Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 38 Part 2
Rate this Novel
(Black Love) Episode 38 Part 2
یوسف صاحب زرمیش کے کمرے میں آئے جو صبح سے ہی کمرے سے نہیں نکلی تھی کمرے میں قدم رکھتے ہی اسے روتا ہوا پایا تھا یوسف صاحب پریشان ہوئے
“کیا ہوا زرمیش”
یوسف صاحب اس کے پاس آکر محبت سے پوچھنے لگے زرمیش نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا
“غزلان آپی میری وجہ سے”
آنکھوں میں آنسو لیے انہیں دیکھ کر ہچکیاں لیتے ہوئے بتانے لگی یوسف صاحب اسکے قریب آئی اسکے آنسو صاف کیے اور سر پر ہاتھ رکھا
“ایسا کچھ نہیں ہے زرمیش خود کو قصووار نہیں ٹھہراؤ ایسا کچھ نہیں جو ہونا تھا وہ تو ہونا تھا غزلان کے جانے کا افسوس بچے سب کو بہت ہے مگر قسمت میں جو ہوتا وہ ہوکر رہتا ہے”
یوسف صاحب اسکے سر پر ہاتھ رکھے تحمل سے اسے سمجھانے لگے وہ انہیں دیکھ رہی تھی
“مجھے بہت یاد آرہی ہے ان کی”
وہ نم آنکھوں سے انہیں دیکھتے ہوئے بولی جس پر یوسف صاحب کے چہرے پر بھی اداسی چھا گئی۔
“آپ کو سٹرونگ بننا ہے مام کیلیے ورنہ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوجائے گی انہیں ہیپی رکھنا ہے”
وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے زرمیش اثبات میں سر ہلا گئی اور یوسف صاحب اٹھ کر چلے گئے
عینب روم میں موجود تھی تبھی زہرون آیا عینب نے ایک نظر اسے دیکھا اور واپس سامنے نظریں مرکوز کر گئی
“عینب میں نے اس شخص کو پکڑ لیا “
زہرون اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا عینب کو دھچکا لگا وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے دیکھا
“کیا واقع”
وہ لہجے میں حیرت سجائے اسے دیکھ کر بولی جس پر زہرون نے اثبات میں سر ہلا دیا
“ہاں واقع”
وہ اسکے پاس اتے ہوئے بولا عینب اسے دیکھ رہی تھی
“تم سے کیا وعدہ پورا کرنا لازمی تھا وہ فارم ہاوس میں موجود ہے “
اسے دیکھ وہ سنجیدگی سے بتانے لگا عینب اسے دیکھ رہی تھی بغیر کچھ کہے عینب زہرون کے گلے لگ گئی
“تم میری زندگی کا سب سے خوبصورت ساتھ ہو”
وہ اسکے گلے لگی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجا کر بولی زہرون بھی مسکرایا اور اسکے گرد مضبوط حصار بنایا
“تم اسے خود ختم کرلو “
وہ مسکرا کر اسے دیکھ کر بولا عینب اثبات میں سر ہلایا اور اسکا ہاتھ تھامے چل دی۔
“اللہ خیر کرے اتنی جلدی میں گیا ہے بہزاد بھائی ٹھیک ہوں”
رویش ٹی وی لاؤنچ میں ٹہلتے ہوئے فکرمندی سے کہنے لگی یوسف صاحب جو نیچے اتے تھے رویش کو دیکھا
“کیا ہوا رویش سب ٹھیک ہے”
یوسف صاحب ااے دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھنے لگے جس پر رویش نے مڑ کر انہیں دیکھا
“ڈیڈ وہ بہزاد بھائی کا آکسیڈنٹ ہو گیا ہے یونیب وہی گیا ہے پتہ نہیں کس حالت میں ہوں گے”
رویش پریشانی سے انہیں دیکھتے ہوئے بتانے لگی یوسف صاحب اسکی بات سن کر پریشان ہوئے
“اوہ مجھے جانا چاہیے وہاں”
یوسف صاحب فورا سے کہتے ساتھ گاڑی کی چابی لیے باہر کی جانب بڑھ گئے وہ جانتے تھے وہ اسی ہسپتال میں ہوں گے جہاں ہمیشہ جاتے ہیں
“میں مام کو میڈیسن دے دوں “
وہ راحت بیگم کا سوچتے ہی فورا اٹھ کر اوپر کی جانب بڑھ گئی اور راحت بیگم کے کمرے میں چلی گئی
بہزاد ہوش میں آ چکا تھا مگر انجیکشن میں نشہ ہونے کی وجہ سے آنکھیں بند تھی سر پر بڑی بندھی ہوئی تھی
“غزلان غزلان”
وہ بار بار اسکا نام پکار رہا تھا یونیب کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اس نے کبھی سوچا نہیں تھا وہ کسی سے اس قدر عشق کرے گا اگر کرے گا بھی تو وہ اس قدر پاگل ہوجائے یہ اسکے وہم و گماں میں نہیں تھا لیکن غزلان نے اسے اپنی بری عادت بھی بنا دی تھی اسکی حالت سے کوئی بھی یہ اندازہ لگا سکتا تھا
” کیا ہوا”
یوسف صاحب اندر آتے ہوئے یونیب کی جانب دیکھ کر پوچھنے لگے
“تیز چلانے کی وجہ سے گاڑی درخت سے جا لگی سر پر چوٹ آئی ہے”
یونیب بہزاد پر نظریں جمائے بولا جس پر انہوں نے بہزاد کو دیکھا
اسکی حالت دیکھ کر انہیں واقع افسوس ہوا انہیں بھی یہی لگا تھا کہ بہزاد غزلان ہے بغیر نامکمل کہیں سے انہیں یہ بلیک بیسٹ نہیں لگا تھا۔
“انہیں ہوش کیوں نہیں آرہا ہے”
کشمالہ اپنی والدہ کی جانب دیکھ کر پوچھنے لگی جس پر وہ ہلکا سا مسکرائی
“ابھی ان کے بہت زخم ہیں اور بہت اندر تک ہیں یہ ہی برداشت کرسکی ہے کوئی اور ہوتا تو فورا مر جاتا ان کا بھی ابھی کچھ پتہ نہیں شاید جان جا سکتی ہے “
وہ اسے دیکھ ایک نظر بےہوش غزلان پر ڈالتے ہوئے بولی کشمالہ نے اپنی والدہ کو دیکھا
“اللہ تعالی انہیں بہت جلدی سے صحت مند کردیں گے انشاءاللہ بہت مضبوط ہے بہت کچھ دیکھا ہے انہوں نے مجھے بتایا تھا”
وہ لہجے میں اداسی لیے اپنی ماں کو بتانے لگی جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا
“اللہ کرے آمین”
اسکی والدہ بھی بولی اور غزلان کو تھوڑا تھوڑا پانی پلانے لگ گئی کشمالہ انہیں دیکھ رہی تھی۔
دونوں ہی جینے مرنے کی حالت میں تھے ایک اگر تکلیف میں تھا تو دوسرا بھی وہاں تکلیف میں تھا اسی کو روح سے عشق کرنا کہتے ہیں۔
