Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 8
Rate this Novel
(Black Love) Episode 8
آدھے راستے میں غزلان کو نیند آ گئی تھی کیونکہ دو تین دنوں سے اسکی نیند پوری نہیں ہوئی تھی بہزاد جو ڈرائیونگ کرنے میں مصروف تھا اچانک نظر اس سوتی ہوئی غزلان پر گئی جو ویسے تو شیرنی بنی پھرتی تھی مگر سوتے ہوئے بلکل معصوم سی گڑیا کی جیسی لگ رہی تھی اور اچانک نظر بیوٹی بون پر گئی جس پر وہ پہلے بھی پگھلا تھا
“نہیں”
وہ اپنی سوچ جھٹک کر ہوش میں آتے ہوئے فوراً ڈرائیونگ پر دھیان دیتے ہوئے کہنے لگا
ڈرائیونگ کرتے ہوئے اچانک جھٹکا آیا اس سے اسکا سر ڈش بورڈ پر لگتا بہزاد نے فوراً اس جگہ اپنا ہاتھ رکھ دیا اور غزلان کی آنکھ کھل گئی آنکھ کھلتے ہی نظر اسکے ہاتھ پر گئی پھر اسکے چہرے کی طرف کر گئی اور چہرے پر خودبخود مسکراہٹ آئی
“تھینکیو”
وہ لبوں پر مسکراہٹ سجائے سیٹ سے سر ٹکاتی بولی وہ اپنا ہاتھ اس جگہ سے ہٹاتا بغیر اسے دیکھے ڈرائیونگ کرنے میں مصروف رہا۔
“کھڑوس انتہا کا”
وہ منہ بسورے دل میں بولتی نظریں باہر مرکوز کر گئی۔
“کتنی دیر اور لگے گی”
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر پھر سے پوچھنے لگی جب بہزاد نے سب کی بار ایک نظر اسے دیکھا
“جب گاڑی رک جائے سمجھ جانا پہنچ گئے”
وہ انتہائی سنجیدگی سے جواب دیتے ساتھ واپس نظریں سامنے مرکوز کر گیا اور غزلان خاموش ہو گئی۔
اسے واقع اپنے جیسا کوئی ملا تھا مگر وہ اس سے باتیں کرنا چاہتی کوئی بھی لیکن وہ اسکے ساتھ رہنا چاہتی تھی اسکا ساتھ اسے اچھا لگنے لگا تھا۔
“بولو”
وہ جو ابھی نیا کر باہر آئی تھی فون کال اٹینڈ کرتی پوچھنے لگی
“میرے ساتھ کافی پر چلو گی”
وہ اسے کال کرنے کی وجہ بتانے لگا اسکی بات پر رویش کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“اممممم سوچنا پڑے گا”
رویش اپنی مسکراہٹ دباتی جان کر بولی دوسری طرف یونیب کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی
“چلو پھر میں کسی دوست”
یونیب ابھی بول رہا تھا جب رویش نے فوراً ٹوکا
“میں چلنے کیلیے تیار ہوں “
رویش کی بات پر یونیب کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ آئی اور رویش نے فون کال کٹ کردی
“بڑی مسکراہٹ آرہی ہے چہرے پر اتنا آپ پورے مہینے میں نہیں مسکراؤ نہیں ہوگی جتنا آپ ابھی مسکرائی ہو”
تبھی زرمیش اسکے کمرے میں آتے ہوئے اسے تنگ کرنے کیلیے جان کر بولی رویش نے اسے دیکھا۔ اور فوراً چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی
“فضول مت بولا کرو ڈیڈ کے کام سے جارہی ہوں”
وہ فوراً چہرے پر سنجیدگی سجائے کہتے ساتھ وارڈروب کی طرف بڑھ کر ڈریسز دیکھنے لگ گئی۔
“ڈیڈ کےکام سے جانے کیلیے کب سے آپ ڈریسز سیلیکٹ کرکے پہننے لگی “
وہ سینے پر بازو باندھے چہرے پر مسکراہٹ سجائے ایبرو آچکا کر پوچھنے لگی جس پر رویش نے مڑ کر اسے دیکھا
“تم اسٹڈی کرو چلو”
وہ ایک ڈریس نکال کر تھوڑا کنفیوز مگر سختی سے بولتے ساتھ باتھروم کی جانب رخ کر گئی اور زرمیش کا قہقہ چھوٹا۔
“فرسٹ ٹائم تمہارے ساتھ گھومنا اچھا لگ رہا ہے”
عینب اور زہرون آج پھر اسکردو کی کسی جگہ پر گھومنے آئے ہwوئے تھے وہ اسکے ساتھ چلتے ہوئے بولی
“میرا بھی کچھ ایسا ہی خیال ہے”
وہ بھی جیب میں ہاتھ ڈالے مسکراتے ہوئے اسے تنگ کرنے کے لیے کہنے لگا جس پر عینب نے گھور کر دیکھا
“ہوجاؤ دفعہ تم مجھے نہیں چلنا تمہارے ساتھ”
وہ اسے کہنی مارتی منہ بسورے کہتے ساتھ آگے کی جانب قدم بڑھا گئی زہرون کچھ کہے بغیر وہی کھڑا رہا عینب نے مڑ کر اسے دیکھا
“بہت ہی زیادہ بدتمیز ہو”
وہ اسے دیکھتے ہوئے منہ بنائے کہنے لگی جس پر زہرون کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“ہاہاہا اچھا چلو آؤ مل کر فوٹوگرافی کرتے ہیں”
وہ مسکراتے ہوئے اسے اپنے پاس بلاتے ہوئے کہنے لگا جس پر عینب نے کچھ دیر اسے دیکھا اور پھر اسکی جانب قدم بڑھائے
“مجھے سیکھاؤ کیسے پکچر کلک ہوتی”
وہ اسکے پاس آتے ہوئے آنکھیں چھوٹی کیے منہ بنائے بولی زہرون نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اسے سمجھانے لگا
“ہاں آگئی اب آ گئی سمجھ بناؤ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بچوں کی طرح سر ہلائے اسے کہنے لگی جب اس نے کیمرہ سیٹ کرکے اسے تھمایا اور خود اسکے پیچھا کھڑا ہوگیا۔
“ایسے”
وہ اسکا کیمرہ ٹھیک کرتے ہوئے وہ تصویر بنانے لگی اور زہرون اسے دیکھ رہا تھا اس میں سے آتی خوشبو زہرون کے دل کی بیٹ مس ہوئی تبھی وہ مڑی اور زہرون ہوش میں آئی ۔
بہزاد نے گاڑی ایکدم روکی غزلان نے مڑ کر اسے دیکھا اور گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی
“تم کہاں”
وہ اسے دروازہ کھولتا دیکھ کر اس سے مخاطب ہوا غزلان نے اسے مڑ کر دیکھا
“ہم مری پہنچ گئے ہیں نا”
وہ اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگی بہزاد نے اسے دیکھا
“میں نے کہا ہے”
وہ اسے ائبرو اچکا کر سنجیدگی سے پوچھنے لگا جس پر غزلان بھی ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
“خود تو کہا تھا جب گاڑی رکے تو سمجھ جانا پہنچ گئے”
وہ اسے اسکی کہی بات یاد دلاتے ہوئے بولی اور بہزاد کو اسکی بات پر سر پیٹنے کا دل ہوا
“خاموش بیٹھو ابھی نہیں پہنچے”
کہتے ساتھ وہ گاڑی سے نکلا غزلان منہ بسورے بنائے اسے دیکھنے لگی اور وہ اس پاس ساری نظر دوہرا واپس گاڑی میں آکر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کردی
غزلان نے گانا لگادیا وہ اسے دیکھنے لگ گیا جس پر غزلان کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“ہونا تھا پیار ہوا میرے یار”
جیسے ہی یہ لائن غزلان اونچی آواز میں گانے لگ گئی اور بہزاد بس اسے دیکھتا رہ گیا اور غصے سے گانا بند کر دیا۔
“فضول حرکتیں مجھے نہیں پسند “
وہ انتہائی سخت لہجے میں کہنے لگا جس پر غزلان اسے دیکھنے لگ گئی۔
“اب جسے پیار ہو جائے ایسی حرکتیں کرنے کو دل کرتا ہے”
وہ اس پر نظریں جمائے پیار سے کہنے لگی جس پر بہزاد اسکی بات نظرانداز کرتا ڈرائیونگ پر دھیان دینے لگ گئی۔
جاری ہے
