. وہ کھینچ کر بولی… راج نے قہقہ لگایا..
جی کوئین….. راج نے وشہ کے چمکتے ٹیٹو پر لب رکھے
وشہ نے اس کے سینے میں منہ چھپا کر جیسے خود کو اسی سے چھپا لیا..
راج……. میں نے آپ سے بات ہی نہیں کرنی……..
راج اس کی ادا پر بے ساختہ مسکرایا..
اور اسے سینے پر لٹا کر سکون سے آنکھیں موند لیں…..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
