Black Love By Mahnoor Shehzaad Readelle50302 (Black Love) Episode 1
Rate this Novel
(Black Love) Episode 1
اس وقت وہ ایک جنگل میں موجود تھی جہاں اسوقت سناٹا سا چھایا ہوا تھا اور ہر جگہ اندھیرا ہی اندھیرا تھا بس سیاہ آنکھوں کی چمک دیکھ رہی تھی قدموں کی چاپ بھی اس خاموشی سے صاف واضح ہورہی تھی
وہ شخص چہرے پر انتہائی خوفزدہ تاثرات لیے پیچھے کی جانب چہرہ موڑ کر دیکھتا آگے کی جانب قدم بڑھانے لگا تبھی کسی نے اسکی گردن پر انتہائی مضبوط گرفت ڈالی اور درخت سے لگایا وہ شخص آنکھوں میں حیرت لیے اور چہرے خوفزدہ تاثرات سجائے اسے دیکھنے لگا۔
“بچنا مشکل تھا”
وہ لبوں پر جلادینے والی مسکراہٹ سجائے آنکھوں میں انتہائی سرد پن لیے اسے بولی اس شخص کو اپنی جان جاتی صاف نظر آرہی تھی وہ اسے رسیوں سے باندھتی پیچھے گئی اور اسکی گردن پر میں بھی رسی ڈال کر پورا زور دیتی اسکی جان لے گئی اس شخص کی آنکھیں باہر آگئی تھی اور سامنے موجود اس لڑکی کے اندر ایک سکون سا اترا تھا آنکھوں کی چمک میں مزید اضافہ ہوا تھا
“بروں کو انکے انجام تک پہنچا کر ہی رہتی ہوں”
اسطرف قدم بڑھائے گھٹنوں کے بل بیٹھتی اس شخص کی لاش کو دیکھتے ہوئے زہر خند لہجے میں کہتی اٹھ کر اپنے بازوؤں کے کف اوپر کیے بھاری قدم لیے بڑھ گئی.
*****
وہ یوسف مینشن پہنچ چکی تھی اور ابھی وہ آتے ساتھ سیدھا ٹی وی لان میں بیٹھی اور یوسف صاحب کو بتانے لگی
“مجھے پتہ تھا تم یہ کام کرسکتی ہو”
یوسف صاحب اسے دیکھتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ اعتماد بھرے لہجے میں کہنے لگے جس پر وہ بس سر کو خم دے سکی. اور سائیڈ پر کھڑی عینب جلن بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
“تم ریسٹ کرو اب میری بچی”
راحت بیگم اسکے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے ہوئے بولی جس پر وہ اثبات میں سر ہلاتی اپنی سیاہ جیکٹ اتار کر ہاتھ میں کہتی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
کمرے میں آتے ہی وہ جیکٹ وارڈروب میں رکھتی نائٹ ڈریس لیتی ایک جگہ آکر رک گئی درمیانے قد کی سیاہ بال پونی میں قید ہوئے سیاہ جینز کیساتھ سیاہ ہی ٹی شرٹ پہنے ہاتھوں میں بہت سے بینڈز پہنے پیروں پر جوگرز پہنے سیاہ آنکھیں تیکھے نقوش کی وہ دیکھنے میں بہت ہی زیادہ حسین تھی۔
“آپ کا بدلہ لے کر رہوں گی میں”
وہ دیوار پر لگی تصویر کو دیکھتی لہجے میں افسردگی سجائے بولتے ساتھ باتھروم کا رخ کر گئی۔
غزلان قریشی اپنی زندگی میں رہنے والی اپنے قانون خود بنانے والی جسے لوگوں کو قتل کرکے سکون سا ملتا تھا وہ الگ ہی لڑکی تھی ہاں جسکا ماضی بہت بھیانک تھا مگر گرنے کے بعد اٹھ کر ہر مشکل کا سامنا کرنا وہ سیکھ چکی تھی اور ایک اپنی الگ ہی دنیا بنا چکی تھی۔
“غزلان آپی”
تبھی ایک پندرہ سالہ خوبصورت سی سفید رنگت کی لڑکی اسکے کمرے میں آتے ہوئے چلانے لگی اسے موجود نہ پاکر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی
“تم سوئی نہیں”
غزلان باتھروم سے آتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگی
“انتظار کررہی تھی میں آپ کا”
زرمیش چہرے پر انتہا کی معصومیت سجائے اسے دیکھتے ہوئے بولی اور وپ خود بھی جوگرز اتارتی بیڈ پر آئی
“نماز پڑھ لی ہے”
وہ اسکی گود میں سر رکھے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر غزلان نفی میں سر ہلا گئی
“تھوڑی دیر بعد پڑھتی”
وہ مختصر سا جواب دینے لگی زرمیش نے اسکا ہاتھ اٹھا کر اپنے ماتھے پر رکھ دیا غزلان اسکا سر دبانے لگی
“سوجاؤ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے سر بر ہاتھ کا دباؤ ڈالتی بولی جس پر زرمیش اسکی گال پر لب رکھتی گڈ نائٹ بولتی چلی گئی
چار لڑکیاں رہتی تھی یوسف صاحب کی اپنی تو کوئی اولاد نہیں تھی لیکن اپنی بیٹیوں کی طرح انکا خیال رکھتے تھے کیونکہ راحت بیگم ماں نہیں بن سکتی تھی وہ یتیم خانے سے ایسی بچیوں کو لایا کرتی تھی اور یہ چار لڑکیوں کا گروپ تھا اور وہ بس مل کر غلط طریقے سے اور غلط بندوں کو صحیح طریقے سے انکے انجام تک پہنچاتے تھے۔
غزلان نماز ادا کرتی دعا مانگ کر اٹھتی بیڈ کی طرف بڑھ گئی اور لیٹ گئی
******
صبح وہ سب لوگ ڈائننگ ایریا پر موجود تھے اور ناشتے کرنے میں مصروف تھے
“گیلانی پر نظر رکھنی ہے”
کھانے میں مصروف یوسف صاحب ان چاروں سے مخاطب ہوئے جس پر چاروں نے سر اٹھا کر یوسف صاحب کو دیکھا
“میں رکھ لوں گی”
رویش نے یوسف صاحب کو دیکھتے ہوئے فوراً سے بولا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔
“ہاں ٹھیک ہے رویش بچی گیلانی پر نظر رکھے گی”
وہ روز کو پیار سے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے جس پر روش اثبات میں سر ہلا گئی اور باقی سب لوگ دوبارہ سے ناشتے میں مصروف ہوگئے
“میری بچیوں کی جان کبھی چلی گئی تو”
راحت بیگم غصے سے کہنے لگی جس پر یوسف صاحب نے انہیں دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے
“میں نے انہیں بہت ٹرین کیا ہے بیگم ٹینشن مت لیں”
وہ راحت بیگم کو دیکھتے ہوئے بولے جس پر رائے کچھ کہے بغیر جوس کا گلاس لبوں سے لگا گئی اور زرمیش مسکرانے لگی وہ ان چاروں میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی تھی یوسف صاحب بھی اسے دیکھ کر ہلکا سا مسکرائے۔
“مجھے جانا ہے”
غزلان بلیک کافی ختم کرتے ہوئے کپ رکھ کرسی اٹھ کر سب کو بولی یوسف صاحب اور راحت بیگم نے اسکی طرف دیکھا
“کدھر”
راحت بیگم فکرمندی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی انہیں سب سے زیادہ اسکی فکر رہتی تھی
“ایک کام ہے آجاؤ گی”
وہ کہتے ساتھ اپنی سیاہ جیکٹ پہنتی مغرور چال چلتی باہر کی طرف بڑھ گئی اور وہ سب بس اسے جاتا دیکھنے لگے وہ ایسی ہی تھی اپنے اندر کی باتیں بہت کم ہی لوگوں کو بتاتی تھی اپنے ذاتی زندگی میں کسی کو بھی مداخلت نہیں کرنے دیتی اور کوئی کرتا تو اسے سخت ناگوار گزرتا تھا۔
*******
زرمیش او
ر رویش گیلانی کے باہر موجود تھے اور سائیڈ پر کھڑے گیلانی کے گھر میں جھانک رہے تھے
“یہ گیلانی کہاں چھپا ہوا ہے”
رویش غصے سے گھر پر نظریں جمائے کہنے لگی زرمیش نے اسے دیکھا
“نہیں پتہ”
وہ انتہائی معصومیت سے اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگی جس پر رویش اسے گھورنے لگی
“وہ ہے”
زرمیش انگلی کے اشارے سے اونچی آواز میں کہنے لگی رویش نے فورا اسکے منہ پر ہاتھ رکھا
“آہستہ”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر زرمیش نے ہونٹوں پر انگلی رکھی
“اففف گیلانی کیساتھ موجود لڑکا کتنا ہینڈسم ہے نا”
زرمیش اس خوبرونوجوان لڑکے کو دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگی جس پر رویش بس نفی میں سر ہلا گئی
“اہہہ”
زرمیش کو اچانک ایسا محسوس ہوا اسکے پیر پر کچھ چل رہا ہے اسکی چیخ خودبخود نکل گئی گیلانی اور اسکے اسسٹنٹ نے فوراً اس طرف دیکھا زرمیش اور رویش نیچے جھک گئے
“دیکھو”
گیلانی نے غصے سے اسسٹنٹ کو حکم دیا جس پر اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر کی جانب بڑھا
“افف پاگل لڑکی پکڑے جائیں گے”
رویش گھورتے ہوئے غصے سے اسے کہنے لگی جس پر زرمیش شرمندگی سے سر جھٹک گئی۔
“شاید شک چلا گیا”
رویش کہتے ساتھ تھوڑا سا اوپر ہوکر کھڑکی میں دیکھنے لگی جہاں گیلانی موجود تھا وہ فوراً جھکنے لگی مگر ان بیلنس ہوتی وہ گرنے لگی مگر گرنے سے پہلے کسی کی باہوں میں موجود تھی وہ شخص اسی پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا سفید رنگت کی خوبصورت سی لڑکی بڑی بڑی خوبصورت لائٹ براؤن آنکھیں تیکھی ناک وہ اسکے نقوش کو ہی بس دیکھ رہا تھا زرمیش بھی حیرت میں مبتلا تھی یہ وہی لڑکا تھا جو ابھی اندر موجود تھا
“رویش باجی”
زرمیش نے اسے پکارا اسکے پکارنے پر وہ ہوش میں آتی فوراً اس سے الگ ہوتی اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتی وہاں سے زرمیش کا ہاتھ تھامے فوراً بھاگ گئی اور وہ شخص اسے جاتا دیکھنے لگ گیا ہاتھ چھڑواتی وقت روش کی انگوٹھی اس شخص کے ہاتھ میں رہ گئی۔
“رویش”
وہ اسے جاتا دیکھتے مسکراتے ہوئے اسکا نام پکارنے لگا آنکھوں میں الگ چمک تھی وہ انگوٹھی جیب میں رکھتا واپس اندر کی جانب بڑھا۔
“کون تھا”
گیلانی اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جو اپنی ہی دھن میں چل کر آرہا تھا اسکے پوچھنے پر وہ اسے دیکھنے لگا
“کوئی نہیں تھا”
وہ جواب دیتے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گیا اور گیلانی خاموشی سے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
“اففف آج تو بری طرح پھنسے”
رویش جیسے ہی گاڑی میں آکر بیٹھی سانس بحال کرتی ہوئی بولی زرمیش نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا
“مجھے وہ لڑکا اچھا لگ رہا ہے گیلانی کو کچھ نہیں بتائے گا”
زرمیش فوراً سے کہنے لگی جس پر روش نے اسے دیکھا
“میڈیم تم خاموش رہو عمر دیکھو اور باتیں”
رویش گھورتے ہوئے اسے غصے سے بولی جس پر زرمیش منہ بسور گئی اور رویش گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی ایک پل کیلیے اسکی آنکھوں کے سامنے بھی وہ شخص آیا مگر وہ اپنی سوچ کو جھٹکتی گاڑی سڑک پر دوہرا گئی۔
*********
وہ کمرے میں بیٹھا ہاتھ میں انگوٹھی پکڑے اس پر اپنی نظریں جمائے مسلسل اسے دیکھ رہا تھا
“کون تھی وہ”
وہ اس انگوٹھی کو اپنی انگلیوں میں گھماتے ہوئے سوچنے لگا وہ اسے مختلف لگی تھی
“چھپی کیوں ہوئی تھی اتنی ڈری ہوئی کیوں تھی”
یونیب اسکے چہرے کے تاثرات یاد کرتے ہوئے کہنے لگا اور وہ سر کاؤچ سے ٹکا گیا
“صاحب بلارہے”
تبھی سرونٹ آتے ہوئے اسے دیکھ کر کہنے لگا جس پر یونیب انگوٹھی جیب میں ڈال گیا اور اسے دیکھا سر کو خم دیا
“جی سر”
وہ اسکے پاس آتے ہوئے سنجیدگی سے اسے مخاطب کرنے لگا گیلانی نے اسے دیکھا
“اس لاش کو ٹھکانے لگاؤ”
گیلانی چاقو پھینکتے ہوئے گلوز اتارتے ہوئے حکم دینے لگا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
“ہے کون”
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر گیلانی نے اسے دیکھا
“جتنا کہا ہے اتنا کرو “
وہ غصے سے کہتا وہاں سے چلا گیا اور یونیب اسے جاتا دیکھنے لگ گیا
“میں نے اپنی زندگی اس جیسا بے غیرت شخص نہیں دیکھا ہوگا”
وہ گردن موڑ کر نفرت بھی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے غصے سے بولا اوراس لاش کی طرف بڑھ گیا اور اسے ٹھکانے لگانے لگا
*******
“اتنا پیسا آیا کہاں سے گیلانی کے پاس”
وہ اپنی اسٹڈی میں کھڑے سوچتے ہوئے بولے رویش وہی خاموشی سی بیٹھی تھی
“رویش بچے ایک دو دن میں اور بھی انفارمیشن لے کر آؤ”
یوسف صاحب مڑ کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے جس پر رویش فوراً اثبات میں سر ہلا گئی
“ہاں مجھے ایک ایک معلومات چاہیے اس گیلانی کے بارے میں”
وہ جیب سے ہاتھ نکالتے ہوئے اسے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے رویش انہیں ہی دیکھ رہی تھی
“ڈونٹ وری ڈیڈ”
وہ انہیں جواب دیتی بےفکر چھوڑتی وہاں سے چلی گئی اور یوسف صاحب وہی کھڑے نظریں باہر مرکوز کرکے کسی گہری سوچ میں چلے گئے۔
“کیا بنا”
ابھی وہ باہر نکلی تھی زرمیش اسکے سر پر آ ٹپکی جس پر رویش نے اسے دیکھا
“ہمیں معلومات اور نکلوانی ہے اسکا کام کیا ہے یہ سب”
وہ اسے دیکھتے ہوئے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھاتے ہوئے بتانے لگی جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی
“رویش باجی میرے زہن سے تو وہ لڑکا نہیں جارہا تمہیں نہیں ہینڈسم لگا”
زرمیش اسکے پیچھے پیچھے کمرے میں آتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جس پر وہ اسے دیکھنے لگا
“تمہیں کہیں کرش تو نہیں ہورہا”
رویش اپنا بیڈ ٹھیک کرتی اسکی جانب سوالیہ نظریں کیے پوچھنے لگی جس پر وہ نفی میں سر ہلا گئی
“میں آپ کے لیے سوچ رہی تھی ساتھ بہت اچھے لگو گے”
زرمیش اسے بڑے مزے سے چہرے پر مسکراہٹ سجائے بتانے لگی اسکی بات پر رویش نے بلینکٹ کو چھوڑا اور اسکی جانب قدم بڑھائے
“چلتی بنو”
وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتی انتہائی غصے سے بولی جس پر زرمیش منہ بسورے چلی گئی اور رویش نے دروازہ بند کردیا
“بھلائی کا زمانہ نہیں خیر”
وہ دروازے کو گھورتی کہتے ساتھ اپنے کمرے میں گھس گئی
********
غزلان ابھی اسی وقت واپس گھر آئی تھی وہ کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی تبھی سامنے سے آتی عینب نہیں دیکھی دونوں کی ٹکر ہوگئی
“دیکھ کر نہیں چلا جاتا”
عینب اسے دیکھتے ہی منہ بناتی غصے سے بولی غزلان نے اسے دیکھا
“تم چل لیتی”
وہ چہرے پر سرد تاثرات سجائے دوٹوک انداز میں اسے جواب دیتی قدم آگے بڑھا گئی جس پرعینب اسے دیکھتی رہ گئی۔
“اپنی لمٹس میں رہو”,
وہ اسے جاتے ہوئے روک کر غصے سے بولی غزلان کا میٹر گھوما اسنے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا
“تم اپنی لمٹس میں رہو بحث کرنے کا موڈ نہیں پھر کبھی”
وہ اسے منہ توڑ جواب دیتی اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی مغرور چال چلتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی اور عینب کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگی
لمبے قد کی وہ سفید رنگت کی خوبصورت سی لڑکی گرے آنکھیں خوبصورت نقوش کی حامل ناک پر ہر وقت غصہ رہتا تھا وہ بلکل کسی گڑیا کی طرح تھی
“سمجھتی کیا ہے خود کو حد ہو گئی”
وہ غصے سے اسے بولتے ساتھ بیر پٹکتی نیچے کی جانب قدم بڑھا گئی اور راحت بیگم سائیڈ پر کھڑی سب دیکھ رہی تھی خاموشی سے کھڑکی کے آگے پردہ کرتی بیڈ پر آ گئی
********
خاموشی اندھیرا تھا وہ اس وقت جائے نماز میں بیٹھی دعا کیلیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے چہرے پر اسوقت حد سے زیادہ سکون تھا وہ کہیں سے صبح والی غزلان نہیں لگ رہی تھی ہاں اسے یہی لگتا تھا سکون صرف اللہ تعالیٰ سے بات کرکے ملتا ہے اسے اس دنیا میں کوئی اپنا دوست نہیں لگتا تھا اسکا دوست خدا تھا اپنے اندر جو سب چھپا تھا وہ خدا سے آکر اپنے دل کا ح بانٹتی تھی اور ابھی بھی وہ یہی کررہی تھی ہاں وہ دیکھنے میں جس قدر خود کو پتھر دل سمجھتی تھی اندر سے وہ اتنی ہی نرم دل تھی چہرے پر ہاتھ پھیرتی وہ جائے نماز جگہ پر رکھتی بغیر دوپٹہ سر سے ہٹائے بیڈ پر لیٹ گئی۔
*********
“یوسف کو جانتے ہو”
گیلانی منہ پر سگریٹ لیے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا یونیب نے اسے دیکھا
“جی نام بھی سنا ہے اور رہائش بھی معلوم ہے”
وہ اسے دیکھتے ہوئے جواب دینے لگا گیلانی اثبات میں سر ہلا گیا
“گڈ گڈ اسکی کسی لڑکی کے ساتھ ٹائم پاس کرو اور یوسف اور اسکے سارے راز جان کر مجھے بتاؤ کیونکہ مجھے لگ رہا ہے وہ میرے پر نظر رکھ رہا ہے”
وہ سگریٹ کا گہرہ کش لگاتا بولا یونیب اسے دیکھ رہا تھا
“بےفکر ہوجائیں آپ لیکن ویسے یوسف کیساتھ ایک زمانے میں بہت دوستی تھی آپ کی”
یونیب اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جس پر گیلانی ہنسنے لگ گیا
“دوستی دوستی پیار محبت یہ سب فرضی ہے اپنے آپ کو اہمیت دینی چاہیے”
وہ ہنستے ہوئے قہقہ لگا کر بولا جس پر یونیب خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا
“تھی دوستی اب دشمنی ہے یہی ہے حقیقی دنیا”
وہ یونیب کی جانب دیکھتے ہوئے اسے تلخ لہجے میں بتانے لگا جس پر یونیب اثبات میں سر ہلا گیا
“شام تک انفارمیشن مل جائیں گی”
یونیب کہتے ساتھ جیب میں ہاتھ ڈالتا وہاں سے چلتا بنا جس پر گیلانی اسے جاتا دیکھنے لگ گیا۔
*********
“ڈیڈ سارے اہم کام تو آپ غزلان کو دیتے ہیں”
عینب اسوقت یوسف صاحب کے کمرے میں موجود کاؤچ پر بیٹھی شکوہ کرنے لگی جس پر یوسف صاحب نے اسے دیکھا
“تو اس قابل ہے تم جس قابل ہو تمہیں وہ کام دیتا ہوں حسد کرنا چھوڑ دو اس سے”
یوسف صاحب دھیمے مگر تھوڑے سخت لہجے میں اسے کہنے لگے جس پر عینب انہیں دیکھنے لگ گئی
“حسد کی بات نہیں ہے وہ مجھ سے بات کرنا تک پسند نہیں کرتی انفیکٹ وہ تو رویش سے بھی بات نہیں کرتی اتنی غرور نہ جانے کس بات کا ہے”
عینب انہیں دیکھتے ہوئے اصل وجہ بتانے لگی اسکی بات سن کر یوسف صاحب اثبات میں سر ہلا گئے
“کیونکہ وہ بچی کام سے کام رکھتی ہے “
یوسف صاحب کے پاس اس بات کا بھی جواب موجود تھا جب عینب منہ بسورے اٹھ کر چلی گئی۔
وہ جیسے ہی کمرے سے باہر آئی غزلان کو آتے دیکھا اور نظر اس پر گئی
“کہاں سے آرہی ہو تم”
عینب اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر غزلان اسے نظرانداز کرتی آگے بڑھ رہی تھی ایکدم قدم روک گئی
“میں تمہیں جواب دہ نہیں”
وہ اسکی جانب دیکھ کر سنجیدگی سے کہتے ساتھ اپنے کف ٹھیک کرتی آگے بڑھنے لگی
“کہاں سے آرہی ہو بیٹا”
تبھی یوسف صاحب کی آواز غزلان کو اپنے کانوں سے ٹکراتی محسوس کوئی وہ فوراً مڑ کر دیکھنے لگی
“سر قبرستان سے”
وہ انہیں مختصر سا جواب دیتی کمرے میں چلی گئی اور یوسف صاحب خاموشی سے نیچے کی جانب بڑھ گئی اور عینب اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
********
“اففف بہت گرمی ہے اس جگہ پر تو”
زرمیش دھوپ سے چہرہ چھپاتے ہوئے کہنے لگی جس پر رویش نے اسے دیکھا
“چپ کرو ہم یہاں گھومنے نہیں آئے کام کرنے آئے ہیں”
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جس پر زرمیش منہ بنا گئی اور اسے چھوٹی آنکھیں کیے دیکھا
“کیسے لگائیں گی پتہ اسکے کام کا”
زرمیش اسے دیکھتے ہوئے غصے سے پوچھنے لگی رویش نے اسے دیکھا اور پھر گھر کو جہاں ہر جگہ سکیورٹی موجود تھی
“پتہ نہیں”
رویش اداسی سے بولتے ساتھ کھڑکی ڈھونڈنے لگی مگر گھر بہت ہی سیو بنایا تھا کہیں سے جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
“میں مدد کرسکتا ہوں”
تبھی کسی مرد کی آواز کانوں سے ٹکرائی اور ان دونوں نے مڑ کر دیکھا
“یہ تو وہی ہے”
زرمیش ہلکی آواز میں رویش کے کان میں سرگوشی نما آواز میں کہنے جس پر رویش نے گھورا
“ضرورت نہیں”
رویش سپاٹ لہجے میں کہتے ساتھ آگے کی جانب بڑھنے لگی زرمیش کو بھی مجبوراً چلنا پڑا
“آپ اپنی انگوٹھی کل یہی بھول گئی تھی”
وہ دونوں آگے جارہی تھی جب اس شخص کی بات سے رویش کے بڑھتے قدم رکے اس نے مڑ کر اسے دیکھا اور ہاتھ میں موجود انگوٹھی کو بھی دیکھا
“یہ مجھے دے دیں واپس “
وہ اسے سرد لہجے میں کہتے ساتھ اسکی جانب قدم بڑھانے لگی تبھی کہیں سے گولیوں کی آواز آئی زرمیش فوراً چھپ گئی
“دے دیں مجھے وہ بہت قیمتی ہے میرے لیے”
زرمیش اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی جب یونیب کی نظر لڑکے پر گئی جو نشانہ تو اس پر بنائے کھڑا تھا لیکن رویش کو گولی باآسانی لگ سکتی ہے اس نے فوراً اسے بازوؤں سے تھام کر سائیڈ پر کیا اسکے اچانک اسطرح کرنے پر رویش گھبرا سی گئی دل نے بیٹ مس کی اس سے پہلے وہ کچھ بولتی یونیب نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا براؤن آنکھیں ڈارک براؤن سے ایک پل کیلیے ٹکرائی تھی۔
جاری ہے
